سدار رمیا اور یدیورپا کرناٹک میں آرپار کی لڑائی

Share Article

گجرات میں بی جے پی جہاںترقی کے مدعے کو لے کر انتخابی میدان میںتھی، وہیں کانگریس جی ایس ٹی اور نوٹ بندی کے مدعے پر سرکار پر حملہ آور رہی۔ جی ایس ٹی پر راہل گاندھی کا طنز جہاں پورے گجرات الیکشن میں سرخیوں میں رہا، وہیں زیر اعظم نریندر مودی کے ’ٹین پرسینٹ کمیشن‘ کی سرکار والا طنز انتخابی جملہ بن گیا۔ عموماً بی جے پی ترقی کے مدعے پر الیکشن لڑتی ہے لیکن کرناٹک میں پارٹی سدارمیا سرکار کی بدعنوانی کے مدعے پر گھیرا بندی کر رہی ہے۔ ترقیاتی کاموں کو لے کر ریاستی سرکار کو پوری طرح خارج نہیں کیا جاسکتا۔ ایسا بی جے پی بھی سمجھتی ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ اس نے بدعنوانی کو کرناٹک الیکشن میںاہم مدعا بنایا۔
منقسم مینڈیٹ میںکیا ہوگا؟
پانچ سال میںسدا رمیا سرکار نے کئی اسکیمیںچلائیں لیکن صحیح نگرانی کے فقدان کی وجہ سے ان اسکیموں کا فائدہ لوگوں کو نہیںمل سکا۔ کرناٹک میںتین پارٹیاں نمایاںطور پر الیکشن لڑ رہی ہیں۔ایک برسراقتدار کانگریس ، دوسری بی جے پی اور تیسری جنتا دل سیکولر (جے ڈی ایس)۔ بی جے پی اور جے ڈی ایس ماضی میں اقتدار کے حصہ دار رہ چکے ہیں۔ اس بار بھی قیاس لگائے جارہے ہیں کہ منقسم مینڈیٹ ملنے کی صورت میںبی جے پی اور جے ڈی ایس ایک ساتھ آسکتے ہیں۔ یہ چرچا کانگریسی خیموںکے ساتھ ساتھ عام لوگوںمیںبھی ہے۔ 2014 کے پارلیمانی انتخابات کے بعد جتنے بھی الیکشن ہوئے، اس میں کانگریس کو شکست ملی، صرف پنجاب کو چھوڑ کر۔ ملک میںہوئے پچھلے کچھ انتخابات پر غور کریں تو یہی ٹرینڈ سامنے آتا ہے کرناٹک کو لے کر بھی تمام طرح کے قیاس لگائے جارہے ہیں لیکن یہاں کی زمینی حقیقت ایک واضح اکثریتی سرکار کی طرف اشارہ کر رہی ہے۔
وزیر اعلیٰ سدا رمیا اس بار دو سیٹوں سے بالترتیب چامنڈیشوری اور باداما سیٹ سے الیکشن لڑ رہے ہیںجبکہ ان کے بیٹے ورونا سیٹ سے الیکشن لڑ رہے ہیں۔ حالانکہ عام لوگوں میںیہ بحث کا موضوع ہے کہ وزیر اعلیٰ کو دو جگہوں سے الیکشن لڑنے کی ضرورت کیوںپڑی؟ الیکشن میںدو سیٹوں سے قسمت آزمانا کوئی نئی بات نہیں ہے۔ ویسے موجودہ سیاست میں اس بات سے حیرت بھی نہیں ہوتی۔ لیکن یہاںسوال یہ اٹھتا ہے کہ آخر ترقی کے مدعے پر انتخابی میدان میں اتری کانگریس کو لنگایت کارڈ بھی کیوںکھیلنا پڑا؟ لنگایتوں کو الگ مذہب کا درجہ دلانے کی بات کہہ کر وزیر اعلیٰ سدا رمیا نے بی جے پی کے روایتی ووٹوںکو سادھنے کی کوشش کی ہے۔ کانگریس کا یہ داؤں بی جے پی کے لیے کسی جھٹکے سے کم نہیں تھا۔ کیونکہ انتخابی حکمت عملی میںماہر امت شاہ نے بھی اس کا تصور نہیں کیا ہوگا۔ لنگایت کو اپنے ساتھ جوڑے رکھنا شروع میںبی جے پی کے لیے ایک تشویش کی بات ضرور تھی لیکن الیکشن قریب آنے تک وزیر اعلیٰ سدا رمیا کا لنگایت کارڈ بے اثر ہونے لگا کیونکہ زیادہ تر لنگایتوں کو اس میںارادے کم اور سیاست زیادہ نظر آتی ہے۔
کرناٹک میںمٹھوںکا اثر
پنجاب اور ہریانہ میں ڈیرے کی طرح کرناٹک میںبھی الگ الگ ذاتوںاور کمیونٹیزکے سیکڑوںمٹھ ہیں۔ ان میںلنگایتوں کے مٹھوں کی تعداد سب سے زیادہ ہے۔ اس بارے میں بنگلورو کے مقامی صحافی ایس روی راج بتاتے ہیں: ’’کرناٹک میں لنگایتوں کے 450 چھوٹے بڑے مٹھ ہیں۔ ان کے مطابق ووکا لنگا سے جڑے مٹھوں کی تعداد تقریباً 100ہے۔ وہیںکوربہ کمیونٹی کے بھی 70 مٹھ ہیں۔ ان مٹھوں کا کرناٹک کی سیاست پر اچھا اثر ہے۔ نتیجتاً انتخابات کے وقت تمام سیاسی پارٹیاں مٹھوں کا آشیرواد پانا چاہتی ہیں۔ کرناٹک میں’ناتھ کمیونٹی‘ کے بھی کچھ مٹھ ہیں۔ اس کی اہمیت سمجھتے ہوئے بی جے پی نے اترپردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کو تشہیر کے میدان میںاتارا۔ ویسے تریپورہ میںبی جے پی اس فارمولے کا کامیاب استعمال کرچکی ہے۔ کرناٹک کے دلتوں میں مدیگا اور چالا واڑی اس کی ذیلی جاتیں ہیں۔ ریاست کے کئی اسمبلی علاقوں میں ان کا فیصلہ کن رول رہتا ہے۔ مدیگا جات کی شکایت ہے کہ انھیںصحیح ریزرویشن کا فائدہ نہیںمل رہا ہے، اس لیے اپنے سماج کے لیے وہ ریزرویشن کی حد بڑھانے کی مانگ کرتے ہیں۔ بی جے پی صدر امت شاہ اپنے انتخابی دوروں میں لنگایت سمیت کئی کمیونٹیز کے مٹھوں کا دورہ کرچکے ہیں۔ تمکرو ضلع میںواقع سدھ گنگا مٹھ میں انھوں نے مہنتھ شیوکمار سوامی سے آشیرواد لیا۔ وہیں چتردرگا میںدلتوں کے ایک بڑے مٹھ میںمادارا چینییاہ سے انھوں نے ملاقات کی۔ کافی دیر تک چلی اس میٹنگ میںامت شاہ نے مدیگا جات کی مانگ کو پورا کرنے کا بھروسہ دلایا۔

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

دلت اور آدیواسیوںکا مزاج
کرناٹک کی کل 224اسمبلی سیٹوں میں36ایس سی اور 15 سیٹیں ایس ٹی کے لیے محفوظ ہیں۔ پچھلے الیکشن میںدلتوں اور آدیواسیوں کے زیادہ تر ووٹ کانگریس کو ملے جبکہ جے ڈی ایس اور بی جے پی کو بھی تھوڑی بہت حمایت ملی۔ پچھلے اسمبلی الیکشن میںایس سی کے لیے محفوظ 36 سیٹوں میں کانگریس کو 17، جے ڈی ایس کو 10 اور بی جے پی کو محض 6 سیٹیں ملی تھیںجبکہ ایس ٹی کے لیے ریزروڈ 15 سیٹوں میں کانگریس کو 9 سیٹیں اور جے ڈی ایس اور بی جے پی کو ایک ایک سیٹ ملی۔ دلتوں کے استحصال کے حالیہ کچھ واقعات کا اثر کرناٹک میں بھی دیکھا جاسکتا ہے۔ کانگریس اور جے ڈی ایس دلتوں کے مدعے کو لے کر بی جے پی پر حملہ آور ہیں ۔ وہیں بی جے پی ا س کے بچاؤ میںسدا شیو کمیشن کی سفارشوں کو نہ لاگو کرنے کو لے کر سدا رمیا سرکار پر دباؤ بنا رہی ہے تاکہ دلتوں کی حمایت مل سکے۔
کس طرف جائیں گے مسلم ووٹر س
کرناٹک میںمسلمانوں کی آبادی 16 فیصد ہے ۔ ریاست میں اگلی سرکار کس کی بنے گی ، یہ مسلم ووٹروں پر انحصار کرتا ہے۔ گزشتہ الیکشن میںمسلمانوں کا ایک مشت ووٹ کانگریس کو ملا تھا۔ اس بار بھی معاملہ کچھ ایسا ہی دکھائی پڑ رہا ہے۔ اے آئی ایم آئی ایم کے سربراہ اسد الدین اویسی نے جے ڈی ایس کو حمایت دے کر مسلم ووٹوں کی امید جگادی لیکن کیا واقعی کرناٹک کے مسلمان جے ڈی ایس کی طرف جھکیںگے۔ میسور مہا نگر کانگریس کے سکریٹری سید داؤد اس سے اتفاق نہیںرکھتے ۔ ان کے مطابق اویسی مسلمانوںکے ٹھیکیدار نہیںہیں۔ اگر ان کی باتوں کا اثر ہوتا تو آندھرا پردیش میںان کی پارٹی کے دو چار اراکین پارلیمنٹ میں ہوتے۔ سید داؤد کے مطابق ترقی کے معاملے میںکانگریس کا مقابلہ بی جے پی نہیںکرسکتی۔ سدارمیا کرناٹک میںرام کرشن ہیگڑے کے بعد سب سے کامیاب وزیر اعلیٰ ثابت ہوئے ہیں۔
کسانوںکی خود کشی پر گھرے سدار میا
کرناٹک میںکانگریس بے شک ترقی کے نام پر انتخابی میدان میںہے لیکن ریاست میںجاری کسانوںکی خود کشی کو لے کر سدا رمیا سرکار سوالوں کے گھیرے میںہے۔ بی جے پی اور جے ڈی ایس دونوں پارٹیوں کے لیے یہ ایک بڑا مدعا ہے۔ پچھلے اسمبلی الیکشن میںوزیر اعلیٰ سدا رمیا نے کسانوں کے مفاد سے جڑے وعدے کیے تھے۔ انھوںنے پانچ سالوں میںکسانوں کی آمدنی دوگنی کرنے کی بات کہی تھی۔ کسانوںکی آمدنی تو دوگنی نہیںہوئی لیکن خود کشی کرنے والے کسانوں کی تعداد چار گنا ضرور بڑھ گئی۔ کرناٹک کے زرعی محکمے کے اعداد و شمار کے مطابق ریاست میں2013 سے 2017 کے بیچ 3500 کسانوں نے خود کشی کی۔ کسان لیڈر کے راگھویندر بتاتے ہیںکہ اپوزیشن پارٹیوں کے دباؤ اور الیکشن قریب آنے پر وزیر اعلیٰ سدا رمیا نے خود کشی کرنے والے کسانوں کے ورثاء کو ملنے والے معاوضہ کی رقم ایک لاکھ سے بڑھا کر پانچ لاکھ روپے کردی، پھر بھی موت کے اعداد شمار میں کمی نہیں آئی۔
سدارمیا کی اسکیمیں
وزیر اعلیٰ سدار میا کے ذریعہ شروع کی گئیں دواہم اسکیمیںاندرا کینٹین اور شادی بھاگیہ اسکیم نے کافی سرخیاں بٹوریں۔ پانچ روپے میںناشتہ اور دس روپے میںدوپہر کا کھاناملنے کا خواب اندرا کینٹین کے ذریعہ پورا ہوا۔ کرناٹک سرکار نے ریاست کے سبھی شہروںمیںاس اسکیم کی شروعات کی۔ شروعات میںیہ اسکیم تو کامیاب رہی لیکن بعد میںاس سے جڑی کئی بے ضابطگیاں بھی سامنے آنے لگیں ۔ وزیر اعلیٰ سدا رمیا اپنی ایک اور اسکیم کو لے کر اپوزیشن پارٹی خاص طور سے بی جے پی کے نشانے پر ہیں۔ دراصل کرناٹک سرکار نے بی پی ایل خاندانوں میں مائنارٹی کمیونٹی کی شادی کے لائق لڑکی کی شادی کے لیے 50 ہزار روپے کی مالی مدد کا اعلان کیا۔ اپوزیشن پارٹیاں ، اسے مدعا نہ بنائیں، اس لیے اس اسکیم میںمسلمانوں کے علاوہ عیسائی، بودھ ، پارسی، جین اور سکھ کمیونٹی کے بی پی ایل خاندانوں کو اس میںشامل کیا۔ لیکن اپوزیشن خاص طور سے بی جے پی اسے خالص مسلم منہ بھرائی کی سیاست بتا رہی ہے۔ مانڈیا میںواقع بی جے پی لیڈر سی بھاسکر کا کہنا ہے کہ کرناٹک میںباقی مائنارٹیز کی تعداد نہ ہونے کے برابر ہے۔،اس لیے اسے کرنے یا نہیںکرنے سے بھی کوئی فرق نہیںپڑتا۔ اس اسکیم کا سیدھا فائدہ مسلم اقلیت کو ملے گا۔
بی جے پی کے لیے کیوںضروری یدیورپا
کرناٹک میںبدعنوانی کے الزام کی وجہ سے بی ایس یدیورپا کو وزیر اعلیٰ کے عہدے سے ہٹنا پڑا۔ آگے چل کر بی جے پی سے ان کی تلخی بڑھی اور وہ کرناٹک جنتا پارٹی بناکر (کے جے پی) 2013کے انتخابی سمر میںاتر آئے۔ ویسے کرناٹک الیکشن میںکے جے پی کو کوئی خاص فائدہ تو نہیںہوالیکن بی جے پی کا کھیل خراب کرنے میںوہ کامیاب رہی۔ کرناٹک کی سیاست میںیدیورپا حاشیے پر نہ چلے جائیں ،اس سے پہلے ہی وہ بی جے پی میںشامل ہوگئے۔ کچھ ایسا ہی قصہ بی شریرامولو کا ہے۔ بطور بی جے پی امیدوار وہ انتخابی میدان میںہیںلیکن پچھلے اسمبلی الیکشن میں انھوںنے بھی بی جے پی کے خلاف جاکر ریاست میںاکیلے الیکشن لڑنے کا فیصلہ کیا تھا۔ ان دونوںکے بی جے پی میں شامل ہونے کا اثر 2014 کے پارلیمانی انتخابات میںدیکھنے کو ملا اور ریاست کی کل 28 سیٹوںمیںسے بی جے پی کو 17 سیٹیںملیں۔ بی جے پی کی جیت میں بی ایس یدیورپا کی اہمیت کتنی ہے، اسے 2013 کے اسمبلی الیکشن میںمختلف پارٹیوں کو ملے نتیجے اور ووٹ فیصد کے اعداد وشمار سے بخوبی سمجھا جاسکتا ہے۔
ممبئی کرناٹک بی جے پی کا مضبوط گڑھ کہا جانے والا علاقہ ہے۔ یہاں اسمبلی کی کل 50 سیٹیںہیں۔ پچھلے الیکشن میںیہاںکانگریس کو 38، بی جے پی کو 27، جے ڈی ایس کو 11، کے جے پی کو10 اور دیگر پارٹیوں کو 13 فیصد ووٹ ملے۔ سیٹوں کی بات کریںتو کانگریس کو 31، بی جے پی کو 13، جے ڈی ایس کو 01، کے جے پی کو 01 اور دیگر پارٹیوں کو 03 سیٹیں ملیں۔ ہاویری، دھارواڑ، بیلگام، بیجاپور، ہبلی، باگلکوٹ سمیت یہاں کل سات ضلع ہیں۔ بی جے پی کے تین بڑے لیڈر سابق وزیر اعلیٰ جگدیش شیٹر ہبلی سے، سابق ریاستی صدر پرہلاد جوشی دھارواڑ سے اور مرکزی وزیر رمیش جگجگانی کا بیجاپور سے تعلق ہے۔ اس علاقے میںلنگایتوں اور دلتوں کی تعداد زیادہ ہے۔ اس بار بی جے پی کو یقین ہے کہ نتیجے پچھلی بار سے الگ ہوں گے کیونکہ یدیورپا کی واپسی کا سیدھا فائدہ اسے ملے گا۔

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

بی جے پی کا دوسرا گڑھ
بی جے پی اپنا دوسرا مضبوط گڑھ ساحلی کرناٹک کو مانتی ہے۔ منگلورو، اڈپی، کروار اور چکمنگلور سمیت چار ضلع ہیں۔ یہاںاسمبلی کی 19 سیٹیں ہیں۔ اس علاقے کو کرناٹک میںآر ایس ایس اور بی جے کے ہندوتو کی لیباریٹری بھی کہا جاتا ہے۔ لیکن پچھلے اسمبلی الیکشن میںیہاںکانگریس کو زیادہ سیٹیںملیں۔ ساحلی کرناٹک میںکانگریس کو 43 فیصد ، بی جے پی کو 34 فیصد، جے ڈی ایس کو9 فیصد ، بی جے پی کو 3 فیصد اور دیگر پارٹیوںکو 12 فیصد ووٹ ملے۔ یہاں سیٹوں کی بات کریں تو کانگریس کو 13، بی جے پی کو 3 اور دیگر پارٹیوںکو 3 سیٹیںحاصل ہوئیں۔
حیدرآباد کرناٹک علاقے میںگلبرگہ، بیدر، رائچور، بیلاری، کوپّل اور یادگیر سمیت چھ ضلع ہیں۔ 40 اسمبلی سیٹوں والا یہ علاقہ کانگریس کا گڑھ رہا ہے۔ کانگریس کے سینئر لیڈر ملیکارجن کھڑگے گلبرگہ سے ہی رکن پارلیمنٹ ہیں۔ پچھلے الیکشن میںیہاںکانگریس کو 35، بی جے پی کو 17، جے ڈی ایس کو 16، کے جے پی کو 14 اور دیگر پارٹیوں کو 18 فیصد ووٹ ملے۔ یہی اعداد وشمار سیٹوں میںتبدیل ہونے پر کانگریس کو 23، بی جے پی کو 5، کے جے پی کو 3 اور دیگر پارٹیوںکو 4 سیٹیںملی تھیں۔
سینٹرل کرناٹک بی ایس یدیورپا کا ہوم ایریا ہے۔ پچھلی بار ان کے الگ ہونے سے بی جے پی کو اس کا خمیازہ بھگتنا پڑا۔ لیکن اس بار وہ شیموگہ ضلع کے شکاری پور اسمبلی حلقے سے انتخابی میدان میںہیں۔ علاقے میںااسمبلی کی کل 28 سیٹیں ہیں، جن میںلنگایت کمیونٹی کی اکثریت ہے۔ پچھلے الیکشن میںیہاںکانگریس کو 36 فیصد، جے ڈی ایس کو 19 فیصد، کے جے پی کو 18 فیصد، بی جے پی کو 15 فیصد اور دیگر پارٹیوں کو 12 فیصد ووٹ ملے۔ سیٹوںکی بات کریںتو کانگریس کو 15، جے ڈی ایس کو 6، بی جے پی کو 5 او ر کے جے پی اور دیگر پارٹیوں کو ایک ایک سیٹ ملی۔ اس بار یہاں اہم لڑائی کانگریس اور بی جے پی کے بیچ میںہے۔ لیکن کئی ضلعوں میں جے ڈی ایس انتخابی لڑائی کو سہ رخی بنا رہی ہے۔ بی جے پی لیڈروںکی دلیل ہے کہ اس بار سینٹرل کرناٹک میںاسے فائدہ ہوگا کیونکہ بی جے پی اور کے جے پی کے بالترتیب 15 اور 18 فیصد ووٹوںکو ملانے پر 33 فیصد ووٹ ہوجاتا ہے۔
میسور کی اہمیت
سیاسی لحاظ سے ریاست کا ایک اہم حصہ میسور کرناٹک ہے۔ اسے جنوبی کرناٹک بھی کہا جاتا ہے۔ اس علاقے میںمیسور، چامراج نگر، ہاسن، مانڈیا،کولار، تمکور اورچکبلپر ضلع آتے ہیں۔ یہاںاسمبلی کی کل 59 سیٹیں ہیں۔ ووکالنگا اکثریتی یہ علاقہ جے ڈی ایس کی مضبوط زمین ہے۔ سابق وزیر اعظم اور جے ڈی ایس کے سربراہ ایچ ڈی دیوگوڑا بھی ہاسن ضلع سے ہیں۔ پچھلے الیکشن میںیہاں کانگریس اور جے ڈی ایس کے بیچ لڑائی ہوئی تھی۔ دیوگوڑا کے بیٹے ایچ ڈی کمارا سوامی بھی مانتے ہیںکہ اس بار بھی انتخابی لڑائی ان ہی دونوں پارٹیوںکے بیچ ہونا طے ہے۔ 2013 کے انتخاب میںیہاںکانگریس کو 33 فیصد، جے ڈی ایس کو 34 فیصد، کے جے پی کو 9 فیصد، بی جے پی کو 8 فیصد اور دیگر پارٹیوںکو 16 فیصد ووٹ ملے۔ یہاںکانگریس آگے رہی۔ کانگریس کو 27، جے ڈی ایس کو 25، بی جے پی 2اور دیگر پارٹیوںکو 5 سیٹیں ملیں۔ اس بار بی جے پی یہاںکافی محنت کر رہی ہے لیکن یہاں اہم انتخابی مقابلہ کانگریس اور جے ڈی ایس کے بیچ ہونا طے ہے۔
بنگلورو شہری اور دیہی علاقے میںاسمبلی کی 28 سیٹیں ہیں۔ گزشتہ الیکشن میں یہاں کانگریس کو41 فیصد، بی جے پی کو 32 فیصد، جے ڈی ایس کو 19 فیصد، کے جے پی کو 2 اور دیگر پارٹیوںکو 6 فیصد ووٹ ملے۔ یہاں13 سیٹوںکے ساتھ کانگریس پہلے مقام پر رہی جبکہ بی جے پی کو 12 اور جے ڈی ایس کو 3 سیٹیںملیں۔ آئی ٹی سٹی ہونے کی وجہ سے بنگلورو میںبہار، اترپردیش، مدھیہ پردیش اور مہاراشٹر وغیرہ ریاستوںکے لوگوںکی تعداد زیادہ ہے۔ یہاں رہنے والے ہندی زبان والوںپر بی جے پی کی خاص نظر ہے۔ پچھلے دنوں کنڑ اسمیتا کے نام پر بنگلورو میں ہندی مخالف نعرے لگے اور میٹرو اسٹیشن اور سرکاری اداروں میںلگے ہندی سائن بورڈ پر سیاہی پوتی گئی۔ ویسے یدیورپا کے الگ ہونے کے بعد بھی بی جے پی کو کانگریس سے صرف ایک سیٹ کم ملی۔ اس بار بی جے پی یہاںاپنی سیدھی لڑائی کانگریس سے مان رہی ہے۔

ابھیشیک رنجن سنگھ

انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ماس کمیونکیشن (آئی آئی ایم سی) نئی دہلی سے صحافت کی تعلیم حاصل کرنے والے ابھیشیک رنجن سنگھنے اپنے صحافی کریئر کا آغاز سکال میڈیا گروپ سے کیا۔ اس کے بعد تقریباً سال بھر تک ایک کاروباری جریدہ میں بطور نامہ نگار اپنی خدمات انجام دیں۔ سال 2009 میں دہلی سے شائع ہونے والے ایک روزنامہ میں کام کرنے کے بعد یو این آئی ٹی وی سروس میں اسسٹنٹ پروڈیوسر کے عہدہ پر فائز رہے۔ اس کے علاوہ ابھیشیک رنجن سنگھ آل انڈیا ریڈیو میں بھی مذاکرات کار کے طور پر بھی کام کر چکے ہیں۔ اس کے علاوہ ملککے کئی اہم اخبارات میں آپ کے مضامین مسلسل شائع ہوتے رہتے ہیں۔ آپ کو ہندی میں نظمیں لکھنے کے علاوہ غزلوں کے بے حد شوق ہے۔ فی الحال ہفت روزہ چوتھی دنیا میں بطور نامہ نگار اپنی خدمات انجام دے رہے ہیں۔
Share Article

ابھیشیک رنجن سنگھ

انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ماس کمیونکیشن (آئی آئی ایم سی) نئی دہلی سے صحافت کی تعلیم حاصل کرنے والے ابھیشیک رنجن سنگھ نے اپنے صحافی کریئر کا آغاز سکال میڈیا گروپ سے کیا۔ اس کے بعد تقریباً سال بھر تک ایک کاروباری جریدہ میں بطور نامہ نگار اپنی خدمات انجام دیں۔ سال 2009 میں دہلی سے شائع ہونے والے ایک روزنامہ میں کام کرنے کے بعد یو این آئی ٹی وی سروس میں اسسٹنٹ پروڈیوسر کے عہدہ پر فائز رہے۔ اس کے علاوہ ابھیشیک رنجن سنگھ آل انڈیا ریڈیو میں بھی مذاکرات کار کے طور پر بھی کام کر چکے ہیں۔ اس کے علاوہ ملک کے کئی اہم اخبارات میں آپ کے مضامین مسلسل شائع ہوتے رہتے ہیں۔ آپ کو ہندی میں نظمیں لکھنے کے علاوہ غزلوں کے بے حد شوق ہے۔ فی الحال ہفت روزہ چوتھی دنیا میں بطور نامہ نگار اپنی خدمات انجام دے رہے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *