ایم پی سادھوی پرگیہ ٹھاکر کو ملا دھمکی بھرا خط، جان کو خطرہ بتانے کے بعد بڑھائی گئی سیکورٹی

Share Article

 

ہمیشہ اپنے متنازعہ بیانات سے شہ سرخیوں میں رہنے والی بھوپال لوک سبھا سیٹ سے بی جے پی کی ممبر پارلیمنٹ سادھوی پرگیہ ٹھاکر کو جان سے مارنے کی دھمکی ملی ہے۔ پیر کی رات ان کے گھر سے دھمکی بھرا خط اور مشکوک کیمیکل ملنے سے سنسنی پھیل گئی۔ اردو زبان میں لکھے اس خط کو بھیجنے والے نے سادھوی پرگیہ کے علاوہ وزیر اعظم نریندر مودی، وزیر داخلہ امت شاہ، قومی سلامتی کے مشیر اجیت ڈوبھال اور اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ پر بھی حملے کی دھمکی دی ہے۔ خط کے ساتھ ان سب کی تصاویر بھی لگی ہوئی تھیں، جس پر کراس بنا ہوا ہے۔ سادھوی پرگیہ نے خود کے خلاف سازش کا خدشہ ظاہر کیا ہے اور جان کا خطرہ بتایا ہے۔ فی الحال پولیس نے مقدمہ درج کر تحقیقات شروع کر دی ہے۔

بھوپال سے ممبر پارلیمنٹ سادھوی پرگیہ ٹھاکر کے گھر پاؤڈر بھرالفافہ پہنچنے سے سنسنی پھیل گئی۔ دراصل، سادھوی پرگیہ کو پیر کی رات کو سلور کلر کے پاؤڈر کا پیکٹ اور اردو میں لکھا ہوا ایک کاغذ ملا۔ جیسے ہی انہوں نے اسے اٹھایا ان کے ہاتھ میں کھجلی ہونے لگی۔ ایم پی کی اطلاع پر پولیس اور ایف ایس ایل کی ٹیم دیر رات ان کے بنگلے پر پہنچی اور خط اور پاؤڈر کو اپنے قبضے میں لے لیا ہے۔ معاملے کی تحقیقات شروع کر دی ہے۔ لفافے میں سلور کلر کا تقریباً 20 گرام پاؤڈر ملا ہے۔ ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ یہ پاؤڈر کیا ہے؟۔ لفافے میں ملے کاغذ میں اردو زبان میں دھمکی بھرے الفاظ لکھے گئے ہیں۔ حالانکہ انتظامیہ نے بھی مستعدی دکھاتے ہوئے پولیس اور ایف ایس ایل کی ٹیم قائم کر تحقیقات شروع کر دی ہے اور سادھوی پرگیہ کی حفاظت بڑھا دی ہے۔ سادھوی پرگیہ کا الزام ہے کہ لفافے میں نقصان دہ کیمیکل کے بعد جلد میں شدید انفیکشن ہو گیا ہے۔ سادھوی پرگیہ نے لفافے کے اندر-باہر زہریلا کیمیائی مادہ استعمال ہونے کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔

سادھوی پرگیہ نے زہریلا کیمیکل سے خود کی جان کو خطرہ بتایا ہے۔ سادھوی نے پولیس سے کہا کہ ان کے خلاف سازش رچی جارہی ہے۔ پہلے بھی ان کو دھمکی اور دھمکی بھرے خط مل چکے ہے۔ سادھوی پرگیہ نے پولیس میں شکایت درج کرائی ہے۔ شکایت درج کروانے کے بعد ایف ایس ایل کی ٹیم تحقیقات میں لگ گئی ہے۔ دیر رات سینئر پولیس افسر موقع پر پہنچے اور تحقیقات شروع کی۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *