سرکار۔ نوابوں پر بھاری وزیر اعلیٰ

اجے کمار
p-9سماجوادی سرکار میں پھر ہلچل ہے۔ مسلم سیاست میں اپنا اثر قائم کرنے کے لیے بیتاب اعظم صاحب پھر ناراض ہو گئے ہیں۔ ان کے نشانے پر ہمیشہ ہی کوئی نہ کوئی رہتا ہے۔ اس بار بھی ایسا ہی ہے۔ ایک طرف تو انھوں نے اپنے وطن رامپور میں نواب خاندان کے خلاف مورچہ کھول رکھا ہے، تو دوسری طرف لکھنؤ میں ان کے نشانے پر احمد حسن (اکھلیش سرکار میں کابینہ وزیر) جیسے کچھ ساتھی، تمام افسر شاہ، کچھ ماتحت ملازمین اور میڈیاہیں۔ وہ کسی کو نہیں چھوڑتے، یہاں تک کہ ملائم کو بھی موقع ملنے پروہ اپنے تیور دکھادیتے ہیں۔ اس کے باوجود وہ سرکار کی ’ناک کا بال‘ بنے ہوئے ہیں،یہ ان کی قابلیت ہی توہے۔ بھلے ہی ایس پی کے جنرل سکریٹری رام گوپال یادو، ایم پی نریش اگروال ، احمد بخاری جیسے تمام رہنماؤں کو اعظم منظور نہیں ہوں، لیکن وہ ملائم کی چاہت ہیں ، تو کوئی منہ نہیں کھولتا ہے۔
اپنے بیانوں سے سرخیاں بٹورنے والے سماجوادی پارٹی کے قد آور رہنما اور وزیر برائے شہری ترقیات اعظم خاں نے اس بار تو حد ہی کر دی ہے۔ انھوں نے اپنا مسلم چہرہ چمکانے کے لیے کچھ بڑا ہی نشانہ لگادیا ہے۔ بھلے ہی ایسا کرکے انھوں نے خوب سرخیاں بٹوری ہوں، لیکن پارٹی اور اکھلیش سرکار کے کئی رہنما اور وزراء کو اعظم کی بد زبانی راس نہیں آرہی ہے۔ اس بار سماجوادی سرکار میں اعظم خاں کے’ رڈار‘ پر ان کے ہی وزیر اعلیٰ اور بیٹے کی برابر اکھلیش یادو آگئے۔ اعظم کی ناراضگی کی وجہ تو حج ہاؤس کے لیے پیسہ کا نہ ملنا ہے، لیکن اس کی جڑ میں وزیر اعلیٰ اکھلیش یادو تھے۔ اعظم نے سی ایم پر نشانہ سادھتے ہوئے الزام لگایا کہ غازی آباد میں بننے والے حج ہاؤس کے لیے فائننس ڈپارٹمنٹ ایک تو وقت پررقم مہیا نہیں کرا رہا ہے اور اوپر سے اڑنگے بھی ڈال رہا ہے۔ اعظم کے اس بیان نے اقتدار کے گلیاروں میں ہلچل مچادی ہے۔ اعظم خان کے غصے کا عالم یہ تھا کہ انھوں نے یہاں تک اعلان کر دیا کہ حج کمیٹی اب حج ہاؤس بنانے کی خواہش مند نہیں ہے، اس لیے بہتر ہوگاکہ حج ہاؤس کی عمارت کوزمین سمیت کسی دوسرے کام میں لے لیا جائے۔ سرکار زمین تو کیا واپس لے گی، لیکن اعظم خاں کے روٹھنے اور منانے کے واقعات نے یہ سوال ضرور کھڑا کر دیا ہے کہ جسے لوگ سرکار کا سب سے قد آور وزیر مانتے ہیں، اگر وہ ہی سرکار کی فضیحت کرنے کا کوئی موقع نہیں چھوڑتا ہے، تو اوروں کا کیا حال ہوگا۔
اگربات اعظم کی ناراضگی کی کی جائے، تو یہ پہلا موقع نہیں ہے، جب اعظم ناراض ہوئے ہیں۔ابھی حال ہی میں اعظم بنام ان کے اسٹاف کا جھگڑا پوری سرکار کے لیے مصیبت بنا رہا۔ اس جھگڑے کی جڑ میں بھی اعظم کا غصہ ہی تھا۔ دو مہینے پہلے وشو ہندو پریشد کے رہنماؤں ، ایس پی کی سپریمو ملائم سنگھ یادو اور وزیر اعلیٰ اکھلیش یادو کی ملاقات پر بھی اعظم کا غصہ منظر عام پر آیا تھا۔ انھوں نے یہ جھجک بھی محسوس نہیں کہ ان کے نشانے پران کے ہی نیتا جی ہیں۔ اعظم نے غصے میں یہاں تک کہہ دیا کہ جو لوگ بابری مسجد کی شہادت کے مجرم ہیں، ان سے ملاقات کرنے کا کیا جواز ہے۔ یہ اور بات ہے کہ وہ اسی بی جے پی سرکار میں وزیر بھی رہ چکے ہیں، جس پر وہ آج مسجد منہدم کرنے کا الزام لگا رہے ہیں۔
اعظم کی نظر میں نہ آئین کی کوئی اہمیت ہے ، نہ سرکار کا رتبہ۔ اسی وجہ سے وہ کابینی میٹنگ کا بائیکاٹ کرنے کا کارنامہ بھی کئی بار کر چکے ہیں۔ کسی بات پر ناراض ہو کر وہ کابینہ کی میٹنگوں میں نہیں گئے، تو آگرہ میں ہوئے اجلاس کا بھی بائیکاٹ کر دیا۔ مظفر نگر معاملہ پر وہ اتنے ناراض ہوئے کہ ایڈوائزری کمیٹی کی میٹنگ میں بھی شامل نہیں ہوئے، جس سے سرکار کی رسوائی ہوئی۔ سرکار نے ان سے میرٹھ کا چارج لیکر دوسرے وزیر کو سونپ دیا، تو ناراض ہو کر اعظم نے سرکار کے خلاف آر پار کے لیے اترنے میں دیر نہیں لگائی۔ انھوں نے وزیر اعلیٰ کو خط لکھ کر اپنے استعفے کی پیشکش تک کر ڈالی تھی۔ اعظم خان نے محکمہ صحت کا چارج سنبھالنے والے وزیر احمد حسن تک کو بھی نہیں بخشا۔ چیف سکریٹری برائے صحت پروین کمار پر الزام لگایا کہ وہ مذہب کی بنیاد پر کام کرتے ہیں۔
اعظم کو غصہ بہت جلدی آتا ہے۔ ان کے بیان اکثر سرکار کے لیے مصیبت و کرکری کا باعث بنتے ہیں۔ اعظم نے ایک بار اشاروں اشاروں میں مولانا بخاری پر حملہکرتے ہوئے کہہ دیا کہ داڑھی رکھنے سے ہی کوئی مسلمان نہیں ہو جاتا۔ اس پرخوب ہنگامہ ہوا۔ مولانابخاری کو جیسے تیسے ملائم نے منایا۔ ایک بار لاٹ صاحب بھی اعظم کے نشانے پر آگئے اور انھوں نے بے جھجک نصیحت دیدی کہ جوہر یونیورسٹی پر اگر گورنر نظر ثانی نہیں کر سکتے ، تو اسے اسمبلی کوواپس کر دیں۔ اعظم کے اس بیان سے پیدا ہوئے تناؤ کو اکھلیش یادو نے گورنربی ایل جوشی سے مل کر دور کرایا۔ قانون ساز کونسل کے الیکشن کے موقع پر مولانا بخاری کے داماد عمر کو پارٹی نے امیدوار بنایا، تب بھی وہ اپنے غصہ کا اظہار کیے بغیر نہیں رہ پائے تھے۔ انھوں نے کہا کہ جو شخص 80فیصد مسلم آبادی والے حلقے سے الیکشن نہیں جیت سکتاہے ، تو اسے قانون ساز کونسل کا امیدوار بنانے کا کیا مطلب ہے۔ آئی اے ایس آفیسر درگا شکتی ناگپال کی معطلی کے بارے میں بھی اعظم خاں سرکار سے الگ کھڑے نظر آئے۔ سرکار کہتی رہی کہ ناگپال کو ایک مذہبی مقام کی دیوار گرنے کے سبب معطل کیا گیا ہے، لیکن اعظم نے’ رام رام کی لوٹ ہے، لوٹ سکے تو لوٹ‘ کہہ کر سرکار کو کٹگھرے میں کھڑا کر دیا۔ اعظم کے تازہ غصے کے بعد یہ سوال اٹھنے لگے ہیں کہ سرکار کے اندر کیا سب کچھ ٹھیک ٹھاک نہیں چل رہا ہے۔ اعظم جیسے قد آور وزیر کو اپنی شکایت جتانے کے لیے بھی خط لکھنے کی ضرورت پڑ رہی ہے۔ بہر حال حالات جو بھی ہوں، لیکن اس طرح کے حالات سے مخالف جماعتوں کو ایس پی پر نشانہ سادھنے کا موقع ضرور مل گیاہے۔
اعظم کی سرکار میں کیا حیثیت ہے ، اس کا احساس افسر شاہوں کو اچھی طرح سے ہے۔ یہی وجہ تھی کہ غازی آباد حج ہاؤس پرفائننس ڈپارٹمنٹ کے تبصرے سے ناراض اعظم خاں کے خط کا اثر فوراً ہی سرکاری مشینری پر دکھائی دیا۔ اقلیتی محکمہ سے لیکر فائننس میں دستاویز کھنگالی جانے لگی۔ چیف سکریٹری نے بھی متعلقہ محکموں کے آفیسروں کوطلب کر کے پورے معاملے کی جانچ شروع کر دی۔ انھوں نے ذمہ دار افسروں سے اس معاملے کو جلدی حل کرنے کوکہا ۔دھیان رہے کہ اعظم نے غاز ی آباد حج ہاؤس میں فائننس ڈپارٹمنٹ کے اعتراضات پرناراضگی جتاتے ہوئے چیف سکریٹری کو ایک سخت خط لکھا تھا۔ اس خط کے ملنے کے بعد اقلیتی محکمہ کے سکریٹری دیویش چتر ویدی نے بھی پورے معاملے کی فائل طلب کی۔ حج کمیٹی کے آفس سے لے کر اقلیتی بہبود کے ڈائریکٹر سے بھی اس معاملے کی پوچھ تاچھ کی گئی۔فائننس ڈپارٹمنٹ کے افسروں نے بھی اس مسئلے پر ایک میٹنگ کی۔ چیف سکریٹری آنند مشرا نے بھی فائننس ڈپارٹمنٹ کے افسروں کو بلا کر فائلوں میں دیکھا کہ ان لوگوں نے جو اعتراض کیے ہیں، وہ ضابطے کے مطابق ہیں ۔ فائننس ڈپارٹمنٹ کو سب سے بڑا اعتراض یہ تھا کہ غازی آباد حج ہاؤس کے لیے جاری رقم لکھنؤ حج ہاؤس میں کیوں لگادی گئی ؟ لیکن چونکہ معاملہ اعظم سے متعلق تھا، اس لیے تمام باتوں کو درکنار کر کے اعظم کی مرضی کے مطابق رپورٹ بنانے کی تیاری شروع ہو گئی۔
ایک طرف وہ اپنی ہی سرکار سے ناراض ہیں، تو دوسری طرف رامپور کی سیاست میں اچھا خاصا عمل دخل رکھنے والے نواب خاندان پر وہ حملہ جاری رکھے ہوئے ہیں۔ نواب خاندان کے لیے ان کے منہ سے شاید ہی کوئی اچھی بات نکلتی ہو۔ یہ عداوت گزشتہ دنوںانتہا پر پہنچ گئی۔ دراصل اعظم صاحب رامپور شہر میں نوابی دور میں بنائے گئے دروازوں کو ڈھانے کے لیے ضلع انتظامیہ پر دباؤ بنا رہے ہیں۔ انھوں نے باقاعدہ ضلع مجسٹریٹ کو خط لکھ کر کہا ہے کہ شہر کے بیچوں بیچ بنا ہوا قلعہ پورے شہر کی خوبصورتی ، دھوپ اور روشنی کو روک رہا ہے اور اسے رامپور والوں کے لیے عذاب کے طور پر محسوس کیا جا رہا ہے۔ قلعہ کے دونوں دروازے بوسیدہ ہو گئے ہیں، جن سے کوئی بڑا حادثہ ہو سکتا ہے۔ اس طرح کی عمارتیں جرائم کاسبب بھی بنتی ہیں، ان دروازوں میں بنی کوٹھریوں میں بد کاری کی جاتی ہے، اس لیے انھیں ڈھا دیا جائے۔ ڈی ایم کے لیے اعظم کی سفارش کو نظر انداز کرنا آسان نہیں ہوگا۔ اس سلسلے میں نواب گھرانے کی بہو اور کانگریس کی سابق ایم پی نور بانو کا کہنا ہے کہ یہ عمارت سو، سوا سو سال پرانی ہے، اس کی حفاظت کرنی چاہیے، لیکن کوئی سنکی وزیر اسے گرانے کی بات کرتا ہے، تو کیا کہا جا سکتا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *