سعودی خواتین خود ہی گھریلو کام کاج سنبھالیں تو معیشت بہتر ہوگی

Share Article

وسیم احمد
p-8سعودی سماج میں سعودی خواتین کا گھریلو کام کاج کے لئے خادمہ (نوکرانی) بننا معبوب سمجھا جاتا ہے،نتیجتاً بیرون ملک سے خادماﺅں کو لاکر گھریلو کام کاج کرایا جاتا ہے۔ اس ذہنیت کی وجہ سے ملک کا لاکھوں ڈالر غیر ملکوں میں چلا جاتا ہے اور اس کا منفی اثرملک کی معیشت پر پڑتاہے۔اس بڑے خسارے کے باوجود سماج کی سوچ میں بدلاﺅ نہیں آرہاہے۔ اگر کوئی اس بدلاﺅ کی بات کرتا ہے تو اس کے خلاف مہم شروع کردی جاتی ہے۔ ابھی حال ہی میں سعودی عرب کی ایک خاتون سیاستداں حیا المانی نے تجویز پیش کی کہ سعودی خواتین کو گاڑی چلانے کا حق ملنا چاہیے۔ان کے اس بیان کے آتے ہی 30برس پہلے دیئے گئے ان کے ایک بیان کو بنیاد بنا کر ان کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔
ڈرائیونگ لائسنس پر تو بہت کچھ لکھا جاچکا ہے۔ لیکن اس وقت سعودی عرب کے اخباروں نے ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے اور وہ بحث ہے گھریلو خادمہ کی ۔ حیا المانی جوکہ عورتوں کے لئے ڈرائیونگ لائسنس دینے کے حق میں آواز بلند کررہی ہیں۔ انہوں نے ایک مضمون گھریلو خادمہ پر 30 سال پہلے لکھا تھا۔ اس مضمون کو ایک شخص سعید حسین الزہرانی نے ڈھونڈ کر نکالا ہے اور اخباروں میں چھپوا کر یہ بتانے کی کوشش کی ہے کہ المانی سعودی اور غیر سعودی خواتین کو سماجی وقار کے باب میں مساوی سمجھتی ہیں اور سعودی خواتین کو خادمہ بنانے کی ذہنیت رکھتی ہیں، اس لئے ان کے مشورے کو قابل بھروسہ نہ سمجھا جائے۔قابل ذکر ہے کہ تیس سال پہلے لکھے گئے اپنے مضمون میں المانی نے کہا تھا کہ ملک کے امیر طبقے کو گھروں کی صفائی ستھرائی کے لیے بیرونِ ملک سے خادمائیں منگوانے کی بجائے خود سعودی عرب کے جنوبی حصوں سے غریب عورتوں کی خدمات حاصل کرنا چاہئے ۔ ان کا کہنا تھا کہ اس طرح ملک کے وسائل کا زیادہ بہتر استعمال ہو گا۔
بس پھر کیا تھا، میڈیا خاص طور پر سوشل میڈیا میں طوفان کھڑا ہو گیا۔زیادہ تر لوگوں نے سعودی عورتوں کو بطور خادمہ کام کرنے کے خیال پر برہمی ظاہر کی اور اس بات کو بھی نشانہ بنایا گیا کہ ملک کے جنوبی حصے کی خواتین ہی کا کیوں ذکر کیا گیا ہے۔ایک قاری نے لکھا: ’میں خدا کی قسم کھاتا ہوں کہ سعودی لڑکیاں، چاہے وہ شمال کی ہوں یا جنوب کی، مشرق کی ہوں یا مغرب کی، کبھی گھریلو ملازمہ کے طور پر کام نہیں کریں گی۔ ہمارے سر بلند رہیں اور ہماری بیٹیوں کا وقار قائم و دائم رہے۔‘
ذرا غور کیجئے۔ المانی نے اقتصادی اعتبار سے ایک دانشمندانہ بات کہی تھی۔ آج سعودی عرب کا لاکھوں ڈالر غیر ملکی خادماﺅں کی تنخواہ کے طور پر بیرون ملک چلا جاتا ہے۔ اگر ان بیرونی خواتین کی جگہ سعودی غریب خواتین ہی امیروں کے گھر کا کام کریں تو باہر جانے والی کرنسی ملک کے اندر رہے گی ،دوسرے اس وقت وہاں جو بے روزگاری کے مسائل پیدا ہورہے ہیں اور حکومت غیر ملکی ملازمین کی تعداد کم کرنے کی کوشش کررہی ہے ،اس میں کامیابی ملے گی۔بیرون ملک کے ملازمین کی جگہ ملک کے لوگ کام کریں گے تو اس سے ملک کی اقتصادیات کو سپورٹ ملے گا ۔
سعودی عرب کی گرتی معیشت کا اندازہ وہاں کی بڑی کمپنیوں کی صورت حال سے لگایا جاسکتا ہے۔یہ کمپنیاں سرکاری فنڈ نہ ملنے کی وجہ سے اپنے ملازمین کی تعداد میں تیزی سے کٹوتی کررہی ہیں۔ ابھی حال ہی میں سعودی عرب کی مشہور کمپنی بن لادن جوکہ مشاعر مقدس( زیارت گاہوں) کے زیادہ تر پرجیکٹس کے منٹیننس کا کام انجام دیتی ہے۔ اس کمپنی نے قومی اقتصادی صورت حال میں گراوٹ کی وجہ سے اپنے 50ہزار ملازموں کو ٹرمینیٹ کیا ہے۔ملازمین کا کہنا تھا کہ اگرچہ انہیں نوکری سے نکالے جانے کی خبر کو اس وقت سعودی حکومت کی جانب سے تیل کی کم قیمتوں اور ترقیاتی اخراجات میں کمی سے منسلک کیا جا رہا ہے، لیکن تعمیراتی کمپنی کے ملازمین کو نکالے جانے کا یہ سلسلہ گذشتہ برس سے ہی جاری ہے ۔اس سے صاف ہوجاتا ہے کہ سعودی عرب کو اقتصادی مشکلات کا سامنا ہے ۔ملازمین کو برخاست کرنے کا معاملہ چند ماہ پہلے جنوری 2016 میں بھی سامنے آیا تھا جب تنخواہوں کی عدم ادائیگی پر بن لا دن کے ملازمین نے ہڑتال شروع کردی تھی، لیکن اس وقت سیکورٹی فورسز کی مداخلت سے اس معاملے کو ٹھنڈا کردیا گیا تھا۔لیکن اب یہ معاملہ پُر تشدد رخ اختیار کرچکا ہے ۔چنانچہ عالمی یوم مزدورکے موقع پر اپنے غم و غصہ کا اظہار کرتے ہوئے بن لادن کے کچھ ملازموں نے شہر مکہ میں7 گاڑیوں کو نذر آتش کر دیا۔رپورٹ کے مطابق کمپنی کے مزدوروں اور ورکروں نے یہ اقدام اس وجہ سے کیا کہ انہیں گزشتہ پانچ مہینوں سے تنخواہیں نہیں دی گئی ہیں۔ سعودی عرب میں اقتصادی مشکلات کی وجہ سے بن لادن کمپنی نے حالیہ دنوں اپنے25 فیصد ورکروں کو کمپنی سے ٹرمینیٹ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
جو لوگ المانی کی باتوںکی مخالفت کررہے ہیں،انہیں یہ محسوس ہورہا ہوگا کہ انہوں نے سعودی عورتوں کے خادمہ بننے کے بارے میں جو کچھ کہا تھا ،وہ ایک دانشمندانہ موقف تھا ۔کیونکہ سعودی خواتین کو خادمہ کے طور پر کام کرنے کی صورت میں ایک تو جو کرنسی بیرون ملک جارہی ہے اس میں کمی آئے گی ،دوسرے بیرون ملک سے ایک خادمہ کے ویزا اور لانے و لیجانے پر جو اخراجات آتے ہیں ان سے متعلقہ کمپنی کو نجات ملے گی ا ور اس کے اخراجات میں کمی آئے گی۔
ایک اہم بات یہ بھی ہے کہ جس کام کو اگر ایک غیر ملکی خاتون بطور خادمہ انجام دے سکتی ہے تو پھر اسی کام کو سعودی خاتون کیوں نہیں؟کیا صرف اس لئے کہ وہ ایک امیر ملک کی شہری ہیں، اس لئے ان کی حیثیت ایک آقا کی ہے اور دیگر ملکوں کی خادمائیں جو کسی غریب ملک سے تعلق رکھتی ہیں اس لئے ان کی حیثیت کسی کنیز کی ہے۔ اگر سوچ ایسی ہے تو یہ سراسر غیراسلامی ہے۔بحیثیت انسانیت ہر آدمی برابر ہے اور غریب و امیر کی وجہ سے کوئی باوقار نہیں ہوتا ۔لہٰذا سعودی عرب کے سماج کو جو کہ خود کو اسلام کے سب سے بڑے علمبردار کہتے ہیں ،ایسی سوچوں سے گریز کرنا چاہئے۔ سعودی سماج میں اسی سوچ کا نتیجہ ہے کہ وہاں کے نوجوان لیبر کے کام کو معیوب سمجھتے ہیں ۔وہ صرف ایسے کام کو ہی پسند کرتے ہیں جس کا تقاضہ کسی کرسی پر بیٹھ کر دوسروں سے کام لینے کا ہو،اب وہ چاہے وہ پڑھے لکھے نہ ہو ،لیکن مزدوری کرنا اپنے لئے عیب سمجھتے ہیں۔شاید اس کی وجہ بھی یہی ہو کہ وہاں کے سماج میں مزدوری کرنا عیب سمجھا جاتا ہے اور مزدوری کرنا صرف غیر ملکیوں کا نصیب ۔یقینا یہ سوچ اسلامی معاشرے کو زیب نہیں دیتا۔ کیونکہ مذہب اسلام میں انسانیت کی قدردانی ہے اور مساوات کو پسند کیا جاتا ہے۔
غالباً سعودی اور غیر سعودی میں تفریق والی سوچ کی وجہ سے کئی دفعہ غیر ملکیوں پر سعودی کفیل زیادتیاں بھی کرتے ہیں ،کیونکہ وہ سماجی رکھ رکھاﺅ کی خاطر باہری ملکوں سے خادموں کو بلا تو لیتے ہیں ،لیکن اقتصادی پسماندگی کی وجہ سے وہ ان کے اخرجات نہیں ادا کرتے ،انہیں تنخواہ نہیں دے پاتے اوروہ غیر ملکی بے چارگی کی عالم میں ایک غلام کی زندگی گزارنے پر مجبور ہوجاتا ہے۔ اس طرح کے کئی معاملات سامنے آچکے ہیں جن میں کچھ ماہ قبل ہندوستان کی ایک گھریلو خادمہ کے ہاتھ کاٹنے کی کہانی بھی شامل ہے ۔کچھ دنوں پہلے ہندوستان کے کئی ملازموں نے اپنے ویڈیو فیس بک پر ڈال کر اپنی پریشانیوں کا تذکرہ کیا تھا جس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ سعودی سماج کس طرف جارہا ہے۔
قابل ذکر ہے کہ سعودی قانون کے مطابق بیرونی ممالک کے ملازم اپنے مالکان کی اجازت کے بغیر ملک سے باہر نہیں جا سکتے جو کہ ’کفالہ کے قانون کا ایک حصہ ہے۔اس طرح کے قانون نے سعودی سماج میں تفریق کی سو ج کو بڑھاوا دینے میں مدد کی ہے۔ وہ خود کو اس ملازم کا آقا سمجھنے لگتے ہیں ،جن کی اجازت کے بغیر ایک غلام کو کہیں سفر کرنے،کسی اور جگہ خالی وقت میں کام کرنے کی اجازت نہیں ہوتی ہے ۔سعودی قانون میں ایک کفیل کو بہت سی رعایتیں حاصل ہیں جس کی وجہ سے غیر ملکی ملازم خاص طور پر گھر کے اندر کام کرنے والی خادمائیں سب کچھ برداشت کرتے ہوئے اپنی زبان بند رکھتی ہیں جیسا کہ مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقہ کے خطے میں انسانی حقوق کی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل کے نائب ڈائرکٹر جیمز لنچ کا کہنا ہے کہ بہت سے ملازم بولنے سے گھبراتے ہیں۔ جیمز لنچ کا کہنا ہے کہ : ’ہم لوگوں نے تارکین وطن ملازمین کو مالکان کے خوف سے بولنے سے گھبراتے ہوئے دیکھا ہے کہ کہیں ان کے خلاف بدلے کی کارروائی نہ کی جائے۔ظاہر سی بات ہے ایک سعودی خادمہ جتنا برداشت کرتی ہیں ،اتنا سعودی شہریت رکھنے والی خادمائیں برداشت نہیں کرسکتی ہیں،اسی لئے کوئی سعودی امیر گھرانہ سعودی شہریت رکھنے والی خادمہ کو رکھنا نہیں چاہتا اور اس طرح سے بیرون خادماﺅں کے رکھنے کا کلچر خوب پھل پھول رہا ہے۔بہر کیف وجہ جو بھی ہو لیکن اتنا طے ہے کہ سعودی شہریت رکھنے والی خواتین کا امیر گھرانوں میں کام کاج کرنا سعودی عرب کی معیشت کو سہارا دے سکتا ہے لیکن اس کے لئے ضرورت اس بات کی ہے کہ سماجی سوچ میں بدلاﺅ لایا جائے اور قانون میں کفیل کے لئے جو بے پناہ رعایتیں ہیں ان میں ترمیم ہو۔ اگر کسی خادم کو اپنے کفیل سے شکایت ہے تو ایسی صورت میں اسے کسی نئے کفیل کے یہاں کام کرنے کی آزادی ہونی چاہئے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *