Malaysiaملیشیا میں اعتدال پسند اسلام کی پیروی عام ہے لیکن قدامت پسندی کے رجحان میں بھی اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ ان دنوں وہاں ’چار شادی کا جواز‘ موضوع بحث بنا ہوا ہے۔اس سلسلہ میں ایک خاتون جج ششیدہ کہتی ہیں کہ دوسری شادی کی اجازت دینے سے قبل وہ بہت سے عوامل اور عناصر پر غور کرتی ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ ’ آپ اسلامی قانون کے بارے میں ایسا نہیں کہہ سکتے ہیں کہ وہ مردوں کی طرفداری کرتا ہے اور عورتوں کے ساتھ ناانصافی۔ میں اس غلط فہمی کو دور کرنا چاہتی ہوں۔‘وہ مزید کہتی ہیں کہ’میں سب کی بات سننا چاہتی ہوں نہ کہ صرف مرد کی۔ میں خاتون سے یہ جاننے کے لیے لازمی طور پر بات کرتی ہوں کہ آیا وہ اس انتظام سے متفق ہیں یا نہیں۔ ان کا رضامند ہونا اہم ہے اور اگر ہم اس کے برعکس کوئی علامت پاتے ہیں تو ہم دوسری شادی کی اجازت نہیں دیتے ہیں۔‘ وہ کہتی ہیں کہ
ایک مرد کو دوسری شادی کی اجازت کے لیے بہت ہی ٹھوس وجوہات کی ضرورت ہے۔اس کو یہ ثابت کرنا ہوتا ہے کہ وہ اپنی پہلی بیوی اور دوسری بیوی دونوں کی اچھی طرح کفالت کر سکتا ہے۔ وہ کسی ایک کی بھی ضرورت کو نظر انداز نہیں کر سکتا۔‘

 

 

ملیشیا میں خواتین کے تعلق سے جو قوانین ہیں ان کے بارے میں کچھ بے چینی بھی پائی جاتی ہے۔چنانچہ ’سسٹرز ان اسلام‘ کی ترجمان مجیدہ ہاشمی کہتی ہیں کہ ’ملائیشیا میں شریعہ قانونی نظام نہ صرف خواتین کے خلاف امتیازی سلوک روا رکھتا ہے بلکہ وہ انھیں سماجی بداخلاقیوں کا سبب بتا کر بدنام کرتا ہے۔ملک کے اسلامی اداروں نے خواتین کو دیے جانے والے انصاف کی یقین دہانی کے لیے کچھ نہیں کیا ہے۔‘ان تمام خبروں کا خلاصہ یہی نکلتا ہے کہ ایک سے زیادہ شادی کی اجازت اسلام تو دیتا ہے مگر جن حالات میں یہ اجازت ملی ہے ،اس کا خیال نہیں رکھا جاتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ دوسری شادی کے تعلق سے بے چینی پائی جاتی ہے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here