سرکاری جانچ کا سب سے شرمناک باب ہے میرٹھ فساد

Share Article

ڈاکٹر منیش کمار

میرٹھ فساد پولس کی بربریت کا آزاد ہندوستان میں سب سے گھناؤنا باب ہے۔ لیکن اس سے بھی شرمناک بات یہ ہے کہ اس کے 27 سال گزر جانے کے بعد بھی کسی ایک گنہگار کو سزا نہیں ملی اور یہ پتہ بھی نہیں چل پایا کہ پی اے سی کے جوانوں نے ملیانہ اور ہاشم پورہ میں موت کا جو کھیل کھیلا تھا، کیوں کھیلا، کس کے کہنے پر کھیلا، کس افسر یا لیڈر نے اس کی منظوری دی تھی؟ افسروں کو جیل کیوں نہیں بھیجا گیا؟ کیا یہ ممکن ہے کہ کسی ریاست میں اتنا بڑا واقعہ ہو جائے اور سرکار کو 27 سال بعد بھی حقیقت کا پتہ نہ چلے؟ جب میرٹھ میں موت کا کھیل جاری تھا، تب ملک کا تمام میڈیا خاموش تھا۔ اس وقت بھی ’چوتھی دنیا‘ اخبار نے ہاشم پورہ کی سچائی دنیا کو بتائی تھی اور آج بھی یہ اخبار اس فساد سے جڑی جانکاریاں لگاتار اپنے قارئین تک پہنچارہا ہے۔ اس رپورٹ میں سی آئی ڈی جانچ کی پول کھولنے کی کوشش کی گئی ہے کہ کیسے یہ معاملہ پولس جانچ کا سب سے شرمناک باب بن چکا ہے۔

mastسرکار جس طرح سے میرٹھ فسادکے متاثرین کو انصاف دلانے میں ناکام رہی ہے، وہ نہ صرف شرمناک ہے، بلکہ فساد متاثرین کے رشتہ داروں کے لیے تکلیف دہ بھی ہے۔ سرکار نے ہاشم پورہ فساد میں سی آئی ڈی کی جو جانچ بیٹھائی، اس نے اپنا کام صحیح ڈھنگ سے نہیں کیا۔ سچائی یہ ہے کہ جانچ کے نام پر ہی یہ ایک سیاہ دھبہ ہے۔ یہ جانچ کس نے کی، جانچ صحیح ڈھنگ سے کیوں نہیں ہو پائی، جانچ کا نتیجہ کیا نکلا اور کیوں بڑے بڑے مجرم چھوٹ گئے، اس کے بارے میں جاننے سے پہلے آئیے یہ دیکھتے ہیں کہ اس منحوس تاریخ، یعنی 22 مئی، 1987 کو ہاشم پورہ میں کیا ہوا تھا۔
شہر میں فساد ہو رہا تھا۔ کرفیو بھی لگا ہوا تھا۔ لوگ اپنے گھروں میں ہی تھے۔ قریب دو بجے ملٹری اور اور پی اے سی تلاشی کرنے کے بہانے محلہ میں داخل ہوئی۔ پی اے سی کے جوان گھر گھر میں گھسے اور جتنے بھی مرد تھے، انہیں گھر سے باہر آنے کو کہا۔ انہیں باہر نکالنے کے بعد پولس نے سب کو ایک مجرم کی طرح ہاتھ اوپر اٹھا کر سڑک پر چلنے کے لیے کہا۔ ایسا لگ رہا تھا کہ پورے محلہ کو ہی گرفتار کر لیا گیا ہے۔ پولس نے بوڑھوں اور بچوں کو الگ اور جسمانی طور پر تندرست نوجوانوں کو الگ بیٹھایا۔ تھوڑی دیر میں بچوں اور بوڑھوں کو پولس نے چھوڑ دیا۔ رات کے قریب آٹھ ساڑھے آٹھ بجے پی اے سی کا ایک ٹرک آیا۔ ٹرک کے پیچھے کا دروازہ کھلا اور بھیڑ بکریوں کی طرح ان لوگوں کو ٹرک کے اندر ٹھونس دیا گیا۔ پی اے سی والے رائفلیں لے کر پیچھے کھڑے ہو گئے اور ان تندرست نوجوانوں کو ٹرک کے اندر بیٹھا دیا گیا۔ پھر ٹرک چل پڑا۔ جو بھی پیچھے مڑ کر یہ دیکھنا چاہتا کہ اسے کہاں لے جایا جا رہا ہے، اس کے اوپر ڈنڈے برسائے جاتے۔ ٹرک چلتا رہا، کافی دیر تک چلتا رہا۔
ٹرک مراد نگر کے گنگ نہر پر جاکر رکا۔ یہاں پوری طرح سناٹا تھا۔ پی اے سی کے جوان نیچے اتر گئے۔ ٹرک کی لائٹ بند کر دی گئی اور ایک ایک کرکے لوگوں کو ٹرک کے نیچے اتارا جانے لگا۔ جسے نیچے اتارا جاتا، اسے پولس والے گولی مار دیتے اور اس کے مردہ جسم کو نہر میں پھینک دیا جاتا۔ ایک کے بعد ایک کو موت کے گھاٹ اتارا جانے لگا۔ ٹرک میں بیٹھے لوگوں کو جب یہ سمجھ میں آ گیا کہ سارے لوگ مار دیے جائیں گے، تو بھگدڑ مچ گئی۔ پولس والوں نے پھر ٹرک کے اندر ہی گولی چلانی شروع کر دی۔ کچھ لوگ کود کر بھاگنے لگے، تو انہیں کھدیڑ کر پولس والوں نے گولی ماری۔ پولس کا مقصد صاف تھا کہ ایک بھی آدمی زندہ نہ بچنے پائے۔ گولی مار کر یہ لوگوں کو نہر میں پھینک رہے تھے۔ پولس والوں نے تو اپنے حساب سے سب کو گولی مار دی تھی۔ جب انہیں یہ یقین ہو گیا کہ اب کوئی بھی زندہ نہیں بچا ہے، تو وہ ٹرک میں بیٹھ کر وہاں سے چلے گئے۔ پی اے سی کو یہ پتہ نہیں تھا کہ بھگدڑ کے دوران تین لوگ زندہ بچ گئے۔ ان تینوں کے نام ہیں ذوالفقار، نعیم اور بابا، جنہوں نے بعد میں دنیا کو اس پورے واقعہ کی حقیقت بتائی۔
ویسے تو میرٹھ میں تناؤ بھرا ماحول رہنا ایک عام بات تھی۔ اس وقت بھی کچھ چھوٹے موٹے واقعات کی وجہ سے ماحول تناؤ سے بھرا ہوا تھا۔ اس دوران پی اے سی کی ایک گاڑی سے ایک دو لوگ زخمی ہو گئے تھے۔ یہ میرٹھ فساد کی فوری وجہ بن گیا۔ دو دنوں تک میرٹھ کے الگ الگ علاقوں میں تشدد بھڑک اٹھا۔ چونکہ یہ معاملہ پی اے سی کے ٹرک سے شروع ہوا تھا، اس لیے میرٹھ فساد میں پی اے سی کا رول فساد کو روکنے سے زیادہ مسلمانوں کو سبق سکھانے کا ہو گیا۔ یہ بھی خبر آئی کہ ہاشم پورہ میں کسی بی جے پی لیڈر کے بھتیجے کی موت ہو گئی تھی۔ وہ اپنی چھت پر کھڑا تھا اور اسے گولی لگی تھی۔ لوگوں کا ماننا ہے کہ گولی دوسری فرقہ کے لوگوں کی طرف سے چلی تھی۔ اس کے اگلے دن ہی ہاشم پورہ میں پی اے سی نے قتل عام کو انجام دیا۔ بی جے پی لیڈر کے بھتیجے کی موت اور پی اے سی کی کارروائی میں کیا کوئی رشتہ تھا، یہ جانچ کی رپورٹ میں شامل نہیں ہے۔ تفتیش کرنے والوں تک یہ باتیں نہیں پہنچیں۔
سرکار نے جو جانچ کرائی، اس میں صرف انہی لوگوں کا نام باہر آیا، جو پی اے سی کی ٹکڑی میں شامل تھے۔ ان میں سے کئی لوگوں کی موت ہو چکی ہے اور زیادہ تر رِٹائر ہو چکے ہیں۔ ان پر مقدمہ چل رہا ہے۔ بدقسمتی کی بات یہ ہے کہ 1987 سے لے کر آج تک تقریباً 27 سال ہو چکے ہیں، لیکن مقدمہ کسی منطقی نتیجے تک نہیں پہنچا ہے۔ جو لوگ اس میں شامل تھے، انہیں سزا نہیں ملی۔ کچھ دنوں کے لیے انہیں سسپینڈ ضرور کیا گیا، لیکن انہیں پھر سے بحال بھی کر لیا گیا۔ دراصل، سی آئی ڈی نے جو جانچ کی، وہ جانچ کرنے کا بہت برا نمونہ ہے۔ بہت ہی ناقص طریقے سے اس فساد کی جانچ ہوئی۔ کانگریس سرکار نے بہت ہلکے پھلکے طریقے سے اس معاملے کو ڈیل کیا۔ یہ آج تک کسی کو پتہ نہیں چل پایا کہ کس کے حکم سے اور منصوبہ کے تحت آزاد ہندوستان کے سب سے گھناؤنے کسٹوڈیل کلنگ کو انجام دیا گیا۔ فساد پر قابو پانے کے لیے تعینات سیکورٹی دستے کسی بستی میں گھس جائیں، مردوں کو گھر سے باہر نکالیں اور ٹرک میں بیٹھا کر قریب 50 کلومیٹر دور لے جا ئیں اور گولیوں سے ایک ایک کرکے سب کو موت کے گھاٹ اتار دیں اور ان کی لاشوں کو نہر میں پھینک دیں اور کسی سینئر افسر کو اس کی بھنک بھی نہ لگے، یہ یقین کرنے والی بات نہیں ہے۔
اتنے لوگوں کے قتل کی پلاننگ اور فیصلہ سڑک پر تعینات سیکورٹی دستے کے چھوٹے افسر کا نہیں ہو سکتا ہے۔ اتنے بڑے واقعہ کو انجام دینے کی حماقت کوئی چھوٹا افسر نہیں کر سکتا ہے۔ ایک سب انسپکٹر سطح کا افسر 40-50 لوگوں کے قتل کا منصوبہ بنانے کی ہمت نہیں کر سکتا ہے۔ اس کا مطلب یہی ہے کہ ہاشم پورہ میں تعینات پی اے سی کی ٹکڑی سینئر افسروں کے حکم پر عمل کر رہی تھی، ایسے افسروں کے حکم پر جو خود موقع واردات پر موجود نہیں تھے۔ اس امکان سے بھی انکار نہیں کیا جاسکتا ہے کہ ان سینئر افسروں نے اتنے بڑے واقعہ کا منصوبہ کسی سیاسی تحفظ کے تحت ہی بنایا ہوگا۔ اگر یہ منصوبہ سینئر افسروں نے بنایا تھا، تو اس وقت کی حکومت نے انہیں سزا کیوں نہیں دی؟ اس واقعہ کے بعد تو پولس اور فوج کے پورے محکمہ کو گرفتار کر لیا جانا چاہیے تھا۔ لیکن ایسا کچھ نہیں ہوا۔ سرکار نے سی آئی ڈی کو جانچ کی ذمہ داری دے دی اور سی آئی ڈی نے بڑی آسانی سے چھوٹے چھوٹے پولس افسروں کو نشانہ بنایا۔ سی آئی ڈی نے اتنی زحمت بھی نہیں اٹھائی کہ اس واقعہ کے پیچھے کون کون تھا، اس میں کن بڑے افسروں یا لیڈروں کا ہاتھ تھا، ان کا پتہ لگائے۔

حیرانی کی بات تو یہ ہے کہ ہاشم پورہ قتل عام کی جانچ کر رہی سی آئی ڈی ٹیم کی قیادت ایک سینئر مسلم پولس افسر کر رہے تھے۔ بتایا جاتا ہے کہ وہ جن بڑے افسروں کو پوچھ گچھ کے لیے طلب کرتے، وہ افسر ان کے سامنے حاضر ہی نہیں ہوتے۔ اس واقعہ میں فوج کا بھی رول رہا ہے، لیکن فوج کا ایک بھی افسر اس جانچ ٹیم کے سامنے حاضر نہیں ہوا۔ دو سینئر آئی پی ایس افسروں کو انہوں نے لائی ڈٹیکٹر ٹیسٹ کے لیے بلایا، لیکن وہ بھی نہیں آئے۔ اس سے بھی زیادہ حیرانی کی بات یہ ہے کہ خود اس وقت کے وزیر اعظم راجیو گاندھی اس معاملے کی جانچ کی جانکاری وقت وقت پر لیتے رہتے تھے، اس کے باوجود جانچ ٹیم نے ایک ہاف ہرٹیڈ جانچ کی۔ بڑے اور اصلی گنہگار بچ گئے اور سارا الزام اُن لوگوں پر آ گیا، جو صرف اپنے سینئر افسروں کے حکم کی پیروی کر رہے تھے۔ یہ کس طرح کی جانچ ہے، جس میں اس قتل عام میں استعمال ہوئے ہتھیاروں کی فورنسک جانچ تک نہیں کرائی گئی۔ وہ ہتھیار ایک ثبوت تھے، لیکن حیرانی کی بات یہ ہے کہ اس واقعہ کے کچھ دن بعد ان ہتھیاروں کو واپس پی اے سی کو دے دیا گیا اور استعمال کرنے کی چھوٹ بھی دے دی گئی۔
اس وقت غازی آباد میں تعینات سپرنٹنڈنٹ آف پولس وی این رائے کے مطابق ہاشم پورہ کے اصل گنہگاروں کی پہچان اور اس معاملے میں کسی کو سزا اس لیے نہیں مل پائی، کیوں کہ اس میں سرکار کی قوتِ ارادی کی کمی تھی۔ اگر قوتِ ارادی ہوتی، تو سب پتہ چل جاتا۔ وی این رائے ہاشم پورہ کے قتل عام پر کافی ریسرچ کر چکے ہیں اور اس واقعہ کے ہر پہلو سے واقف ہیں۔ وہ ہاشم پورہ پر ایک کتاب بھی لکھ رہے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ مرکز اور ریاست میں کانگریس کی سرکار تھی اور سینئر لیڈروں میں کوئی فرقہ وارانہ من موٹاؤ بھی نہیں تھا، لیکن کانگریس پارٹی کا ایک طبقہ اس پورے واقعہ کی لیپا پوتی کرنا چاہتا تھا۔ وزیر اعظم راجیو گاندھی اور اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ ویر بہادر سنگھ کی ترجیحات کچھ اور تھیں، جس کی وجہ سے گنہگار چھوٹ گئے۔ وہ اس فساد کو یاد کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ وہ دور ایسا تھا، جس میں میڈیا کا بھی کمیونل چہرہ دیکھنے کو ملا۔ ہاشم پورہ کی خبر سب سے پہلے ایک قومی اخبار کو ملی۔ اس اخبار میں بڑے بڑے ماہر صحافی تھے، لیکن انہوں نے پوری خبر حاصل کرنے کے بعد بھی خبر کو چھاپنے کی ہمت نہیں دکھائی۔ وہ کہتے ہیں کہ سب سے پہلے ’چوتھی دنیا‘ نے ہمت دکھائی اور اس فساد کی پوری کہانی دنیا کے سامنے رکھ دی۔ اس کے بعد ’ایشین ایج‘ نے ’چوتھی دنیا‘ سے اس خبر کو اٹھا کر اپنے اخبار میں چھاپا۔
ہاشم پورہ کا معاملہ سب سے پہلے غازی آباد کی عدالت میں پہنچا۔ یہاں یہ معاملہ گھسٹ گھسٹ کر چلتا رہا۔ پھر اقبال انصاری نے اس معاملے کو لے کر سپریم کورٹ میں فریاد لگائی اور اسے دہلی منتقل کرانے میں کامیاب رہے، جس کی وجہ سے ہاشم پورہ کے کیس میں کچھ تیزی آئی۔ لیکن یہاں بھی ایک طرح کی رکاوٹیں آئیں۔ جو پبلک پروزیکیوٹر تھا، اس کی تقرری میں تنازع ہوا۔ کئی لوگ کہتے ہیں کہ اس کی تقرری غلط طریقے سے ہوئی۔ جن گواہوں کو عدالت آنا تھا، وہ نہیں آئے۔ فوج کے گواہ تو اخیر تک عدالت میں نہیں پہنچے۔ کسی طرح سے عدالت کی کارروائی چلتی رہی۔ فی الحال ہاشم پورہ کا معاملہ آخری دور میں ہے۔ ایسی امید کی جاسکتی ہے کہ اس کیس میں تین چار مہینے میں فیصلہ آ جائے گا۔
اگر انصاف میں دیری کا مطلب انصاف سے محروم ہونا ہے، تو یہ کہہ سکتے ہیں کہ میرٹھ کے مسلمانوں کے ساتھ نا انصافی ہوئی ہے۔ اس فساد کی سب سے دردناک داستان ملیانہ گاؤں اور ہاشم پورہ میں لکھی گئی۔ خاکی وردی والوں کا جرم ہٹلر کی نازی آرمی کی یاد دلاتا ہے۔ ملیانہ اور ہاشم پورہ کی سچائی سن کر روح کانپ جاتی ہے۔ ملک کے قانونی نظام پر یہ ایک سیاہ دھبہ ہے، جس پر یقین نہیں ہوتا ہے۔ یہ کیسے ممکن ہے کہ نہتے اور معصوم لوگوں کو گولی مارنے والے گنہگار آزاد گھوم رہے ہیں اور جنہوں نے اپنے کلیجے کے ٹکڑوں کو کھو دیا، وہ در در کی ٹھوکریں کھا رہے ہیں۔

ڈاکٹر منیش کمار

ڈاکٹر منیش کمار کے پاس الیٹرانک میڈیا کا طویل تجربہ ہے۔ وہ ایک بیباک اور تیکھے سیاسی تنقید کار ہیں۔ ان کو سیاست میں بنتے بگڑتے حالات اور ”چوتھی دنیا“ سے سروکار رکھنے والے مدعوں کی باریک سمجھ ہے۔ ”چوتھی دنیا“کے کوآرڈینیشن ایڈیٹر کی اہم ذمہ داری ان کے کندھوں پر ہے۔

Latest posts by ڈاکٹر منیش کمار (see all)

Share Article

ڈاکٹر منیش کمار

ڈاکٹر منیش کمار کے پاس الیٹرانک میڈیا کا طویل تجربہ ہے۔ وہ ایک بیباک اور تیکھے سیاسی تنقید کار ہیں۔ ان کو سیاست میں بنتے بگڑتے حالات اور ”چوتھی دنیا“ سے سروکار رکھنے والے مدعوں کی باریک سمجھ ہے۔ ”چوتھی دنیا“کے کوآرڈینیشن ایڈیٹر کی اہم ذمہ داری ان کے کندھوں پر ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *