سدھوکی سزابرقراررہے گی یانہیں،فیصلہ محفوظ

Share Article

Sidhu

30سال پرانے روڈ ریج کے معاملے میں سپریم کورٹ نے نوجوت سنگھ سدھو اوران کے ساتھی روپیندر سنگھ سندھو کی عرضی پرفیصلہ محفوظ رکھ لیاہے۔سپریم کورٹ طے کرے گا کہ سدھوکی سزابرقراررہے گی یانہیں۔اس معاملہ میں ہائی کورٹ نے سدھو کوتین سال کی سزاسنائی تھی جسے سپریم کورٹ میں اپیل کی گئی تھی۔سدھونے عرضی میں کہاتھاکہ وہ بے قصورہیں ، انہیں پھنسایاگیاہے۔بہرکیف غیر ارادتاً قتل معاملے میں سابق کرکٹر اور پنجاب سرکار میں وزیر نوجوت سنگھ سدھو کی اپیل پر سپریم کورٹ سماعت مکمل ہو گئی ہے ۔جسٹس چلمیشور کی صدارت والی بنچ نے تمام فریقوں کی دلیلیں سننے کے بعد فیصلہ محفوظ رکھ لیا ہے
سدھو کی طرف سے کہا گیا تھا کہ اس معاملے میں کوئی بھی گواہ خود سے سامنے نہیں آیا۔جن بھی گواہوں کے بیان درج کئے گئے ہیں ان کو پولس سامنے لائی تھی۔گواہوں کے بیان میں تضاد ہے۔ سدھو کے وکیل نے چشم دید گواہ کی سچائی پر سوال اٹھائے۔ گرنام کے بھتیجے نے کاہ تھا کہ پولس ان کی کارکو فوراً قبضے میں لے لیا تھا ۔لیکن جانچ افسر اس سے منع کر چکے ہیں۔سپریم کورٹ نے پنجاب سرکار نے سدھو کو بے قصور ثابت کئے جانے کی مخالفت کی تھی اور سدھوکو سزا دیئے جانے کامطالبہکیا تھا ۔1988میں روڈ ریز کے جھگڑے میں سدھو نے گرنام سنگھ نامی شخص کو سر پر گھونسا مار دیا تھاجس کے بعد ان کی موت ہو گئی تھی۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *