حیدر آباد ماورائے عدالت قتل کی ایس ڈی پی آئی نے سخت مذمت کی

سوشیل ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا (SDPI)کے قومی صدر ایم کے فیضی نے اپنے ایک بیان میں تلنگانہ عصمت دری کے ملزمین کے انکائونٹر قتل کو ماورائے عدالت قتل قرارد یتے ہوئے اس کی سخت مذمت کی ہے ۔ چارملزمین جن پر مبینہ طور پر ایک نوجوان ویٹرنری لیڈی ڈاکٹر کو بے دردی سے عصمت ریزی کرنے اور انہیںجلاکر قتل کرنے کا الزام لگایا گیا تھا ، وہ پولیس کی تحویل میں تھے اور بتایا جاتا ہے کہ جمعہ کے روز علی الصبح پولیس کے ساتھ ہونے والے ایک انکاوئنٹر میں ہلاک ہوگئے ۔ ایم کے فیضی نے کہا کہ کسی بھی سنگین جرم کے مرتکب شخص پرعدالتی کارروائی کی جانی چاہئے اور عدالت ہی اسے سخت سزا سنائے گی۔لیکن بغیر کسی مقدمے کے پولیس کوقتل کرنے کا حق نہیں ہے ۔ عصمت دری کے واقعات میںملوث مجرموں کو سزا دینے میں تاخیر اور اس طرح کے معاملات کو سنجیدگی سے قانونی چارجوئی کرنے میں کوتاہی برتنے کی وجہ سے عوام غم غصہ کا اظہار کرتے ہوئے انکائونٹر قتل کا خیر مقدم کرتے ہیں۔ اس کیلئے عصمت دری کے واقعات کو فاسٹ ٹراک عدالت میں سماعت اور ان گھنائونی جرائم کو روکنے کیلئے سخت سزاکو یقینی بنا یا جانا چاہئے ۔ ایک ایسے ملک میں جہاں عدالتی نظام کام کررہا ہے ، پولیس کوملزم کو گولی مارنے کی اجازت دینا انسانی حقوق کی خلاف ورزی کے مترادف ہے اور اس عمل سے ملک انتشار کا باعث بنے گا۔ ایم کے فیضی نے انسانی حقوق کمیشن سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ انکاوئنٹر کے بارے میں مناسب تحقیقات کرے اور خاطی پولیس اہلکاروں کے خلاف مثالی اقدامات شروع کرے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *