ڈاکٹر ذاکر حسین کی 49 ویں بر سی پر سیمینار کا انعقاد

Share Article
seminar
لکھنؤ: مولاناآزاد میمو ریل اکاد می میں آج سابق صدر جمہوریہ ہند ڈاکٹر ذاکر حسین کی اعلیٰ علمی خدمات کے اعتراف میں اور ان کی خدمات کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لئے ڈاکٹر ذاکر حسین کرشماتی شخصیت کے عنوان سے ایک سیمینار کا انعقاددکیاگیا ۔ڈاکٹر ذاکر حسین کی آج 49 ویں بر سی بھی ہے ۔ اس موقع پر مہمان خصوصی بایو ٹیکنالوجی کے پروفیسر ڈاکٹر ایم وائی خان نے زور دیا کہ مسلم اکثریت اگر تعلیم کے میدان میں پیچھے رہ گئی تو وہ پھر ابھر نہیں پائے گی ۔ اور یہی پیغام ڈاکٹر ذاکر حسین کا تھا ۔ جنہوں نے جامعہ اسلامیہ جیسا تعلیمی ا دارہ بھی قائم کیا ۔ جس نے آ زادی کی لڑ ائی میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا ۔

 

یہ بھی پڑھیں   کرناٹک کے کسانوں کی بدحالی کیلئے پی ایم مودی ذمہ دار : راہل گاندھی

 

امبیڈ کر یونیورسٹی کے شعبہ سیاسیات کے پروفیسر ششی کانت پانڈے نے اپنے صدارتی کلمات میں حیرت کا اظہار کر تے ہو ئے کہا کہ جس قوم میں سرسید مولانا ابوالکلام آزاد اور ڈاکٹر ذاکرحسین جیسی علمی شخصیت اور ماہر تعلیم پیدا ہوئے ۔ وہ قوم تعلیمی میں اتنی پیچھے رہ جائے کہ سچر کمیٹی کو بھی اس کا نوٹس لینا پڑا ۔ انہوں نے کہا کہ مسلمانوں کو صرف ووٹ بینک بن کر نہیں رہنا چاہئے ۔ بلکہ ان کے رہنماؤں کو چاہئے کہ اپنے اندر سے سیاسی قیادت پیدا کریں ۔ اور اپنا تعلیمی معاشی اور سماجی ترقی اورتنزلی کا محاسبہ کریں ۔ انہوں نے کہا کہ جب تک بچہ روتا نہیں ماں اسے دودھ نہیں پلاتی ۔ مسلم قوم کو چاہئے وہ اپنے گرتے ہو ئے ہر میدان کا جائزہ لیں اور اور اپنے رہنماؤں سے اوران سیاسی رہنماؤں سے جو ستر سال سے سیکو لر زم کے نام پر مسلم قوم کا استحصال کر رہے ہیں ۔ اور انہیں ووٹ بینک سے زیادہ کچھ نہیں سمجھتے اور مسلمانوں کے تعلق سے پچھلی حکومتوں نے بجٹ کے بڑے بڑے اعلانات کئے ۔ لیکن زمینی حقائق بتاتے ہیں کہ مسلمانوں کو ایک چوتھائی بھی اس کافائد ہ نہیں ملا ۔ تو بدلاؤ کیسے ہو سکے گا ۔
انہوں نے کہا کہ مسلمانوں کو دلت برادری سے سبق لینا چاہئے کہ انہوں نے امبیڈ کر کو قائد بنا کر اپنی زندگی کو سنہرا بنانے میں تمام مراعاتیں پچھلی اور مو جودہ حکومت سے حاصل کی ۔ انہوں نے کہا کہ اس کی زندہ مثال کہ لندن میں جس جگہ پر ڈاکٹر امبیڈ کر تعلیم حاصل کرنے کی غرض سے ٹھرے تھے ۔ آج موجودہ مرکزی حکومت نے قومی وراثت کے لئے اس جگہ کوخرید لیا ۔ انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر ذاکر حسین کی وہ عمارت جہاں پر وہ ر ہتے تھے ۔ اس کو بھی مرکزی حکومت قومی عمارت وراثت کے لئے اس عمارت کو اپنی تحویل میں لے کر ملک کے لئے جو انہوں نے تعلیمی معاشی سماجی تر قی کی جو کوشش کی ۔ جسے آج ملک تر قی یافتہ ملک بن گیا ۔ اس لئے ہمیں چاہئے کہ ڈاکٹر ذاکر حسین کے بتا ئے ہو ئے اصولوں کو اپنی زندگی کا محور بنا ئیں ۔
اس سے قبل اکادمی کے جنرل سکریٹری ڈاکٹر عبد القدوس ہاشمی جو نظامت بھی کررہے تھے ۔ ڈاکٹر ذاکر حسین کی ہمہ جہت شخصیت پر ایک پر اثر مقالہ پیش کیا اور ان کی زندگی کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالی ۔ سیمینار میں سینئر صحافی و اکادمی کے مجلس عاملہ کے رکن حسین امین نے اس موقع پر ملک کے علماء کرام سے مسلم بچوں کی تعلیم کی طرف تو جہ دلاتے ہو ئے اس ضرورت پر زور دیا کہ مدرسوں میں دینی تعلیم کے ساتھ بچوں کو عصری تعلیم بھی دی جائے ۔ تاکہ مستقبل میں ہندوستان کے مختلف شعبوں میں اپنی نمائندگی درج کراسکیں ۔ اور ملک کی تعمیر میں نمایاں حصہ لیں ۔ انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر ذاکر حسین کو یہ سچی خراج عقیدت ہو گی ۔ امبیڈ کر یونیورسٹی کے پروفیسر ردرا ساہو نے کہا کہ ڈاکٹر ذاکر حسین نے جو تعلیمی نظام مرتب کیاتھا ۔ اس میں معاشیات کو اولیت دی گئی تھی ۔ ان کا ماننا تھا کہ تعلیم ایسی ہونی چاہئے جو اخلا ق و کر دار کی درستگی کے ساتھ ملک کے معاشی نظام میں بھی کام آسکے ۔ کو ئی سماج اس وقت تک آگے نہیں بڑھ سکتا ۔ جب تک وہ معاشی اور اخلاقی اعتبار سے مضبوط نہ ہو ۔ انہوں نے کہا کہ ذاکر حسین کو جب گاندھی جی نے قومی تعلیم کاسربراہ بنایا تو انہوں نے تعلیم کے ساتھ معاش اور سماجیات کی بد حالیوں پر غور کر تے ہو ئے تعلیمی نصاب مر تب کیاتھا ۔ آج موجودہ حکومت اسے دوبارہ لاگو کرنے کے لئے کوشاں ہے ۔ ڈاکٹر انصاری نے اس ضرورت پر زور دیا کہ مسلمانوں میں تعلیم کی تفریق کو ختم کیاجائے ۔جدید تقاضوں کے ساتھ مذہبی تعلیم کا بندوبست کیاجائے ۔ انہوں نے کہا کہ مسجدوں کے آئمہ جو جمعہ میں اپنے خطبے میں اصلاحی و تعمیری ، سماجی ، پہلوؤں پر وہاں کے مقامی زبان میں اگر خطبہ دیں تو زیادہ موئثر ہو گا ۔
تکمیل الطب کالج کے اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر منی رام نے ملک کے تعلیمی سماجی اور معاشی اعداد وشمار کے حوالے سے کہا کہ افسوس ہے کہ دنیا میں پہلی چار سو یونیورسٹیوں میں ہمارا کہیں شمار نہیں ہے ۔ اور دوسو یونورسٹیوں میں دو آئی آئی ٹیز کا شمار کیاگیا ہے ۔ ایک آئی آئی ٹی ممبئی اور دوسرا کھڑگ پورایک مینجمنٹ احمد آباد شامل ہے ۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کر تے ہو ئے کہا کہ آج یونیورسٹی کے اساتذہ اپنے بایو ڈاٹا کے بموجب جو تحقیقات کی سر ٹیفکٹ پیش کر تے ہیں اس کے فل لینتھ پیپر پر کسی بھی سطح پر نہیں اتر سکتے ۔انہوں نے کہا کہ آج سیمینار اور کانفر نس مزاق بن گیا ہے۔۔اس لئے یونیورسٹیوں کا معیار بلند کیاجاسکے ۔ڈاکٹر نفیس نے قر آن و حدیث کی روشنی میں تعلیم حاصل کر نے پر زور دیا انہوں نے کہا کہ اسلاف نے جو تعلیمات دی تھی ۔ ان کو آج بڑے پیمانے پر عوام الناس کو بتانے کی ضرورت ہے ۔ جلسہ میں علاقہ کے محمد عارف نصیرآ با د ی، منیر صدیقی ، طارق چشتی ، سعید احمد ، عبد الغنی ،سمیرہ خان ، شبانہ ، شمس الدین ، کے علاوہ کثیر تعداد میں طلباء وطالبات نے حصہ لیا ۔ اس موقع پر آئے ہوئے مہمانوں کا دفتر انچارج توفیق احمد نے شکریہ ادا کیا ۔
Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *