سلیم پرویز قانون ساز کونسل کے دوسرے مسلم ڈپٹی چیئر مین

Share Article

اشرف استھانوی
بہار قانون ساز کونسل کو اس کے صد سالہ جشن کے موقع پر ایک مسلم ڈپٹی چیر مین مل گئے ہیں۔ فخر سارن اور ریاستی قانون ساز کونسل میں بلدیاتی حلقہ کے نمائندہ اقلیتوں کے ہر دلعزیز اور مقبول عام رہنما جناب سلیم پرویز قانون سازیہ کے بجٹ اجلاس کے آخری دن اتفاق رائے سے ایوان بالا کے ڈپٹی چیر مین منتخب کر لئے گئے۔ سلیم پرویز حکمراں جنتا دل یو کے امید وار تھے۔ ان کی امید واری کی حمایت کونسل کے 12 ارکان نے کی تھی جب کہ ان کی مخالفت میں کوئی امید وار نہیں تھا۔ سلیم پرویز قانون ساز کونسل کے دوسرے مسلم ڈپٹی چیر مین ہیں۔ اس سے قبل 1983 میں خانقاہ رحمانی مونگیر کے سجادہ نشیں مفکر ملت حضرت مولانا ولی رحمانی اس عہدہ جلیلہ پر فائز ہوئے تھے۔
وزیر اعلیٰ نتیش کمار نے سیلم پرویز کو ڈپٹی چیر مین کا عہدہ سنبھالنے پر مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ یہ انتہائی خوشی اور فخر کی بات ہے کہ قانون ساز کونسل کے صد سالہ جشن کے موقع پر سلیم پرویز اس آئینی عہدہ پر فائز ہوئے ہیں اور ان کی موجودگی میں ایوان بالا کا وقار مزید بلند ہوگا۔ ابھی ہم 100 ویں سال میں داخل ہوئے ہیں۔ یہ جشن پورے سال چلے گا۔ یہ بہار اور اہل بہار کے لئے فخر کی بات ہے اور خوشی کے اس موقع پر سلیم پرویز کوحاصل ہونے والی اس کامیابی پر ہم تہہ دل سے انہیں مبارکباد پیش کرتے ہیںنیز  امید کرتے ہیں کہ انہیں پورے ایوان کا تعاون حاصل ہوگااور ایوان بالا کو بھی اپنی آئینی ذمہ داریوں کی ادائیگی میں سلیم پرویز کی صلاحیتوں سے فائدہ پہنچے گا۔
کونسل کے چیر مین تارا کانت جھا نے بطور ڈپٹی چیر مین ان کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ اب وہ تنہا نہیں ہیں او رکونسل کے کاموں میں تعاون کے لئے سلیم پرویز اور ان کا تجربہ ان کے ساتھ ہے۔ قائد حز ب اختلاف پروفیسر غلام غوث (RJD ) نائب وزیر اعلیٰ سوشیل کمار مودی(BJP )کیدار پانڈے (CPI )باسودیوسنگھ (CPM ) ڈاکٹر جیوتی( کانگریس) نے بھی سلیم پرویز کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے انہیں اپنے تعاون کا یقین دلایا اور امید کی کہ وہ پوری ذمہ داری اور غیر جانبداری کے ساتھ ایوان کو چلانے اور عوامی مسائل کو حل کرنے میں اپنا قیمتی تعاون پیش کریں گے۔ اس موقع پرجذبات سے مغلوب سلیم پرویز نے وزیر اعلیٰ نتیش کمار اور تمام سیاسی پارٹیوں کے ارکان کا اپنے متفقہ انتخاب کے لئے شکریہ ادا کیا اور ایوان کو یقین دلایا کہ وہ ان کی توقعات پر پورا اترنے اور پوری ذمہ داری اور غیر جانبداری کے ساتھ اپنے آئینی فرائض کو انجام دیں گے۔ انہوں نے وزیر اعلیٰ کا بطور خاص شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ وزیر اعلیٰ نے اس اہم عہدے کے لئے ان کا انتخاب کرکے نہ صرف سارن بلکہ پورے بہار کے پسماندہ مسلمانوں کو اعزاز بخشا ہے۔
سلیم پرویز بھلے ہی اپنے انتخاب کے لئے وزیر اعلیٰ کے شکر گذار ہوں اور اسے بہار کے پسماندہ مسلمانوں کو حکمراں جنتا دل یو کی طرف سے ایک تحفہ مان رہے ہوں لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ انتخاب وزیر اعلیٰ کی مجبوری اور ضرورت بن گیا تھا اور سلیم پرویز کو انہوں نے ڈپٹی چیر مین کے آئینی عہدہ پر بٹھا کر سیاسی چال چلی ہے اور ایک تیر سے کئی نشانے لگانے کی کوشش کی ہے۔ نتیش کمار کو ریکارڈ توڑ اکثریت دے کر دوبارہ اقتدار میں لانے والے بہار کے عوام ریاستی کابینہ میں محض 2 وزیروں کی شمولیت سے مایوس تھے تو پسماندہ مسلمان کابینہ میں نمائندگی پانے سے محروم رہنے پر کچھ زیادہ ہی مایوس تھے۔ دوسری طرف حزب اختلاف راشٹریہ جنتا دل نے قانون سازیہ کے دونوں ایوانوں میں لیڈر آف اپوزیشن کا عہدہ مسلمانوں کو سونپ کر حکمراں جنتا دل یو کو مسلمانوں کے معاملے میں ڈنڈی مار ثابت کرتے ہوئے کٹہرے میں لا کھڑا کیا تھا۔ اپوزیشن راشٹریہ جنتا دل نے مجبوری میں ہی سہی، اسمبلی میں اگر عبد الباری صدیقی کو اپوزیشن لیڈر کا عہدہ دلایا تھا تو کونسل میں پسماندہ مسلمانوں کے نمائندہ پروفیسر غلام غوث کو ایک بار پھر اپوزیشن لیڈر کا عہدہ دلا کر وزیر اعلیٰ نتیش کمار کا سیاسی توازن ہی بگاڑ دیا تھا۔ ادھر قانون ساز کونسل میں بھی شریک اقتدار بی جے پی کے نمائندہ پنڈت تارا کانت جھا چیر مین کے طور پر مسلمانوں میں بالخصوص متنازع شخصیت بنتے جا رہے تھے۔ ان کے چیر مین بننے کے بعد آئینی طور پر قانون سازیہ کی زبان کا درجہ رکھتے ہوئے بھی اردو اور اردو ملازمین کی جو حق تلفیاں ہو رہی تھیں اس سے نہ صرف ایوان کا وقار مجروح ہو رہا تھا بلکہ نتیش حکومت کی سیکولر شبیہ پر بھی ضرب پڑنے لگا تھا۔ تارا کانت جھا کے دور صدارت میں اردو کو قانون ساز کونسل سے باہر کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی گئی۔ اردو رپورٹر کے عہدے ختم کر دئے گئے او راردو رپورٹروں کو سابقہ پوزیشن پر لوٹنے یا باہر کا راستہ اختیار کرنے پر مجبور کر دیا گیا۔ اس معاملے میں حق و انصاف کی لڑائی لڑ رہے اردو رپورٹر سید جاوید حسن کو ریاست کے ایڈووکیٹ جنرل کی طرف سے قانونی حمایت حاصل ہونے اور صدر جمہوریہ کی مداخلت کے باوجود اب تک انصاف نہیں مل سکا ہے۔ قانون ساز کونسل کی صد سالہ تقریب میں جس کا افتتاح خود صدر جمہوریہ نے کیا، کونسل کی طرف سے شائع کی گئی 7 کتابوں کا اجرا عمل میں آیا۔ اس میں اردو کی ایک کتاب بھی شامل نہیں کی گئی، جب کہ اردو نہ صرف بہار کی دوسری سرکاری زبان ہے بلکہ ایوان کی زبان کا درجہ بھی اسے حاصل ہے۔ ایسے میں وزیر اعلیٰ نتیش کمار کے لئے یہ ضروری ہو گیا تھا کہ وہ چیر مین تارا کانت جھا کوبلا شرکت غیرے سیاہ و سفید کا مالک نہ رہنے دیں اور انہیں لگام دینے کے لئے حکومت کے سیکولر دھارے جے ڈی یوسے تعلق رکھنے والے کسی مسلم لیڈر کو ڈپٹی چیر مین بنا دیا جائے۔ ایسے میں سلیم پرویز کا اس عہدہ کے لئے انتخاب فطری تھا،کیوں کہ سلیم پرویز نہ صرف مسلمانوں میں بلکہ دوسرے فرقہ میں بھی مقبول اور با اثر شخصیت کے حامل ہیں۔ انہوں نے نتیش کو زبردست اکثریت کے ساتھ دوبارہ اقتدار میں لانے میں بھی اہم کردار ادا کیا تھا۔2010 ء کے اسمبلی انتخاب کے دوران سلیم پرویز نے جن50 اسمبلی حلقوں کا دورہ کیا اور وہاں جنتا دل یو کے حق میں انتخابی مہم چلائی ان تمام حلقوں میں حکمراں اتحاد کو شاندار کامیابی ملی۔
یہی وجہ ہے کہ اقتدار میں واپسی کے بعد اور کابینہ کی تشکیل کے بعد بھی لگاتار سلیم پرویز کو کابینہ میں شامل کئے جانے کا مطالبہ ہو رہا تھا۔خصوصاً پسماندہ مسلمان یہ دیکھتے ہوئے کہ دونوں ریاستی وزارء شاہد علی خان اور پروین امان اللہ مسلمانوں کی اعلیٰ ذات سے تعلق رکھتے ہیں، سلیم پرویز کو کابینہ میں نمائندگی دینے کا مطالبہ کر رہے تھے۔ خود وزیر اعلیٰ بھی ان کی صلاحیت اور پارٹی کے تئیں ان کی وفاداری اور بے لوث خدمت کے معترف تھے اور کسی نہ کسی شکل میں ان کی خدمات کا صلہ انہیں دینے کے فراق میں تھے۔ ان تمام وجوہات کی بنا پر انہیں یہ آئینی عہدہ حاصل ہوا ہے۔ اس لئے اب ڈپٹی چیر مین کی حیثیت سے سلیم پرویز پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ جن مقاصد کے تحت کونسل میں اس عہدے پر فائز کئے گئے ہیں انہیں پورا کریں۔ تبھی وہ وزیر اعلیٰ کی توقعات پر بھی پورا اتر سکیں گے او رمسلمانوں کو بالعموم جو امیدیں وابستہ ہیں انہیں بھی پورا کر سکیں گے۔ویسے سلیم پرویز نے ڈپٹی چیر مین کا عہدہ سنبھالنے کے بعد چوتھی دنیا سے بات چیت میں اپنا یہ عزم ظاہر کیا ہے کہ وہ اس عہدے اور ایوان کی شان اور آن بان پر کوئی حرف نہیں آنے دیں گے اور ان کے وقار میں مزید اضافہ کرنے کی کوشش کریں گے۔ انہوں نے اردو رپورٹر س کے معاملے کو بھی دیکھنے اور آئینی تقاضوں کے مطابق اس مسئلہ کو حل کرنے میں بھی اپنے اثر و رسوخ کا استعمال کرنے کا یقین دلایا ہے۔ ساتھ ہی وہ اس بات کے لئے بھی پر عزم ہیں کہ قانون ساز کونسل سے مسلمانوں اور اردو کو انصاف دلانے کی جو سابقہ روایت رہی ہے اسے وہ آگے بڑھائیں گے اور اس بات کی قوی کوشش کریں گے کہ ایوان بالا میں اقلیتی امور پر بطور خاص نتیجہ خیز بحث ہو اور حکومت کی طرف سے جو وعدہ کیا جائے اس پر عمل درآمد بھی ہو اور سماج کے دیگر طبقات کے ساتھ ساتھ مسلمانوں کو بھی انصاف ملے اور ترقی کا فائدہ حاصل ہو۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *