جموں و کشمیر گورنر ستیہ پال ملک سیاسی تنازعات کے بھنور میں

Share Article

21اگست کو جب مودی سرکار نے اچانک جموں وکشمیر کے گورنر این این ووہرا کوان کے عہدے سے ہٹا کر اُن کی جگہ 72سالہ ستیہ پال ملک کو سرینگر کے راج بھون کا چارج سونپ دیا تو یہ تاثر دیا گیا کہ ملک چونکہ بنیادی طور پر ایک سیاستدان ہیں ، اسلئے وہ وادی کے موجودہ حالات کو نمٹنے میں زیادہ کامیاب ثابت ہونگے۔گزشتہ 51سال کی تاریخ میں ڈاکٹر کرن سنگھ کے بعد ستیہ پال ملک جموںوکشمیر کے دوسرے گورنر ہیں جو بنیادی طور پر ایک سیاست داں ہیں۔کرن سنگھ کے بعد اور ستیہ پال ملک سے پہلے ریاست میں 11 گورنر تعینات ہوئے ۔ وہ سب کے سب یا تو سابق بیوروکریٹس تھے یا پھر سابق فوجی افسران ۔اس بات کی اُمید تو سب کو تھی کہ سابق گورنروں کے برعکس ستیہ پال ملک راج بھون میں بیٹھنے کے باجود سیاسی لب و لہجے میں ہی بات کریں گے ۔
صرف دو ماہ کے اس مختصر عرصے میں ہی مسٹر ملک مختلف ٹی وی چینلوں اور اخبارات کو درجنوں انٹرویز دے چکے ہیں۔ لگ بھگ ہر تقریب میں جاکر وہ میڈیا کے ساتھ کھل کر بات کرتے ہیں۔اس دوران کئی باراُن کی زبان بھی پھسل جاتی ہے اور وہ تنازعات میں گر جاتے ہیں۔ اس ضمن میں سب سے زیادہ مضحکہ خیز صورتحال گزشتہ ماہ اُس وقت پیدا ہوگئی تھی، جب جموں وکشمیر میں بلدیاتی انتخابات سے پہلے ہی گورنر ملک نے ’انکشاف ‘ کیا کہ بیرونِ ملک سے تعلیم حاصل کرچکے ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ شخص کو سرینگر کا مئیر بنایا جائے گا۔ یہ بات اُنہوں نے این ڈی ٹی وی کو انٹرویو میں بتائی ۔ یہ گویا ایک بم شل تھا۔ سب دنگ رہ گئے کہ بلدیاتی انتخابات سے پہلے ہی گورنر کو یہ علم کیسے ہوا کہ سرینگر شہر کا مئیر کو ن بنے گا؟
دلچسپ بات یہ ہے کہ سرینگر میں جنید متو نامی ایک نوجوان لیڈر نے بلدیاتی انتخابات کے لئے اپنے کاغذات نامزدگی داخل کئے تھے ۔ جنید ان انتخابات میں شرکت کرنے والے ایسے واحد شخص ہیں ، جو بیرون ملک اعلیٰ تعلیم حاصل کرچکے ہیں۔جنید اس سے پہلے نیشنل کانفرنس میں شامل تھے لیکن بلدیاتی انتخابات لڑنے کے لئے انہوں نے نیشنل کانفرنس سے استعفیٰ دیا اور بی جے پی کی حمایت یافتہ پیپلز کانفرنس کے ٹکٹ پر بلدیاتی انتخاب لڑا۔ ظاہر ہے کہ گورنر ستیہ پال ملک نے ’بیرون ملک کے فارغ التحصیل ‘ جس شخص کا حوالہ دیکر کہا تھا کہ اسے مئیر بنایا جائے گا، وہ جنید متو ہی تھے ۔ گورنر کی اس چوک پر میڈیا اور سوشل میڈیا پر ایک ہنگامہ بپا ہوا ، جسے ٹھیک کرنے کی کوشش میں راج بھون سے ایک بیان جاری کیا گیا ، جس میں کہا گیا کہ گورنر کی بات کو سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کیا گیا ہے۔ بہر حال راج بھون کے اس وضاحتی بیان پر کسی نے یقین نہیں کیا کیونکہ گورنر صاحب کے انٹرویو کا ویڈیو موجود ہے۔ ویسے بھی جموں وکشمیر میںایک عام تاثر ہے کہ یہاںدہلی کی مرضی سے حکمران چنے جاتے ہیں اور دہلی کے منظور نظر سیاستدانوں کو ہی اعلیٰ عہدوں پر فائز کیا جاتا ہے۔

 

 

 

سال 2008کے اسمبلی انتخابات سے قبل بھی اُس وقت کے ’’را‘‘ سربراہ اے ایس دُلت سے ستیہ پال ملک جیسی چوک ہوئی تھی ۔ انہوں نے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ ’’ جموں وکشمیر میں اگلے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ ہوں گے ۔‘‘ تاہم بعد میں دُلت نے اپنی غلطی کو یہ کہہ کر ٹھیک کیا کہ چونکہ وادی کے موجودہ حالات اور عوامی رجحانات پر اُن کی گہری نظر ہے ، اسلئے انہوں نے اندازہ لگایا ہے کہ شاید اگلے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ ہی ہونگے ۔ لیکن سرینگر شہر کے مئیر کے بارے میں گورنر اپنی پیش گوئی کے بارے میں اس طرح کا جواز پیش کرنے کی پوزیشن میں بھی نہیں تھے۔انہیں نیشنل کانفرنس، پی ڈی پی اور کانگریس جیسی پارٹیوں کی جانب سے سخت تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔ کانگریس کے لیڈر غلام نبی مونگا نے گورنر پر آر ایس ایس کے ہاتھوں میں کھیلنے کا الزام لگایا۔انہوں نے کہا کہ راج بھون کو جمہوری اداروں کا مستقبل طے کرنے کا ٹول نہیں بننا چاہیے ۔پی ڈی پی کے لیڈر نعیم اختر نے کہا کہ یہ بلدیاتی انتخابات 1987 کے انتخابات سے بھی بد تر ہیں ، جن میں دھاندلیوں کے سنگین الزامات سامنے آئے تھے ۔ نیشنل کانفرنس نے بھی گورنر کی جانب سے مستقبل کے مئیر کی نشاندہی کرنے پر سوالات اٹھائے ۔
گورنر ستیہ پال ملک نے ایک تازہ انٹرویو ،جو انہوں نے دہلی کے ایک ٹی وی چینل کو دیا ہے ، سب سے بڑی کنٹروسی پیدا کردی ہے۔ اس انٹرویو میں انہوں انکشاف کیا ہے کہ پی ڈی پی قیادت والی مخلوط سرکار کے دور میں جموں وکشمیر بینک میں بھرتی کے عمل میں دھاندلیاں کرکے582مستحق اُمیدواروں کا حق مار دیا گیا تھا۔ اتنا ہی نہیں گورنر نے یہ سنسنی خیز انکشاف بھی کیا کہ کشمیر ایڈمنسٹرٹیو سروسز (کے اے ایس ) کا امتحان دیئے بغیر ہی ایک اُمید وار کو کامیاب قرار دیا گیا ہے جبکہ ایک ایسے اُمیدوار جس کا ایک نمبر کم تھا ، کو ناکام قرار دیا گیا ۔ گورنر ملک نے بینک بھرتیوں میں دھاندلیوں کے حوالے سے بتایا کہ در اصل 40نوجوان اُن سے ملنے آئے تھے ۔جنہوں نے اُنہیں بتایا کہ کس طرح سے بینک میں بھرتی کیلئے دیئے گئے امتحانات میں کامیابی حاصل کرنے کے باوجود حکومت نے مختلف اسمبلی حلقوں سے اپنے لوگوں کی فہرست منگا کر انہیں نوکریاں فراہم کردیں ۔
گورنر نے( بقول گورنر)یہ جاننے کے بعد انہوں نے جموں وکشمیر بینک کے چیئرمین کو طلب کیا اور اُن سے پوچھا کہ ان چالیس نوجوانوں کے ساتھ کیوں زیادتی کی گئی ہے۔ اس کے جواب میں بینک چیئر مین نے گورنر کو بتایا کہ یہ صرف40 لوگوں کے ساتھ زیادتی نہیں ہوئی ہے بلکہ 582اُمیدواروں کے ساتھ زیادتی ہوئی ہے۔گورنر نے اپنے اس انٹرویو میں دعویٰ کیا کہ بعد میں ان کی مداخلت پر ہی ان 582اُمیدواروں کو نوکریوں کے آرڈز فراہم کئے گئے ۔ گورنر کی جانب سے کئے گئے اس سنسنی خیز انکشاف کی وجہ سے جموں وکشمیر کے سیاسی اور عوامی حلقوں میں کھلبلی مچ گئی ۔ لگ بھگ تمام سیاسی جماعتوں نے کرپشن کے اس سنسنی خیز واقعہ کی تحقیق کرانے کا مطالبہ کیا۔ سوشل میڈیا پر نوجوانوں نے اپنے طور ہنگامہ کھڑا کردیا ۔ اس دوران جموں وکشمیر بینک کے چیئر مین مشتاق احمد ننگرو نے اپنے بیان میں گورنر کے الزامات کو جھٹلاتے ہوئے کہا کہ بینک کی بھرتیوں کا عمل شفاف تھا۔ ان کے بقول گورنر نے انٹریو میں جن 582اُمید واروں کی بات کی ہے ، وہ ویٹنگ لسٹ میں تھے ، جنہیں بعد میں کلیئر کیا گیا ۔
حسیب درابو ، جو مخلوط سرکار کے دور میں وزیر خزانہ تھے ، نے بھی اپنے ایک بیان میں گورنر سے مطالبہ کیا کہ وہ اُن لوگوں کے نام ظاہر کریں ، جن کے کہنے پر بینک کی بھرتی کے عمل میں دھاندلیاں ہوئی ہیں۔ اسی طرح کشمیر ایڈمنسٹریٹیو سروسز ( کے اے ایس ) کے امتحانات کا انعقاد کرنے والے پبلک سروس کمیشن کے چیئر مین لطیف الزماں دیوا نے بھی گورنر کے بیان کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ کسی بھی اُمید وار کو بغیر امتحان دیئے پاس نہیں کیا گیا ہے۔
سیاسی ماحول گرم
ان دنوں گورنر کے ان متنازعہ بیانات کی وجہ سے جموں وکشمیر میں سیاسی ماحول گرم ہے۔ بعض حلقے گورنر کی تعریف کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ انہوں نے کرپشن کے ایک بڑے معاملے کو بے نقاب کردیا ہے، وہیں بعض لوگ ان پر الزام عائد کررہے ہیں کہ وہ جموں وکشمیر بینک جیسے ایک بڑے ادارے کی معتبریت کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔نوجوان صحافی ماجد حیدری نے اس موضوع پر ’’چوتھی دُنیا‘‘ کے ساتھ بات کرتے ہوئے کہا کہ ’’ اگر یہ الزامات ریاست کے کسی سیاسی لیڈر نے لگایا ہوتا تو کہا جاسکتا تھا کہ یہ سیاسی عناد کی بنیاد پر دیا گیا بیان ہے ۔ لیکن جموں وکشمیر بینک میں بھرتیوں کے عمل میںدھاندلیوں کا انکشاف گورنر نے کیا ہے ، جو اس وقت پوری ریاست کے سیاہ و سفید کے مالک ہیں۔ اُن کے بات کو جھوٹ یا غلط قرار نہیں دیا جاسکتا ہے کیونکہ اسٹیٹ کے اہم رازوں تک اُن کی رسائی ہے۔ اسلئے اس معاملے کی ساری تفصیلات سامنے لائی جانی چاہیے اور اس معاملے کی بڑے پیمانے پر تحقیقات ہونی چاہیے۔‘‘
البتہ بعض حلقوں کا ماننا ہے کہ گورنرکے الزمات میں کوئی دم ختم نہیں ہے۔ پی ڈی پی کے سینئر لیڈر نعیم اختر کا کہنا ہے کہ گورنر ’’سنی سنائی ‘‘ باتوں کو بیان کررہے ہیں۔ نعیم اختر نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ گورنر ہر ٹی وی چینل اور ہر اخبار کو انٹر ویو دیتے ہوئے سنی سنائی باتیں کہتے ہیں۔ کشمیر اکانومک الائنس کے چیئر مین حاجی یٰسین خان نے ایک بیان میں گورنر کا نام لئے بغیر کہا ہے کہ بعض قوتیں جموں وکشمیر بینک جیسے ادارے کو سیاست زدہ کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ خان ،جو کشمیر ٹریڈرس اینڈ مینو فیکچررس فیڈریشن کے صدر بھی ہیں، نے کہا ہے کہ پچھلے کچھ عرصہ سے جموں وکشمیر بینک کو شر پسندانہ منصوبوں کے تحت ایک یا دوسرے بہانے سے سیاست زدگی کا شکار بنانے اور بدنام کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔یہ قوتیں ایک سازش کے تحت اس بینک کو بدنام کرنے پر تلی ہوئی ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ یہ ادارہ جموں وکشمیر کے عوام کا اجتماعی اثاثہ ہے ، اسلئے اسے نقصان پہنچانے کا مطلب ریاستی عوام کے مفادات کو زک پہنچانے کے مترادف ہوگا۔‘‘
یہ بات قابل ذکر ہے کہ جموں وکشمیر بینک میں بھرتی کے عمل میں دھاندلیوں کا الزم لگانے سے کچھ عرصہ پہلے گورنر ملک نے سرکاری ملازمین اور پنشنروں کے لئے گروپ میڈکلیم ہیلتھ انشورنس پالیسی کو منسوخ کردیا ۔یہ 30ہزار کروڑ روپے کا پروجیکٹ تھا اور اسے بقول گورنر ستہ پال ملک بغیر ٹینڈرنگ کے ریلائنس جنرل انشورنس کمپنی کو دیا گیا تھا۔دلچسپ بات یہ ہے کہ اس پروجیکٹ کو حتمی منظوری خود گورنر نے ہی31اگست کو دی تھی ، تاہم بعد میں اُنہوں بتایا کہ افسران نے انہیں اس معاملے میں ’’مس لیڈ‘‘ کیا تھا۔ گورنر کے اس بیان پر پی ڈی پی کے لیڈر نعیم اختر نے اپنے ردعمل میں کہا کہ اگر گورنر جن کے ہاتھوں میں اس وقت پوری ریاست کی بھاگ دوڑ مکمل طور پر ہے ، کو افسران گمراہ کرسکتے ہیںتو اس کا مطلب یہ ہوا کہ ہم خطرناک دور سے گزررہے ہیں۔ نعیم اختر نے کہا کہ اب یہ بھی پتہ لگایا جانا چاہیے کہ جن افسران نے اس گورنر نو مس لیڈ کیا ہے ، کہیں انہوں نے سابق گورنر این این ووہرا کو بھی کسی معاملے میں گمراہ تو نہیں کیا تھا۔
کل ملا کر صورتحال یہ ہے کہ گورنر ستیہ پال ملک اپنے متنازعہ بیانات کی وجہ سے ان دونوں مشکل حالات سے گزر رہے ہیں۔ کیونکہ آئے دن ان کا کوئی نہ کوئی بیان تنازعے کا باعث بنتا ہے۔23اکتوبر کو مرکزی وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ نے سرینگر کے دورے کے دوران ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ مرکزی سرکار جموں وکشمیر سب کے ساتھ بات چیت کرنے کے لئے تیار ہے۔ راج ناتھ سنگھ نے اس پریس کانفرنس میں یقین دہانی کرائی کہ نئی دہلی کشمیر میں ’’سب کے ساتھ ‘‘ بات چیت کرنا چاہتی ہے۔ لیکن دوسرے ہی دن گورنر ستیہ پال ملک نے ایک متنازعہ بیان دیتے ہوئے کہا کہ حریت والوں کے ساتھ کوئی بات چیت نہیں ہوگی کیونکہ اُن کے بقول ’’حریت والے پاکستان سے پوچھے بغیر ٹوائلٹ بھی جاتے ہیں ۔‘‘ گورنر کے اس بیان پر سوشل میڈیا پر اُنہیں شدید طور پر تنقید کا نشانہ بنایا گیا ۔ ناقدین کا کہنا تھا ایک تو انہوں نے مرکزی وزیر داخلہ کی جانب سے بات چیت سے متعلق دیئے گئے مثبت بیان کو نقصان پہنچایا اور ثانیاً یہ کہ ’’ ٹوائلٹ ‘‘ جیسے الفاظ کو کسی سے منسوب کرناایک گورنر کے شایاں شان نہیں ہے۔ چند ہفتے پہلے گورنر نے بات چیت سے متعلق ایک دلچسپ بیان دیتے ہوئے کہا تھا کہ جموں وکشمیر کے لوگ ’’آزادی اور اٹانومی سے کم کچھ بھی مانگ سکتے ہیں۔ آسمان حد ہے۔‘‘ اُن کے اس بیان کو سوشل میڈیا پر تمسخر کا نشانہ بنایا گیا ۔

 

 

 

 

مشرف کا پرانا موقف
’ہندوستان ٹائمز ‘کو دیئے گئے ایک تازہ انٹرویو میں گورنر ستیہ پال ملک نے یہ انکشاف کیا ہے کہ پاکستان کے سابق صدر جنرل پرویز مشرف نے اپنے دور اقتدار میں حریت لیڈروں سے کہا تھا کہ وہ نئی دہلی کے ساتھ کوئی ایگریمنٹ کرکے معاملہ نمٹائیں کیونکہ کہ بھارت ایک سپر پائور ہے اور پاکستان اسے ہرا نہیں سکتا ہے۔ گورنر کے بقول مشرف نے حریت لیڈروں سے کہا تھا کہ نہ ہی بھارت اور نہ پاکستان ایک دوسرے سے جنگ کرنے کے متحمل ہوسکتے ہیں ۔ یہ بیان ان دنوں وادی کے سیاسی حلقوں میں موضوع بحث بنا ہوا ہے جبکہ سینئر حریت لیڈر میر واعظ عمر فاروق نے اس بات کی تریدکی ہے کہ مشرف نے حریت لیڈروں کو اس طرح کی کوئی بات بتائی تھی ۔ میر واعظ کا کہنا ہے کہ مشرف نے حریت لیڈروں کے ساتھ ’’چار نکاتی فارمولہ ‘‘ ڈسکس کیا تھا ، جس میں جموں وکشمیر کے دونوں خطوں یعنی آر پار میں فوجی انخلا اور کنٹرول لائن پر آمد و رفت آسان بنانے کی باتیں شامل ہیں۔پاکستان سے متعلق ایک اور متنازعہ بیان دیتے ہوئے گورنر ستیہ پال ملک نے 31اکتوبر کو کہا کہ پاکستانی وزیر اعظم عمران خان بھینسیں اور کاریں بیچ کر ملک چلارہے ہیں۔ گورنر کا کہنا تھا کہ پاکستان میں بہت مایوسی ہے۔ ان کے یہاں اتنے مسائل ہیں کہ وہ بھینسیں اور کاریں بیچ کر دیش چلا رہے ہیں۔قابل ذکر ہے کہ پاکستان کے نئے وزیر اعظم عمران خان نے گزشتہ ماہ اپنے عہدے کا چارج سنبھالنے کے ساتھ ہی پاکستان کے وزیر اعظم ہاؤس میں کفایت شعاری مہم چلائی جس کے تحت مہنگی گاڑیاں اور وزیر اعظم ہاؤس میں رکھی گئیں 8 بھینسیں نیلامی میں بیچی گئیں۔
گورنر ستیہ پال ملک کا ایک حالیہ متنازعہ بیان یہ تھا کہ ’’عمر عبداللہ اور محبوبہ مفتی نجی گفتگو میں یہ بات مانتے ہیں کہ نوجوانوں کو اینکوانٹر سائٹس پر جاکر فورسز پر پتھرائو نہیں کرنا چاہیے۔‘‘ یہ بیان گورنر نے ایک قومی اخبار کو انٹرویو میں دیا ہے۔ اس پر عمر عبداللہ نے شدید رعمل ظاہر کیا ۔ انہوں نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر لکھا، ’’ گورنر کس نجی گفتگو کا حوالہ دے رہے ہیں؟کیا وہ کسی ایسی بات چیت کا حوالہ دے رہے ہیں ، جو میں نے ان کے ساتھ پرائیویٹ میں کی ہے۔ اُنہیں کیسے پتہ ہے کہ میں کسی چیز کے بارے میں کیا رائے رکھتا ہوں؟ کیا میرا فون ٹیپ ہورہا ہے؟ کیا میرے گھر اور آفس کی نگرانی ہورہی ہے؟‘‘
گورنر انتظامیہ حال ہی میں اُس وقت ایک شدید تنازعے میں الجھتے الجھتے رہ گئی جب 4اکتوبر کو گورنر انتظامیہ نے ایک حکم نامہ جاری کرتے ہوئے اسکولوں، کالجوں اور پبلک لائبریریوں سے کہا ہے کہ وہ ہندو مذہب کی دو مقدس کتابیں ’بھگوت گیتا‘ اور ’رامائن‘ کی اردو ترجمہ والی کاپیاں وافر تعداد میں خریدیں۔ اس پر مختلف سیاسی اور عوامی حلقوں نے گورنر انتظامیہ کی شدید الفاظ میں تنقید کی ۔ عمر عبداللہ نے سوال پوچھا کہ’’ اگر اسکولوں، کالجوں اور سرکاری لائبریریوں میں مذہبی کتابیں دستیاب بنانے کی ضرورت ہے،تو پھر ایک مخصوص مذہب کی کتابیں ہی کیوں؟ باقی مذاہب کو کیوں نظراندازکیا گیا ہے؟‘‘ بعد ازاں گورنر انتظامیہ نے اس حکم نامے کو واپس لے لیا ۔
صاف ظاہر ہے کہ گورنر ستیہ پال ملک جموں وکشمیر میں آئے دن مختلف تنازعات میں گھرے رہتے ہیں ۔ اسکی ایک وجہ یہ بھی ہے جموں وکشمیر ایک حساس ریاست ہے اور یہاں ہر معاملے کو سیاسی عینک سے دیکھا جاتا ہے۔ لیکن یہ بھی سچ ہے کہ ان تنازعات میں گھرے رہنے کے کہیں نہ کہیں ستیہ پال ملک خود بھی ذمہ دار ہیں۔ کیونکہ ان سے پہلے بھی یہاں جتنے بھی گورنر تعینات رہے ہیں ، وہ کبھی بھی اس طرح سے اپنے بیانات کی وجہ سے متنازعہ نہیں بنے ہیں۔ ستیہ پال ملک صرف دو مہینے کے عرصے میں ہی اتنی زیادہ کنٹروسیاں پیدا کرچکے ہیں کہ یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ آگے آگے ہوتا ہے کیا؟

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *