سیکورٹی کی فکر یا سیاست

Share Article

روبی ارون

این سی ٹی سی کی تشکیل کے پیچھے کیا واقعی ملک کی سلامتی کی فکر ہے یا پھر یہ کانگریس کی اپوزیشن پارٹیوں اور لیڈروں، خاص کر گجرات کے وزیر اعلیٰ نریندر مودی اور مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی پر شکنجہ کسنے کی کوئی سیاست ہے؟ آخر کانگریس اوراس کے وزیر این سی ٹی سی یعنی انسداد دہشت گردی خفیہ مرکز کو لے کر اتنی جلد بازی میں کیوں ہیں؟ جبکہ ملک میں پہلے سے ہی اتنی تفتیشی ایجنسیاں موجود ہیں تو پھر ایک اور نئی ایجنسی کی کیا ضرورت پڑ گئی؟
یہ سوال نہ صرف اپوزیشن پارٹیوںکے ساتھ ساتھ حکومت میں شامل اتحادی جماعتوں کے درمیان سامنے بھی منھ پھاڑے کھڑا ہے ۔سوال اٹھنے لازمی ہیں اور اس کی مناسب وجوہات بھی ہیں۔کیونکہجب ملک میں آئی بی، این آئی اے اور راء جیسی ایجنسیاں پہلے سے ہی موجود ہیں تو پھر ایک اور ایجنسی کی ضرورت کیوں پڑی ؟ کیا واقعی حکومت کا مقصد اس انسداد دہشت گردی خفیہ مرکز کے ذریعہ ملک سے دہشت گردی کو نیست و نابود کر دینا ہے یا اس کے ذریعہ حکومت کے خلاف کھڑے لوگوں، لیڈروں کے ساتھ شہ اور مات کا کھیل کھیلنا ہے؟ اس ایجنسی کی تشکیل سے نریندر مودی بھی متفکر ہیں۔ انہیں معلوم ہے کہ اس کی گاج سب سے پہلے ان پر ہی گرنے والی ہے۔ تبھی تو انھوں نے وزیر اعظم منموہن سنگھ سے 16اپریل کو ہونے والے وزرائے اعلیٰ کے اجلاس میں قومی انسداد دہشت گردی مرکز کی تشکیل پر بحث کو ہی ایجنڈہ بنانے کا اصرار ہے۔اس سلسلہ میں وزیر اعظم کو لکھے گئے خط میں مودی نے کہا ہے کہ انہیں داخلی سلامتی کو لے کر ہونے والے اس اجلاس کے ایجنڈے کے بارے میں وزیر داخلہ پی چدمبرم کی طرف سے اطلاع موصول ہوئی ہے۔ مودی نے کافی مایوس اور دکھ کااظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہیں حیرانی ہوتی ہے کہ خاص طور سے این سی ٹی سی کی تشکیل کے ایشو پر بحث کیوں نہیں کی جا رہی ہے۔ صرف ایک اسی مسئلہ پر میٹنگ کیوں نہیں بلائی گئی ہے۔ نریندر مودی کی یہ فکر این سی ٹی سی کیت شکیل کی اصلیت اور حکومت کی نیت، سب کچھ بیان کر دیتی ہے۔
دراصل، گجرات، ہماچل پردیش، کرناٹک، میگھالیہ اور تریپورہ جیسی ریاستوں میں اس سال کے آخر سے آئندہ سال یعنی 2013کے شروعاتی مہینوں میں اسمبلی انتخابات ہونے ہیں۔ اتر پردیش میں شرمناک شکست کا سامنا کرنے کے بعد ان ریاستوں پر کانگریس کی نظر ہے۔ گجرات، ہماچل پردیش اور کرناٹک میں بی جے پی برسراقتدار ہے۔ ظاہر ہے کانگریس اتر پردیش جیسا حشر ان ریاستوں میں نہیں چاہے گی، خاص کر گجرات میں۔ لیکن چونکہ وہاں نریندر بھائی مودی کی حکومت ہے اور ان کے کام کاج اور ریاست کی ترقی کرنے کے طور طریقوں سے گجرات کے عوام ان سے بے حد خوش ہیں، اس لئے نریندر بھائی مودی کے خلاف کھڑے ہونے کے لئے بھی کانگریس کو لوہے کے چنے چبانے پڑیں گے۔ حقیقت یہ بھی ہے کہ نریندر مودی طاقتور اور مقبول لیڈر ہونے کے ساتھ ساتھ متنازعہ بھی ہیں اور بطور ملزم ان کا نام کئی فسادی معاملات میں شامل ہے۔ سپریم کورٹ نے بھی خصوصی تفتیشی دستہ یعنی ایس آئی ٹی سے اس بات پر غور وخوض کرنے کو کہا ہے کہ کیا گودھرا سانحہ کے بعد بھڑکے فسادات میں زندہ جلائے گئے کانگریس کے سابق ممبر پارلیمنٹ احسان جعفری کی بیوہ ذکیہ جعفری کی شکایت پر گجرات کے وزیر اعلیٰ نریندر مودی اور 52دیگر لوگوں کے خلاف مزید تفتیش کی ضروری ہے ، کیونکہ مودی پر متاثرین کو پناہ دینے کے بجائے فسادیوں کی بھیڑ کو اور زیادہ مشتعل کرنے کے الزامات عائد ہیں۔ ظاہر ہے کہ کانگریس نریندر مودی کی اس دکھتی رگ کو دبانا چاہے گی اور اس کی خاطر کانگریس کو انسداد دہشت گردی خفیہ مرکز جیسی ایجنسی کی ضرورت پڑے گی۔ کم و بیش کچھ ایسے ہی حالات مغربی بنگال میں بھی نظر آنے والے ہیں۔
وزیر داخلہ پی چدمبرم کے ذریعہ ملک کی سلامتی کے تئیں گہری تشویش ظاہر کرنا بھی حیرانی کی بات ہے، کیونکہ ممبئی پر دہشت گردانہ حملہ کے بعد بھی وزیرداخلہ نے دہشت گردی کی روک تھام کے لئے کوئی پختہ پہل نہیں کی، سوائے بیان بازیوں کے۔ پی چدمبرم کی ہدایت میں، ممبئی پر دہشت گردانہ حملہ کے بعد ملک سے دہشت گردی کی خاتمے کی خاطر ایف بی آئی کی طرز پر قومی تفتیشی ایجنسی کی تشکیل عمل میں لائی گئی تھی۔ وزیر داخلہ پی چدمبرم نے پارلیمنٹ اور ملک کے لوگوں کو یقین دلایا تھا کہ این آئی اے کو اتنا مضبوط بنایا جائے گا کہ یہ ایجنسی ہندوستان میں دہشت گردوں کے منصوبوں کو کبھی کامیاب نہیں ہونے دے گی۔ دہشت گردانہ واقعات سے قبل ہی کارروائی کر دی جائے گی، لیکن ہوا کیا؟ آج این آئی اے اپنی تشکیل کے تین سال بعد بھی لاوارثوں کی حالت میں ہے۔ اسے کام کرنے کی بنیادی سہولیات تک میسر نہیں ہیں۔ این آئی اے اس وقت دہشت گردی سے جڑے 35معاملات پر کام کر رہی ہے، لیکن اب تک وہ صرف ایک ہی معاملہ کا ازالہ کر پائی ہے۔حالانکہ حکومت ابھی تک این آئی پر رواں مالی سال میں تقریباً17کروڑ روپے کے خرچ کے اعداد و شمار پیش کر رہی ہے، لیکن سچ یہی ہے کہ یہ ایجنسی آج محض ایک سفید ہاتھی ہی ثابت ہو رہی ہے۔  2008میں ہوئے ممبئی حملے کے بعد دہشت گردی مخالف محاذ پر اس ایجنسی نے جو کچھ کیا ہے، اس سے وہ علامتی اثرات بھی نہیں چھوڑ پائی ہے۔ اوپر سے این آئی اے پر یہ لیول ضرور چسپاں ہو گیا کہ کانگریس حکومت اس تفتیشی ایجنسی کے تحت ہندو اور بھگوا دہشت گردی کو ہندوستانی عوام میں پھلنے پھولنے کا موقع فراہم کر رہی ہے۔ مالیگائوں بم دھماکہ، سوامی اسیما نند اور سادھوی پرگیا جیسے دیگر معاملوں کو لے کر، بی جے پی ، آر ایس ایس جیسی پارٹیاں، این آئی اے کو پہلے سے ہی کٹہرے میں کھڑا کر چکی ہیں۔ کام کے معاملہ میں پھسڈی ثابت ہوئی اس ایجنسی کی توسیع کی بھی تیاری کی جا رہی ہے۔ اب این آئی اے نہ صرف تین نئے دفاتر کھولے گی بلکہ ادارے کے ملازمین کی تعداد 400سے  بڑھا کر تقریباً900کرے گی۔ این آئی اے لکھنؤ، کوچی اور ممبئی میں اپنے دفاتر کھولے گی۔
وزارت داخلہ کی اس سلسلہ میں تجویز کو کیبنٹ نے حال ہی میں منظوری دے دی ہے۔سوال اٹھتا ہے کہ جب دہشت گردی کے خاتمہ کے نام پر ایک ایجنسی کی تشکیل کی جاتی ہے اور اس کی توسیع کی بھی تیاریاں کی جاتی ہیں، تب اسی درمیان اسی کام کے لئے آناً فاناً میں دوسری تنظیم کی تشکیل کیوں کر دی جاتی ہے؟ لیکن جب ہم سیاسی گلیاروں میں رسوخ دار لوگوں کی بات کرتے ہیں اور این آئی اے کے افسران علاقہ اور این سی ٹی سی کے کام کرنے کے طریقہ کا جائزہ لیتے ہیں ، تو تمام باتیں صاف ہو جاتی ہیں۔ یہ ایجنسی انٹیلی جینس بیورو کے تحت راست طور پر وزارت داخلہ کے انڈر ہوگی ۔ این سی ٹی سی کو غیر قانونی نقول وحرکت ایکٹ(ازالہ) کے تحت یعنی یو اے پی اے سے طاقت حاصل ہوگی، جو مرکزی حکومت کی ایجنسیوں کو گرفتاری اور تفتیش کرنے کا اختیار دیتی ہے۔حکومت ہند نے اب تک یہ نظام برقرار رکھا ہے کہ خفیہ بیورو کو گرفتاری اور ضبطی کا اختیار نہیں ہوگا۔ ساتھ ہی خفیہ بیورو جوبھی اطلاع کرتی اکٹھاہے، انہیں وہ ریاستی پولس یا سی بی آئی کے سپرد کر دیتی ہے۔ جو تفتیش، گرفتاری اور مقدمہ کی کارروائی کرتی ہیں۔ لیکن اب، این سی ٹی سی کو خفیہ بیورو کے تحت لا کر اسے تفتیش اور کارروائی کا اختیار دے کر حکومت نے تمام اختیارات اس تفتیشی ایجنسی کو دے دئے ہیں۔ ظاہر ہے،ا س کے نتائج اچھے نہیں ہونے والے ہیں۔ یہ مرکزی ایجنسی دہشت گردی سے وابستہ کسی بھی مسئلہ میں ملک بھر میں کہیں بھی جا کر تلاشی لے سکتی ہے اور گرفتاری کر سکتی ہے۔تفتیش کے دوران یہ ریاستی پولس کو تو بھروسہ میں لے گی لیکن ریاستی حکومت اور ریاستی پولس سے اجازت لینا اس کے لئے ضروری نہیں ہوگا۔ اب ہر ریاست کی پولس اور دیگر خفیہ ایجنسیوں کو دہشت گردی سے وابستہ تمام خفیہ معلومات این سی ٹی سی کے ساتھ شیئر کرنی ہوںگی۔ یقینا یہاں یہ امکانات پیدا ہوتے ہیں کہ جو آئی بی پہلے سے ہی اپوزیشن کے لئے پریشانی کا سبب بنی ہوئی ہے، اب مزید طاقتور ہو چکی ہے۔ ایسے میں افسران کے بیجا استعمال ہونے کے امکانات مضبوط ہو جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ دس ریاستوں کے وزرائے اعلیٰ نے وزیر داخلہ پی چدمبرم کے ڈریم پروجیکٹ نیشنل کائونٹر ٹیررزم سینٹر یعنی این سی ٹی سی کے خلاف محاذ کھول دیا۔ یہ بات الگ ہے کہ سرکار ایس پی اور بی ایس پی کی مدد سے اپنی بات منوانے میں کامیاب رہی۔کانگریس کی مشکل یہ ہے کہ وہ یو پی کی طرح گجرات میں ترقی کو اپنا ایجنڈہ نہیں بنا سکتی، کیونکہ اس معاملہ میں مودی  بہت آگے ہیں۔ اس لئے کانگریس مودی حکومت کی 10سالہ مدت کار کے دوران ہوئے فسادات ، آگزنی، مسلمانوں پر ہوئے مظالم، حقوق انسانی اور بدعنوانی کو ہی اپنا اہم ایجنڈہ بنائے گی۔ گجرات میں صنعت کاری کے سبب کسانوں اور مچھواروں کی جو مالی اور سماجی حالت قابل رحم ہوئی ہے، کانگریس اسے بھی اپنے نشانہ پر رکھے گی۔ رہی سہی کسر یہ تفتیشی ایجنسیاں پوری کر دیں گی۔ویسے دیکھا جائے تو کانگریس نے نریندر مودی کے خلاف اپنی بساط دو سال پہلے سے ہی بچھانی شروع کر دی تھی، جب سونیا گاندھی نے گجرات کے سابق آئی ے ایس آفیسر ہرش مندر کو نیشنل ایڈوائزری کمیٹی کا ممبر بنایا۔ ساتھ میں سماجی کارکن فرح نقوی اور مرائی چٹرجی کو بھی جگہ دی۔ پھر ہرش مندر کو سونیا گاندھی نے فوڈ سیکورٹی کمشنر بنا دیا۔ اپنے ان سپہ سالاروں کے ذریعہ سونیا گاندھی نے گجرات کے مسلم طبقے، فساد میںیتیم ہوئے بچوں اور بیوائوں کی خاطر کام کروانا شروع کیا۔ وقتاً فوقتاً کانگریس سے وابستہ سماجی کارکنوں اور رضاکار اداروں نے مودی مخالف کام جاری رکھے اور ان کے خلاف اپیلوں کے ذریعہ ماحول بنائے رکھا۔ گواہوں اور کئی غیر مصدقہ ثبوتوں کے ذریعہ نریندر مودی اور ان کے بے حد خاص لوگوں کے کردار مشکوک بھی نظر آئے۔ لیکن قانونی دائو پیچوں کی وجہ سے نہ تو کانگریس کے منصوبے ابھی تک پورے ہو سکے اور نہ ہی مودی کی اصلیت سامنے آ سکی۔ لیکن شاید اب ،نریندر مودی اور ان کے نزدیکی لوگوں کے لئے مشکلیں بڑھنے والی ہیں۔ کیونکہ غیر قانونی سرگرمیوں کا ثبوت بھی این سی ٹی سی کو ہی حاصل کرنا ہے اور وہ بھی بغیر کسی کی اجازت لئے ساتھ ہی ملزمین کی گرفتاری بھی اسے ہی کرنی ہے۔g

روبی ارون

روبی ارون سیاسی ، جرائم اور سماجی سروکاروں کی خبروں کو اپنی قلم کے ذریعہ گزشتہ 18سال سے اٹھاتی آ رہی ہیں۔ عام عوام کے مفاد اور صحافت کے لئے ہمیشہ جدو جہد کرنے والی روبی ارون ”چوتھی دنیا“ میں ایڈیٹر( انویسٹی گیشن)کا عہدہ سنبھال رہی ہیں۔
Share Article

روبی ارون

روبی ارون سیاسی ، جرائم اور سماجی سروکاروں کی خبروں کو اپنی قلم کے ذریعہ گزشتہ 18سال سے اٹھاتی آ رہی ہیں۔ عام عوام کے مفاد اور صحافت کے لئے ہمیشہ جدو جہد کرنے والی روبی ارون ”چوتھی دنیا“ میں ایڈیٹر( انویسٹی گیشن)کا عہدہ سنبھال رہی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *