سماجوادی تنازع دوسمتوں میں کھینچی جارہی سائیکل کی حالت بری

Share Article

پربھات رنجن دین
p-5سماجوادی پارٹی اورسماجوادی سرکار ،دونوں چلتی ہوئی دکھائی دے رہی ہیں۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ دونوںچلنے کاناٹک کررہی ہیں۔ دونوںیہ دکھانے کی بے معنی کوشش کررہی ہیں کہ سب کچھ ٹھیک چل رہا ہے، لیکن اصلیت یہی ہے کہ کچھ بھی ٹھیک نہیںچل رہا ہے۔ اب سرکار الگ ہے اور پارٹی الگ۔ شیوپال یادو سرکار میںوزیر ہیں، یہ اکھلیش کی بے بسی ہے اور اکھلیش یادو پار ٹی میں ہیں،یہ شیو پال کی بے بسی ہے۔ دونوںایک دوسرے کے حامیوں کو باہر کا راستہ دکھا کر ایک دوسرے کو نکالنے کا نفسیاتی سکھ حاصل کررہے ہیں۔ شیوپال اکھلیش تنازع میں ملائم بھی پارٹی ہیں اور رام گوپال بھی۔ ملائم، شیوپال کی طرف کھڑے ہیں اور رام گوپال، اکھلیش کی طرف ۔ رام گوپال اور اکھلیش نے تنازع کے لیے ’باہر کا آدمی ‘ امر سنگھ کو قصوروار بتایا تو ملائم سنگھ نے امر کو جنرل سکریٹری بنا کر ’اندر کے آدمی‘ کی منظوری دے دی۔
پارٹی کے لیڈر کہتے ہیں کہ اب توبڑا کنفیوژن ہے، اندر کا آدمی کون ہے اور باہر کا آدمی کون، اس کا پتہ ہی نہیںچل رہا ہے۔ شک کا ایسا ماحول بنا ہوا ہے کہ کوئی بھی لیڈر یا کارکن کسی سے بھی ملنے سے کترارہا ہے کہ پتہ نہیںکون کس خیمے میں ڈال دے اور اندر والا باہر ہوجائے اور باہر والا اندر۔ انتخاب کے وقت ایسا ڈراؤنا ماحول ہے تو نتیجہ کا بھی خوفناک ہی ہونے کا اندیشہ ہے۔ سیاسی فائدے اور نقصان کے برعکس ریاست کے وزیر اعلیٰ اکھلیش سماجی طور پر فائدے کی طرف ہیں، کیونکہ اوچھی سیاست دیکھ بھانپ رہے عا م لوگ اکھلیش کی طرف اخلاقی پلڑا بھاری دیکھ رہے ہیں۔
یوں تو اکھلیش تناتنی کے بیچ ہی سرکار چلاتے رہے ، لیکن انتخاب نزدیک آنے کے ساتھ ہی سارے تناؤ سطح پر آگئے کیونکہ ’کون کس کے ساتھ‘، اسے طے کرنے کا یہی صحیح وقت تھا۔’ قومی ایکتا دل‘ کا سماجوادی پارٹی میںانضمام لٹمس ٹیسٹ تھا۔ اس ٹیسٹ میںہی اکھلیش کا انتقامی اسٹینڈ واضح ہوگیا۔ حالانکہ برخاست کیے گئے وزیر بلرام یادو کابینہ میںپھر سے واپس آگئے،لیکن تناتنی اور بڑھتی ہی چلی گئی۔اب شیوپال نے آخری ہتھیار کا استعمال کیا۔ لکھنؤ میںنہیں، مین پوری جاکر سرکار کے تئیںاپنے افسوس کا اظہار کیا اور استعفیٰ دے کر ملائم کے فیصلوںپر سارا دارومدار رکھ دیا۔
شیوپال کی یہ صحیح اور عین مطابق چال تھی۔ 15 اگست کو پارٹی کے لکھنؤ ہیڈکوارٹر میںیوم آزادی کی تقریب میںہی ملائم نے وزیر اعلیٰ اکھلیش کے سامنے آپا کھودیا۔ ملائم نے خم ٹھوکتے ہوئے کہا کہ شیو پال نہیںتو پارٹی نہیں ۔ اس کے بعد پھر سے سمجھوتے کاسلسلہ چلا۔ لیکن اس دوران ایک دوسرے پر تیکھے میٹھے طنز یہ حملے بھی جاری رہے۔ وزیر اعلیٰ اکھلیش یادو نے اچانک جارحانہ تیور دکھاتے ہوئے ریاست کے چیف سکریٹری دیپک سنگھل کو باہر کا راستہ دکھا دیا۔ اس پر سب ابھی حیران ہی تھے کہ اسی بیچ ریاست کے کانکنی کے وزیر گایتری پرجاپتی کی بے شمار بدعنوانی کی سی بی آئی سے جانچ کرانے کا حکم جاری کرکے سپریم کورٹ نے اکھلیش کو ایک بار پھر موقع دے دیا۔ اکھلیش نے اسی بہانے گایتری پرجاپتی کو کابینہ سے برخاست کردیا۔مطلب کے اتنے بڑے ذرائع پر سیدھا حملہ! قیادت بپھر پڑی۔ ملائم اپنا غصہ روک نہیں پائے اور کہہ ہی ڈالا کہ گایتری پرجاپتی کی برخاستگی کے بارے میں انھیں بھی میڈیا سے ہی پتہ چلا ہے۔
پھر تو ایک دوسرے کو اوقات دکھانے کی کارروائی چل پڑی۔ ملائم بھی اب سیدھے پارٹی بن گئے۔ انھوںنے اکھلیش یادو کو سماجوادی پارٹی کے ریاستی صدر کے عہدے سے ہٹاکر شیوپال یادو کو صدر بنا ڈالا۔اس پر اکھلیش نے کابینہ سے شیوپال کے اہم محکمے چھین لیے۔ شیوپال نے پھر سے استعفے کا داؤںچلا۔ پھر سمجھوتے کے لیے چوٹی کے مذاکرات ہونے لگے۔ آخر کار اکھلیش کو سمجھوتہ کرنا پڑا۔ انھوںنے شیوپال کے محکمے (پی ڈبلیو ڈی کو چھوڑکر) لوٹادیے۔ لیکن اکھلیش کو ریاستی صدر کا عہدہ ہ واپس نہیںملا۔ اکھلیش ریاستی پارلیمانی بورڈ کے صدر بنا دیے گئے۔
عوامی طور پر دکھاوٹی مظاہرے ہونے لگے کہ تنازع نمٹ گیا اور سمجھوتہ ہوگیا۔کیمرے کے سامنے ساجھا مسکان کا سوانگ بھی کھیلا گیا۔لیکن مہابھارت تو چالو ہی تھی۔ شیوپال نے ریاستی صدر بنتے ہی اکھلیش کے تمام حامیوں کو پارٹی سے باہر کرنے کی جیسے مہم ہی چلادی۔ شیو پال نے حال ہی میں قانون ساز کونسل کے ممبر بنے سنیل سنگھ یادو، آنند بھدوریہ اور سنجے لاٹھر سمیت ملائم سنگھ یوتھ بریگیڈ کے قومی صدر گورو دوبے اور ریاستی صدرمحمد عباد،یوجن سبھا کے ریاستی صدر برجیش یادو اور سماجوادی چھاتر سبھا کے ریاستی صدر دگوجے سنگھ دیو کو پارٹی سے باہرنکال دیا ۔پروفیسر رام گوپال یادو کے بھانجے اور قانون ساز کونسل کے ممبراروند سنگھ یادو کو پارٹی سے باہر نکال کر شیوپال آمنے سامنے کی جنگ کی شروعات پہلے ہی کرچکے تھے۔ شیوپال نے بعد میںبیان دیا کہ نکالے گئے لیڈر ایس پی سپریمو ملائم سنگھ یادو کے خلاف قابل اعتراض تبصرے کرنے اور پارٹی مخالف سرگرمیوںمیںملوث رہنے کے ملزم ہیں۔
اس برطرفی سے ایس پی کے گھریلو تنازع نے تیکھا سیاسی طول پکڑلیا۔ ایس پی تنظیم کے ریاست بھر کے نوجوان لیڈروں نے اکھلیش کی حمایت میں اپنے استعفے دے دیے۔ سڑکوںپر بھی مشتعل احتجاج ہوئے۔ ہردوئی سے ملائم سنگھ یوتھ بریگیڈ کے ریاستی سکریٹری مکل سنگھ، ریاستی سکریٹری کوشلیندر سنگھ، پروین سنگھ، فیض آباد سے سماجوادی یوجن سبھا کے ریاستی جنرل سکریٹری امنیش پرتاپ سنگھ راہل، سماجوادی یوجن سبھا کے ریاستی سکریٹری جے سنگھ یادو، ایس پی برہمن کے قومی صدر ڈاکڑ آشیش پانڈے دیپو، ملائم یوتھ بریگیڈ کے ریاستی سکریٹری ابھے یادو، لوہیا واہنی کے ریاستی سکریٹری وویک مشر وغیرہ نے بھی اپنے عہدے سے تابڑ توڑ استعفے دے دیے۔
اسی طرح بلرام پور، نوئیڈا، غازی آباد، قنوج، چترکوٹ، مرادآباد، علی گڑھ، امیٹھی، پرتاپ گڑھ، لکھیم پور، ہاپوڑ، بریلی سمیت تمام ضلعوںکے نوجوان لیڈروں نے اپنے عہدے سے استعفے دے کر اکھلیش یادوکے تئیںاپنی حمایت کا اظہار کیا۔سماجوادی یوجن سبھاکے ضلع صدر کشن دیکشت،لوہیا واہنی مہانگر کے صدر دیپ چند گپتا، سماجوادی چھاتر سبھا کے ریاستی سکریٹری منوج یادو گولو، یووجن سبھا کے ریاستی سکریٹری روہت یادو، لوہیا واہنی کے ریاستی سکریٹری سندیپ مشرا،یوجن سبھاکی ریاستی مجلس عاملہ کے ممبرابھیشیک یادو وغیرہ نے تو اپنے خون سے استعفے لکھ کر سونپے۔ نوجوان لیڈروں میںپارٹی قیادت کے ایسے بے معنی فیصلوںکے تئیںگہری ناراضگی ہے۔ اسے دیکھتے ہوئے وزیر اعلیٰ اکھلیش یادو نے امن قائم رکھنے کی عوامی طور پر اپیل بھی کی اور انھیںاستعفے دینے سے منع کیا۔
p-5bاس بیچ ملائم نے راجیہ سبھا کے ممبر امر سنگھ کو پارٹی کا قومی جنرل سکریٹری مقرر کرکے تنازع کو اور بھی گہرا کردیا۔ ایک دن پہلے ہی قومی جنرل سکریٹری پروفیسر رام گوپال یادو نے میڈیا کے سامنے یہ بیان دیا تھا کہ ’باہری آدمی‘ امر سنگھ ہی پارٹی میںساری گڑبڑ کے ذمہ دار ہیں۔ اکھلیش نے بھی میڈیا کے سامنے ’باہری آدمی‘ کی تصدیق کی تھی اور یہاں تک بول گئے تھے کہ وہ امر سنگھ کو انکل نہیں بولیں گے۔ لیکن ملائم کو یہ ناگوار گزرا، انھوںنے آناً فاناً امر سنگھ کو اندر کا آدمی بنا کر رام گوپال یادو اور اکھلیش دونوںکامنہ بندکردیا۔ سیاسی ماہرین کا ماننا ہے کہ سماجوادی پارٹی کا یہ تغیرکا وقت ہے۔ کون کس کے سامنے سرینڈر کردے گا، کن طاقتوں کے ہاتھ میںسماجوادی پارٹی کی قیادت ہوگی اور پارٹی کا سیاسی مستقبل کیا ہوگا، یہ سب طے ہونے کا وقت آگیا ہے۔ اکھلیش نے بھی کہا ہے کہ یہ ان کے لیے امتحان کا وقت ہے ۔ اکھلیش نے اپنی مدت کار کے آخری دورمیںہی سہی،لیکن اپنا قد بڑا دکھانے کا کام تو کیا ہی ہے۔ ملائم کے پسندیدہ وزیر گایتری پرجاپتی کو برخاست کرنا اور شیوپال کے پسندیدہ چیف سکریٹری دیپک سنگھل کو عہدے سے باہر کردینایہ ظاہر کرتاہے ۔
اکھلیش نے سیاست کی دنیا کو یہ بھی دکھایا کہ ملائم سنگھ جیسے قدآور لیڈر کو بھی انتخاب جیتنے کے لیے امر سنگھ کی ضرورت محسوس ہوتی ہے لیکن وہ (اکھلیش) اکیلے اپنے اور اپنے کارکنوں کے دم پر انتخاب جیتنے کا دم رکھتے ہیں۔ شیوپال جیسے قدآور وزیر کے محکمے چھین کر بھی اکھلیش نے اپنی سختی اور مضبوطی کا مظاہرہ کیا۔ شیو پال جیسے لیڈر کو بھی اپنے بچاؤ کے لیے ملائم سنگھ کا سہارا لینا پڑا۔ اسے عام لوگوںنے پوری طرح سمجھا اور پرکھا ہے۔ سب کچھ ہوجانے کے باوجود اکھلیش نے شیوپال کو پی ڈبلیو ڈی جیسا دودھ دینے والا محکمہ واپس نہیںدیا۔ پبلک ورکس کا محکمہ وزیر اعلیٰ نے اپنے پاس رکھا ہے۔
بی جے پی کا کیا رول؟
سیاسی گلیارے کی اندرونی خبر رکھنے والے کچھ ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ سماجوادی پارٹی کے تنازع کو بی جے پی کے لیڈر ہوا دے رہے ہیں۔ بی جے پی کے قومی صدر امت شاہ ایسی توڑپھوڑ اور تکڑموں میں ماہرمانے جاتے ہیں۔ بی جے پی کی حمایت سے سبھاش چندرا کے راجیہ سبھا کا ممبر بننے کی خوشی میں امر سنگھ نے دہلی میں پانچ ستارہ شان والا پروگرام کیوں رکھا تھا؟ پارٹی لائن کے پار جاتی اس خوشی کی وجہ صرف دوستی تھی یا بی جے پی؟ پھر اس پارٹی میںشریک ہونے پر اکھلیش یادو اتنے ناراض کیوں ہو گئے کہ انھوںنے دیپک سنگھل کو چیف سکریٹری کے عہدے سے فوراً کھدیڑ بھگایا۔ اکھلیش بھی اس پارٹی میںشریک نہیںہوئے، جبکہ ان کے والد ملائم اور چاچا شیوپال موجود تھے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی، بی ایس پی میںبھگدڑ مچا ہی چکی ہے۔ بی ایس پی کے جانے مانے چہرے اور قدآور لیڈر بی جے پی میں شریک ہوچکے ہیں۔ ایس پی ہی اکیلی ایسی پارٹی بچی تھی، جس سے بی جے پی کو سیدھا خطرہ تھا۔ ایس پی میںاختلاف کے وائرس سے گھبرا کر کئی لیڈروں کے بی جے پی کے پالے میں کھسکنے کی تیاریوں کا سنگین چرچا ہے۔ ایس پی کے کئی لیڈروں کو یہ خدشہ ہے کہ اکھلیش یادو کے ہاتھ سے ریاستی صدارت کا عہدہ چلے جانے سے انھیںٹکٹ نہیںمل سکتا ہے۔ لہٰذا ایسے لیڈروں کو بی جے پی اپنے پالے میں لے جانے کی تیاری میںہے۔ دوسری پارٹیوںکے کئی لیڈروں کو بھی بی جے پی کے ساتھ ساتھ اپنا مستقبل بھی بنتا دکھائی دے رہا ہے۔ مخالف جماعتوں کی حوصلہ افزائی کرنے کی امت شاہ کی حکمت عملی بی ایس پی کے بعد ایس پی پر کارگر ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔ ممبران اسمبلی کی کم تعداد کے باوجود کانگریس کا بھی ایک ایم ایل اے، بی جے پی کے پالے میںشامل ہوچکا ہے۔
ابھی حال تک وزیر اعلیٰ اکھلیش یادو اورایس پی لیڈر سرکار کی حصولیابیاں بیان کررہے تھے۔ پوری پارٹی اکھلیش کی قیادت میںانتخاب میںاترنے کی پوری تیاری اور جوش میںتھی،لیکن اچانک بریک کیوںلگ گیا؟ اب پارٹی میںانتخاب کی بجائے ’کون کس پالے میں‘ کا چرچا کیوں حاوی ہوگیا؟ اب اکھلیش کی ترقی کے نعرے اور انتخابی چہرے پر پارٹی اعلیٰ کمان نے خاموشی کیوں اختیار کررکھی ہے؟ ان سوالوں کے جواب تو تلاش کیے جانے چاہئیں۔ ایس پی کا مہا بھارت محض سیاسی تسلط کی وجہ سے ہے،یہ بتا کر اس سنگین مسئلے کانارملائزیشن نہیں کیا جانا چاہیے۔ اس تنازع کی جڑ میںکوئی اصول نہیں ، کوئی خیال نہیں، کوئی تسلط کا لالچ نہیں، بلکہ اس کے پیچھے منصوبہ بند حکمت عملی ہے، جس کا وائرس باہر سے گھر میںداخل ہوکر گھر کے لوگوںکو باہر کررہا ہے۔ اس کے پیچھے گہرا سیاسی ہدف ہے۔ یہ وائرس اتنا مہلک اور پُراثر ہے کہ جس باپ نے شیو پال ، اعظم خان جیسے تمام قدآوروں کی رائے کو درکنار کرکے بیٹے کو وزیر اعلیٰ کے منصب کی زینت بنا دیا تھا، وہی اب اسے اپنا مخالف مان رہا ہے۔ وہی باپ یہاں تک کہنے لگا کہ اکھلیش کے وزیراعلیٰ رہتے ہوئے 2014 کے لوک سبھا انتخاب میں سماجوادی پارٹی کو شرمناک ہار کا سامنا کرنا پڑا ۔ وہی باپ اپنے وزیر اعلیٰ بیٹے پر یہ عوامی سطح پر الزام لگانے سے نہیں ہچکچا رہا کہ پارٹی اور سرکار میںکچھ بھی ٹھیک نہیں ہے۔ کئی لوگ غیر سماجی، غیر قانونی کام کررہے ہیں جن پر اکھلیش کا کوئی کنٹرول نہیںہے۔ وہی باپ یہ بول گئے کہ شیوپال نہیں تو پارٹی نہیں۔
لب لباب یہ ہے کہ سماجوادی پارٹی میںاختلاف کو پسارنے کے لیے ایسا ہی حساس وقت چنا گیا جب انتخاب سامنے ہیں۔ پارٹی کے ٹوٹنے اور بٹنے کے چرچے ووٹروں کو تو ضرور ہی بانٹنے کا کام کررہے ہیں۔یہ بی جے پی کے لیے فائدہ مند ثابت ہورہا ہے۔ کچھ تجزیہ نگاروں کو یہ بھیفکر ہے کہ انتخاب میں کم سیٹیں ملنے پر بی جے پی، ایس پی کے ہی کسی ایک دھڑے کو اپنی حمایت دے کر سرکار بنواسکتی ہے۔ کیونکہ پارٹی میںابھی جس طرح کا جھگڑا ہے، اس سے انتخاب کے بعد وزیراعلیٰ بننے کی دوتینعزائم کے ٹکرانے کا پورا خدشہ دکھائی دیتا ہے، ایسے میں بی جے پی کسی ایک’خواہش مند‘ کے ساتھ حکومت بنانے کا کھیل کھیل سکتی ہے۔
تبدیلی کی رفتار تیز
چن چن کر ماریںگے، بھلے ہی چناؤ ہاریں گے والا مزاحیہ ڈائیلاگ سماجوادی پارٹی کے گلیارے میں خوب چل رہا ہے۔یہ چرچا سرگرم اس لیے بھی ہے کہ اترپردیش کے وزیراعلیٰ اکھلیش یادو کے پر کترے جانے کا سلسلہ تیز رفتار سے جاری ہے۔ سماجوادی پارٹی کے قومی صدر ملائم سنگھ یادوکے حکم پر اکھلیش یادو نے منڈی پریشد کے صدرکے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ پبلک ورکس ڈپارٹمنٹ کی طرح ہی بڑے بجٹ والے محکمے کے روپ میں منڈی پریشد کی پہچان ہے۔ملائم کے قریبی کاشی ناتھ یادو کومنڈی پریشد کا نیا صدر بنایا گیا ہے۔ کاشی ناتھ کو ملائم ودھان پریشد بھیجنا چاہتے تھے،لیکن پارٹی نے انھیں امیدوار نہیں بنایا تھا۔ بعد میںکاشی ناتھ کو وزیرمملکت کا درجہ دے کر سرکار کا صلاح کار بنا دیا تھا۔
اکھلیش کو درکنار کرکے سماجوادی پارٹی میں تنظیمی طور پر تبدیلی کی رفتار تیز کردی گئی ہے۔ چار اور اراکین اسمبلی پر برخاستگی کی تیاری ہے۔ سنگرام یادو، مکیش شریواستو، راجو یادو اور ایم ایل سی سنتوش یادو سنی اب شیوپال کے نشانے پر ہیں۔ ان کے علاوہ 60 دیگر لیڈروں اور کارکنوںکو بھی ٹھکانے لگانے کا رول تیار ہورہا ہے۔ دراصل ان سارے سماجوادیوں کو باہر کا راستہ دکھایاجارہا ہے جو اکھلیش یادو کی حمایت میںسڑکوںپر اترآئے تھے اور نعرے بازی کرکے اپنا احتجاج جتارہے تھے۔ انھیں غیر نظم و ضبط والا قرار دیا جارہا ہے۔ سماجوادی پارٹی کے نئے صدر نے پانچ اور نئے ترجمان بنا دیے ہیں۔ ان میںڈاکٹر اشوک واجپئی، امبیکا چودھری، دیپک مشر، جوہی سنگھ اور محمد شاہد شامل ہیں۔ ان لوگوںکو ٹی وی چینلوں پر ہونے والی بحث میں بھی حصہ لینے کا اختیار دیا گیا ہے۔ یہ سب شیوپال کے خاص لوگ ہیں۔
کیا ملائم واپس آرہے ہیں؟
سماجوادی پارٹی میں بڑی تیز چرچا ہیکہ 6 اکتوبرکو اعظم گڑھ ریلی میں ملائم کے حکومت ٹیک اوور کا اعلان ہوگا۔ سماجوادی پارٹی ملائم سنگھ یادو کے وزیراعلیٰ رہتے اور قیادت میںانتخاب لڑے گی۔یہ چرچا بھلے ہی چنڈوخانے سے نکلی ہو، لیکن دوڑ تو سرپٹ رہی ہے۔اسی چرچا کے متوازی یہ بھی شگوفہ اڑ رہا ہے کہ اکھلیش وزیراعلیٰ کا عہدہ نہیںسونپیں گے اور اسمبلی بھنگ کرنے کی سفارش کرکے اپنی ’کیئر ٹیکنگ‘ میںانتخاب کرائیںگے۔ چرچا تو چرچا ہے، لیکن بہت دمدار ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *