seminar
علی گڑھ :سینٹر آف ایڈوانسڈ اسٹڈی ، شعبۂ اردو کے تحت جاری دوروزہ قومی سمینار بہ عنوان ’’ قاضی عبدالستار اور ان کا عہد‘‘ آج بحسن و خوبی اختتام پر پہنچا ۔ اختتامی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے پروفیسر نصیر احمد خاں ، سابق چیئرمین ہندوستانی زبانوں کا مرکز، جے این یو، نئی دہلی نے کہا کہ ایک ایسے نابغہ روزگار شخصیت سے متعلق دوروزہ قومی سمینار کا اہتمام نہایت خوش آئند ہے۔ انہوں نے کہا کہ دو دنوں میں جو مقالے پیش کیے گئے ہیں انہوں نے واضح کردیا ہے کہ قاضی عبدالستار اپنے عہد کے سب سے بڑے ناول نگار تھے۔ وہ اپنے اسلوب اور لفظیات سے اردو ادب میں ہمیشہ اعلی ٰ مقام پر فائز رہیں گے۔ پروفیسر مظفر حسین سید نے کامیاب سمینار کے انعقاد پر مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ یونیورسٹی کے لائق و فائق فرزند کو یہ شاندار خراجِ عقیدت ہے انہوں نے کہا کہ جس طرح سے یہاں غیر جانب داری کے ساتھ مقالے پیش کیے گئے ہیں اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اب مطالعے کا نہج بدل رہا ہے اور ہر فن کار کا مطالعہ غیر جانبداری سے ہی ہونا چاہیے ۔
پروفیسر علی احمد فاطمی ، سابق صدر شعبہ اردو ، الہ آباد یونیورسٹی نے کہا کہ اس سمینار کی کامیابی یہ بھی ہے کہ اس میں صرف قاضی عبدالستار کے فن پاروں کی ہی موضوع نہیں بنایا گیا بلکہ اس پورے عہد کا جائزہ لیا گیا جس سے قاضی صاحب کی انفرادیت اور زیادہ کھل کر سامنے آگئی ہے۔ افسانہ نگار اسرار گاندھی نے کہا کہ یہ پہلی بار ہوا ہے کہ قاضی عبدالستار جیسے فنکار پر اتنے اہم دوروزہ قومی سمینار کا اہتمام ہوا ہو اس کے مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔ سابق صدر شعبہ اردو، دہلی یونیورسٹی، پروفیسر ابن کنول نے قاضی عبدالستار کے فن پاروں اور ان کے عہد کے متعلق پیش کیے گئے مقالوں کا جائزہ لیتے ہوئے کہا کہ قاضی عبدالستار نے اپنے پورے عہد کو متاثر کیا جس کی گونج اس سمینار میں واضح طور پر سنائی دی۔ پروفیسر غیاث الدین نے کہا کہ سمینار میں قاضی عبدالستار کی زندگی کے وہ پوشیدہ گوشے بھی سامنے آئے جس سے ابھی تک لوگ نا واقف تھے۔
پروفیسر صغیر افراہیم نے کہا کہ اس سمینار سے قاضی عبدالستار کے فن پاروں کے مطالعے کو ایک نئی جہت ملے گی جس سے ان کے فن پاروں کی تفہیم مزید آسان ہوگی۔ پروفیسر پریم کمارنے کہا کہ قاضی صاحب کی شخصیت کے وہ پہلو نمایاں ہوئے ہیں جو یہاں بیٹھے لوگوں کی حیرت کا سبب بنے ہیں اسلئے انسان کو انسان ہی کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔ صدر شعبہ اردو، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی پروفیسر طارق چھتاری نے کہا کہ ہم نے دو روزہ قومی سمینار کا انعقاد کرکے قاضی عبدالستار کے فن پاروں کا غیر جانبداری سے مطالعے کا در وا کیا ہے جس کے مثبت نتائج برآمد ہوں گے۔ پروفیسر ظفر احمد صدیقی نے دوروزہ قومی سمینارکے انعقا د پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سمینار میں جو مقالے پیش ہوئے ان میں قاضی صاحب کے فن اور شخصیت کے ساتھ ہی ان کے عہد کا جائزہ لیا گیا جو اس بات کا غماز ہے کہ آج کا قاری کسی بھی فنکار کو صرف اسی کے تناظر میں نہیں بلکہ عہد کے تناظر میں دیکھتا ہے یہ مطالعے کا اچھا زاویہ ہے۔ انہوں نے ڈاکٹر آفتاب عالم نجمی کے مقالہ تاریخی ناول اور داراشکوہ میں اورنگ زیب کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ اس مقالے نے قاضی عبدالستار کے فن پاروں کا غیر جانبداری سے مطالعہ کا راستہ کھول دیا ہے۔ ان کا انداز علمی اور مدلل تھا۔
پروفیسر مولا بخش نے کہا کہ اس سمینار نے جہاں قاضی عبدالستار کی زندگی اور فن پاروں کی تفہیم کو آسان بنانے کا کام کیا ہے وہیں یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ ان کے فن پاروں کو نئے تنقیدی ڈسکورس کے تناظر میں دیکھے جانے کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ آفتاب عالم نجمی نے اپنے مقالے میں ثابت کیا ہے کہ قاضی عبدالستار نے تاریخی حقائق کو پیش کرنے کے بجائے فکشن ہی لکھا ہے کیا اسی تناظر میں تاریخی ناولوں کا مطالعہ کیا جانا چاہئے؟
seminar0
سینٹر آف ایڈوانسڈ اسٹڈی کے کوآرڈینیٹر پروفیسر سید محمد ہاشم نے کہا کہ قاضی عبدالستار نے ایک عہد کو متاثر کیا اس لیے ہم نے نہ صرف ان کے فن پاروں کے جائزہ کے لیے اس سمینار کا انعقاد کیا بلکہ اُس عہد کو مطالعے کا مرکزی محور بنایا تھا جس کا خاطر خواہ فائدہ برآمد ہوا اور آپ لوگوں نے دیکھا کہ دو دنوں میں متنوع مقالات کے پیش کیے گئے جن سے پورا منظر نامہ کھل کر ہمارے سامنے آگیا ا س طرح یہ سمینار نہایت کامیاب رہا۔ پروفیسر سید سراج الدین اجملی نے کہاکہ سبھی مقالہ نگاروں نے بڑی محنت سے مقالے تیار کیے جسے ہم نے دودنوں میں ہم نے نہ صرف سنا بلکہ محسوس بھی کیا اور ہمارے طلبا وطالبات نے اس بات کا اظہار بھی کیا کہ ان کو اس سمینار سے بہت کچھ نیا سیکھنے کو ملا ہے اور کسی بھی سمینار کی سب سے بڑی کامیابی یہی ہے کہ وہ نئی نسل کو مہمیز کرے جس میں یہ سمینار کامیاب رہا۔انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر معیدالرحمن نے تاریخ نویسی اور تاریخی ناول کے مابین خط امتیاز بہت خوش اسلوبی کے ساتھ کھینچا ہے مستقبل میں اس کے مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔ سمینار کے کنوینر شہاب الدین ثاقب نے کہا کہ ہم نے بہت کم وقت میں اس سمینار کو آرگنائز کیا ہمارے مقالے نگاروں نے جس مستعدی کا مظاہرہ کیا وہ خوشی کی بات ہے اور ہم ان کے شکرگزار ہیں ان کی محنت کا ہی نتیجہ ہے کہ یہ سمینار اس قدر کامیاب ہوا۔
سینٹر آف ایڈوانسڈ اسٹڈی کے ڈپٹی کوآرڈینیٹر ، پروفیسر محمد علی جوہر نے تمام مقالہ نگاروں ، مندوبین اور شرکاء کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ اس سمینار کی کامیابی کی یہ سب سے بڑی ضمانت ہے کہ آپ نے دو دن تک بڑی دلجمعی کے ساتھ مقالے سنے اور اپنے خیالات کا اظہار کیا جس کے لیے ہم سبھی افراد کے ممنون و مشکور ہیں اور امید ہے کہ آئندہ بھی اس طرح علمی و فکری سمیناروں میں شرکت کریں گے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here