سعودی عرب پہلا خلیجی اور عرب تجارتی شراکت دار ہے: دبئی

Share Article

 

متحدہ عرب امارات کے عالمی سیاحتی و تجارتی مرکز دبئی کی طرف سے 2019ء کے پہلے چار ماہ کی غیر ملکی تجارت کے اعدادو شمار جاری کیے گئے جن میں سعودی عرب کو خلیج اور عرب ممالک کا پہلا تجارتی شراکت دار قرار دیا گیا ہے۔ دبئی اور سعودی عرب کے درمیان تین ماہ کے دوران 13 ارب 20 کروڑ درہم کا تجارتی لین دین ہوا۔العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق دبئی کے عالمی تجارتی شراکت داروں میں چین سرفہرست رہا۔ پہلی سہ ماہی میں چین اور دبئی کے درمیان تجارتی حجم 36 ارب 40 کروڑ درہم تک جا پہنچا۔ اس کے بعد بھارت کے ساتھ 33 ارب 40 کروڑ درہم، امریکہ کے ساتھ 19 ارب 50 کروڑ درہم اور سوئٹرزلینڈ کے ساتھ 12 ارب 40کروڑ درہم کا کاروبار کیا گیا۔

 

گذشتہ چار ماہ کے دوران دبئی کی بیرونی تجارت کا حجم تین کھرب 39 ارب درہم ریکارڈ کیا گیا۔ 2018ء کے اس عرصے کی نسبت رواں سال 7 فی صد اضافہ دیکھنے میں آیا۔ رواں سال اب تک 23 ارب درہم کا اضافی کاروبار کیا گیا۔دبئی کے ولی عہد الشیخ حمدان بن محمد بن راشد آل مکتوم کا کہنا ہے کہ سنہ 2019ء کی پہلی سہ ماہی کے دوران دبئی کی بیرونی تجارت میں اضافہ قومی معیشت کی مضبوطی، ترقی اور مجموعی طورپر امارات کے اقتصادی تنوع کی عکاسی کرتا ہے۔امارت دبئی کے کسٹم ٹیکس کے اعدادو شمار کے مطابق گذشتہ چار ماہ کے دوران کسٹم ٹیکس محصولات میں 32 فی صد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ رواں سال پہلے چارماہ کے دوران دبئی کی غیرملکی تجارت میں 27 اعشاریہ 71 ملین ٹن کے سامان کا لین دین کیا گیا۔ سال 2018ء کی نسبت اس میں 6 اعشاریہ 71ملین ٹن زیادہ ہے۔سنہ 2010ء سے 2019ء کے دوران دبئی کی غیرملکی تجارت میں 58 فی صد اضافہ ہوا۔ 2010ء میں متحدہ عرب امارات کی چار ماہ میں بیرونی تجارت کا حجم ایک ارب 24 کروڑ درہم تھا۔اگرچہ رواں سال کے پہلے چار ماہ کے دوران دبئی کی بیرونی تجارت میں ہرطرح کی اشیائے صرف کا لین دین ہوا مگر اس دوران سب سے زیادہ موبائل فون کی تجارت ہوئی جس کا حجم 41 ارب 70 کروڑ درہم تک جا پہنچا ہے۔دبئی کی درآمدی تجارت 4 فی صد اضافے کے ساتھ ایک کھرب 90 ارب درہم تج جا پہنچیں جب کہ برآمدات میں 7 فی صد اضافہ ہوا اور برآمدات کا کل حجم ایک کھرب 60 ارب درہم ریکارڈ کیا گیا۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *