سری نگر میں سکریٹریٹ اور دیگر دفتر کھلے، جلد مل سکتی ہے دیگر پابندیوں میں نرمی

Share Article

سری نگر میں جموں و کشمیر حکومت کا سکریٹریٹ اور دیگر دفتر جمعہ کے روز کھل گئے۔ گورنر ستیہ پال ملک نے ریاست میں جمعرات کی شام سلامتی کی صورتحال کا جائزہ لینے کے بعد سرکاری سکریٹریٹ اور دیگر دفاتر میں معمول کے کام کاج بحال کئے جانے کی ہدایت دی تھی۔

مانا جا رہا ہے کہ پیر کے روز وادی میں تعلیمی ادارے بھیکھل سکتے ہیں۔ تعلیمی اداروں کو مرحلہ وار طریقے سے کھول دیا جائے گا۔ پہلے ان علاقوں میں اسکول کھولے جائیں گے، جو حساس کے زمرے میں نہیں آتے ہیں۔ ہر ضلع ڈپٹی کمشنر اور ضلع ایس ایس پی اپنی سطح پر مقامی حالات کی بنیاد پر ہی اس تناظر میں آخری فیصلہ لیں گے۔ اس تناظر میں ریاستی محکمہ تعلیم کے حکام، مختلف اسکولوں کے منیجر اور پرنسپل کی ایک امیٹنگہفتہ کے روز بلائی گئی ہے۔ وادی میں پانچ اگست سے نظم ونسق کی صورتحال کو برقرار رکھنے کے پیش نظر ٹھپ رکھی گئی ٹیلی فون سروس بھی پیر کے روزبحال ہو سکتی ہے۔

جموں و کشمیر سے دفعہ 370 اور 35۔ اے ہٹائے جانے اور یوم آزادی منائے جانے کے ایک دن بعد بھی وادی کشمیر میں تمام اسکول، کالج اور دیگر تعلیمی ادارے بند ہیں۔ اس دوران موبائل سروس، موبائل انٹرنیٹ سمیت ٹیلی فون سروس اور ٹی وی کیبل، زیادہ تر دکانیں، بازار اور تجارتی ادارے بھی بند ہیں۔ سڑکوں پر صرف ذاتیگاڑیا ہی چل رہیں ہیں جبکہ عوامی گاڑیاں اب بھی بند ہیں۔ وادی کشمیر میں سیکورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں۔ چپے چپے پر سیکورٹی فورسز کے جوانوں کو تعینات کیا گیا ہے تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعہ کو روکا جا سکے۔ خیال کیا جا رہا ہے کہ آج کے بعد سے وادی کشمیر میں آہستہ آہستہ اور مرحلہ وار طریقے سے پابندیاں ہٹنا شروع ہو جائیں گی۔

جموں و کشمیر سے دفعہ 370 اور 35۔ اے ہٹائے جانے کے بعد سے ہی وادی کشمیر میں کشیدگی کی صورتحال بنی ہوئی ہے ۔جموں میں پانچ دن تک دفعہ۔ 144 نافذ رکھنے کے بعد ہٹا لی گئی تھی۔ جموں میں اب بھی موبائل انٹرنیٹ سروس ملتوی رکھی گئی ہے جبکہ تمام اسکول، کالج، تجارتی ادارے، ٹریفک اور سرکاری دفتر عام طور پر شروع ہو گئے ہیں۔ وہیں جموں کے ہی ڈوڈہ، کشتواڑ، پونچھ، راجوری اور بانہال میں مرحلہ وار طریقے سے پابندیوں میں نرمی دی جا رہی ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *