سوشل ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا (ایس ڈی پی آئی) کے قومی صدرایم کے فیضی نے مصرکی فوج کے ذریعے غیر قانونی طورپر معزول کردئے گئے صدرمحمد المرسی کی موت پر گہرے صدمے اورخراج عقیدت کا اظہار کیا ہے۔ غیرقانونی قید میں ان کی موت سے گہریت شکوک و شبہات پیدا ہوتے ہیں۔ ایسے اشارے ہیں کہ ان کو ڈکٹیٹر عبد الفتاح ال سیسی کی فوجی حکومت نے قید کے دوران مناسب علاج اور دوا مہیا نہیں کرائیں۔وہ حقیقی معنوں میں نہ صرف مصر بلکہ پورے عرب دنیا میں جمہوری طور پر منتخب پہلے صدر تھے۔ان کو آرمی چیف عبدالفتاح السیسی نے ان کے صدر منتخب کیے جانے کے دوسرے سال کے اندر عہدے سے برطرف کردیا تھا اور جھوٹے الزامات میں سات سال کی سزائے قید سنا کر چھ سال سے جیل میں رکھا ہوا تھا۔ جبکہ اخوان المسلمین کے ہزاروں ارکان موت کے گھاٹ اتار دئے گئے۔ مرحوم محمد مرسی ایک بہت ہی منفرد خصوصیات اور اعلی کردار کے انسان تھے۔ وہ قرآن مجید کے حافظ ہونے کے ساتھ ساتھ سائنس و انجینئرنگ میں امریکہ سے پی ایچ ڈی تھے۔ وہ بہت ہی منکسرالمزاج زمینی سیاستدان تھے جو ہمیشہ براہ راست عام لوگوں سے جڑے رہے۔اور ان کی اپنی تنظیم اخوان المسلمین کے مقاصد اورنصب العین سے وابستگی بھی اٹوٹ تھی۔ انہوں اپنے آپ کو قوم و ملت کے لیے وقف کردیا تھا۔
Image result for SDPI expresses condolences on death of former President Mohammed Morsi of Egypt
ایس ڈی پی آئی سمجھتی ہے کہ صدر کے عہدے سے مرحوم مرسی کی برطرفی مصر اور ان عرب ممالک میں جمہوریت کی بیخ کنی تھی جہاں ڈکٹیٹراور خود مختار حکمراں اقتدار پر قابض ہیں۔مصر نے بہار عرب کے ماحول میں جمہوریت دیکھی جس کے نتیجے میں اخوان المسلمین میں آئی،لیکن مصر کی فوج نے سامراجی اور صیہونی طاقتوں کی سرپرستی میں جمہوری طور پر منتخب حکومت کا تختہ پلٹ دیا. مسٹر محمد مرسی کی وفات عدالت میں غیر قانونی مقدمہ پر ان کی پیشی کے دوران ہوئی۔ ایس ڈی پی آئی کے صدر ایم کے فیضی نے یہ بھی کہا کہ مسٹر محمد مرسی کی موت سے مصر کے اندر اور باہر جمہوریت اور انصاف نے بہت کچھ کھو دیا ہے، ان کی شہادت مصر اور عالم اسلام کا ناقابل تلافی نقصان ہے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here