سنتوش بھارتیہ
حکومت چلانے والے دماغ ضرور رکھتے ہیںاورکبھی کبھی ضرورت سے زیادہ بھی رکھتے ہیں۔اسی لیے حکومت ہندوستان ان پریشانیوں میں گھرتی نظر آ رہی ہے جن میں اسے گھرنا نہیں چاہئے۔کانگریس پارٹی کا دماغ یا تو حکومت استعمال نہیں کر رہی ہے یا پھر کانگریس پارٹی اپنی چال چل رہی ہے اور حکومت اپنی۔
کوئی بھی سمجھدار آدمی ابھی تک اس حقیقت کو ہضم نہیں کر پایا ہے کہ وزیر اعظم نے اپنے وزراء کو اتنی چھوٹ کیسے دیدی کہ وہ وزیر اعظم کی طرح سلوک کرنے لگیں۔اتحاد کے الگ اصول ہوتے ہیں اور حکومت کے الگ۔دونوں میں نازک رشتہ ہوتا ہے۔اور اس نازک رشتہ کی نزاکت نہ وزیر اعظم نے سمجھی اور نہ ان کے وزرا ء نے۔وزیر اعظم نے اگر یہ بات سمجھی ہوتی تو وہ اپنے وزراء کو من مانی کرنے سے روکتے ۔اس طرح 2جی اسپیکٹرم گھوٹالہ نہیں ہوتا اور نہ ہی مرکزی کابینہ کا آدمی سی بی آئی کے دفتر جاتا۔وزیر اعظم نے وزیر خزانہ رہتے ہوئے جن اقتصادی پالیسیوں کی بنیاد رکھی اوروزیر اعظم رہتے ہوئے انہیں تیزی سے آگے بڑھایا، اس درمیان ملک کس طرف گیا اس پر نہ توانہوں نے توجہ دی اور  ناان کی پارٹی نے۔کیا کیا نہیں ہوا ان سالوں میں۔اتنے گھوٹالے ہوئے کہ پہلے کسی وزیر اعظم کی مدت کار میں نہیں ہوئے۔اس کی شروعات منموہن سنگھ کے وزیر خزانہ رہتے ہوئے ہوئی۔جب غیر ملکی بنکوں نے ملک کا 5 ہزار کروڑ روپے ملک سے باہر بھیج دیا۔ابھی تک کا آخری گھوٹالہ 2جی اسپیکٹرم کا ہے،جو ایک لاکھ ستر ہزار کروڑ سے زیادہ کا ہے۔اس سلسلے میں نہ پہلے کچھ ہو ااور نہ اب ہونے والا ہے۔
کامن ویلتھ گیمز کے نام پر جس طرح کی کھلی چھوٹ آرگنائزنگ کمیٹی نے لی اور جس طرح اس کا دفاع حکومت نے کیا وہ شرمناک تھااور اب سریش کلماڈی سی بی آئی کے دفتر جا رہے ہیں۔وزیر اعظم نے اس سے ان حصوں کو الگ کر دیا ہے جن کا رشتہ تعمیرات سے ہے۔مختلف شعبوں نے جو تعمیراتی   کا م کیے وہ معیار کے اعتبار سے بہت کم تردرجے کے ہیں ۔اب تو ان کاموں کو کرنے والوں اور فائدہ اٹھانے والوں کے درمیان بھی جھگڑے شروع ہو گئے ہیں۔لیکن اس بات کا امکان کم ہے کہ سچائی باہر آپائے گی۔ مہنگائی بڑھتی رہی،حکومت سوتی رہی،ایک ایسا وزیر زراعت ہے جو بول بول کر مہنگائی بڑھاتا ہے۔ پورے ملک میں افواہ ہے کہ جس چیزکی مہنگائی بڑھی اس کا ایسو سی ایشن سے بڑا سودا ہو چکا ہے۔یہی اشیاء کسانوں سے جواس کے حقیقی خالق ہیں ،بہت کم قیمت پر خریدی جاتی ہیں اور کچھ ہی مہینوں کے اندر جب وہ انہیں خریدتے ہیں تو 30سے 40گنازیادہ دام میں ملتی ہیں۔بازار  کے ہاتھوں میں ملک کی قسمت سونپنا کافی مہنگا پڑ سکتا ہے۔
سیاست داں ایسا ہونا چاہئے جو ملک کے اگلے20 سے25سال کے بارے میں سوچے۔ماہر اقتصادیات بھی ایسا ہونا چاہئے جو ملک کے سب سے کمزور طبقے ،دلت ،اقلیت اور پسماندہ  لوگوں کے بارے میں سوچے۔بلکہ ان  کے لیے منافع بخش اسکیمیں بھی بنائے۔آخرکیوں ایسا یقین نہیں ہوتا کہ وزیر اعظم ایسے لیڈر ہیں۔ملک کے ضلع در ضلع ماؤنوازوں کے زیر اثر جا رہے ہیں۔غریبوں کی تعداد بڑھ رہی ہے۔مختلف طبقوں کے لوگ غیر مطمئن ہیں۔کسانو ںکی حالت تو اور بھی خراب ہے۔کسانو ں کے مختلف طبقے ملک کے ہر حصہ میں غیر مطمئن بھی ہیں اور ناراض بھی۔وہ اپنے غصے کا اظہار بھی کر رہے ہیں۔ابھی ابھی راجستھان میں گوجروں کی تحریک ختم ہوئی ہے تو جاٹو ں نے تال ٹھونک دی ہے۔ لیکن کسانو ں کی یا مختلف طبقوں کی تحریکوں کا یا ان کی تکلیف کا حل کچھ اور ہے لیکن تلاش کچھ اور کیا جا رہا ہے۔حل ہے روزی روٹی کے مواقع،حل ہے پیداوار کی مناسب قیمت انہیں ملے  اور حل ہے ایک ایسا اقتصادی نظام جس میں سبھی کو حصہ مل سکے لیکن حل تلاش کیا جا رہا ہے ریزرویشن میں ۔ہر طبقہ ریزرویشن مانگ رہا ہے۔ریزرویشن کے مطالبہ کے پس پشت  مطالبہ کرنے والے با اثر لوگوں کا مفاد شامل ہے۔جن کے پاس پیسہ ہے اور جن کے پاس تھوڑی سی تعلیم ہے وہ اقتدار میں حصہ داری چاہتے ہیں۔اقتدار میں حصہ داری کے بہانے بد عنوانی میں حصہ داری ۔کیونکہ اب تک ریزرویشن کے بہانے جنہیں اقتدار میں حصہ داری ملی ہے انہوں نے اپنے طبقوں کے لیے اور ا ن کی اقتصادی ترقی کے لیے جدوجہد نہیں کی ہے ۔اگر وہ کوئی جدو جہد کرتے تو کمزور طبقوں کو کچھ تو اقتصادی فائدہ حاصل ہوتا۔
گوجروں نے یہی کیا ۔انہیں 4فیصد ریزرویشن مل گیا۔اب دوسرے طبقے بھی وہی کرنے کا منصوبہ بنا رہے ہیں۔یہاں ایسے لیڈر کی ضرورت ہوتی ہے کہ ایسے منصوبے بنائے جو ملک کے سبھی رہنے والے لوگوں کی ترقی میں معاون ہوں اورسبھی کو اس کا فائدہ حاصل ہو۔اگر ایسا ہوتا یا آج بھی ہو تو ملک کا نقشہ دماغی طور پر کچھ اور ہوگا یا ہو سکتا ہے۔ لیکن آج تو سوال ابھی کی حالت سنبھالنے کا ہے۔مہنگائی کیسے کم ہو،بدعنوانی کے سوال درکنار نہ کیے جائیں۔بے روزگاری دور کرنے کے طریقے تلاش کیے جائیں اور حکومت چلتی دکھائی دے ،کم سے کم وزیر اعظم کام کرتے نظر آئیں۔بوفورس کے معاملے پر ٹربیونل نے کہا کہ ہاں!  ون چڈا اور کواتروچی نے رشوت لی ہے۔اب کانگریس کے لوگ کہہ رہے ہیں کہ یہ کام پرنب مکھرجی کا ہے کیوں کہ خود منموہن سنگھ اور پرنب مکھرجی نہیں چاہتے کہ راہل کامیاب ہوں۔ دوسری طرف سونیا گاندھی ،چدمبرم اور کپل سبل سے ناراض ہیں اور یہ دونوں ہی وزیر اعظم کے قریبی وزیر ہیں۔ہو سکتا ہے کہ 14 جنوری کے بعد ہونے والی کابینہ کی پھیر بدل میں یہ دونوں وزیر نہ رہیں۔پارٹی میں کام کرنے والے کچھ اور چہرے حکومت سے بلائے جا سکتے ہیںلیکن وقت تیزی سے گذرتا جا رہا ہے ۔بنگال اور تمل ناڈو کے انتخابات کی گنتی شروع ہو چکی ہے۔
جمہوریت میں حکومت کمزور ہو تو خطرہ۔ابھی ایک عجیب حالت بن گئی ہے کہ جس میں حکومت بھی کمزور ہے اور حزب اختلاف بھی۔حزب اختلاف عوام کی آواز کو اٹھانے میں نا اہل ثابت ہو رہا  ہے ۔اسی وجہ سے مختلف طبقے اب اپنی آوازیں مضبوطی سے اٹھا رہے ہیں۔اشارے اس بات کے مل رہے ہیں کہ جس طبقہ کے2 لاکھ لوگ سڑک پر آنے کی جسارت کر لیں گے وہ طبقہ اپنے مطالبات تسلیم کرا لے گا۔کوئی بھی حکومت نہ تو 2لاکھ لوگوں پر گولی چلا سکتی ہے اور نہ 2لاکھ لوگوں کو جیل میں ڈال سکتی ہے۔دیکھنا صرف یہ ہے کہ جو حکومت یہ حالات پیدا کر رہی ہے اور حزب اختلاف جس کا حصہ دار بن رہا ہے اسے یہ دونوں سنبھال بھی پائیں گے یا نہیں۔ہمارے یہاں ایک کہاوت ہے ’سانپ کا منتر نہ جا نے،بچھو کے بل میں ہاتھ ڈالے ‘ حکومت اور حزب اختلاف کو یہ کہاوت یاد دلانا ملک کا فرض ہے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here