سماجوادی پارٹی سے پریشان مسلمانوں پر بی ایس پی کی نظر

Share Article

اجے کمار 
p-9bاتر پردیش کا اقتدارکھونے کے بعد بی ایس پی سپریمو مایاوتی نے 2013میں کوئی خاص دھماکہ نہیں کیا۔ ان کی طرف سے مخالفین پر ہلکے پھلکے انداز میں حملے ضرور کئے گئے، لیکن یہ صرف رسم الادائیگی سے زیادہ کچھ نہیں تھا۔ مایاوتی خامو ش تھیں تو ان کے سپہ سالاروں نے بھی بیشتر موقعوں کو چھوڑ کر اپنا منھ بند ہی رکھا۔ یہ سلسلہ نومبر، دسمبر میں ہوئے پانچ ریاستوں کے اسمبلی انتخابات کے وقت بھی جاری رہا، جس کا پارٹی کو خمیازہ بھی اٹھانا پڑا۔ مایاوتی کی خاموشی پر سیاسی پنڈتوں نے وقتاً فوقتاً خوب تبصرے کئے ۔ کسی نے کہا کہ بہن جی یو پی کی کرسی جانے کے صدمے سے باہر نہیں نکل پارہی ہیں ، تو کسی نے کہا کہ نریندر مودی کی مقبولیت سے بی ایس پی کا دلت ووٹر بی جے پی کی طرف چلا گیا ہے۔ یو پی تو ان سے چھن ہی گئی تھی، دہلی میں بھی بی ایس پی کے مقابلہ سماجوادی لیڈر پورے سال سرخیوں میں بنے رہے۔ اس دوران بی ایس پی نے اگر کچھ خاص کیا تو بس اتنا کہ لوک سبھا انتخابات کے لئے امیدواروں (لوک سبھا حلقہ کا انچارج بنا کر) کے ناموں کااعلان کر دیا۔ یہ بات دیگر ہے کہ بدلتے سیاسی ماحول کے درمیان انہیں اپنے کئی امیدواروں کو بدلنا پڑ رہا ہے۔ مایاوتی خاموش رہیں تو سماجوادی حکومت بھی انہیں لے کر خاموش رہی، لیکن جیسے ہی مایاوتی نے منھ کھولا، سماجوادی حکومت نے بھی ان کے خلاف ہلا بول دیا۔ سال کے پہلے ہی دن مایاوتی کی ٹیم کے کئی ممبران جو سابقہ حکومت میں وزیر بھی رہ چکے ہیں ، کے خلاف بدعنوانی سمیت کئی معاملوں میں مقدمہ درج ہو گیا۔ وجیلنس ڈپارٹمنٹ کے ڈائریکٹر جنرل اے ایل بنرجی کی ہدایت پر راجدھانی لکھنؤ کے گومتی نگر تھانہ میں اسمارک گھوٹالہ میں 19لوگوں کے خلاف مقدمہ درج ہونے کے ساتھ ہی یہ واضح ہو گیا کہ انتخابی موسم آتے ہی بی ایس پی اور سماجوادی کو پرانی دشمنی یاد آنے لگتی ہے۔
بہر حال ، 2013میں بی ایس پی نے بھلے ہی کوئی بڑا سیاسی دھماکہ نہیں کیا ہو، لیکن 2014کا آغاز مایاوتی دھماکہ دار طریقہ سے کرنے جا رہی ہے۔ اس کے لئے انھوں نے 15جنوری کا دن طے کیا ہے۔ 15جنوری یعنی مایاوتی کا یوم پیدائش ۔ اس دن مایاوتی لکھنؤ میں ’’ساودھان وشال ریلی‘‘ کرنے جا رہی ہیں۔ اس میں پورے ملک سے بی ایس پی حامی آئیں گے۔ ریلی میدان پرانا والا (رما بائی امبیڈ کر میدان) ہی رہے گا ، جہاں ریلی کرنے کی جرأت مایاکے علاوہ کوئی نہیں کر پاتا ہے۔ ریلی کو کامیاب بنانے کے لئے مایاوتی گزشتہ کئی دنوں سے لکھنؤ میں ڈیرا ڈالے ہوئے ہیں۔ ریلی میں ہر اسمبلی حلقہ سے پانچ ہزار اور لوک سبھا حلقہ سے 25ہزار لوگ لانے کو بی ایس پی لیڈروں سے کہا گیا ۔ لوگوںکو ریلی کے مقام تک پہنچانے کے لئے بسوں اور چھوٹی چھوٹی گاڑیوں کے علاوہ تقریباً ڈیڑھ درجن ریلوں میں بھی بکنگ کرائی گئی ہے۔ بی ایس پی سے ٹکٹ کی خواہش رکھنے والوں اور جن کو ٹکٹ مل گیا ہے، انہیں اپنا ٹکٹ بچائے رکھنے کے لئے ہر حالت میں بھیڑ جمع کر کے مایاوتی کو متاثر کرنا ہوگا۔ وام سیف کے کارکنان اس بات پر نظر رکھیں گے کون لیڈر کتنی بھیڑ لے کر آیاہے۔ مغربی اتر پردیش کے لیڈروں اور کارکنان کو خصوصی طور پر زیادہ سے زیادہ بھیڑ جمع کرنے کے لئے آگاہ کیا گیا ہے۔ بھیڑ میں بھی مسلمانوں کی تعداد اچھی رہے، اس کے لئے خاص تاکید کی جا رہی ہے۔ کوششیں تو یہ بھی جا رہی ہے کہ مایاوتی کی ریلی گزشتہ دنوں ہوئی بی جے پی اور سماجوادی کی ریلیوں سے ہر معنی میں بے جوڑ ثابت ہو۔ بھیڑ کے اعداد و شمار مودی، ملائم کی ریلی سے دوگنے رکھنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ مایا وتی اپنا ووٹ بینک مضبوط کرنے کے لئے کسانوں، مسلمانوں اور دلتوں پر خصوصی توجہ دے سکتی ہیں۔
ایک طرف بی ایس پی کے حکمت عملی ساز بھیڑ جمع کرنے کا ریکارڈ بنانے کو بے تاب ہیں، تو دوسری طرف بی جے پی ، کانگریس اور سماجوادی پارٹی کے لیڈروں کے خلاف بی ایس پی سپریم کو ان مدعوں پر آڑے ہاتھوں لیں گی جو لوک سبھا انتخابات کے وقت مخالفین کو گھیرنے کے کام آئیں گے۔ ریاست کے خراب قانونی نظام کے علاوہ بی ایس پی کی کوشش ان مسلمانوں کو اپنے پالے میں پھر سے کرنے کی ہے، جو 2012کے اسمبلی انتخابات میں ان سے دور چلا گیا تھا۔ اس کے لئے بی ایس پی مظفر نگر فسادوں کی سیاست کو آگے بڑھائے گی۔ وہ چاہیں گی کہ کسی بھی طرح سے ملائم اینڈ کمپنی کو مسلم مخالف قرار دے دیا جائے۔ اسی لئے فسادکے وقت سماجوادی حکومت کے کردار پر سوالیہ نشان کھڑا کیا جائے گا۔ راحت کیمپوں میں رہ رہے لوگوں کو بلڈورز چلا کر ہٹائے جانے اور ان کے خلاف (فساد متاثرین) ملائم کے بے تکے بیان کو بی ایس پی ہوا دے گی۔ اس کے علاوہ مایاوتی نے اپنے لیڈروں سے کہہ دیا ہے کہ اقلیتوں کے خلاف جہاں بھی سماجوادی حکومت پریشانیوں اور خوف کا ماحول بنا رہی ہے، وہاں ایسے مدعوں کو سنجیدگی سے اٹھایا جائے۔ بی ایس پی سپریمو کی کوشش ہے کہ مظفر نگر فساد کے بہانے ملائم کو بی جے پی کے وزیر اعظم کے عہدے کے امیدوار نریندر مودی کے مدمقابل کھڑا کر دیا جائے۔ اپنی بات ثابت کرنے کے لئے مایاوتی گزشتہ دنوں اترپردیش کی سماجوادی حکومت اور سماجوادی سپریمو ملائم سنگھ یادو پر گجرات کے وزیر اعلیٰ نریندر مودی کے نقش قدم پر چلنے کا الزام بھی لگاچکی ہیں۔انھوں نے یہ کہہ کر سماجوادی پارٹی کو کٹہرے میں کھڑا کیا تھا کہ ٹھٹھرتی سردی میں راحت کیمپوں میں بلڈوزر چلا کر ان کے زخموں پر ویسے ہی نمک پاشی کا کام سماجوادی حکومت نے کیا ، جیسا کہ بی جے پی کی گجرات حکومت مسلمانوں کے ساتھ کرتی آئی ہے۔
بی ایس پی نے مسلسل اس کوشش میں ہیں کہ عوام میں سماجوادی پارٹی کی شبیہ بی جے پی کے ساتھ ایک سکے کے دو پہلو جیسی بنا دی جائے ۔ یہ ایسا مدعا ہے، جس کے سہارے بی ایس پی اپنے تمام مخالفین کانگریس، سماجوادی ، بی جے پی اور آر ایل ڈی کو ایک ساتھ گھیر سکتی ہے۔ حالانکہ کہا یہ بھی جا رہا ہے کہ یہ کام اتنا آسان نہیں ہے۔ مایاوتی جب اقلیتوں پر ہوئے مظالم کی سیاست کو ہوا دیں گی تو ان کے سامنے یہ سوال بھی کھڑا ہوگا کہ ان کی حکومت نے بھی تو مسلمانوں کی نہیں سنی تھی، آج بھی ان کا یہی نظریہ ہے۔ اسی لئے تو وہ فساد متاثرین سے اظہار ہمدردی کرنے مظفر نگر نہیں گئیں۔ ہو سکتا ہے کہ اس کی وضاحت وہ ’’ساودھان ریلی‘‘ میں دیں۔ دیگر تمام جماعتوں کے علاوہ تیزی سے ابھر رہی عام آدمی پارٹی کے بارے میں کیا سوچ ہے، اس کا جواب بھی عوام ان سے سننا چاہے گی۔
اتر پردیش میںگزشتہ تقریباً دو دہائیوں سے بی ایس پی واحد جماعت ہے، جو سماجوادی پارٹی کو چیلنج کرتی رہی ہے۔ اسی لئے مایاوتی کی ’’ساودھان ریلی‘‘ پر دیگر پارٹیوں کے لیڈروں کے علاوہ سماجوادی لیڈر نظریں جمائے ہوئے ہیں۔ سماجوادی پارٹی ابھی سے ریلی کی ہوا نکالنے کی تیاری میں بھی مصروف ہو گئی ہیں۔ وزیر اعلیٰ اکھلیش یادو نے الزام عائد کیا ہے کہ مخالف پارٹی راحت کیمپوں میں سیاست کر رہی ہیں۔ ان کے بڑے لیڈر وہاں کا دورہ کرتے ہیں، لیکن مشورہ مانگوں تو نہیں دیتے ہیں۔ بلکہ اپنے دوروں کی خبرضرور چلواتے ہیں۔ سماجوادی پارٹی کے ریاستی ترجمان راجندر چودھری نے بی ایس پی کی قومی صدر مایاوتی پر حملہ بولتے ہوئے کہا کہ وہ (مایاوتی) دوبارہ پہلے کی طرح اپنے ممبران پارلیمنٹ، ممبران اسمبلی اور لیڈروں سے جنم دن کی چندہ وصولی میں لگ گئی ہیں۔ جس میں کئی کی جانیں جا چکی ہیں۔ بی ایس پی، سماجوادی ، بی جے پی کو ’’ایک ہی تھالی کا بینگن‘‘ بتارہی ہیں، تو سماجوادی پارٹی کے لیڈر نے الزام عائد کیا ہے کہ مظفر نگر کے مسلمانوں کے لئے جھوٹی ہمدردی دکھا کر بی ایس پی ، بی جے پی کی بی ٹیم کا فرض ادا کرنے جا رہی ہے۔ لوک سبھا انتخابات قریب ہیں اور عوام کو ایسے عناصر سے ہوشیار رہنا ہوگا جو انسانی بربادی کا بھی سیاسی فائدہ اٹھانے کی سازشوں سے باز نہیں آتے ہیں۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *