khasho
اب تک یہ بات کہی جاتی تھی کہ عرب ممالک اور اسرائیل میں چھتیس کا آنکڑہ ہے ۔عرب ملکوں میں سعودی عرب کی طرف سے اسرائیل کے خلاف بڑے بڑے دعوے کئے جاتے رہے ہیں۔مگر گزشتہ دنوں امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے جو انکشاف کیا ہے ،اس سے یہ بات نکل کر سامنے آتی ہے کہ ہاتھی کے دانت کھانے کے اور ہیں اور دکھانے کے اور۔جو سعودی عرب اسرائیل کے خلاف بڑی بڑی باتیں کرتا ہے ،حقیقت میں وہی اس کے وجود کی ضمانت ہے۔ آپ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی یہ بات سن کر حیران رہ جائیں گے جس میں انہوں نے کہا ہے کہ ’ سعودی عرب کے بغیر اسرائیل کا وجود باقی نہیں رہ سکتا۔ یورو نیوز کے مطابق ،صدر نے اس بات کا اعتراف کیاہے کہ اسرائیل کے وجود کا دارو مدار سعودی عرب میں شاہی نظام کے استحکام میں مضمر ہے۔اگر سعودی عرب میں موجودہ شاہی نظام پر کوئی آنچ آئی تو اسرائیل کا وجود بھی خطرے میں پڑجائے گا۔اگر سعودی عرب کمزور ہوتا ہے تو یہ اسرائیل کے خاتمے کے مترادف ہوگا۔یہ بات یاد رکھنے والی ہے کہ جب تک سعودی عرب جیسا طاقتور اتحادی خطے میں موجود ہے ،اسرائیل کے مٹنے کا خواب پورا نہیں ہوگا۔‘

 

صحافیوں سے بات کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ’ اگر ہم طے شدہ قوانین اور معیاروں پر قائم رہے تو پھر دنیا میں ہمارا کوئی دوست باقی نہیں رہے گا۔ ہمیں امریکہ، اسرائیل اور دیگر اتحادیوں کے مفادات کے تحفظ کی خاطر سعودی عرب کے ساتھ دوستانہ تعلقات کو فروغ دینا ہو گا۔جہاں تک بات ہے سعودی صحافی خاشقجی کے قتل کے سلسلے میں سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے خلاف سخت گیر اقدامات اختیار کرنے کی تو ہم ایسا کرنے نہیں جارہے ہیں کیونکہ ولی عہد کے خلاف سخت گیر اقدامات کرنا ہمارے مفاد میں نہیں ہے۔

 

خاشقجی کے قتل کے تعلق سے سعودی عرب کی جانب سے کئی دنوں تک تردید کی جاتی رہی پھر بعد میں حکام نے تسلیم کیا کہ انہیں قونصل خانے میں قتل کیا گیا۔ اس سلسلے میں ترک اخبار میں یہ دعویٰ کیاجارہا ہے کہ امریکی خفیہ ادارے کے پاس سعودی ولی عہد اور ان کے بھائی کے درمیان گفتگو کی ریکارڈنگ موجود ہے جس میں محمد بن سلمان نے خاشقجی کو جلد سے جلد خاموش کرنے کی ہدایات دی ،اس کے فوری بعد انہیں قتل کردیا گیا

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here