سیفئی مہا اتسو کا افتتاح کرنے نہیں گئے وزیر اعلیٰ اکھلیش

Share Article

پربھات رنجن
p-9وزیر اعلیٰ اکھلیش یادو کی غیر موجودگی میں سیفئی مہا اتسو کا افتتا ح بھی ہوا ور اختتام پذیر بھی ہوگیا۔ وزیر اعلیٰ نے اس بار سیفئی مہا اتسو سے خود کو الگ رکھا۔اس کی سیاسی وجہ بھی ہوسکتی ہے اور خاندانی بھی۔ اکھلیش نہیںگئے، تو ان کی بیوی ڈمپل یادو بھی نہیں گئیں اور اکھلیش کے بچے بھی مہا اتسو میںشریک نہیںہوپائے۔
سماجوادی پارٹی کے قومی صدر ملائم سنگھ یادو نے خود کو پرانے ’موڈ‘ میںلاتے ہوئے سیفئی مہااتسو کا افتتاح بھی کیا اور مہا اتسو کے سارے جدید اور روایتی کلچرل پروگراموں میںموجود رہے۔ ملائم کی لگاتار موجودگی سے باہمی تعلق بھی مضبوط ہوئے اور سیاست بھی پختہ ہوئی۔ ملائم کے دونوں بھائی شیو پال یادو اور رام گوپال یادو ، نیتا جی کے ساتھ بنے رہے۔ ملائم کے بھتیجے دھرمیندر یادو اور پوتے تیج پرتاپ یادو ساتھ میں بنے رہے۔ملائم کے دوسرے بیٹے پرتیک یادو اور دوسری بہو اپرنا یادو مہا اتسو میں سرگرمی کے ساتھ شریک رہے، لیکن اس بار امر سنگھ نہیں تھے۔ اس بار جیہ پردا نہیں تھیں۔ اس بار اعظم خان نہیںتھے۔ اس بار جیہ بھادڑی تھیں اور اکھلیش کابینہ کے کچھ ایسے ممبر تھے، جو اکھلیش کے ساتھ ساتھ ملائم کے بھی خاص ہیں، مثلاً رام گووند چودھری،اروند سنگھ گوپ اور ارونا کوری وغیرہ۔ ملائم او رشیوپال کے خاص نارد رائے بھی مہا اتسو میںموجود تھے، جنھیں ابھی حال ہی میںاکھلیش نے اپنی کابینہ سے باہر کا راستہ دکھا دیا۔ہر بار وزیر اعلیٰ کے ساتھ سیفئی مہااتسو میںموجود رہنے والے کابینہ وزیر راجندر چودھری نے بھی خود کو سیفئی مہا اتسو سے دور رکھا۔ سیفئی مہا اتسو کو لے کر ہر بار ڈھیر سارے بیان جاری کرنے والے راجندر چودھری نے اس بار پوری طرح پرہیز کرلیا۔ یعنی ، اس بارکے سیفئی مہا اتسو کو دیکھ کر ریاست کے لوگوں نے سماجوادی پارٹی کی اندرونی حالت کو سمجھا اور کئی طرح کی کروٹوں کا احساس کیا۔
سیفئی مہا اتسو کا افتتاح کرتے ہوئے ملائم نے جو کہا، اس سے بھی ان کے خم ٹھوکنے کے انداز کا اندازہ لگ جاتا ہے۔ ملائم بولے کہ اترپردیش کے کسی بھی بیمار کو دوا اور علاج کی محرومی سے مرنے نہیںدیا جائے گا۔ایس پی نے جو وعدہ کیا اسے نبھایا۔ہم وزیر اعظم نریندرمودی کی طرح نہیںہیں،جو کہتے ہیں کہ وعدے الیکشن میںکےے جاتے ہیں، ان کو پورا نہیںکیا جاتا۔ ریاستی سرکار کسی غریب کوبیماری کی وجہ سے مرنے نہیں دے گی۔سنگین بیماری کا علاج بھی ریاستی سرکارکرائے گی۔ملائم بولے کہ ٹیلنٹس خوشحال گھروںمیںہی نہیں،بلکہ گاو¿وں میںمعمولی گھروں میںبھی قیام کرتے ہیں۔ملک کے کئی وزیر اعظم ایسے ہوئے،جو گاو¿ں سے آئے تھے اور دھوتی کرتا پہنتے تھے۔ گاو¿وں سے کئی کھیل اور فلمی ہستیاں بھی نکلیں، جنھوں نے عالمی سطح پر اپنی پہچان بنائی۔ملائم نے ایس پی سرکار کے ذریعہ کےے گئے ترقیاتی کاموں کی بھی تعریف کی اور کہا کہ ایس پی نے منشور کے وعدے ڈھائی سال میںپورے کےے ہیں، ملک میںکسی بھی سرکار نے وعدے پورے نہیں کےے۔ اترپردیش نمبر ایک پر ہے۔چینی،چاول،گیہوں کی پیداوار سب سے زیادہ اترپردیش میں ہے۔جہاںسرکار بنتے ہی کسانوں کا قرض معاف کیا گیا۔کسی بھی ملک میں اترپردیش کے علاوہ دوائی ، پڑھائی او رسینچائی مفت نہیں ہے۔ ایس پی مکھیا نے کہا کہ اب کسانوں کی زمین نیلام نہیں ہوگی۔ اقتدار میںبیٹھے لوگوں کی نیت اور پالیسی صاف ہونی چاہےے، تبھی وہ ملک اور ریاست ترقی کرسکتی ہے۔ایس پی کے قومی جنرل سکریٹری رام گوپال یادو نے ملائم کے اعلان کاباقاعدہ ڈھول بجاکر استقبال کیا۔ رام گوپال کے ڈھول کوسیاسی منادی کے طورپر دیکھا جارہا ہے۔رام گوپال نے وزیر اعظم نریندر مودی کے پاکستانی دورہ کا خیر مقدم کیا اور کہا کہ وزیر اعظم کا پاکستان جانا قابل ستائش پہل ہے، اس سے دونوں ملکوں کے تعلقات میںبہتری آئے گی۔ شخص کوئی بھی ہو، ملک کی بہتری کے لےے ضروری ہے کہ وہ پڑوسیوں سے اچھے تعلق رکھے۔ہمارے وزیر اعظم نے پڑوسی پاکستان کے ساتھ تعلقات سدھارنے کی پہل کی ہے، اس کا خیر مقدم کیا جاناچاہےے۔ہندوستان اور پاکستان کے بیچ اچھے تعلق ہوناوقت کی مانگ ہے۔ ایس پی کے سینئر لیڈر شیو پال یادونے سیفئی مہا اتسو کو تاریخی بتایا اور کہا کہ یہ اسٹیج اترپردیش اور ملک کواتحاد،برابری اور مساوات کا پیغام دیتا ہے۔ سبھی ذاتوں ، سبھی طبقوں اور سبھی مذاہب کے بچے اور نوجوان مہا اتسو کے مختلف مقابلوں میںحصہ لیتے ہیں۔اتحاد کے بغیر ریاست کی ترقی نہیںہوسکتی۔شیوپال نے سیفئی مہا اتسوکو نیتا جی کے تصورات سے جوڑا اور کہا کہ مہا اتسو کے تئیںلوگوں کی کشش اور لگن کے پیچھے نیتا جی کی وہ کوشش ہے، جو وہ دیہی علاقوںمیںپوشیدہ ٹیلینٹس اور فنکاروںکو آگے بڑھانے کے لےے کرتے رہتے ہیں۔ فلم اداکارہ اور ایس پی رکن پارلیمنٹ جیا بھادڑی بچن نے کہا کہ سیفئی مہا اتسو اترپردیش کو ملک میںہی نہیں،بلکہ غیر ملکوں میںعزت دلائے گا۔ جیہ نے کہا کہ سماجوادی پارٹی کے مکھیا ملائم سنگھ یادو کی پالیسیاں خواتین اور دلتوںکو ترقی کے راستے پر لے جانے والی ثابت ہورہی ہیں۔ پنچایت الیکشن مین ایس پی نے 40 فیصد خواتین کو ٹکٹ دےے۔ سیاست میںعورتوں اور فنکاروں کی سب سے زیادہ عزت سماجوادی پارٹی میںہے۔ سیفئی مہا اتسو کمیٹی کے صدر اور رکن پارلیمنٹ دھرمیندر یادو نے کہا کہ سیفئی مہا اتسو کے ذریعہ وہ دیہی علاقو ں میں چھپی صلاحیتوں اورفنکاروںکو آگے بڑھانے کا کام کرتے رہیںگے اور نیتا جی کی برابری اور مساوات کی پالیسی کو آگے بڑھانے میں کھرے اتریںگے۔
سیفئی مہا اتسو کی افتتاحی تقریب میںمشہور گلوکارہ مالنی اوستھی اور ملائم کی بہو اپرنایادو نے بھی گانا پیش کیا۔ اٹاوہ او رمین پوری کے دو ہزار اسکولی بچوں کے گیت سنگیت ، برج کی ہولی،مل کھمب پر مہاراشٹر کے بچوں کی حیرت انگیز پیشکش، مشہور غزل گلوکارہ پیناج مسانی کی غزلیں، وندناشری کے برج لوک گیت، ناگپور کے فنکاروںکا ڈھول ناچ، راجستھان کے میوا سپیرا کا کالبیلیا ناچ،گلوکارہ پرتیما یادو کے سریلے گانے، مس ویولیاکے لیزر ایکٹ، جنوبی افریقہ کے ڈیوڈ کے روبوٹ ڈانس، جے پور کے رنجیت رانا کے دیہاتی بھوائی ناچ، انڈیاز گاٹ ٹیلنٹ، ڈانس انڈیا ڈانس، بوگی بوگی فیم کے ممبئی کے ویرون ڈانس گروپ کی پیشکش، نیدر لینڈ کا ہُلا ہُپ ڈانس، رحمان خان کی کمیڈی،پنڈت سکھ دیکھ مشر کی وائلن، اتل شنکر کے گانے، لکھنو¿ کی کلچرل پیشکش،سربھی سنگھ کے کتھک ڈانس سمیت تمام کلچرل پروگراموں نے لوگوں کو سیاست سے دورانٹرٹینمنٹ کی دنیا میںپہنچایا اور ثقافتی طور پر سماج کوایک دھاگے میں باندھنے کا کام کیا۔
کھیل اور پھاگ ساتھ ساتھ
سیفئی مہا اتسو میںکلچرل پروگراموں کے علاوہ کھیلوں کی بھی دھوم رہی۔ایک طرف کھیل مقابلے چلتے رہے،تو دوسری طرف پھاگ گایا جاتا رہا۔دیہاتی کلچر سے منسلک کرنے والے پھاگ گانے میںملائم سنگھ یادو لگاتار موجود رہے اور پھاگ گانے والوںکا سمان کیا۔کھیلوںمیںکرکٹ،والی بال جیسے ماڈرن کھیلوں کے ساتھ ساتھ کشتی، کبڈی جیسے روایتی کھیلوںکا بھی انعقاد ہوا۔اس موقع پر ’اکھل بھارتیہ آمنترن پرائز منی والی بال(مرد)‘ مقابلے میںملک کی آٹھ والی بال ٹیموںنے حصہ لیا۔ انڈین گرامین کرکٹ لیگ کا پہلا میچ لکھنو¿ کے بھوانی ٹائیگرس نے جیتا۔اس کی شروعات فلمی گلوکاروں کی رنگا رنگ پیشکش سے ہوئی۔ کرکٹ مقابلہ کو مس کولکاتا ساگریکا چھیترینے چلایا۔
تیکھے ردعمل والامہا اتسو
سیفئی مہا اتسو میںریاست کے وزیر اعلیٰ اکھلیش یادو شریک نہیںہوئے، تو ساری سیاسی پارٹیوں میںکھلبلی مچ گئی۔ ردعمل جاری کرنے کا تو جیسے جشن رچ گیا۔ سیاسی پارٹیوں کے علاوہ فنکاروں نے بھی وزیر اعلیٰ کی غیر حاضری پر سوال اٹھا دےے۔
بی جے پی کے ریاستی صدر ڈاکٹر لکشمی کانت باجپئی نے کہا، کچھ نہ کچھ دال میںکالا تو ضرور ہے۔وقت آنے پر یہ صاف بھی ہوجائے گا۔لیکن یہ بات ٹھیک بھی ہے،وزیر اعلیٰ کو تکلیف ہے کہ سیفئی میںمیلہ ہورہا ہے اور ریاست کے حالات سازگار نہیں ہیں۔ میلہ ملتوی بھی کیا جاسکتا تھا۔ لاءاینڈ آرڈر خراب ہے،کسان مرا جارہا ہے او ر اُدھر سیفئی میںباربالاو¿ں کے ڈانس کے ٹھمکے لگیں، شاید یہ وزیر اعلیٰ کو بھی مناسب نہیںلگاہوگا۔اکھلیش کی ناراضگی کا سبب اقتدارکا بٹوارہ بھی ہے۔ساڑے تین سال بیت گئے،لیکن وزیر اعلیٰ کچھ بھی شہرت حاصل نہیںکرسکے۔وہ گھر والوں کی مداخلت کے سبب کچھ نہیں کرسکے۔اب ڈیڑھ سال بچا ہے۔ مرتا کیا نہ کرتا، اس لےے وزیراعلیٰ نے بغاوت کی ہے۔
بی ایس پی لیڈر سوامی پرساد موریہ نے کہا، سماجوادی پارٹی اندرونی رسہ کشی کا شکار ہوچکی ہے۔آپسی لڑائی میںاس کا بنٹا دھار ہونے جارہا ہے اور جیسا کہ میںنے بہت پہلے ہی کہا تھا کہ سماجوادی پارٹی سرکار میںایک نہیں چار چار وزیر اعلیٰ ہیں،جو آج سیدھے واضح طور پر ہوتا نظر آرہا ہے۔
کانگریس کے ترجمان اکھلیش پرتاپ سنگھ نے کہا، جو خبریںآرہی ہیں اور جو ایکشن دکھائی دے رہے ہیں،اس سے یہ لگتاہے کہ سماجوادی پارٹی میںسب کچھ ٹھیک نہیں چل رہا ہے۔پارٹی میںبالا دستی کی لڑائی چل رہی ہے۔جب اگلا الیکشن آئے گا، تو ان کی پارٹی بھلے ہی مینج کرلے، لیکن عوام اس کو بخشنے والے نہیںہیں ۔ اس کی اندرونی فائٹنگ یہ کنٹرول کرسکتے ہیں،لیکن عوام نے اسے جو سبق سکھانے کا ارادہ کرلیا ہے، اس کو یہ کنٹرول نہیںکرپائیں گے۔ اس سرکار نے اترپردیش کو بہت برے حالات میںپہنچا دیا ہے۔
فنکارہ سربھی ٹنڈن نے کہا، میں اس مہا اتسو میںشروع سے آرہی ہوں۔ اس بار وزیر اعلیٰ کی کمی کھل رہی ہے۔ وزیر اعلیٰ ہمارے پہلے کئی پروگراموں میں رہے ہیں، لیکن اب ہم ان کے گھر میںپروگرام کرنے آئے ہیں ، تو ان کی کمی کھل رہی ہے، یہ تو ان کا خاندان ہے، لیکن گھر میں چار برتن ہوں گے،تو کھٹکا کھٹکی تو ہوگی ہی۔
ان مقابلوں او راٹکلوں کو سرے سے خارج کرتے ہوئے ایس پی کے قومی جنرل سکریٹری پروفیسر رام گوپال یادو نے کہا کہ ایسی کوئی بات نہیںہے۔ اکھلیش کام میںمصروف تھے، اسی لےے وہ نہیںآئے، باقی لوگ آئے۔ مہا اتسو آیوجن کمیٹی کے صدر رکن پارلیمنٹ دھرمیندر یادو نے کہا، اکھلیش یادو ریاست کے وزیر اعلیٰ ہیں،ان پر ذمہ داریاں ہیں، جب وقت ملے گاتو آجائیںگے۔ حالانکہ دھرمیندر اور تیج پرتاپ یادو ،اکھلیش کو منا کر انھیںسیفئی لے جانے کے لےے لکھنو¿ بھی آئے تھے،لیکن اکھلیش سیفئی نہیںگئے۔ عجیب لیکن سچ یہ ہے کہ اکھلیش کے قریبی وزیر اور ایس پی کے ترجمان راجندر چودھری اس تنازع پر صفائی دینے کے لےے میڈیا کے سامنے نہیںاترے اور خاموشی اختیار کےے رکھی۔ ان کی خاموشی نے کئی سوال اچھالے اور کئی جواب بھی دےے۔
لکھنو میں اکھلیش بھی دکھا رہے تھے ہری جھنڈی
سیفئی مہا اتسو میںکھیل مقابلے ہورہے تھے،تو دوسری طرف وزیر اعلیٰ اکھلیش یادو لکھنو¿ میںلکھنو¿ سے دہلی کے سائیکل سفر کو ہری جھنڈی دکھا رہے تھے۔اکھلیش نے بحریہ کے سابق فوجی ہری شنکر یادو کی لکھنو¿ سے دہلی کی سائیکل یاتراکے لےے ہری جھنڈی دکھائی۔ہری شنکر پانچ دن میںدہلی پہنچیں گے اور نوجوانوںکو اولمپک کھیلوں میںحصہ لینے کے لےے راغب کریںگے۔ اس سے پہلے بھی ہری شنکر قریب چارہزار کلومیٹر کا سفر سائیکل سے کرچکے ہیں۔ اترپردیش سرکار کے ذریعہ کھیلوںکو فروغ دینے کے لےے کی جارہی کوششوں کا ذکر کرتے ہوئے اکھلیش یادو نے کہا کہ کھلاڑیوں کاسمان کرنے میںسماجوادی سرکارہمیشہ آگے رہی ہے۔یش بھارتی پرسکارسے کھلاڑیوںکو ہی سب سے زیادہ نوازا کیا گیاہے۔قومی اور بین الاقوامی مقابلوں کے ساتھ ساتھ اولمپک کھیلوںمیںمیڈ ل جیتنے والے کھلاڑیوںکوایس پی سرکار کی طرف سے انسینٹو فنڈ دیا گیا۔اولمپک کھیلوں میںسنگل کلا س میںگولڈمیڈل جیتنے پر چھ کروڑ روپے، سلور میڈل جیتنے پر چار کروڑ روپے اور کانسہ کا میڈل جیتنے پر دو کروڑ روپے دینے کا پروویژن کیاگیا۔اس کے ساتھ ہی ٹیم کھیلوںمیںگولڈ میڈل حاصل کرنے پر تین کروڑ روپے، سلور میڈل جیتنے پر دو کروڑ اور کانسہ کامیڈل جیتنے پرایک کروڑ روپے کا ایوارڈ دیا جاتا ہے۔ حصہ لینے والے کھلاڑیوں کی حوصلہ افزائی کے طور پر دس لاکھ روپے کابندوبست کیا گیا ہے۔اسی طرح ایشین او رکامن ویلتھ گیمز میںگولڈن،سلوراور کانسہ کے میڈل جیتنے پر بالترتیب 50 لاکھ روپے، 30 لاکھ روپے اور 15 لاکھ روپے دینے کاانتظام کیاگیاہے۔ارجن،دروناچاریہ اور کھیل رتن ایوارڈ سے نوازے جانے والے کھلاڑیوںاور کھیل کی دنیا میں حصولیابیوں کے لےے پدم شری اور پدم بھوشن سے نوازے گئے کھلاڑیوںکو پنشن دینے کا بندوبست کیاگیاہے۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ کھیلوںکوفروغ دینے کے لےے ہاسٹل چلائے جارہے ہیں، جن میںکھلاڑیوں کو تربیت، کھانا، تعلیم،علاج، رہائش،کٹ وغیرہ کی سہولیات مفت دی جارہی ہیں۔ ریاستی سرکار کے ذریعہ ریاستی سطح پر کھلاڑیوں کو دی جارہی اقتصادی مدد دو ہزار روپے سے بڑھاکر چار ہزار روپے فی ماہ کردی گئی ہے۔ قومی سطح کے کھلاڑیوں کی اقتصادی مدد کی شرح تین ہزار سے بڑھاکر چھ ہزار روپے اور بین الاقوامی سطح کے کھلاڑیوںکی اقتصادی مدد پانچ ہزار روپے سے بڑھا کر ہر ماہ دس ہزار روپے کردی گئی ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *