ایس آر داراپوری
سہارنپور کے دلت دوہرے ظلم کا شکار ہورہے ہیں۔اس بات کو سب بخوبی جانتے ہیں کہ 5مئی 2017 کو سہارن پور کے شبیر پور گائوں کے دلتوں کے گھروں پر اس علاقے کے جاگیرداروں نے حملہ کیا تھا۔ اس میں تقریباً دو درجن دلت بری طرح سے زخمی ہوئے تھے اور 50 سے زیادہ گھر بری طرح سے جلا دیئے گئے تھے۔ مذکورہ حملے میں روی داس مندر کی مورتی توڑی گئی تھی اور مندر کو بری طرح سے جلایا اور نقصان پہنچایا گیاتھا۔ اس حملے میں ایک لڑکے کی موت ہو گئی تھی جس نے روی داس مندر کے اندر کوئی آتش گیر مادہ چھڑک کر مندر کو جلایا تھا اور مورتی توڑی تھی۔ دم گھٹنے کی وجہ سے مندر سے باہر نکلتے ہی وہ بیہوش ہو گیا تھا۔ اس کے بعد ہزاروں کی تعداد میں لوگوں نے دلت بستی پر حملہ کیا تھا۔ حملے میں دو درجن کے قریب دلت بری طرح سے زخمی ہوئے تھے۔ کچھ عورتوں کے ساتھ بدسلوکی بھی ہوئی اور آتش گیر مادہ چھڑک کر گھروں کو جلایا گیا۔ پالتو جانوروں کو بھی نقصان پہنچایا گیا تھا۔

 

 

 

 

 

جائے وقوع پر کیا ہوا
جس وقت دلت بستی پر حملہ کیا گیا، اس وقت پولیس موقع پر موجود تھی لیکن اس نے بھی روکنے کے بجائے حملہ آوروں کو تانڈو کرنے کا کھلا موقع دیا۔ ’جن منچ‘ اور’ سوراج ابھیان سمیتی ‘کی مشترکہ جانچ میں یہ بات سامنے آئی تھی کہ پولیس نے فسادیوں کو موقع دیا تھا۔ پولیس کا کردار دلتوں کے تئیں افسوسناک ہے۔اتنا ہی نہیں ، پولیس نے دلتوں کے خلاف پانچ مقدمے بھی درج کر دیئے۔ جن میں 9 دلتوں کو نامزد کیا گیا لیکن دلتوں کی طرف سے صرف ایک مقدمہ درج کیا گیا، جس میں 9 لوگوں کو نامزد اور کافی دیگر کو ملزم بنایا گیا تھا۔ اس کے بعد پولیس کے ذریعہ 8 دلتوں اور حملہٓٓآور فریق کے 9لوگوں کو گرفتار کیا گیا۔ اس سلسلہ میں ایک دیگر دلت کو بھی گرفتار کیا گیا لیکن دوسرے فریق سے کسی دیگر کی گرفتاری نہیں کی گئی۔ جبکہ اس وقت کے پولیس سپرنٹنڈنٹ نے جانچ ٹیم کو بتایا تھا کہ انہوں نے لگ بھگ 40 حملہ آوروں کو نشان زد کر لیا ہے اور ان کی گرفتاری جلد ہی کی جائے گی لیکن اس کے بعد آج تک کوئی بھی گرفتاری نہیں ہوئی۔ اس کے لگ بھگ تین ہفتہ بعد جب مایاوتی شبیر پور گئیں تو اس دن ضلع انتظامیہ کی لاپرواہی کی وجہ سے شبیر پور سے لوٹ رہے ایک دلت لڑکے کا قتل کردیاگیا۔ اس معاملے میں صرف دو لڑکوں کی گرفتاری ہوئی۔
پولیس کے جانبداریت والے رویے کا اس سے بڑا کیا ثبوت ہو سکتاہے کہ پولیس نے پٹائی کھانے والے دلت اور پٹائی کرنے والے جاگیردار دبنگوں کے ساتھ ایک جیسا برتائو کیا۔ برابر کی گرفتاریاں کی گئیں۔ 2 دلتوں اور 2 حملہ آوروں پر این ایس اے لگا دیا گیا۔ سبھی جیل میں ہیں۔ صورت حال سے پوری طرح واضح ہے کہ دلتوں نے اپنے بچائو میں جو بھی پتھرائو کیا، وہ سیلف ڈیفنس میں کیا تھا۔ لیکن دلتوں کے ذریعہ سیلف ڈیفنس میں کی گئی کارروائی کو بھی حملے کی ہی شکل میں لیا گیا اور ان کی گرفتاریاں کی گئیں۔ جبکہ آئی پی سی کی دفعہ 100 میں ہر شہری کو سیلف ڈیفنس میں کارروائی کرنے کا حق ہے۔ اس طرح ایک تو دلتوں پر ظلم کیا گیااور دوسری طرف پولیس نے انہیں سیلف ڈیفنس کے حق کا فائدہ نہ دے کر گرفتار کیا۔ اس سے صاف ہوجاتا ہے کہ دلت دوہرے ظلم کا شکار ہوئے ہیں۔
عورتوں نے یہ بھی بتایا تھا کہ حملہ آوروں کے پاس غبارے تھے جسے پھینک کر آگ لگائی گئی تھی۔ اس سے واضح ہے کہ دلتوں پر حملہ منصوبہ بند تھا۔ جانچ کمیٹی نے اس کا ذکر جانچ رپورٹ میں بھی کیا، لیکن پولیس نے اس حقیقت کو پوری طرح سے نظر انداز کر دیا۔ انتظامیہ کے ذریعہ دلتوں کے گھروں اور سامان کے نقصان کا تخمینہ کرایا گیا تھا لیکن اب تک جو معاوضہ دیا گیاہے ،وہ اونٹ کے منہ میں زیرہ کے مساوی ہی ہے۔ جو دلت نامزد ہیں اور جیل میں ہیں،انہیں نہ تو سرکار کی طرف سے نقصان کی بھرپائی کے تئیں کوئی معاوضہ ملا اور نہ ہی ایس سی ایس ٹی ایکٹ کے تحت ملنے والی کمپینسیشن امائونٹ ہی ملی۔ اس کے علاوہ گرفتار ہوئے دلتوں کو پرائیویٹ وکیل رکھنے پر بھی خرچ کرنا پڑ رہا ہے۔

 

 

 

 

 

خدشہ پہلے سے تھا
یہ بھی قابل ذکر ہے کہ دلتوں پر ہوئے حملے کا حادثہ ہونے سے ایک دن پہلے ہی اندازہ ہو گیا تھا کہ مہارانا پرتاپ جینتی کے موقع پر دلتوں پر حملہ ہو سکتا ہے۔ گرام پردھان نے اس کی اطلاع پولیس افسروں اور ایس ڈی ایم کو دے دی تھی، لیکن دلتوں کی سیکورٹی کے لئے پولیس کا کوئی مناسب بندوبست نہیں کیاگیا۔ اس کے ساتھ ہی جب 9 مئی کو بھیم آرمی نے انتظامیہ کے ذریعہ شبیر پور میں ہوئے حملے کے سلسلہ میں مطلوبہ کارروائی نہ کرنے پر احتجاج کرنے کی کوشش کی تو پولیس کے ذریعہ طاقت کا استعمال کیا گیا۔ اس پر بھیم آرمی کے ممبروں اور پولیس کے بیچ مڈبھیڑ ہونے پر بھیم آرمی کے کنوینر چندر شیکھر اور اس کے ساتھیوں کے خلاف 21 مقدمے درج کر لیے گئے ۔ اس کے بعد چندر شیکھر سمیت 40 لوگوں کو گرفتار کرکے جیل میں ڈال دیا گیا۔ ان میں سے 2 لوگ ابھی تک جیل میں ہیں۔ چندر شیکھر اور والیا کو چھوڑ کر بھیم آرمی کے دیگر گرفتار ممبروں کی ضمانت ہو چکی ہے۔ ان دونوں کی ضمانت ضلعی سطح سے رد ہو چکی ہے اور اب یہ الٰہ آباد ہائی کورٹ میں زیر سماعت ہے۔ جیل میں چندر شیکھر کی صحت برابر گر تی جارہی ہے اور 28اکتوبر کو اسے ضلع اسپتال کے آئی سی یو میں بھرتی کروانا پڑا تھا۔
بھیم آرمی پر زیادتی جبر کی تازہ مثال یہ ہے کہ کچھ دن پہلے جب بھیم آرمی کے بانی چندر شیکھر کو الٰہ آباد ہائی کورٹ سے ضمانت ملی تو اس کے جیل سے چھوٹنے کے پہلے ہی اس پر’ راسوکا ‘ لگا دیاگیا۔ دراصل یوگی سرکار نہیں چاہتی ہے کہ چندر شیکھر کسی بھی حالت میں جیل سے باہر آئے کیونکہ اس کے باہر آنے پر دلتوں کے متحد ہونے کا خطرہ ہے۔ سرکار کی یہ کارروائی’ راسوک ‘جیسے کالے قانون کا کھلے عام بے جا استعمال ہے۔ اس قانون کے تحت ملزم کو بغیر کسی وجہ کے ایک سال تک جیل میں رکھا جاسکتا ہے۔ یہ شہریوں کے جمہوری حق کی سراسر خلاف ورزی ہے۔
صاف ہے کہ سہارنپور میں شبیر پور کے دلت سیلف ڈیفنس میں کارروائی کرنے پر بھی گرفتار کئے گئے اور ان کی گرفتاریاں حملہ کرنے والے لوگوں کے برابر ہی کی گئیں۔ ’راسوکا ‘کے معاملے میں بھی انہیں حملہ آوروں کے برابر رکھا گیا ہے۔ متاثر دلتوں کو بہت کم معاوضہ دیا گیا اور جو دلت مقدموں میں نامزد ہیں، انہیں کوئی بھی معاوضہ نہیں ملا ۔ اس طرح شبیر پور کے دلت ایک طرف جاگیرداروں کے حملے کا شکار ہوئے ہیں تو دوسری طرف وہ انتظامیہ کے جانبدار رویے کا بھی شکار ہورہے ہیں۔ اس کے علاوہ بھیم آرمی کے 2 ممبر ابھی بھی جیل میں ہیں اور3 درجن سے زیادہ نوجوان پویس سے بھڑنے کے مقدمات جھیل رہے ہیں۔ پولیس نے بھیم آرمی کے ایک آفیسر کی گرفتاری کے لئے 12 ہزار کے انعام کا اعلان کر رکھا ہے ۔ سرکار کے ذریعہ حملہ آوروں کے خلاف سخت کارروائی نہ کرنے کی وجہ سے ان کے حوصلے بلندہیں اور وہ سبھی بھی دلتوں کو دھمکا رہے ہیں۔
(مضمون نگار ’جن منچ ‘ کے کنوینر اور ’سوراج ابھیان سمیتی ‘ کے ممبر ہیں )

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here