شاہد نعیم
p-9اترپردیش میں اسمبلی انتخابات قریب آگئے ہیں۔ سبھی سیاسی پارٹیاںانتخابی میدان میںاترنے کے لیے اپنی صفیں درست کررہی ہیں اور اپنے حریفوں سے نمٹنے کے لیے نئی نئی حکمت عملیاں تیار کررہی ہیں۔ لیکن اترپردیش میں برسراقتدار سماجوادی پارٹی اسمبلی انتخابات کی تیاری کرنے کے بجائے اپنے ہی گھر اور خاندان کی لڑائی میں الجھی ہوئی ہے۔ایسے میں بھارتیہ جنتا پارٹی سماجوادی کنبے کی پھوٹ سے ہونے والے ممکنہ نفع نقصان کا حساب کتاب لگانے میںاپناسر کھپانے میںلگ گئی ہے۔ کبھی تواسے ایسا لگتا ہے کہ اس خاندانی جھگڑے سے اس کی اترپردیش میں حکومت بنانے کی دیرینہ خواہش پوری ہوجائے گی اور کبھی یہ خوف ستاتا ہے کہ کہیں اس کا فائدہ بہوجن سماج پارٹی نہ لے جائے۔
اترپردیش اسمبلی انتخابات میں حکومت بنانے کی چابی ہمیشہ مسلم ووٹروںکے ہاتھ میںرہی ہے۔یہاں کے مسلمان جس پارٹی کو بھی متحد ہوکر ووٹ دیتے ہیں، جیت کی دیوی اسی پر مہربان ہوجاتی ہے اور اگر متحد نہ ہوکر منقسم ہوتے ہیں تو اس کا فائدہ بھارتیہ جنتا پارٹی اٹھالیتی ہے۔ کسی زمانے میں مسلمان کانگریس پر مہربان تھے تو کانگریس کی طوطی بولتی تھی۔ لکھنؤ کے تخت و تاجپر طویل مدت تک کانگریس کاقبضہ رہا، لیکن جب کانگریس نے مسلمانوں کو محض ووٹ بینک سمجھااور ان کے مسائل میںکوئی دلچسپی نہ لی تو پھر مسلمانوںنے بھی اس سے ناتہ توڑلیا، جس کے نتیجے میں آج بھی کانگریس ’ 27 سال یوپی بدحال‘ کا نعرہ لگاتی ہوئی سڑکوںکی خاک چھانتی پھر رہی ہے۔اور یہ بھی تلخ حقیقت ہے کہ کانگریس سے مسلمانوں کا بھرم ٹوٹنے کے بعد ہی اترپردیش میں علاقائی پارٹیوں نے جنم لیا اور یہاں کے مسلمانوںنے ہی انھیں پروان چڑھایا۔

القصہ مختصر سماجوادی پارٹی میں تسلط کی لڑائیبظاہر تو ختم ہوگئی ہے لیکن درپردہ یہ لڑائی ابھی بھی جاری ہے تبھی تو ایک دوسرے کے گروپ کے لیڈروں کو نکال باہر کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔اور اگر یہ لڑائی اسی طرح جاری رہی تو پھر یقینی طور پر آنے والے انتخاب میں سماجوادی پارٹی کا نہ صرف مسلم ووٹ تقسیم ہوگا بلکہ او بی سی ووٹ بھی منتشر ہوسکتا ہے۔اس تقسیم سے کسے فائدہ ہوگا ااور کسے نقصان، یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا۔لیکن فی الحال وقت کی نزاکت کو محسوس کرتے ہوئے سماجوادی پارٹی کواپنے گھرمیںلگی آگ کو بجھانے کے ساتھ ساتھ پارٹی کو بچانے کی اشد ضرورت ہے۔

 
موجودہ دور میں سماجوادی پارٹی اور بہوجن سماج پارٹی اترپردیش کی دو مضبوط سیاسی پارٹیاں ہیں۔ حالانکہ اور بھی کئی علاقائی پارٹیاں اترپردیش میں الیکشن میں قسمت آزماتی ہیں، لیکن عام طور سے مسلمان ان دونوں پارٹیوں پرہی اپنا بھروسہ قائم کیے ہوئے ہیں۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی ایسی واحدسیاسی پارٹی ہے، جس نے مسلمانوں میں کبھی اپنی دلچسپی نہیں دکھائی ، نہ ہی انھیں اپنے سے جوڑنے کی کبھی کوشش کی البتہ ان کے ووٹوں کی تقسیم کرانے میں وہ اپنا سر ہمیشہ کھپاتی رہی تاکہ اس سے فائدہ اٹھائے۔
بھارتیہ جنتا پارٹی اچھی طرح جانتی ہے کہ2012 میںمایاوتی کی سرکار کو ہٹانے اور اکھلیش سرکار کے بنانے میں مسلمانوں کا اہم کردار رہا تھا ۔ اس وقت مسلمانوں نے ایک جٹ ہوکر سماجودی پارٹی کو ووٹ دیا تھاجس کے نتیجے میں بڑی اکثریت کے ساتھ اکھلیش سرکارا ترپردیش میں اقتدار میں آئی تھی اور مایاوتی مسلم ووٹوں کے نہ ملنے کی شکایت کرتی ہوئی اقتدار سے بے دخل ہوگئی تھیں۔ بھارتیہ جنتا پارٹی کے لیڈروں کا خیال ہے کہ اگر کسی وجہ سیسماجوادی پارٹی کا مسلم ووٹ بینک کھسک جاتا ہے تو اترپردیش میں بھارتیہ جنتا پارٹی کی سرکار بن سکتی ہے۔ بھارتیہ جنتاپارٹی کے لیڈروںکو امید ہے کہ سماجوادی خاندان کی لڑائی سے اس کاروایتی مسلم ووٹ بینک تقسیم ہوسکتا ہے اور اس تقسیم کا سیدھا فائدہ بھارتیہ جنتا پارٹی کو ہو سکتا ہے، لیکن اسے یہ بھی ڈر ستاتا ہے کہ اگر اکھلیش یادو اور شیوپال یادو کی لڑائی طول پکڑتی ہے تو پھر مسلمان سماج وادی پارٹی کو مقابلے سے باہرسمجھتے ہوئے متحد ہوکر بہوجن سماج پارٹی کے حق میں ووٹ کرسکتے ہیں۔ اس صورت میں بھارتیہ جنتا پارٹی کو نقصان اٹھانا پڑسکتا ہے اور اس کی امیدوں پر پانی پھر سکتا ہے۔
اتر پردیش میںشیڈول کاسٹ 20-21 فیصد، اوبی سی 40-45 فیصد، برہمن 13 فیصد، ٹھاکر 7 فیصد اور مسلم تقریباً 19 فیصد ہیں۔ لہٰذا ذات برادر ی کے اس تناسب کو سامنے رکھ کر بھارتیہ جنتا پارٹی اپنا گیم پلان تیار کر رہی ہے۔ وہ نہ صرف مسلم ووٹوں میںتقسیم چاہتی ہے، بلکہ وہ دلت اور اوبی سی ووٹوں میں بھینقب لگاکر اپنے حریفوں کو کمزور کرنا چاہتی ہے۔ دلت ووٹوں میںنقب لگانے کے لیے وہ بہوجن سماج پارٹی کے ممبران اسمبلی اور سینئر لیڈروں کا اپنے یہاں برابر استقبال کررہی ہے اور سماجوادی پارٹی کو نقصان پہنچانے کے لیے بھی وہ او بی سی لیڈروں اور ووٹروں پر برابر ڈورے ڈال رہی ہے۔
حالانکہ اترپردیش میںنظم و نسق کی حالت بہت پتلی ہے اور عوامی سطح پراکھلیش سرکار کی مقبولیت کا گراف گر رہا ہے، اس کے باوجود بھارتیہ جنتا پارٹی اتر پردیش اسمبلی انتخاب میں صحیح معنوںمیں سماجوادی پارٹی کو ہی اپنا حریف مانتی ہیجبکہ بہوجن سماج پارٹی کو اپنا سیاسی حریف ماننے سے وہ گریز کر رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب اکھلیش یادو اور شیو پال یادو میں سیاسی گھمسان شروع ہوئی تو وہ اس خانہ جنگی میں اپنے نفع نقصان کا حساب کتاب لگانیلگی۔ بھارتیہ جنتا پارٹی کو لگتا ہے کہ چاچا بھتیجے کی لڑائی سے سماجوادی پارٹی کے کارکنوں میں مایوسی پیدا ہوگی۔ اس کے کارکنوں میںجو جذبہ اور جوش و خروش 2012 کے اسمبلی انتخابات میںتھا، وہ جوش و جذبہ اپنے گھر کی آگ میں خود بخود فنا ہو جائے گا ، یہاں تک کہ اس کا مسلم ووٹ بینک بھی اس سے کھسک جائے گااور اس طرح اترپردیش میں حکومت بنانے کا اس کا خواب شرمندۂ تعبیر ہوجائے گا۔
2012 میں اکھلیش یادو ملک کے سب سے کم عمر وزیراعلیٰ بنے تھے۔ وزیر اعلیٰ بنتے ہی انھیں سماجوادی پارٹی کے سینئر لیڈروں کی مزاحمت کا کافی سامنا کرنا پڑا۔ طویل عرصے سے اکھلیش یادو اور شیو پال یادو کے درمیان کبھی درپردہ اور کبھی کھلے عام سرد جنگ چلتی رہی اور حیرت انگیز طور پر اس جنگ میں سماجوادی پارٹی کے سپریمو ملائم سنگھ یادو نے اپنے بھائی کی مکمل طور پر حمایت کی۔گزشتہ دنوں اکھلیش یادو نے جب ریاست کے چیف سکریٹری کو ان کے عہدے سے ہٹایا،تو ملائم سنگھ نے فوری طور پرکارروائی کرتے ہوئے اکھلیش کو ریاستی صدارت کے عہدے سے ہٹاکر اپنے بھائی شیوپال کو اترپردیش سماجوادی پارٹی کا صدر بنادیا نتیجتاً اکھلیش نے بھی اپنے عہدے کا استعمال کرتے ہوئے شیوپال کے سارے قلمدان چھین لیے۔ آخر کار ملائم سنگھ نے دخل دے کر چاچا بھتیجیمیں صلح صفائی کرائی ۔شیوپال یادو کو قلمدان بھی واپس مل گئے لیکن اب وہ اپنے صدارت کے عہدے کا بھرپور استعمال کررہے ہیں۔ وہ چن چن کر ان لوگوں کو پارٹی سے باہر کررہے ہیں جو اکھلیش کے قریبی مانے جاتے ہیں۔
سب سے پہلے انھوںنے سماجوادی پارٹی کے جنرل سکریٹری رام گوپال یادو کے بھانجے اروند یادو کو ہٹایا ۔ اروندیادو کو اسی سال مین پوری سے ایم ایل سی بنایا گیا تھا۔ اسی طرح پارٹی ترجمان راجندر چودھری کو ہٹاکر امبیکا چودھری کو پارٹی کا ترجمان بنادیا گیا۔ کابینہ وزیر اروند گوپ کی جگہ کابینہ وزیر اوم پرکاش سنگھ کو پارٹی کو نیا جنرل سکریٹری بنایا گیا۔ امر سنگھ کے خلاف کافی بیان بازی ہوئی، لیکن ان کو بھی قومی جنرل سکریٹری بنادیا گیا۔ا سی طرح دیگر سات اہم لیڈروں کو پارٹی سیباہر کا راستہ دکھادیا گیا، جن میں تین قانون ساز کونسل کے ممبر اور چار پارٹی کے یوتھ ونگ کے صدور ہیں۔ یہ ساتوں لوگ وزیر اعلیٰ اکھلیش یادو کے قریبی مانے جاتے ہیں اور ان لوگوںنے ریاستی صدارت کا عہدہ اکھلیش یادو سے چھین کر شوپال یادو کو سونپنے کے ملائم سنگھ یادو کے فیصلے کے خلاف آواز بلند کرنے کی جرأت کی تھی۔
القصہ مختصر سماجوادی پارٹی میں تسلط کی لڑائیبظاہر تو ختم ہوگئی ہے لیکن درپردہ یہ لڑائی ابھی بھی جاری ہے تبھی تو ایک دوسرے کے گروپ کے لیڈروں کو نکال باہر کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔اور اگر یہ لڑائی اسی طرح جاری رہی تو پھر یقینی طور پر آنے والے انتخاب میں سماجوادی پارٹی کا نہ صرف مسلم ووٹ تقسیم ہوگا بلکہ او بی سی ووٹ بھی منتشر ہوسکتا ہے۔اس تقسیم سے کسے فائدہ ہوگا ااور کسے نقصان، یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا۔لیکن فی الحال وقت کی نزاکت کو محسوس کرتے ہوئے سماجوادی پارٹی کواپنے گھرمیںلگی آگ کو بجھانے کے ساتھ ساتھ پارٹی کو بچانے کی اشد ضرورت ہے۔
القصہ مختصر سماجوادی پارٹی میں تسلط کی لڑائیبظاہر تو ختم ہوگئی ہے لیکن درپردہ یہ لڑائی ابھی بھی جاری ہے تبھی تو ایک دوسرے کے گروپ کے لیڈروں کو نکال باہر کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔اور اگر یہ لڑائی اسی طرح جاری رہی تو پھر یقینی طور پر آنے والے انتخاب میں سماجوادی پارٹی کا نہ صرف مسلم ووٹ تقسیم ہوگا بلکہ او بی سی ووٹ بھی منتشر ہوسکتا ہے۔اس تقسیم سے کسے فائدہ ہوگا ااور کسے نقصان، یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا۔لیکن فی الحال وقت کی نزاکت کو محسوس کرتے ہوئے سماجوادی پارٹی کواپنے گھرمیںلگی آگ کو بجھانے کے ساتھ ساتھ پارٹی کو بچانے کی اشد ضرورت ہے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here