سرکار کا اقبال ختم ہو چکا ہے

Share Article

سنتوش بھارتیہ 
جب سرکار کا اقبال ختم ہو جاتا ہے اور انتظامیہ کی ساکھ ختم ہو جاتی ہے، تب ایسے واقعات کی بھرمار ہو جاتی ہے، جنہیں نہیں ہونا چاہیے۔ دلّی میں ایک چلتی بس میں ایک نابالغ اور دو بالغ لڑکوں نے ایک لڑکی کے ساتھ عصمت دری کی، جس کے خلاف پوری دلّی کھڑی ہو گئی۔ اُس غصے کو دیکھ کر ایسا لگتا تھا کہ شاید اب عصمت دری کے واقعات نہیں ہوں گے اور اگر ہوں گے، تو لوگوں کا غصہ یا تو زانیوں کو سیدھے سزا دے گا یا سرکار سزا دے گی، لیکن سرکار کا سارا رویہ لوگوں کے اس غصے کو لے کر غیر انسانی بھی رہا اور غیر حساس بھی۔ جس کی وجہ سے جہاں عام لوگوں میں سرکار کے تئیں نفرت کا جذبہ پیدا ہوا، وہیں اس نے جرائم پیشہ لوگوں کو جرم کرنے کے تئیں اُکسایا بھی۔ جرائم پیشہ لوگوں کو لگا کہ سرکار لوگوں کے غم و غصے کے خلاف کھڑی ہے ، یعنی ان کے ساتھ کھڑی ہے۔ دوسری بات ان کے ذہن میں یہ بھی آئی کہ اگر ہم ایسے ہی غیر انسانی واقعات کو انجام دیتے رہے، تو سرکار ہمارا کر کیا لے گی؟ ہم سرکاری مشینری کو متاثر کرکے آسانی سے چھوٹ جائیں گے۔ اس پیغام نے ملک میں عصمت دری کا سیلاب سا پیدا کر دیا۔ ملک کے ہر حصے میں کیا نابالغ، کیا بچے، کیا جوان اور کیا ادھیڑ عمر عورتیں کوئی بھی عمر زانیوں سے بچ نہیں پا رہی ہے۔ نتیجہ یہ دکھائی دے رہا ہے کہ لوگوں میں ناامیدی بھی پیدا ہو رہی ہے اور افسردگی بھی۔ اب عصمت دری کے واقعات کو لے کر کہیں پر بھی غصے کا اظہار نہیں ہو رہا ہے۔
برسوں سے بندیل کھنڈ میں ایک کہاوت عام ہے کہ اگر کسی کا قتل کرنا ہے، تو اس سے پہلے 11 بیگھے میں گنّے پیدا کرو اور پھر گنّا بیچ کر جتنا پیسہ آئے، اسے پولس اور عدالت پر خرچ کر دو، تو قتل کرکے آسانی سے بچ سکتے ہو۔ یہ پیسہ پولس اور عدالت کے ملازمین میں بانٹنے کے لیے ریزرو رکھا جاتا ہے۔ اسی طرح اب عصمت دری کے لیے پہلے شکار کو تلاش کیا جاتا ہے اور اس کی اجتماعی عصمت دری ہوتی ہے اور پھر قانون نافذ کرنے والی ایجنسیوں میں پیسہ پہنچا دیاجاتا ہے۔ اس کا پہلا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ تھانے میں متاثرہ خاتون کی رپورٹ ہی نہیں لکھی جاتی۔ میں نے کئی ایسی رپورٹنگ کی ہے، جن میں عصمت دری کی شکار خاتون تھانے میں شکایت لے کر گئی، تو اس کی شکایت تو درج نہیں ہی ہوئی، بلکہ اسے تھانے میں تین چار دن جبراً روکا گیا اور پولس کے ذریعے ہی متاثرہ خاتون کی عصمت دری کی گئی۔ ایسی خبریں کبھی کبھی اخباروں میں بھی آئیں، لیکن انہیں افسروں نے یا تو اندیکھا کیا یا پھر معاملے کو دبا دیا۔
اب تو جرائم کرنے والے اتنے بے فکر ہو گئے ہیں کہ وہ پولس، انتظامیہ اور سیاسی لیڈروں کو جرائم کے شعبے میں اپنا ساتھی ماننے لگے ہیں۔ اور کیوں نہ مانیں! جب حکومت چلانے والے وزیروں کے کمرے میں ٹہلتے ہوئے جایا جاسکتا ہے اور جیسی مرضی ہو ویسی فائل اٹھاکر کوئی بھی باہر چلا جاتا ہے اور پھر تمام اختیارات سے لیس سرکار کی جرائم کو پکڑنے والی مشینری ایسے واقعات کا پتہ ہی نہیں لگا پاتی، تب کیسے اِن چھوٹے مجرموں کے من میں ڈر بیٹھایا جاسکتا ہے۔

برسوں سے بندیل کھنڈ میں ایک کہاوت عام ہے کہ اگر کسی کا قتل کرنا ہے، تو اس سے پہلے 11 بیگھے میں گنّے پیدا کرو اور پھر گنّا بیچ کر جتنا پیسہ آئے، اسے پولس اور عدالت پر خرچ کر دو، تو قتل کرکے آسانی سے بچ سکتے ہو۔ یہ پیسہ پولس اور عدالت کے ملازمین میں بانٹنے کے لیے ریزرو رکھا جاتا ہے۔ اسی طرح اب عصمت دری کے لیے پہلے شکار کو تلاش کیا جاتا ہے اور اس کی اجتماعی عصمت دری ہوتی ہے اور پھر قانون نافذ کرنے والی ایجنسیوں میں پیسہ پہنچا دیاجاتا ہے۔ اس کا پہلا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ تھانے میں متاثرہ خاتون کی رپورٹ ہی نہیں لکھی جاتی۔ میں نے کئی ایسی رپورٹنگ کی ہے، جن میں عصمت دری کی شکار خاتون تھانے میں شکایت لے کر گئی، تو اس کی شکایت تو درج نہیں ہی ہوئی، بلکہ اسے تھانے میں تین چار دن جبراً روکا گیا اور پولس کے ذریعے ہی متاثرہ خاتون کی عصمت دری کی گئی۔ ایسی خبریں کبھی کبھی اخباروں میں بھی آئیں، لیکن انہیں افسروں نے یا تو اندیکھا کیا یا پھر معاملے کو دبا دیا۔

اسی کو اقبال ختم ہونا کہتے ہیں۔ ہمارے موجودہ صدر جب وزیر خزانہ تھے، تو ان کے کمرے میں جاسوسی کے آلات پائے گئے تھے۔ تین دن کے بعد سرکار نے کہا کہ یہ آلات نہیں تھے، چوئنگم تھا۔ سرکار اپنی بے عزتی چھپانا چاہتی تھی اور شاید اپنی ناکامی بھی۔ اس واقعہ کے پیچھے کون ہے، اس کا پتہ نہیں چلا۔ حالانکہ وزارتِ خزانہ اور وزارتِ داخلہ کے اہم کمروں کے باہر اور اندر سنسر لگے ہوئے ہیں۔ اِن کمروں میں کون جاتا ہے، یہ وہاں چھپے ہوئے کیمرے ریکارڈ کر لیتے ہیں۔ لیکن نہ تو کیمرے میں ریکارڈ تصویر کو ملک کے سامنے رکھا گیا اور نہ ہی یہ بتایا گیا کہ جب جب ایسے واقعات ہوئے، تب سنسر کام کر رہا تھا یا نہیں۔
وزیر اعظم سے جڑے کوئلہ کی دستاویز والی فائلیں اسی انداز میں غائب ہوئیں، جن کا پتہ نہ کیمرے لگا پا رہے ہیں اور نہ سنسر لگا پا رہا ہے۔ ایسی بیکار سیکورٹی بنائی گئی ہے، جس میں جب چاہے تب سیندھ ماری جا سکتی ہے۔ اور سرکار مسکراتے ہوئے کہتی ہے کہ ایسا کچھ ہوتا ہی نہیں، یہ خام خیالی ہے۔ سرکار کی اِن حرکتوں نے خود سرکار کی ساکھ، انتظامیہ کی ساکھ ختم کر دی ہے۔
دراصل، سرکار کا سارا دھیان انہیں وارننگ دینے والے یا انہیں مثبت صلاح دینے والے کی زبان کیسے بند ہو، اس پر رہتا ہے۔ ریزرو بینک کی ٹریزری پر جانچ ایجنسیوں کا چھاپہ پڑتا ہے اور وہاں بڑی تعداد میں نقلی نوٹ پائے جاتے ہیں۔ جب یہ رپورٹ صداقت کے ساتھ چھاپی جاتی ہے کہ نقلی نوٹوں کی سپلائی ریزرو بینک کے ذریعے بھی ہو رہی ہے اور اس کے پیچھے کون سی ملکی اور غیر ملکی کمپنیاں کام کر رہی ہیں، تو سرکار اس پورے قصے کو دبانے کی کوشش کرتی ہے۔ اور یہاں پر بھی جو لوگ ایسی خبروں کا خلاصہ کرتے ہیں سرکار انہیں زدو کوب کرنے میں لگ جاتی ہے۔
جہاں سرکار اپنا اقبال خود ختم کر رہی ہے، وہیں وہ اقتصادی جرم کرنے والوں کی نہ صرف حوصلہ افزائی کر رہی ہے، بلکہ چھوٹے مجرموں کو سیف کنڈکٹ جیسا ماحول بنا رہی ہے۔ نہ سرکار سخت ہے، نہ انتظامیہ سخت ہے۔ کوئی بھی کیس ورک آؤٹ نہیں ہو رہا ہے۔ سرکار شاید یہ سوچ کر بیٹھی ہے کہ کس کے پاس وقت ہے، جو روز احتجاج میں جائے۔ سرکار کا سوچنا صحیح ہے، کیوں کہ عوام ان تمام حالات سے ناامید ہو چکے ہیں۔ لیکن جب عوام میں ناامیدی زیادہ بڑھ جاتی ہے، تو وہ ناامیدی ایک بڑے طوفان کا ماحول بھی بنا جاتی ہے۔ اب یہ سرکار اور سیاسی مشینری کے سوچنے کی بات ہے کہ وہ عوام کو کس حد تک اندیکھا کریں گے اور کس حد تک اسے چڑھائیں گے، جس کے نتیجہ میں عوام کہیں قانون ہاتھ میں نہ لینے لگیں۔

سنتوش بھارتیہ

Editor-in-cheif at Chauthi Duniya
سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔
Share Article

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *