وسیم احمد
p-8حال ہی میں سعودی عرب کے اندر ایک نیا قانون بنا ہے۔ یہ قانون انسداد دہشت گردی کے تعلق سے ہے ۔اس قانون کا مقصد ملک میں پنپ رہی دہشت گردی کو روکنا ہے۔ مگر اس بل پر دستخط ہوتے ہی عالمی سطح پر یہ سوال اٹھنے لگا ہے کہ سعودی عرب میں اس قانون سے دہشت گردی کو روکا جاسکتا ہے یا نہیں ؟ دراصل اس نئے قانون میں کچھ ایسی شقیں شامل کی گئیں ہیں جن سے حکومت کی نیت پر شک ہونے لگاہے اور ایسا سمجھا جانے لگا ہے کہ اس قانون کا مقصد دہشت گردی کو روکنے کے نام پر عوام کے اظہار رائے کی آزادی پر روک لگانا ہے۔حالانکہ دہشت گردی سعودی عرب کا تنہا مسئلہ نہیں ہے بلکہ دنیا کے کئی ملک اس مصیبت میں گرفتار ہیں۔ ایشیا ئی ملکوں میں ہندوستان سب سے زیادہ اس دردکو جھیل رہا ہے ۔مگر اس کے باوجود یہاں کوئی ایسا قانون نہیں بنایا گیا جس سے اظہار رائے کی آزادی پر روک لگتی ہو۔
سعودی عرب نے جو انسداد دہشت گردی قانون بل پاس کیا ہے۔اس کی شقوں کو دیکھنے کے بعد ہندوستان میں ایمرجنسی کا دور یاد آجاتا ہے ۔1975 میں آنجہانی اندرا گاندھی نے ایمر جینسی لگا کر عوام کے اظہار رائے پر پابندی عائد کردی تھی اور تقریباً 36 ہزار سیاست دانوں و دیگر سماجی کارکنان کو امن قائم رکھنے کے نام پر گرفتارکر کرلیا گیا تھا۔لیکن انجام کیا ہوا؟ انجام یہ ہوا کہ دبائو اور رکاوٹوں کے باوجود عوام جے پرکاش نرائن کے وفد میں شامل ہوئے اور اس طرح اندرا گاندھی کو اقتدار سے ہٹا دیا گیا۔عوامی آزادی کو طاقت کے بل پر دبانے کا انجام کیا ہوتا ہے اس کی مثال بہاریہ عرب کے انقلاب سے بھی بخوبی سمجھا جاسکتا ہے۔ وہ تمام ممالک جہاں حکومت نے آمر حکومت کے سہارے عوام کی آزادی سلب کرلی تھی، ان تمام ملکوں میں حکومت کے خلاف ایسی بغاوت پیدا ہوئی کہ حکمراں کو جان بچا کر بھاگنا پڑا یا گرفتار ہوئے یا پھر مارے گئے۔یہ تمام واقعات اس بات کی نشاندہی کررہے ہیں کہ جب جبری قانون کے سہارے عوام کی آزادی کو سلب کرنے کی کوشش کی جاتی ہے تو اس کا انجام ہمیشہ حکومت کے خلاف ہی جاتا ہے۔ سعودی حکومت کو چاہئے کہ وہ ان واقعات کو سامنے رکھے اور انجام کے رونما ہونے سے پہلے ہی ایسے قانون کو نافذ کرے سے بچے جس سے عوامی آزادی کو ختم کیا جارہاہے۔ حال ہی میں انسداد دہشت گردی کے نام پر حکومت نے جو قانون بنایا ہے ،یہ قانون بھی ہندوستان میں 1975 کے ایمر جینسی اور 2011 کے بہاریہ عرب کی طرح ہے جس کا انجام ہمیشہ سرکار کے خلاف ہی ہوتا ہے۔
2011 میں پورا عرب بہاریہ عرب کے نشانے پر تھااگرچہ اس کا خاص اثر سعودی عرب میں دیکھنے کو نہیں ملا تھا۔ البتہ العوامیہ اور القطیف کے علاقوںمیں معمولی سطح کے کچھ مظاہرے ہوئے تھے جس سے یہ اشارہ مل رہا تھا کہ سعودی عرب کے اندر حکومت مخالف طاقتیں پنپ رہی ہیں ۔چنانچہ ان طاقتوں کو کچلنے کے لئے 2011 میں کابینہ نے انسداد دہشت گردی بل کا ایک مسودہ تیار کیا اور اسے منظوری کے لئے شاہ عبد اللہ کے پاس بھیج دیا۔ اگرچہ اس وقت مسودے کی شقوں کو عوامی سطح پر نہیں لایا گیا تھا مگر مقامی اخباروں میں اس کے کچھ متون پر حقوق انسانی کی طرف سے تنقید کی گئی تھی۔ہیومن رائٹس کا کہنا تھا کہ اس مسودے میں دہشت گردی کو روکنے کے لئے جو ضابطے بنائے گئے ہیں ،ان سے عام شہریوں کے حقوق کی پامالی ہونے کا امکان پیدا ہورہا ہے۔
دراصل اس مسودے میں کسی بھی شہری کے لئے اجلاس عام کرنے، تنظیم قائم کرنے اور ماحول میں تبدیلی کی سرگرمیوں پر پابندی کی بات کہی گئی ہے ۔اس مسودے میں پولیس کو بہت زیادہ اختیارات دیے گئے تھے ۔ چنانچہ کسی بھی پولیس آفیسر کو یہ اختیار حاصل تھا کہ وہ بغیر عدالتی فیصلے کے سرکاری کام کاج میں مداخلت کرنے والوں کو جیل بھیج دے۔ظاہر ہے اس قانون کے نفاذ کا مطلب یہ ہے کہ شہریوں کی آزادی اور ان کے حقوق کی پامالی عام روایت بن جائے۔کیونکہ پولیس کو عام اختیار دینے کا مطلب ہوتا ہے عام شہریوں کی آواز کو دبانا ۔اسی لئے اس مسودے پر ہیومن رائٹس نے سخت اعتراضکیا تھا ۔اس اعتراض کی وجہ سے شاہ عبد اللہ نے اس مسودے کو واپس کابینہ میں از سر نو غور کرنے کے لئے بھیج دیا۔ کابینہ اس بات کو شدت سے محسوس کررہی تھی کہ ملک میں پنپ رہی دہشت گردی کے خدشات کو ختم کرنے کے لئے اس بل کا لانا ضروری ہے۔ چنانچہ مذکورہ مسودے میں کچھ ترمیم کی گئی اور پھر دوبارہ شاہ عبد اللہ کے پاس 2013 میں منظوری کے لئے بھیج دیا گیا۔ اگرچہ اس مسودے میں ترمیم کی گئیہے، مگر جن نکات پر اعتراض کیا گیا تھا ان میں سے کئی نکات اببھی مسودے میں شامل ہیں۔ اس مسودے میں سرکاری کام کاج میں مداخلت کرنے اور غیر ملکی اخباروں میں ایسی خبریں شائع کروانا جس سے ملک کی شبیہ خرب ہوتی ہو کو دہشت گردی کے زمرے میں برقرار رکھاگیا ہے۔
دراصل کابینہ سرکاری کام میں مداخلت کرنے والوں کو بہر صورت دہشت گرد کے زمرے میں شامل کرنا چاہتی تھی اور اس لئے کہ اس سے پہلے یہ عمل ایک عام جرم کے زمرے میں شامل تھا اور ایسے مجرم کے بارے میں عدالت کو ہی سزا طے کرنے کا اختیار حاصل تھا۔مگر قانون کو نظر انداز کرکے سعودی پولیس سیاسی سرگرمیاں انجام دینے والوں اور حکومت کے کام کاج پر نقطہ چینی کرنے والوں کو گرفتار کرکے عدالتی اجازت کے بنا ہی جیل بھیج دیا کرتی تھی۔پولیس کے اس رویے پر سعودی عرب کی عدالت نے اعتراض کیا تھا ۔چنانچہ کئی سماجی کارکنوں کو 2011کے بعد پولیس نے گرفتار کیا اور عدالت کے فیصلہ آنے سے پہلے ہی جیل میں بند کردیا۔ ایسے لیڈروں میں عبد اللہ الحامد، محمد القحطانی اور عبد الکریم الخضر جیسے لوگوں کا نام لیا جاسکتا ہے جن کو پولیس نے سرکاری کام کاج میں دخل اندازی کا الزام لگا کر گرفتا کیا تھا اور مجرمانہ ایکٹ نافذ کرکے جیل میں بند کردیا ۔جب عدالت نے اس گرفتاری پر ناراضگی کا اظہار کیا تو سب سے بڑی پریشانی حکومت کے لئے پیدا ہوئی کہ اگر ایسے افراد پر پولیس کو سختی کرنے کا اختیار نہ دیا جائے تو پھر دھیرے دھیرے پورے ملک میں شاہی حکومت کے خلاف انقلاب کی سرگرمیاں تیز ہوسکتی ہیں۔ چنانچہ اس پر روک لگانے کے لئے کسی ایسے قانون کے بارے میں غور کیا جانے لگا جس کی رو سے ایسے لوگوں کو بھی لمبی سزا سنائی جاسکے جو حکومت کے خلاف بولتے ہیں یا غیر ملکی اخباروں میں شاہی فیصلے یا ملک کے خلاف بیان بازی کرتے ہیں۔اس مسئلے کا حل یو ں نکالا گیا کہ ایسے افراد کو نئے قانون میں دہشت گردی کے زمرے میں شامل کرلیا گیا ۔اب جو فرد یا جماعت یا تنظیمی کارکن اس طرح کی سرگرمی میں پکڑا جائے گا اسے پولیس گرفتار کرکے 6 ماہ کے لئے عدالتی فیصلہ آئے بنا جیل میں بند رکھ سکتی ہے اور گناہ ثابت ہونے کی صورت میں 6 سال سے 20 سال کی سزا ہوسکتی ہے۔دہشت گرد کو شناخت کرنے کے لئے سعودی حکومت نے وزارت داخلہ ، خارجہ اور وزارت انصاف کے اراکین پر مشتمل ایک مشترکہ کمیٹی بھی تشکیل دی ہے جو انتہا پسند گروپوں کی ایک فہرست تیار کرے گی اور ان کی کڑی نگرانی کی جائے گی۔اس نئے بل میں جو دیگر شقیںشامل ہیں ان میں سکیوریٹی فورسز کو گھروں پر چھاپوں، فون کالز اور انٹرنیٹ کی نگرانی کے اختیارات حاصل ہوں گے۔ غرض کسی بھی شہری کی پرائیویسی کو جھانکنے کا حق سیکورٹی فورس کو حاصل ہوگا۔
حکومت انسداد بل پاس کرکے مطمئن ہے کہ اب اس کی حکومت محفوظ ہے ۔اب سعودی عرب میں دہشت گردی کا خاتمہ ہوجائے گا مگر سچ تو یہ ہے کہ اس بل کے خلاف زبردست بے چینی پائی جارہی ہے۔ ہیومن رائٹس کی طرف سے بھی اس مسودے پر تنقید جاری ہے۔چنانچہ سارہ لیہہ وہیٹسن جو کہ سعودی عرب میں حقوق انسانی کے لئے کام کرتی ہیں، کہتی ہیں کہ نئے قانون کا مقصد اقتدار پر حکمران خاندان کی گرفت کو مضبوط کرنا ہے۔حالانکہ سعودی عرب کے آئین میں حقوق انسانی کے تحفظ اور شہریوں کو اظہار رائے کی آزادی کی ضمانت دی گئی ہے مگر انسداد دہشت گردی بل میں جن شقوں کو رکھا گیا ہے ان سے شہریوں کے حقوق کی پامالی یقینی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس بل پر ہر طرف سے تنقید ہورہی ہے۔جبکہ سعودی حکومت کا کہنا ہے کہ اس سے عام شہریوں کے حقوق پامال نہیں ہوںگے اور ملک میں امن بحال کرنے میں مدد ملے گی۔مگر حکومت کے اس بیان پر بھروسہ نہیں کیا جارہا ہے۔چنانچہ ریاض میں ہیومن رائٹس اکسپرٹ بندر العیان نے اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ اس بل میں کچھ کمی ہے اور اس کمی کا ازالہ کرنا ضروری ہے۔ ظاہر سی بات ہے کہ سعودی عرب جیسے شاہی مملکت میں کسی کے لئے کھل کر بولنے کا مطلب ہے سر پر وبال لینا اور مگر ایسی صورت میں بھی اگر دبی زبان سے ماہرین کچھ کہہ رہے ہیں تو اس کا مطلب ہے کہ کہیں نہ کہیں عوام میں بے چینی ضرور موجود ہے ۔لہٰذا حکومت کو چاہئے کہ عوام کی اس بے چینی کو طاقت اور جبری قانون کے سہارے نہ دبائے۔کیونکہ عوامی طاقت کا اندازہ جنوب ایشیا میں ہندوستان کی ایمرجینسی اور عرب میں بہاریہ عرب سے کیا جاچکا ہے کہ بڑے بڑے ڈکٹیٹر عوامی جوش و جذبے کے سامنے ڈھیر ہوکر رہ گئے۔
سعودی عرب کے اس نئے قانون کو بعض دانشوران ایک الگ نظریے سے بھی دیکھ رہے ہیں ۔ ان کا خیال ہے کہ کہیں نہ کہیں اس قانون کا مقصد ہے ملک کے اقلیتی طبقہ شیعائوں پر دبائو بڑھانا ۔ دراصل سعودی حکومت ایران پر یہ الزام لگاتی رہی ہے کہ وہ سعودی عرب کے شیعائوں کو حکومت کے خلاف اکسانے کے لئے سرمایا لگاتی ہے۔ جب تک ایران اور امریکہ کے درمیان جوہری منصوبے کو لے کر تنائو بنا ہوا تھا ،اس وقت تک سعودی عرب مطمئن تھا ۔کیونکہ سعودی عرب جانتا تھا کہ اقتصادی پابندیوں کا سامنا کر رہے ایران اپنے مسائل میں ہی بری طرح الجھ کر رہ جائے گا اور اس کی معیشت اتنی کمزور ہو جائے گی کہ وہ کہیں اور سرمایا کاری کر ہی نہیں پائے گا ۔ مگر اب جبکہ اس تنائو میں حسن روحانی کی کوششوں سے بہت حد تک کمی آگئی ہے تو سعودی عرب کا خدشہ بڑھنے لگا ہے کہ ایران ایک مرتبہ پھر سعودی حکومت کے خلاف شیعہ فرقے کو حکومت کے خلاف احتجاج اور مظاہروں پر اکسا سکتا ہے۔ ایسی صورت میں سعودی عرب احتجاجیوں کے خلاف نئے قانون کو ہتھیار کے طور پر استعمال کرسکتا ہے اور اس گرفتاری پر عالمی برادری کو بولنے کا حق بھی نہیں ہوگا۔کیونکہ یہ گرفتاریاں قومی آئین کے تحت ہوگی۔ گویا حکومت نے اس قانون کے ذریعہ ایک دور رس فائدہ حاصل کرنے کا ہدف بنایا ہے۔یہ بھی کہا جاتا ہے کہ مصر میں اخوانیوں کو غیر قانونی قرار دیے جانے اور ان پر کریک ڈائون شروع ہونے کے بعد اخوانی مصر سے بھاگ کر سعودی عرب میں پناہ لے سکتے ہیں ۔ اس کے علاوہ سعودی میں پہلے سے ہی اخوانیوں کی ایک بڑی لابی موجود ہے جو انتہائی خاموشی سے اپنا کام کرہی ہے ۔ظاہر ہے کریک ڈائون کے بعد سعودی میں آئے اخوانیوں کے جمع ہونے سے سعودی حکومت کے خلاف بغاوت کے امکانا ت بڑھ گئے ہیں ۔ لہٰذا اس قانون سے ان اخوانیوں کو کچلنے میں مدد ملے گی۔ بہر کیف وجہ جو بھی ہو لیکن اتنا طے ہے کہ اس قانون کی زد میں وہ بے قصور شہری بھی آئیں گے جو نہ تو شیعہ ہیں اور نہ ہی اخوانی گروپ سے ان کا رشتہ ہے۔ لہٰذا حکومت کو انتہائی سوچ سمجھ کر یہ فصلہ کرنا ہوگا کہ اس قانون کو اس طرح نافذ کرے کہ کوئی بے گناہ اس کی زد میں نہ آئے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here