سلام کرنا ہوگا عو ام کے جذبہ کو

Share Article

بمل رائے
جیت کے لئے جاری ایک طویل خوں ریز لڑائی سے نبر آزما لال گڑھ کا ایک نیا چہرہ سامنے آرہا ہے۔ مہینوں سے چل رہی سیکورٹی فورسز کی مہم نے ماؤنوازوں کی کمر تو توڑ ہی دی ہے، اب عام لوگوں کے سڑک پر اترنے سے سیکورٹی فورسزکا حوصلہ مزید بلند ہوگیا ہے۔ ایک سال سے بھی زیادہعرصہ  تک تشدد، بند اور احتجاج ومظاہرے جھیلنے  کے بعد لوگوں کو سمجھ میں آرہا ہے کہ ماؤنواز انہیں کن تاریک گلیوں میں جانے پر مجبور کر رہے تھے۔ ماؤنوازوں نے چھتر دھر مہتو کی قیادت میں بنی پولس مظالم کے خلاف عوامی کمیٹی (پی سی پی اے) کو ڈھال کے طور پر استعمال کیا،لیکن چھتر دھر کی گرفتاری دوسرے درجے کی قیادت کے نہ ابھر پانے اور سیکورٹی فورسز کے دباؤ سے پی سی پی اے کی زمین تنگ ہوگئی ہے۔اقتصادی نظام درہم برہم ہوگیا ہے، بچے اسکول نہیں جاپارہے ہیں اور سب سے بڑی بات یہ کہ روزانہ مزدوری اور چھوٹا موٹا کاروبار کرکے اپنا گزارہ کرنے والے آدیواسیوں کو دو وقت کی روٹی کے بھی لالے پڑنے لگے ہیں۔
ایک وقت تھا، جب آدیواسیوں پر ہو رہے مظالم کو روکنے کی بات کہہ کر ماؤنوازوں نے لال گڑھ اور آس پاس کے علاقوں میں پولس اور انتظامیہ کو لاچار کردیا تھا، لیکن گزشتہ 13جولائی کو نزدیک کے رادھا نگر کی خواتین کی قیادت میں لوگوں نے ایک پیغا دیا کہ اب بہت ہوچکا، تشدد ہم برداشت نہیں کریںگے۔ لاٹھی، ڈنڈے اور دیگر ہتھیار لے کر قریب8ہزار خواتین اور مرد سڑکوں پر اتر آئے اور ماؤنوازوں کے ساتھ ساتھ پی سی پی اے کے گرگوں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کرنے لگے۔وہ پولس اور انتظامیہ کی مدد مانگ رہے تھے۔ ان خواتین نے’ گاؤں بچاؤ کمیٹی ‘بھی بنالی ہے۔ ان کا مطالبہ ہے کہ جگہ جگہ راستوں کو کاٹنا، درختوں کو گراکر راستہ بند کرنا اور بند بلانے جیسی سرگرمیوں کو روک کر معمولات زندگی کو معمول پر لایا جائے۔ خواتین نے الزام لگایا کہ جن سادھارن کمیٹی کے لوگ ان پر زیادتی کر رہے ہیں۔ لوگوں کو اجتماعی مہم کی مخالفت میں منعقدہ جلوس میں بالجبرشامل ہونے کے لئے کہتے ہیں۔
گزشتہ دو سالوں میں ایسا پہلی بار دیکھاجارہا ہے کہ ماؤنوازمخالف تحریک میںلوگ سڑکوں پر اتر رہے ہیں اور اس میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہے ہیں۔ لوگوں نے بتایا کہ ماؤنواز سیکورٹی فورسز کی پوشاک پہن کر آتے ہیں اور خواتین پر ظلم کرتے ہیں۔یہاں تک کہ لوٹ مار بھی کرتے ہیں۔ گزشتہ 19جولائی سے جن سادھارن کمیٹی کے کیڈروں نے جھاڑگرام میں غیر معینہ بند کا اعلان کررکھا ہے اور وہ لوگوں کو اس میں جبراً شامل کرنا چاہتے ہیں۔ خواتین نے الزام عائد کیا کہ فوجیوں کے بھیس میں ماؤنواز کیڈر تلاشی کے بہانے خواتین کی عصمت دری بھی کررہے ہیں۔ جلوس میں ’خواتین کی عزت بچاؤ کمیٹی‘ اور طلبہ کے بینر بھی دیکھے گئے۔ مذکورہ تنظیم کی تشکیل حال ہی میںہوئی ہے۔ معاملے نے اس وقت طول پکڑا ، جب جن سادھارن کمیٹی کے کچھ لوگ رادھا نگر میں آکر لوگوں سے اپنی ریلی میں شرکت کرنے کے لئے کہنے لگے۔ انکار کرنے پر وہ مارپیٹ پر اتر آئے۔ ایک حاملہ خاتون کی پٹائی ہوتے دیکھ کر لوگ خود کو روک نہ پائے اور انہوں نے اپنے دیسی ہتھیاروں سے انہیں مار بھگایا ۔ مشتعل عوام کے آگے ان کی ایک نہ چلی۔ عوام میں اس طرح کی ہمت پیدا ہونے کے پیچھے کئی وجوہات ہیں۔رادھانگر کی واردات کے ایک دن بعد ہی 24جولائی کو مغربی مدناپور کے نچھا ندا گائوں میںلوگوں نے جلوس میں جبراً حصہ لینے کے لئے دھمکا رہے پی سی پی اے کے ایک کیڈر سشیل مہتو کورات بھر یرغمال بنا کر رکھا۔ اس کے 14ساتھی عوام کا غم و غصہ دیکھ کر فرار ہوگئے۔صبح جب پولس آئی تو لوگوں نے قیدیوں کو ان کے حوالہ کرنے کے عوض گائوں میں ایک پولس کیمپ لگانے کا مطالبہ کیا۔ تاہم پولس نے جب پختہ یقینی دہانی نہیں کرائی تو عوام نے قیدیوں کو آزاد کردیا۔ مطلب یہ کہ ابھی بھی عوام میں مائونوازوں کا ڈر برقرارہے اور ان کا غصہ ایک انقلابی دور سے گزر رہا ہے۔
پی سی پی اے اور مائونوازلوگوںکے اس بدلے ہوئے رخ سے متفکر ہیں۔بتایا جاتا ہے کہ لودھا سولی اور جھاڑ گرام کے باہری علاقوں میں مائونوازوں کی دو میٹنگوں میں عوام کے اس بدلے رخ پربات چیت ہوئی ۔جھاڑ گرام کے پاس تباہ کن کارروائی میں150سے زائد لوگوں کے مارے جانے کے بعد مائونوازوں کے تئیں عوام کا غصہ عروج پر پہنچ گیا ہے۔لوگوں نے یہ بھی دیکھا کہ جھاڑگرام کے اندر بنے پرائمری اسکول میں گزشتہ 16جولائی کو پرنسپل روندر ناتھ مہتو کا مائونوازوں نے بے رحمی سے طلبا کے سامنے ہی گولی مار کر قتل کر دیا۔علاوہ ازیں دھرم پور کے گوہمی بھانگا اسکول کے 11طلبا کو اس لئے پیٹا گیا کیونکہ وہ پی سی پی اے کے جلوس میں شامل نہیں ہوئے۔اس سے پہلے بھی گزشتہ سال 11ستمبر کو لال گڑھ ڈویژن کے بڑجامدہ پرائمری اسکول میں بچوں کے سامنے ہی مائونوازوں نے کارتک مہتو نام کے ایک اساتذہ کا قتل کر دیا تھا۔ان کا جرم صرف اتنا تھا کہ وہ ایم سی پی کے ممبر تھے۔اس سے پہلے 2002میں سالبنی کے ایک اسکول میں’’جن یودھ گوشٹھی‘‘ کے کیڈروں نے (تب پی سی پی اے کی تشکیل نہیں ہوئی تھی) انل مہتو نامی ایک اساتذہ کا گولی مار کر قتل کر دیا تھا ۔ ظاہر ہے ایسے ماحول میں ترقی کے کام ٹھپ ہوںگے ہی ۔لال گڑھ کے ایک چھوٹے تاجر گوتم منیش کا کہنا ہے کہ ان کی کھاد کی ایک چھوٹی سی دکان ہے، مگر کوئی خریدار نہیں ہے۔ لوگ بھاگے بھاگے پھر رہے ہیں تو کھیتوں کو کون جوتے بوئے؟ تمام کھیت خالی پڑے ہیں۔معلوم ہو کہ بنگال کے نکسل متاثرہ علاقوں میں سال میں ایک فصل ہی ہوتی ہے، کیونکہ وہاں آب پاشی کی سہولت نہیں ہے۔انہیں مانسون کے سہارے گھر میں آنے والے اناج کے دانے کی فکر ہے، سال بھر تڑپانے والی بھوک کی فکر ہے۔جتمن گھرائی اور ان کی بیوی کلپنا بیمون جھاڑو بنا کر اپنی گزر بسر کرتے ہیں۔ وہ اور کوئی کام کرنا چاہتے ہیں، مگر علاقہ میں کام ہی نہیں ہے۔ گائوں میں بجلی نہیں ہے، بازار میں کیروسن نہیں ملتا ہے۔ پبلک ڈسٹری بیوشن سسٹم درہم برہم پڑا ہے۔ آج تک انہیں بی پی ایل کارڈ نہیں مل سکا ہے۔ ہرا کلی کے رہنے والے لکشمی مال نے تو بی پی ایل کارڈ کے بارے میں سنا تک نہیں ہے۔ جنگلوں میں گولی باری کے سبب تیندو کے پتے کا کاروبار بھی ٹھپ ہے۔
لال گڑھ میں متحدہ فورسز کو اپنی مہم میں جو کامیابی حاصل ہوئی ہے، اس میں مقامی لوگوں کا کافی تعاون ہے۔کچھ مائونوازوں کے مارے جانے اور کچھ کے گرفتار ہونے سے لوگوں میں حوصلہ پیدا ہوا ہے، پولس کا خفیہ نظام بھی مضبوط ہوا ہے۔حال میں ہی سالبنی کے جنگل میں جھارکھنڈ کے ممبر پارلیمنٹ سنیل مہتو کے قتل میں شامل ملزم اور مائونواز لیڈر کشن جی کے قریبی راجیش منڈا پکڑے گئے۔گزشتہ 16جون کو سالبنی کے پاس جنگل میں حفاظتی دستوں نے مائونوازوں کے کیمپ پر حملہ بول کر چار مائونوازوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا۔اس کے علاوہ ابھیا اور مدھو پور میں بھی چار مائونواز مارے گئے ، جو کسی بڑے حملہ کا منصوبہ بنا رہے تھے۔پتہ چلا ہے کہ ابھی بھی متاثرہ علاقوں میں مائونوازوں کے چار دستے سرگرم ہیں۔تعلیمی نظام کی حالت نہایت خستہ ہے۔لال گڑھ کے اسکولوں سے حفاظتی دستوں کو باہر نکالنے کے لئے مغربی مدناپور کے چار ڈویژنوں کے اسکول منتظمین کو کولکاتہ ہائی کورٹ میںمفاد عامہ کی اپیل دائر کرنی پڑی۔بالآخر 24نومبر کو ہائی کورٹ کا فیصلہ آیا کہ حفاظتی دستے 30دسمبر تک اسکول خالی کر دیں۔عدالت کے حکم کے بعد کچھ اسکول خالی کرائے گئے، مگر ابھی بھی کچھ اسکول حفاظتی دستوں کے کیمپوں کے طور پر کام کر رہے ہیں۔ جو اسکول کھلے ہیں، ان میں بچوں کی تعداد معمولی ہے۔حفاظتی دستوں کی بھی مجبوری ہے، کیونکہ بارش کے موسم میں عارضی کیمپوں سے کام نہیں چلتا اور غیر محفوظ مقامات پر کیمپ لگانا خطرے سے خالی نہیں ہے۔سلدا کیمپ پر ہوئے حملہ کو کیسے بھلایا جا سکتا ہے؟ لال گڑھ میں40سے بھی زیادہ کمپنیاں آپریشن میں لگی ہوئی ہیں۔
ایک جانب حفاظتی دستوں کی کامیابی سے مائونوازوں کے پائوں اکھڑ رہے ہیں ، تو دوسری جانب ایم سی پی کی ’’ہرماد واہنی ‘‘ ترنمول کی فوج سے برسرپیکار ہے۔ انہیں اگر ڈر ہے تو ممتا دیدی سے، جو مائونوازوں کے خلاف جاری مشترکہ کارروائی کو ہر حال میں رکوانے میں لگی ہوئی ہیں اور اپنا پیغام لال گڑھ آکر بھی دینے والی ہیں۔خیر خدشات اور سیاسی کھیل کے اس دور میں عوام کے جذبے کو سلام کرنا ہوگا!

Share Article

One thought on “سلام کرنا ہوگا عو ام کے جذبہ کو

  • September 10, 2010 at 4:14 pm
    Permalink

    بمل رے صاھب.

    آپ نے بہت اچّھی آواز اٹھایی ہے .
    آپ نے دل کو چهو لینے والی باتیں کہی ہیں .
    مبارکباد کے مستحق ہیں.

    جاوید اختر، راشد
    اکھلا، نی دلھی-١١٠٠٢٥.
    9313007131

    Reply

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *