سعودی عرب میں موت کی سزائوں پر تشویش

Share Article

p-8bہندوستان سے لاکھوں کی تعداد میں نوجوان ملازمت کے لئے بیرون ملک جاتے ہیں۔ان نوجوانوں میں کچھ ایسے بھی ہوتے ہیں جو جانے انجانے میں وہاں کے قوانین کی مخالفت کرتے ہیں اور نتیجے میں انہیں سلاخوں کے پیچھے ڈال دیا جاتا ہے۔ صرف خلیجی ممالک کے دو ملک یعنی سعودی عرب اور امارات میں غیر قانونی کام کے الزام میں پھنسے ہوئے ہندوستانیوں کی تعداد تقریبا 11,500ہے۔یہ لوگ مختلف طرح کے الزامات میں گرفتار کئے گئے ہیں اور ان کی سماعت عدالت میں ہورہی ہے۔وزارت خارجہ کی ایک رپورٹ کے مطابق 4,615 افراد سعودی عرب کی جیلوں میں اور 6,653افراد امارات کی جیلوں میں بند ہیں۔اس کے علاوہ عمان کی جیلوں میں 454اور قطر کی جیلوں میں 187 ہندوستانی بند تھے ۔ ان میں سے گزشتہ سال حکومت ہند نے99 افراد کو رہا کرالیا تھا۔ 2015 کی ایک رپورٹ کے مطابق 2012 سے جولائی 2015 تک دیگر پڑوسی ملکوںمیں تقریبا 996افراد مختلف جیلوں میں بند ہیں۔ ان پڑوسی ملکوںمیں نیپال، بھوٹان ،میانمار شامل ہیں۔چین میں 25اور مالدیپ کی جیلوں میں 39ہندوستانی قید ہیں۔گزشتہ سال پاکستان کی جیل میں 407 ہندوستانی بند تھے ۔البتہ ان میں سے کچھ کو ہندوستان کی حکومت نے رہا کرالیا ہے۔ان میں سے بیشتر وہ لوگ پاکستانی جیل میں ہیں جو مچھلی کا شکار کرتے ہوئے گرفتار کر لئے گئے ہیں۔

ان قیدیوں کے ساتھ وہاں کے قانون کے مطابق سلوک کیا جاتا ہے۔ لیکن ابھی کچھ ماہ قبل سعودی عرب کی جیلوں کے تعلق سے ایمنیسٹی انٹر نیشنل کی جو رپورٹ آئی ہے وہ افسوسناک ہے۔ اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ وہاں جیل میں بند مجرموں کو دفاع کا پورا حق نہیں دیا جاتا ہے۔یہاں تک کہ مختلف ملکوں کے مجرمین کو جو کہ سزائے موت پا چکے ہیں انہیں بھی اپنے دفاع کا حق پورا حق نہیں دیا گیا ۔ انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ایمنیسٹی انٹرنیشنل کے مطابق گزشتہ ایک سال کے دوران سعودی عرب میں کم از کم 75 افراد کو ’سزائے موت دی گئی انہیں بنیادی دفاعی حق نہیں دیا گیا۔ بہت سے واقعات میں ملزموں کو وکیلوں کی سہولت مہیا نہیں کی جاتی اور بہت سے لوگوں کو پولیس حراست کے دوران تشدد سے حاصل کیے جانے والے اعترافی بیانات کی بنا پر موت کی سزا دے دی جاتی ہے۔جن لوگوں کو سزائے موت دی گئی ہے ان میں کم عمر ملزمان اور ذہنی بیمار شامل تھے۔سعودی عرب میں سخت گیر شرعی قوانین نافذ ہیں اور بہت سے ایسے جرائم میں بھی موت کی سزا دی جاتی ہے جو مروجہ بین الاقوامی قوانین میں اتنے سنگین تصور نہیں کیے جاتے۔ ان میں منشیات کا کاروبار، جادو ٹونا، مذہب سے انحراف اور ارتداد جیسے جرائم شامل ہیں۔
قابل ذکر ہے کہ سعودی عرب میں جنوری 1985 سے جون 2015 کے درمیانی عرصے میں 2208 لوگوں کو موت کی سزا دی گئی۔انسانی حقوق کی تنظیم کا کہنا تھا کہ ان میں آدھی سے زیادہ تعداد غیر ملکیوں کی تھی جو عربی زبان سے واقف نہیں تھے۔ زیادہ تر لوگوں کو سر قلم کر کے سزائے موت دی گئی اور کچھ کو گولی ماری گئی۔ایمنیسٹی کے مطابق سعودی عرب میں انصاف کے بنیادی اصولوں کے مطابق ملزموں کے حقوق پورے نہیں کیے جاتے۔رپورٹ میں کہا گیا کہ سعودی عرب میں رائج شرعی نظامِ عدل میں بہت سے جرائم کی تشریح اور ان میں تجویز کردہ سزاو¿ں کے بارے میں ابہام پایا جاتا ہے۔ وہاں ججوں کو بھی صوابدیدی اختیارات حاصل ہیں جس کی بنا پر عدالتی فیصلوں میں واضح تضاد پایا جاتا ہے۔
غیر ملکی سزا پانے والے مجرمین میں سب سے زیادہ تعداد پاکستانیوں کی ہے ۔گزشتہ تین سالوں کے دوران سعودی عرب میں 38 پاکستانیوں کے سر قلم کیے گئے یہ افراد قتل اور منشیات کے مقدمات میں گرفتار ہوئے تھے۔
سعودی عرب کے قانونی نظام پر حقوق انسانی کی تنظیمیں آواز اٹھاتی رہتی ہیں۔کچھ ماہ پہلے ایک ہندوستانی گھریلو ملازمہ کستوری منی رتھینم کے سعودی مالک نے مبینہ طور پر ان کا ہاتھ اس وقت کاٹ دیا جب انہوں نے ظلم و زیادتی سے تنگ آ کر ان کے گھر سے فرار ہونے کی کوشش کی۔ملک واپس آنے کے بعد اس ملازمہ نے بھی ہندوستان کی حکومت سے اپیل کی تھی کہ وہ یہاں سے گھریلو کام کاج کے لئے ملازمہ کو سعودی عرب نہ بھیجے۔
مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقہ کے خطے میں انسانی حقوق کی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل کے نائب ڈائرکٹر جیمز لنچ کا کہنا ہے کہ بہت سے ملازم بولنے سے گھبراتے ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ ہم نے تارکین وطن ملازمین کو مالکان کے خوف سے بولنے سے گھبراتے ہوئے دیکھا ہے کہ کہیں ان کے خلاف بدلے کی کارروائی نہ کی جائے۔
ایسا نہیں ہے کہ بولنے پر پابندی صرف غیر ملکیوں کے لئے ہے بلکہ سعودی شہریوں کو بھی اظہار رائے کی آزادی حاصل نہیں ہے ۔اس کا ثبوت ہے 2015 میں ایک اصلاح پسند مصنف زہیر کتبی کو چار سال کی سزا۔ زہیر کتبی نے سعودی عرب میں آئینی بادشاہت کے خلاف بیان دے دیا تھا۔جس کی وجہ سے اسے چار سال کی سزا سنائی گئی۔اگرچہ اس سزا کو بعد میں کم کردیا گیا جیسا کہ خبروں میں بتایا گیا ہے کہ زھیر کتبی کی سزا میں دو سال کم کردیا گیا ہے، مگران پر 15 سال لکھنے، پانچ سال تک بیرونِ ملک سفر کرنے کی پابندی کے علاوہ 26,600 ڈالر جرمانہ بھی عائد کیا گیا ہے۔
خیال رہے کہ سعودی عرب میں 62 سالہ زھیر کتبی کو جیل بھجوانے کا یہ پہلا واقعہ نہیں ہے۔ اس سے پہلے انسانی حقوق کے سرگرم کارکنوں، اصلاح پسندوں، صحافیوں اور مخالفین کو بھی جیل بھیجا جا چکا ہے۔اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ وہاں اظہار رائے کی آزادی نہیں ہے۔ ایسے میں اگر کسی ملازم کے ساتھ کوئی ظلم ہوتا ہے تووہ خاموش رہنے میں ہی عافیت سمجھتا ہے اور اس طرح سے بہت سے ناکردہ گناہ کی سزا بھگتتا رہتا ہے۔حالانکہ کہا یہ جاتا ہے کہ سعودی عرب میں اسلامی حکومت قائم ہے مگر زمینی حقیقت بالکل اس کے برعکس ہے ۔اسلام میں ہر ملزم کو دفاع کا حق دیا جاتا ہے مگر مذکورہ رپورٹ سے صاف پتہ چلتا ہے کہ جیلوں میں بند قیدیوں کو مناسب طریقے پر دفاعی حق نہیں دیا جاتا ہے۔

 

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *