سماج واد: ایک ادھین کتاب کا اجراء

Share Article

نئی دہلی : ایم آر مورارکا فاؤنڈیشن اور پرگیا سنستھان کے ذریعہ گزشتہ 19 جون کو تین مورتی بھون میں منعقدہ ایک پروگرام میں مہاویر پرساد آر مورارکا کی کتاب ’سماج واد : ایک ادھیین‘ کا اجراء کیا گیا۔ کتاب کا اجراء ڈاکٹر نامور سنگھ نے کیا۔ پروگرام کی صدارت ڈاکٹر وید پرتاپ ویدک نے کی۔ اس پروگرام کے مہمان خصوصی شرد یادو تھے۔ اہم مقررین کے طور پر شری راہل دیو اور شری اروند موہن بھی اس موقع پر موجود تھے۔
سامعین سے خطاب کرتے ہوئے شرد یادو نے کہا کہ ہندوستان میں سماج واد کا راستہ پانی سے ہو کر نکلتا ہے۔ اگر ملک میں سماج واد کو مضبوط کرنا ہے تو اس کے لیے سبھی کھیتوں کو آبپاشی کے لیے مناسب پانی مہیا کرانا ہوگا۔ سبھی کھیتوں کو پانی ملنے پر ہی خوش حالی آئے گی اور کسان خوش حال ہوں گے۔
پروگرام کی صدارت کر رہے ڈاکٹر وید پرتاپ ویدک نے کہا کہ ’سماج واد : ایک ادھیین‘ کے مصنف مہاویر پرساد آر مورارکا نے اقتصادی نظام جیسے مشکل موضوع کو نہایت آسان اور عام فہم زبان میں پیش کیا ہے، جسے ایک عام آدمی بھی آسانی سے سمجھ سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کمال کی بات یہ ہے کہ انہوں نے یہ کتاب اس وقت لکھی تھی جب ہندی میں مارکس کی مشہور زمانہ کتاب ’داس کیپیٹل‘ کا ہندی میں ترجمہ بھی نہیں ہوا تھا۔ اس کے علاوہ اس کتاب میں مہاویر جی نے کئی انگریزی مصنفین کی کتابوں کے حوالے بھی دیے ہیں جس سے پتہ چلتا ہے کہ اس موضوع پر ان کا مطالعہ کافی وسیع تھا۔
ڈاکٹر نامور سنگھ نے کہا کہ خواب کبھی نہیں مرنے چاہئیں کیوں کہ خواب ہی انسان کو زندہ رکھتے ہیں۔ ہم لوگ ایسے دور سے گزر رہے ہیں جب ملک میں اچھے مستقبل کی کوئی امید نظر نہیں آرہی ہے۔ ہر طرف بدعنوانی ہی بدعنوانی ہے۔ ایسے میں یہ کتاب ہمیں روشنی کی ایک کرن دکھاتی ہے۔ یہ کتاب 1962 میں لکھی گئی تھی، اور اس کا اجراء کئی دہائیوں بعد اب کیا جا رہا ہے، مہاویر جی کے صاحبزادے کمل مورارکا نے کچھ سوچ کر ہی یہ فیصلہ کیا ہوگا۔ اس کے لیے وہ قابل مبارکباد ہیں۔ سب سے پہلے سینئر صحافی شری رام بہادر رائے نے کتاب کا مختصر تعارف پیش کیا۔ انہوں نے بتایا کہ مصنف نے کسانوں اور مزدوروں تکلیف کو سمجھا اور اپنی زندگی میں جو کچھ محسوس کیا، اسے اس کتاب کے ذریعہ عام لوگوں کے سامنے پیش کردیا۔
سامعین سے شری راہل دیو اور اروند موہن نے بھی مخاطب کیا اور اس کتاب کی پذیرائی کی۔ نظامت کے فرائض ’چوتھی دنیا‘ کے چیف ایڈیٹر سنتوش بھارتیہ نے انجام دیے۔ پروگرام میں متعدد نامور شخصیتوں نے شرکت کی۔ غور طلب ہے کہ مہاویر پرساد آر مورارکا کی پیدائش جولائی 1919 میں جھنجھنو ںضلع کے نول گڑھ میں ایک عام تاجر گھرانے میں ہوئی۔ یہ علاقہ راجستھان کے شیخاوٹی میں آتا ہے۔ ان کا خاندان 1930 کی دہائی میں ممبئی آکر آباد ہوگیا۔ ان کی تعلیم کافی کم ہوئی اور 15 سال کی چھوٹی عمر میں ہی وہ خاندانی کاروبار سے جڑ گئے۔ اپنی کڑی محنت سے وہ ہمہ جہت شخصیت کے مالک بنے اور اپنے دم پر ہی انگریزی ادب، سنسکرت کی مذہبی کتابوں اور تجارت سے جڑے اقتصادی قانون میں مہارت حاصل کی۔ اس طرح انہیں اقتصادیات، سائنس، سوشل سائنس، دینیات اور فضائی سائنس میں مہارت حاصل کی۔ 24 سال کی عمر میں ہی انہوں نے ای ڈی سیسن مل کی باگ ڈور انگریزوں کے ہاتھوں سے لے لی، جو اس وقت ہندوستان کی سب سے بڑی کپڑا مل تھی۔ انہوں نے اپنی پوری زندگی مختلف قسم کی صنعتوں کو فروغ دینے اور قائم کرنے میں لگا دی۔ اندور میں وہ حکم چند ملس کے چیئرمین رہے اور 1961 میں انہوں نے انتظامیہ میں مزدوروں کی حصہ داری کے لیے ایک اسکیم شروع کی، جس کا افتتاح پنڈت جواہر لال نہرو نے کیا تھا۔ ’سماج واد : ایک ادھیین‘ کتاب جارج برنارڈ شا کی کتاب ’انٹیلی جنس وومنس گائڈ ٹو سوشلزم‘ سے متاثر ہوکر لکھی گئی ہے اور اسے تبھی شائع کیا گیا جب جے پرکاش نارائن نے اس کتاب کا مقدمہ لکھنا قبول کیا۔ یہ کتاب 1962 میں شائع ہوئی۔ مہاویر پرساد کا انتقال 19 اکتوبر، 1987 کو ہوا۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *