سماج وادی پارٹی لیڈروں کی بے جا حرکتوں پر پھر غرائے ملائم بولتے ہیں ،کچھ کرتے کیوں نہیں

Share Article

دین بندھو کبیر
P-5ملائم سنگھ یادو صرف بول رہے ہیں، کچھ کر نہیں رہے ہیں۔سماج وادی پارٹی کے قومی صدر ملائم سنگھ یادو نے ایک بار پھر اپنی پارٹی کے لیڈروں کی غیر قانونی کارروائیوں پر حملہ کیا اور عام کارکنوں کی تالیاں بٹوریں۔ ملائم کے جارحانہ تیور اور بیباک بیان پر سماج وادی پارٹی کے لوگ تھوڑی دیر کے لئے حوصلہ مند ہوجاتے ہیں،لیکن کچھ دیربعد ہی ان کے دماغ میں یہ سوال گونجنے لگتا ہے کہ نیتا جی اتنا بولتے ہیں تو کچھ کرتے کیوں نہیں۔کچھ لوگ تو بیباک ہوکر بول بھی اٹھتے ہیں۔ایک کارکن نے کہا کہ اگر اکھلیش یادو کی قیادت کی ریاستی سرکار اور ریاستی یونٹ اتنی ہی بے بس ہو گئی ہے تو پارٹی کے قومی صدر ہونے کے ناطے نیتا جی بد عنوان اور ضابطہ شکن لیڈروں کے خلاف سیدھی کارروائی کیوں نہیں کرتے؟کارروائی کرتے بھی ہیں،تو بیٹے کی محبت میں اسے پھر واپس کیوں لے لیتے ہیں؟اب سماج وادی پارٹی کے عام کارکنوں سے لے کر عام شہری تک اسے ملائم کا سیاسی ڈرامہ ہی بتاتے ہیں۔
سابق وزیر اعظم چندر شیکھر کی برسی پر گزشتہ دنوں لکھنو میں سماج وادی پارٹی سپریمو ملائم سنگھ یادو نے پارٹی کے لیڈروں کو خوب کھری کھوٹی سنائی۔ ملائم نے کہا کہ سماج وادی پارٹی کے کچھ لیڈر زمین پر قبضہ کرنے میں، پیسہ کمانے میں اور لوٹ کھسوٹ میں لگے ہوئے ہیں۔ان کے اس طرز عمل سے پارٹی کو نقصان ہو رہا ہے۔ ملائم نے کہا کہ ایسے لیڈروں کو اپنا طرز عمل بدلنا چاہئے۔ ملائم نے کہا کہ اگر 2017 کے انتخاب کے بعد سرکار بنانی ہے تو کچھ لیڈروں کو اپنا طرز عمل بدلنا ہی ہوگا۔ملائم بولے کہ میرے پاس سب کی رپورٹ موجود ہے۔ ملائم نے پارٹی کارکنوں اور لیڈروں کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ کچھ لوگ غنڈہ گردی کرنے اور پیسہ کمانے میں لگے ہیں۔ اگر یہ طرز عمل درست نہیں ہوا تو آئندہ انتخاب ہم نہیں جیت پائیںگے۔ ملائم نے کہا کہ سماج وادی پارٹی کے لیڈر پیسے اور زمین کے چکر میں پڑے ہیں۔ اس سے پارٹی کی بدنامی ہو رہی ہے۔ ملائم نے کچھ ایسا ظاہر کیا کہ 2017 کے اسمبلی انتخاب کو لے کر وہ کافی محتاط ہیں اور پارٹی سے جڑے لوگوں کی غنڈہ گردی اور غیر قانونی سرگرمیوں پر ان کی پوری نظر ہے اور وہ نہیں چاہتے کہ کسی بھی قیمت پر پارٹی کی شبیہ خراب ہو۔ ملائم کا یہی ٹون سماج وادی پارٹی دفتر میں ضلع پنچایت صدروں اور سماج وادی پارٹی کے 64 لیجسلیٹیو کونسل ممبروں کی میٹنگ میں بھی تھی۔ میٹنگ میں سماج وادی پارٹی کے ریاستی صدر اور وزیر اعلیٰ اکھلیش یادو بھی شامل تھے۔ ملائم نے لاپرواہی، دبنگئی اور غنڈہ گردی کر رہے لیڈروں کو لتاڑ لگائی اور اکھلیش کے کام کی تعریف کی۔ سماج وادی پارٹی کے سپریمو نے میٹنگ میں موجود سپائیوں سے کہا کہ انتخاب کے پہلے سدھر جائو ورنہ سرکار نہیں بنے گی۔ کچھ لوگ زمینوں پر قبضے ، پیسے کے لئے لوٹ کھسوٹ اور دبنگئی میں لگے ہیں۔ہمیں سب معلوم ہے کہ کون کیا کررہاہے۔اشاروں ہی اشاروں میں میں اپنی بات بول دیتاہوں،کچھ لیڈر مان لیتے ہیں اور سدھر بھی جاتے ہیں۔اگر نہیں سدھرے تو عوام سرکار کو اکھاڑ پھینکے گی۔میرے پاس کچھ پارٹی لیڈروں کے زمین قبضہ کرنے،بدعنوانی اور غیر قانونی ڈھنگ سے دولت کمانے کی پوری اطلاع ہے۔ اگر اسے وقت رہتے نہیں روکا گیا تو عوام آنے والے انتخاب میں سبق سکھا دیں گے۔عوام ہی راجا بناتے ہیں اور وہی سڑک پر بھی لے جاتے ہیں۔ ان کے پاس پوری اطلاع ہے اور وہ ایسے لیڈروں کے ہائو بھائو بھی سمجھتے ہیں۔
ملائم کے اس تیور کی ہوا نکالتے ہوئے درمیانی درجے کے ایک سماج وادی لیڈر نے کہا کہ ملائم کے ایسے بیان صرف سیاسی اسٹنٹ ہیں۔ نیتا جی بار بار کہتے ہیں کہ سپائیوں کے غیر قانونی دھندے کی انہیں پوری جانکاری ہے، پوری رپورٹ ہے، تو وہ کارروائی کیوں نہیںکرتے؟کیوں بد عنوانی اور غنڈئی کو وہ پانچ سال تک برداشت کرتے رہے اور صرف بولتے رہے؟ سماج وادی پارٹی کے لیڈر نے کہا کہ ملائم لگاتار بیان دے رہے ہیں لیکن وزیر برائے کانکنی گائتری پرجاپتی جیسے بد عنوان لیڈروں کو تحفظ دینے میں بھی لگے رہتے ہیں۔ گزشتہ دنوں ایک پروگرام میں ہی ملائم نے کہا کہ پارٹی میں چاپلوسوں کی تعداد بڑھ گئی ہے۔لیکن سماج وادی پارٹی میں چاپلوسی کیوں پنپ رہی ہے، اس کے بارے میں نیتاجی نے کچھ نہیں کہا۔ 26فروری کو ملائم نے وزیر اعلیٰ اکھلیش یادو کو اشارہ کیا تھا کہ وہ پروگراموں میں زیادہ جارہے ہیں، لیکن عوام کا کوئی خیال نہیں کررہے ہیں۔ ملائم نے تب بھی کہا تھا کہ ایم ایل اے اور وزیر پیسہ بنانا بند کریں، اگر انہیں پیسہ کمانا ہے تو اپنا بزنس شروع کر لیں۔ لیکن ملائم بھی بول کر رسم نبھا لیتے ہیں اور لیڈر سن کر اپنے دھندے میں لگ جاتے ہیں۔

مچے گا سیاسی گھمسان ، راج ببر کو یو پی کی کمان
مشہور فلم اداکار اور ممبر پارلیمنٹ راج ببر کو اتر پردیش کانگریس کا صدر بنا کر کانگریس اعلیٰ کمان نے یہ ظاہر کیا کہ اسمبلی انتخاب کو لے کر پارٹی سنجیدہ ہے۔ ابھی کئی اور پتے کھلنے باقی ہیں۔ مثلاً اسمبلی انتخاب میں پرینکا گاندھی کا کردار کیا ہوگا اور شیلا دیکشت کس رول میں اتریں گی۔ اس سے پردہ اٹھنا ابھی باقی ہے۔کانگریس کے ایک بزرگ لیڈر نے کہا کہ اتر پردیش میں کانگریس مشکل دور سے گزر رہی ہے، ایسے میں راج ببر جیسے محنتی آدمی کے ہاتھوں میں کمان دے کر پارٹی نے مثبت کام کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ غلام نبی آزاد کو جیسے ہی اتر پردیش کا ذمہ سونپا گیا تھا، اسی دن لگ گیا تھا کہ پارٹی اترپردیش کو لے کر کافی سنجیدہ ہے۔
راج ببر کو ریاستی کانگریس صدر بنائے جانے کے ساتھ ہی ابھی تک صدر رہے نرمل کھتری کو اسکریننگ کمیٹی کا صدر بنایا گیا ہے۔ سہارن پور کے کانگریس لیڈر عمران مسعود کے ساتھ راجا رام پال، راجیش مشرا، بھگوری پرساد چودھری کو کانگریس پارٹی کا نائب صدر بنایا گیا ہے۔ راج ببر کانگریس لیڈر راہل گاندھی کے قریبی مانے جاتے ہیں۔ ان کے ریاستی صدر بننے کا مطلب یہ بھی ہے کہ انتخاب میں کانگریس اور سماج وادی اپرٹی کے بیچ اب کسی تال میل کا امکان نہیں ہے۔ ویسے سیاست میں اونٹ کب کس کروٹ بیٹھ جائے، کہنا مشکل ہوتا ہے۔
راج ببر نے 80کی دہائی میں وی پی سنگھ کے ساتھ اپنا سیاسی سفر شروع کیا تھا لیکن بعد میں وہ ملائم سنگھ کے ساتھ ہو لئے اور سماج وادی پارٹی میں شامل ہو گئے۔ 1994 میں ملائم نے انہیں راجیہ سبھا بھیجا۔ راج ببر نے 2004 میں لوک سبھا کا انتخاب سماج وادی پارٹی امیدوار کے طور پر لڑا اور جیت گئے۔ امر سنگھ سے سیدھے ٹکرائو کی وجہ سے پارٹی میں ان کی پوزیشن کمزور ہوتی چلی گئی۔2006 میں سماج وادی پارٹی نے انہیں پارٹی مخالف سرگرمیوں میں شامل ہونے کا الزام لگا کر پارٹی سے معطل کردیا۔ 2008 میں راج ببر کانگریس میںشامل ہو گئے۔ 2009 میں راج ببر نے کانگریس کے ٹکٹ پر فیروز آباد سے ملائم سنگھ کی بہو ڈمپل یادو کے خلاف لوک سبھا کا انتخاب جیتا اور دوسری بار لوک سبھا پہنچے۔ اس ہار کو ملائم اور اکھلیش دونوں نے اپنے وقار سے جوڑ لیا اور راج ببر کو ہمیشہ کے لئے الجھن ماننے لگے۔ 2014 کے لوک سبھا انتخاب میں ببر بی جے پی امیدوار جنرل وی کے سنگھ سے ہار گئے۔ بعد میں پارٹی نے انہیں اترا کھنڈ سے راجیہ سبھا میں بھیج دیا۔ راج بر کی شبیہ عوام کے ساتھ کھڑے ہونے والے محنتی لیڈر کی ہے۔ نوجوانوں میں اب بھی ان کا اچھا خاصا اثر ہے۔
راج ببر کو اتر پردیش کانگریس کا صدر بنائے جانے کا اعلان کانگریس جنرل سکریٹری جناردن دریویدی نے 12جولائی کو دلی میں کیا۔ اس پریس کانفرنس میں غلام نبی آزاد بھی موجود تھے۔ آزاد نے کہا کہ راج ببر بنیادی طور سے یو پی کے ہی رہنے والے ہیں۔ وہ تین بار یو پی سے کانگریس کے لوک سبھا ممبر رہے ہیں اور اس بار وہ اتراکھنڈ سے راجیہ سبھا ممبر چنے گئے ہیں۔ ریاستی صدر کے عہدہ کے لئے پرمود تیواری سے لے کر جیتین پرساد اور کئی دیگر لیڈروں کی پُر زور چرچا کے درمیان راج ببر کو آگے کرکے کانگریس نے کارگر چال چل دی ہے۔
کیا ہاتھی نہیں رہے گا ساتھی
بہوجن سماج پارٹی کی لیڈر مایاوتی سیاست کے برے دور سے گزر رہی ہیں۔ ایک طرف بڑے بڑے لیڈر ان کی پارٹی چھوڑ کر جارہے ہیں تو دوسری طرف بہو جن سماج پارٹی کا انتخابی نشان ہاتھی بھی پارٹی سے چھوٹنے کے خطرے میں ہے۔ مایاوتی نے اپنے دور حکومت میں ہاتھی کی اتنی ڈھیر ساری مورتیاں عوامی مقامات پر لگوا دی کہ اب وہی پارٹی کے لئے نقصان دہ ثابت ہورہی ہیں۔ اتر پردیش میں اسمبلی انتخاب قریب ہے۔ ، ایسے میں مختلف یادگاروں، پارکوں اور عوامی مقامات پر نصب ہاتھی کے مجسمے انتخابی تشہیر کی طرح استعمال میں آئیں گے۔ اس کا اندیشہ کافی عرصہ پہلے سے ظاہر کیا جا رہا ہے۔ اس پر دلی ہائی کورٹ میں ابھی ایک عوامی مفاد میں عرضی بھی داخل ہوئی ہے۔ اس عرضی میں یہ مانگ کی گئی ہے کہ بہو جن سماج پارٹی کا انتخابی نشان ہاتھی رد کر کے اسے کوئی دوسرا انتخابی نشان دینے کے لئے الیکشن کمیشن کو حکم دیا جائے۔ ہائی کورٹ نے اس معاملے کو الیکشن کمیشن کو بھیجتے ہوئے کہا ہے کہ الیکشن کمیشن کو کچھ ایسے گائڈ لائنس بنانے چاہئے جس سے سیاسی پارٹیاں عوامی مقامات اور عوام کے پیسے کا اپنے فائدے کے لئے استعمال نہ کر سکیں۔ جو پارٹیاں ایساکریں، ان کی منظوری رد کرنے کا متبادل رہنا چاہئے۔ قابل ذکر ہے کہ انتخاب کے وقت کمیشن کے حکم پر مورتیوں کو پردے سے ڈھنکنے کا معاملہ سرخیوں میں رہ چکا ہے۔
ادھر بڑے لیڈروں کے چھوڑ کر جانے کے بعد بہو جن سماج پارٹی تذبذب کی حالت میں ہے۔ مایاوتی کہتی ہیں کہ ان کے جانے سے پارٹی پر کوئی اثر نہیں پڑ رہا۔ لیکن پارٹی چھوڑ کر جانے کا سلسلہ جاری ہے، یعنی پارٹی پر منفی اثر کا سلسلہ جاری ہے۔ سوامی پرساد موریہ، آر کے چودھری، راجیش ترپاٹھی، پرمود یادو کے ساتھ لیڈروں کے چھوڑنے کا سلسلہ جاری ہے۔ گزشتہ سال جب مایاوتی نے بہو جن سماج پارٹی لیڈر ددو پرساد کو پارٹی سے معطل کیا تبھی سے پارٹی میں چلا چلی تیز ہو گئی تھی۔حالانکہ اس کے پہلے دارا سنگھ چوہان ، ڈاکٹر اکھلیش داس گپتا، کبیر رانا، شاہد اخلاق، رما شنکر ودیارتھی جیسے کئی لیڈر پارٹی سے الگ ہوئے ۔پھر مایاوتی کے معتمد راجیہ سبھا ممبر جگل کیشور اور کُنور فتح بہادر سنگھ جیسوں نے بھی پارٹی چھوڑ دی۔ 2017 کے اسمبلی انتخاب میں بہو جن سماج پارٹی کو مضبوط دعویدار مانا جارہا تھا، لیکن اس کا گراف اچانک نیچے گر پڑا۔ موریہ اور پاسی برادری کے ووٹ کا بہو جن سماج پارٹی کوسیدھا نقصان پہنچا۔ دیگر جو بھی لیڈر پارٹی چھوڑ کر گئے، ان کا ہرجانہ تو پارٹی کو بھگتنا ہی پڑے گا۔ سینئر سیاسی تجزیہ کاروں کا بھی یہی ماننا ہے ۔
یو پی بی جے پی الجھی ہوئی
اتر پردیش میں بی جے پی نے بھی اپنے اسٹیٹ ایگزیکٹیو کا اعلان کردیا۔ اس میں بڑے لیڈروں کے بیٹوں اور رشتہ داروں کا پورا دھیان رکھا گیا ہے۔ مظفر نگر فرقہ وارانہ فساد معاملے میں سماج وادی پارٹی سرکار کے ذریعہ ملزم بنائے گئے مشہور ایم ایل اے سریش رانا کو بھی ریاستی نائب صدر بنایا گیا ہے۔ سیاسی طور پر بی جے پی کا اسٹیٹ ایگزیکٹیو الجھا ہوا اور غیر یقینی صورت حال سے دوچار ہے۔سینئر لیڈر کلیان سنگھ کے بیٹے راجیو ویر سنگھ اور لال جی ٹنڈن کے بیٹے گوپال ٹنڈن کو بھی ریاستی نائب صدر بنایا گیا ہے۔ مرکزی وزیر راجناتھ سنگھ کے بیٹے پنکج سنگھ اور مرکزی وزیر کلراج مشر کے رشتہ دار وجے بہادر پاٹھک کو پردیش مہا منتری چنا گیا ہے۔ تاخیر سے ایگزیکٹیو کی تشکیل کرنے کے باوجود بی جے پی لیڈروں کو اسٹیٹ ایگزیکٹیو کے لئے متاثر کن، پر عزم اور انرجیٹک لیڈر نہیںملے۔ 40 رکنی ٹیم میں کچھ کو چھوڑ کر باقی چہرے سفارشی یا غیر متاثر کن چہرے ہیں۔ اتر پردیش بی جے پی کے صدر کیشو موریہ کے دستخط سے جاری ریاستی عہدیداروں میں 15 ریاستی نائب صدر،15 پردیش منتری،8پردیش مہا منتری،ایک ریاستی خزانچی اور ایک معاون خزانچی ہیں۔ اسٹیٹ ایگزیکٹیو کی تشکیل کرنے میں قیادت کو کافی جدو جہد کرنی پڑی،لیکن پھر بھی نتیجہ بامعنی نہیں نکلا۔ ریاستی صدر کے انتخاب میں بھی کافی تاخیر ہوئی تھی۔ بی جے پی قیادت کا کنفیوژن لگاتار عوام کے سامنے ظاہر ہوتا رہا ہے۔ کس چہرے کو سامنے لے کر انتخاب لڑا جائے، اسے لے کر بھی بی جے پی لیڈروں میں بھیانک صورت حال بنی ہوئی ہے۔ ذات برادری کا توازن بنانے اور 40رکنی ایگزیکٹیو میں اعلیٰ ذاتوں، 14او بی سی اور 4 دلتوں کو جگہ دینے کی جدو جہد میں پارٹی کی بنیادی ترجیح کھو گئی۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *