جامعہ ملیہ اسلامیہ کے سابق طالب علم کا پوپی پی سی ایس (جیوڈیشل) میں انتخاب

Share Article

 

جامعہ کی وائس چانسلر نے پیش کیا مبارکباد ،طلبا کو جج بن کر ملک کی خدمت کی دی ترغیب

جامعہ ملیہ اسلامیہ کے سابق طالب علم جسیم خان جنھوں نے ابھی حال ہی میں اتر پر دیش جو ڈیشئل سروسیز ایگزامنیشن میں 36ویں رینک حاصل کر کے ایک ریکارڈ قائم کیا ہے ۔وائس چانسلر جامعہ ملیہ اسلامیہ پروفیسر نجمہ اختر نے کہا کہ یہ ہم سب کے لئے خوشی کی بات ہے اور ہم محمد جسیم کی اس کامیابی پر انھیں دل کی عمیق گہرائیوں سے مبارکباد پیش کرتے ہیں ۔ اس سے قبل یو پی ایس سی کے لئے محمد جسیم نے پانچ مرتبہ امتحان دیا تھا لیکن انتخاب نہ ہونے پر وہ ہمت نہیں ہارے اور مستقل اپنے مقصد میں لگے رہے جن کا ثمرہ انھیں آج ملا ۔ وائس چانسلر نے کہا محمد جسیم کی محنت اور جد و جہد دیگر طلبہ کے لئے سبق آموز ہے کہ انھوں نے جیوڈیشل سرویسیز میں بغیر کسی کوچنگ کے پہلی ہی کوشش میں اپنی جگہ بنانے میں کامیابی حاصل کی ۔ بتا دیں کہ محمد جسیم کی ابتدائی تعلیم جامعہ کے ہی اسکول میں ہوئی ہے بعد ازاں انھوں نے گریجویشن بھی جامعہ سے ہی کی ہے ۔

 

اپنے دہلی سفر کے دوران محمد جسیم نے بذات خود وائس چانسلر سے ملاقات کی ، اس موقع پر انھوں نے جامعہ ملیہ اسلامیہ کے شعبہ قانون سے وابستہ تقریبا دو سو طلبہ کے ساتھ ایک انٹریکٹیو سیشن میں تبادلہ خیال بھی کیا جس میں انھوں نے طلبہ کو محنت و جد و جہد کی تر غیب دیتے ہوئے بڑی تعداد میں سول سروسیز کے لیے اپنے آپ کو تیار کرنے کی بات کہی ۔ اس موقع پر انھوں نے امتحان میں کامیابی کے گُر سے بھی طلبہ کو واقف کرایا ، ساتھ ہی ساتھ طلبہ کی جانب سے پوچھے گیے سوالات کا بھی تشقفی بخش جواب دیا ۔

 

دیپیش کمار سنگھ طالب علم سالِ چہارم بی اے ایل ایل بی نے کہا کہ اس سیشن سے ہم نے کافی کچھ سیکھا ، یہ ہمارے بڑا سود مند رہا ، ہم نے سیکھا کہ کیسے گر کے اٹھنا اور اٹھ کر کچھ کرنا ہے ۔ سواپنل دوبے سال چہار م کے ایک دیگر طالب علم جو بی اے ایل ایل بی کر رہے ہیں نے کہا محمد جسیم نے ہمیں کامیابی کے کئی نادر گُر بتائے ۔ ہر شت اگروال سال چہارم کے ایک اور طالب علم جو بی اے ایل ایل بی نے کہا میرے لئے یہ خوش قسمتی کی بات تھی کہ اس پروگرام میں شرکت کا موقع ملا ، یہ کافی حوصلہ افزا سیشن تھا جس سے بہت کچھ جاننے اور سیکھنے کو ملا ۔ پروفیسر نجمہ اختر کا وائس چانسلر کی حیثیت سے ذمہ داری سنبھالنے کے بعد ایک نئی روایت کا آغاز ہوا ہے جس میں وہ بذات خود کامیاب ہونے والے طلبہ ، محققین اور اساتذہ کو مبارکباد پیش کر رہی ہیں ، اس سے نہ صرف ان کی ہمت افزائی ہو رہی ہے بلکہ دیگر طلبہ بھی سبق لیکر آگے بڑھنے کی کوششوں میں مصروف ہیں ۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *