سچر کمیٹی کی سفارشات کو نافذ کرنے میں یو پی اے سرکار سنجیدہ نہیں

Share Article

ڈاکٹر قمر تبریز 

سچر کمیٹی کی سفارشات کے نفاذ سے متعلق یو پی اے سرکار کا دعویٰ ہے کہ اس نے 76 میں سے 73 سفارشات کو نافذ کر دیا ہے، جب کہ چوتھی دنیا کی اب تک کی تفتیش یہ بتاتی ہے کہ سرکار نے سچر کمیٹی کی ابتدائی 39 سفارشات میں سے 19 کو ابھی تک نافذ نہیں کیا ہے اور جن سفارشات کو نافذ کیا ہے، ان میں بھی بہت سی خامیاں ہیں۔ اس شمارہ میں سفارش نمبر 40 سے 58 تک کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ سب سے زیادہ حیران کن بات یہ ہے کہ بہت سی سفارشات کے نفاذ کے تعلق سے یو پی اے سرکار خاموش ہے، جس سے صاف طور پر پتہ چلتا ہے کہ اس نے ان سفارشات پر کوئی کارروائی نہیں کی ہے۔

--4پھر کمیٹی نے اپنی سفارش نمبر 40 میں کہا ہے کہ وقف املاک کے بہتر استعمال سے سرکار، مسلم کمیونٹی اور پرائیویٹ سیکٹر کے درمیان پارٹنرشپ کے مواقع پیدا کرنے میں مدد ملے گی۔ سرکار کہتی ہے کہ وہ نیشنل وقف ڈیولپمنٹ کارپوریشن قائم کرنے پر غور کر رہی ہے، جس سے وقف املاک کو پبلک – پرائیویٹ پارٹنرشپ کے ذریعے بہتر ڈھنگ سے استعمال کیا جا سکے گا اور اس سے مسلم قوم کو اپنے ترقیاتی ڈھانچوں کو بہتر بنانے میں مدد ملے گی۔ یہ سب کب ہوگا، یہ کسی کو نہیں معلوم۔ یو پی اے سرکار کی دوسری مدت بھی اب ختم ہونے جا رہی ہے۔ سرکار سے جب یہ کام گزشتہ سات سالوں میں، یعنی سچر کمیٹی کی رپورٹ پیش ہونے کے بعد سے لے کر اب تک نہیں ہو سکا، تو کیا گارنٹی ہے کہ اس ملک میں اگلی سرکار جس کی بھی بنے گی، وہ مسلمانوں کے مسائل حل ہی کر دے گی؟ مسلمانوں سے جان بوجھ کر انتظار کرنے کو کہا جا رہا ہے، تاکہ وہ مجبور ہو کر کانگریس کو ووٹ دیتے رہیں، جس نے سچر کمیٹی کی تشکیل کرکے ان کے اوپر ایک بڑا احسان کیا ہے۔ مسلمانوں پر کیے گئے اس احسان کو کانگریس پارٹی کب تک بھناتی رہے گی، یہ بھی کسی کو نہیں معلوم۔
سچر کمیٹی نے اپنی سفارش نمبر 41 میں کہا ہے کہ اقلیتی تعلیمی اداروں کی منظوری کے عمل کو آسان بنایا جائے۔ یو پی اے سرکار کا دعویٰ ہے کہ اقلیتی تعلیمی اداروں کو سرکار کی طرف سے منظوری دلانے کے لیے پارلیمنٹ میں ایک قانون پاس کرکے نیشنل کمیشن فار مائناریٹی ایجوکیشنل انسٹیٹیوشنز (این سی ایم ای آئی) قائم کیا گیا، جس کے تحت اس بات کو یقینی بنایا گیا ہے کہ مسلمانوں سمیت ملک کی تمام اقلیتوں کو آئین کی دفعہ 30(1) میں درج تمام ضروری تعلیمی حقوق مہیا کرائے جائیں۔ یو پی اے سرکار کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ این سی ایم ای آئی کے ذریعے اب تک ایسے 5830 تعلیمی اداروں کو اقلیتی درجہ دیا جا چکا ہے، جب کہ یہ تلخ حقیقت سامنے آ چکی ہے کہ ان اقلیتی تعلیمی اداروں میں مسلمانوں کے تعلیمی ادارے بہت کم ہیں اور جن اداروں کو اقلیتی درجہ دیا بھی گیا ہے، تو وہ کاغذی ہے اور عملی طور پر وہ ادارے اب بھی اس درجہ سے محروم ہیں۔ مثال کے طور پر دربھنگہ (بہار) کا 1957 میں مسلمانوں کے ذریعے قائم کیا گیا ’ملت کالج‘، جو کہ 1976 میں اس حق سے محروم ہو گیا تھا اور تقریباً 5 برس قبل این سی ایم ای آئی کے ذریعے اقلیتی کردار کی تصدیق کے باوجود یہ ابھی تک اس سے محروم ہے۔ حکومت بہار کے پاس معاملہ ہنوز کھٹائی میں پڑا ہوا ہے۔ اس کالج کی اساسی تنظیم ’انجمن مسلم تعلیم‘ کے صدر ڈاکٹر عبدالوہاب کہتے ہیں کہ ملت کالج کے معاملہ سے حکومت کے دعویٰ کی حقیقت سمجھی جا سکتی ہے۔
زمینی حقیقت یہ ہے کہ اقلیتوں کو ملک بھر میں اپنے تعلیمی ادارے قائم کرنے میں اب بھی مختلف دشواریوں کا سامنا کر نا پڑ رہا ہے، جن میں سے سب سے بڑی دشواری ہے رجسٹریشن کراتے وقت سرکار کی طرف سے رجسٹریشن فیس کے طور پر (نہ واپس ہو سکنے والی) موٹی فیس وصول کرنا، جسے مسلم قوم برداشت نہیں کرسکتی۔ اس کے علاوہ اقلیتی تعلیمی اداروں کو اپنے یہاں نیا کورس شروع کرنے سے پہلے بھی سرکار کی طرف سے کلیئرنس لینا پڑتا ہے، جو کہ خود میں ایک مشکل کام ہے اور مسلمانوں کو ایسا کرتے وقت زیادہ تر معاملوں میں سرکاری افسروں کی طرف سے تعصب کا شکار ہونا پڑتا ہے۔ یو پی اے سرکار نے مسلمانوں کے لیے اس سلسلے میں اب تک کوئی آسانی فراہم نہیں کی ہے، جو کہ ایک تشویش ناک بات ہے۔ سرکار کا مسلمانوں کے تئیں اگر یہی رویہ رہا، تو ان کی تعلیمی پس ماندگی کبھی دور نہیں ہو پائے گی۔
سچر کمیٹی نے اپنی سفارش نمبر 42 میں کہا ہے کہ سیلف ہیلف گروپ، واٹر شیڈ پروگرام وغیرہ جیسے مائکرو فائنانس کے پروگراموں کے ذریعے اقتصادی سرگرمیوں میں مسلم عورتوں کی حصہ داری کو بڑھایا جانا چاہیے۔ یو پی اے سرکار کہتی ہے کہ اس نے مسلم عورتوں کی اس سمت میں حوصلہ افزائی کی ہے اور مالی سال 2012-13 کے دوران (31 دسمبر، 2012 تک) اقلیتی فرقہ سے تعلق رکھنے والی عورتوں کو مائکرو کریڈٹ کے طو رپر 4063.61 کروڑ روپے فراہم کرائے گئے ہیں۔ لیکن یو پی اے سرکار نے یہ نہیں بتایا ہے کہ اقلیتی فرقہ سے تعلق رکھنے والی ان عورتوں میں سے مسلم عورتوں کی تعداد کیا ہے؟ ہندوستان کے کن کن ضلعوں میں عورتوں کو یہ رقم فراہم کرائی گئی اور پھر سرکار کی طرف سے دی جانے والی اس رقم سے ان عورتوں کو کتنی ترقی حاصل ہوئی یا ان کی غریبی کس حد تک دور ہوئی ہے۔ ظاہر ہے، یو پی اے سرکار کے پاس ایسی کوئی تفصیل ہی نہیں ہے، اسی لیے وہ یہ سب بتانے سے کترا رہی ہے۔
سچر کمیٹی نے اپنی سفارش نمبر 43 میں کہا ہے کہ سرکار کو اپنی ان تمام اسکیموں سے متعلق اطلاعات کی تشہیر بڑے پیمانے پر کرنی چاہیے، جو اقلیتوں سے متعلق ہیں۔ اطلاعات کی تشہیر کا کام میڈیا کے توسط سے خاص کر ان زبانوں میں کرنا چاہیے، جنہیں مسلمان سمجھتے ہیں، یعنی سرکار کی طرف سے یہ تمام اطلاعات اردو زبان میں اور کاؤنسلنگ سنٹرس کے ذریعے دستیاب ہونی چاہئیں، تاکہ مسلمان زیادہ سے زیادہ تعداد میں ان اسکیموں سے فائدہ اٹھا سکیں۔ یو پی اے سرکار کا دعویٰ ہے کہ وزارتِ اطلاعات و نشریات نے الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا کے ذریعے دوسری زبانوں کے ساتھ ساتھ اردو زبان میں بھی ملٹی میڈیا کمپین شروع کیا ہے۔ اس کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ وزارتِ اقلیتی امور نے 2007-08 سے لے کر 2011-12 تک اخباروں میں 8957 اشتہارات ہندی، انگریزی اور اردو میں شائع کرائے ہیں۔ اسی طرح ریڈیو کے ذریعے بھی وزیر اعظم کے پندرہ نکاتی پروگرام اور اسکالرشپ اسکیم کی تشہیر مختلف زبانوں میں کرائی گئی ہے۔ دور دَرشن نے بھی وزیر اعظم کے پندرہ نکاتی پروگرام اور اسکالرشپ اسکیموں سے متعلق اشتہارات نشر کیے ہیں۔ سرکار کا دعویٰ اپنی طرف، لیکن اب بھی ملک کے زیادہ تر مسلمانوں کو نہ تو یہ معلوم ہے کہ ان کی فلاح و بہبود کے لیے ملک میں کوئی وزارت بھی ہے یا پھر یو پی اے سرکار کی طرف سے ان کی تعلیم و ترقی کے لیے اسکیمیں چلائی جا رہی ہیں۔ ایسے میں تو سرکار کا ہر دعویٰ بے معنی ہو کر رہ جاتا ہے کہ وہ مسلمانوں کو ان سے متعلق سرکاری پروگراموں یا اسکیموں کے بارے میں بیدار کر رہی ہے۔
سچر کمیٹی نے اپنی سفارش نمبر 44 میں کہا ہے کہ عام سوچ کے برعکس مسلمانوں کے درمیان برتھ کنٹرول کے جدید طریقوں کو اپنانے کی مانگ زور پکڑ رہی ہے۔ سرکار کو چاہیے کہ وہ اس کو مد نظر رکھتے ہوئے برتھ کنٹرول سے متعلق کوئی نیا پروگرام بنائے۔ یو پی اے سرکار کا دعویٰ ہے کہ وزارتِ صحت و خاندانی بہبود نے ریاستوں اور یونین ٹیریٹوریز کو صلاح دی ہے کہ وہ اقلیتوں کی گھنی آبادی والے ضلعوں، بلاکس اور قصبوں میں اردو اور علاقائی زبانوں میں فیملی ویلفیئر سروسز کی تشہیر کرے اور اس سے متعلق باقاعدہ ایک مہم چلائے۔ لیکن دوسری طرف حقیقت یہ ہے کہ مسلمانوں میں تعلیم کی کمی کے سبب ان سب کا کوئی اثر نہیں پڑ رہا ہے۔ سماج کو تعلیم یافتہ بنائے بغیر اس سے یہ توقع کرنا کہ وہ فیملی پلاننگ جیسے مدعے پر بیدار ہو جائے گا، ایک بے معنی سی بات لگتی ہے۔
سچر کمیٹی نے اپنی سفارش نمبر 45 میں کہا ہے کہ مسلمان پس ماندگی کی دوہری مار اس لیے جھیل رہے ہیں، کیوں کہ ایک تو ان میں تعلیم کی کمی ہے اور دوسرے انہیں جو تعلیم مل بھی رہی ہے، وہ معیاری نہیں ہے۔ اسی لیے سرکار کو چاہیے کہ وہ تعلیم کے میدان میں موجود ان خامیوں کو دور کرے اور مسلمانوں کی تعلیم کو یقینی بناتے وقت اس بات کا بھی خیال رکھے کہ انہیں معیاری تعلیم حاصل ہو رہی ہے۔ یو پی اے سرکار سچر کمیٹی کی اس 45 ویں سفارش پر خاموش ہے۔ اس نے اس سلسلے میں کوئی بھی دعویٰ نہیں کیا ہے۔ اس کا مطلب تو یہی نکلتا ہے کہ کانگریس کی قیادت والی یو پی اے سرکار نے سچر کمیٹی کی اس 45 ویں سفارش کو نافذ ہی نہیں کیا ہے، ورنہ وہ اس پر اپنی طرف سے کوئی نہ کوئی دعویٰ ضرور پیش کرتی۔
سچر کمیٹی نے اپنی سفارش نمبر 46 میں کہا ہے کہ اعلیٰ تعلیم کے لیے ملک میں جتنے بھی لوگ اہلیت رکھتے ہیں، ان میں مسلمانوں کے مقابلے ایس سی ؍ ایس ٹی سے وابستہ طالب علموں کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ سرکار کو چاہیے کہ وہ ان کے اسباب کا پتہ لگا کر ان کا تدارک کرے۔ یو پی اے سرکار کا دعویٰ ہے کہ اس سلسلے میں نیشنل یونیورسٹی فار ایجوکیشنل پلاننگ اینڈ ایڈمنسٹریشن (این یو ای پی اے) کے ذریعے ایک اسٹڈی کرائی گئی تھی۔ این یو ای پی اے نے اپنی رپورٹ پیش کر دی ہے، جس پر وزارتِ فروغِ انسانی وسائل غور کر رہی ہے۔ بڑے افسوس کی بات ہے کہ یہ سب جانتے ہوئے کہ مسلمانوں کے تمام مسائل کی بنیادی وجہ ان کا تعلیمی میدان میں پیچھے ہونا ہے، یو پی اے سرکار ان کی تعلیمی پس ماندگی کو دور کرنے کے لیے سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کر رہی ہے اور کانگریس کی قیادت والی حکومت جان بوجھ کر مسلمانوں کو پچھڑا ہی دیکھنا چاہتی ہے۔ سرکار کو کم از کم اب تو یہ بتا دینا چاہیے کہ اسے کسی رپورٹ کو پڑھنے اور پھر اس پر کوئی فیصلہ سنانے میں پچاس سال چاہیے یا سو سال؟
سچر کمیٹی نے اپنی سفارش نمبر 47 میں کہا ہے کہ مدرسوں کی جدید کاری سے متعلق کسی اسکیم پر سرکار کو غور کرنا چاہیے۔ یو پی اے سرکار کا دعویٰ ہے کہ سچر کمیٹی کی اس سفارش کے تحت دو کام کیے جا رہے ہیں۔ پہلا کام تو یہ ہے کہ مدرسوں میں معیاری تعلیم فراہم کرنے کی اسکیم شروع کی جا چکی ہے اور دوسرا کام یہ ہے کہ امداد یافتہ اور غیر امداد یافتہ پرائیویٹ اقلیتی اداروں (بنیادی؍ سیکنڈری؍ سینئر سیکنڈری اسکولوں) میں بنیادی ڈھانچوں کو درست کرنے کی اسکیم چل رہی ہے۔ اس کے برعکس سچائی یہ ہے کہ یو پی اے سرکار کی یہ دونوں اسکیمیں ظاہری طور پر کہیں دکھائی نہیں دے رہی ہیں۔ مدرسوں میں تعلیم کا حال اور وہاں کا نصاب اب بھی وہی ہے، جو صدیوں پہلے تھا اور اقلیتوں کے ذریعے چلائے جارہے اسکولوں میں بنیادی ڈھانچے اب بھی ویسے ہی ہیں، جیسے پہلے تھے۔ ان اسکولوں میں اگر کوئی تعمیراتی کام ہو رہا ہے، تو وہ سرکار کی مدد سے نہیں، بلکہ مسلمانوں کی اپنی کوششوں سے ہو رہے ہیں۔ اس لیے یو پی اے سرکار کا یہ کہنا کہ مدرسوں میں معیاری تعلیم کے لیے وہ کچھ کر رہی ہے یا پھر اقلیتوں کے ذریعے چلائے جا رہے اسکولوں میں وہ کوئی مدد کر رہی ہے، سراسر جھوٹ ہے۔
سچر کمیٹی نے اپنی سفارش نمبر 48 میں کہا ہے کہ سرکار کو کوئی ایسی پالیسی وضع کرنی چاہیے، جس سے مسلمانوں اور دیگر مذہبی اقلیتوں کی تعلیمی پس ماندگی دور ہو سکے۔ اس کے لیے اسے پرائیویٹ سیکٹر اور رضاکارانہ تنظیموں کے ساتھ مل کر کام کرنا چاہیے۔ اس پر یو پی اے سرکار پوری طرح خاموش ہے۔ ظاہر ہے کہ اس نے اس سلسلے میں کوئی کام ہی نہیں کیا ہے، اس لیے اس کے پاس دعویٰ کرنے کے لیے بھی کچھ نہیں ہے۔ اس طرح دیکھا جائے تو یو پی اے سرکار نے سچر کمیٹی کی 48 ویں سفارش کو بھی نافذ نہیں کیا ہے۔
سچر کمیٹی نے اپنی سفارش نمبر 49 میں کہا ہے کہ مسلمانوں کے لیے بڑے پیمانے پر روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے لیے سرکار کو کپڑے کی صنعتوں، آٹو ری پیرنگ، الیکٹرک مشینری وغیرہ مینوفیکچرنگ سیکٹرس پر دھیان دینا چاہیے۔ یو پی اے سرکار نے اس نہایت اہم سفارش کو بھی نافذ نہیں کیا ہے۔ اگر اس نے اس پر تھوڑی بھی سنجیدگی دکھائی ہوتی، تو شاید مسلمانوں کی مالی حالت اس رپورٹ کے پیش ہونے کے سات سال بعد کچھ الگ ہوتی۔ مسلمان آج بھی روزگار کے میدان میں کافی پچھڑا ہوا ہے۔ سرکار کی طرف سے تھوڑی سی بھی پہل انہیں اپنے پیروں پر کھڑا کر سکتی تھی، لیکن کانگریس کو تو صرف ووٹوں سے مطلب ہے، مسلمانوں کی بے روزگاری سے نہیں۔
سچر کمیٹی نے اپنی سفارش نمبر 50 میں کہا ہے کہ ایسے مسلمانوں کی اس ملک میں تعداد کافی ہے، جو خود کے چھوٹے موٹے کاروبار میں لگے ہوئے ہیں۔ سرکار کو چاہیے کہ وہ ان مسلم کامگاروں کے لیے ہائی گروتھ والے سیکٹرس تلاش کرے اور انہیں کم ترقی والے شعبوں سے زیادہ ترقی والے شعبوں کی طرف لے جائے، تاکہ وہ اپنے پیروں پر کھڑے ہو سکیں اور مالی طور پر خود مختار ہو سکیں۔ یو پی اے سرکار نے اس سفارش کو بھی نافذ نہیں کیا ہے، اسی لیے وہ اس پر خاموش ہے اور اس کے پاس اس سے متعلق دعویٰ کرنے کے لیے کچھ بھی نہیں ہے۔
سچر کمیٹی نے اپنی سفارش نمبر 51 میں کہا ہے کہ مسلمانوں کو سیدھے طور پر سرکاری فنڈ مہیا کرایا جانا چاہیے اور ساتھ ہی ان پروگراموں کی تشہیر کی جانی چاہیے اور مسلمانوں کو اس بات کے لیے آمادہ کیا جانا چاہیے کہ وہ سرکاری مدد سے اپنا خود کا کاروبار کرنے کی جانب مائل ہوں۔ لیکن یو پی اے سرکار نے اس سفارش پر بھی عمل نہیں کیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مسلمانوں کی مالی خستہ حال اب تک دور نہیں ہو پائی ہے۔
سچر کمیٹی نے اپنی سفارش نمبر 52 میں کہا ہے کہ مسلمانوں کی غریبی میں کس حد تک کمی آئی ہے، اس کا ہر سال منظم طریقے سے پتہ لگایا جانا چاہیے۔ یو پی اے سرکار نے اس کام کو پلاننگ کمیشن کے سپرد کیا تھا، جس نے اس سلسلے میں تین ورکنگ گروپ قائم کیے تھے، جن میں سے ایک ورکنگ گروپ نے تو اپنی رپورٹ سرکار کو پیش کر دی تھی، لیکن بقیہ دو کی رپورٹ اب تک جمع نہیں ہوئی ہے۔ کل ملا کر یہی کہا جاسکتا ہے کہ یو پی اے سرکار نے اس سفارش پر بھی کوئی عمل نہیں کیا ہے۔ ملک کو ابھی تک معلوم ہی نہیں ہے کہ مسلمانوں کی غریبی کو دور کرنے کے لیے وزارتِ اقلیتی امور کی طرف سے جو کام ہو رہے ہیں، ان کا فائدہ مسلمانوں کو کتنا ملا ہے۔ اس کے بارے میں سرکار کے پاس نہ تو کوئی اعداد و شمار ہے اور نہ ہی ایسا کوئی طریق کار، جس سے یہ معلوم ہو سکے کہ مسلمانوں کی غریبی کم ہوئی بھی ہے یا نہیں۔ ظاہر ہے، سرکار نے اس پر سنجیدگی سے کام نہیں کیا ہے، اس لیے اس کے پاس یہ بتانے کے لیے کوئی تفصیل ہی نہیں ہے کہ مسلمانوں کی غریبی 2006 کے بعد سے اب تک کچھ کم ہوئی ہے۔
سچر کمیٹی نے اپنی سفارش نمبر 53 میں کہا ہے کہ مولانا آزاد ایجوکیشن فاؤنڈیشن کو مرکزی حکومت کی طرف سے دی جانے والی رقم بڑھا کر 1000 کروڑ روپے کر دینی چاہیے۔ اس پر یو پی اے سرکار کا دعویٰ ہے کہ مولانا آزاد ایجوکیشن فاؤنڈیشن کی رقم، جو دسمبر 2006 تک 200 کروڑ روپے تھی، اسے بڑھا کر 31 مارچ، 2012 تک 750 کروڑ روپے کیا جا چکا ہے۔ اس رقم کو اقلیتوں کے درمیان تعلیم کے فروغ سے متعلق اسکیموں اور پروگراموں پر خرچ کیا جاتا ہے۔ لیکن سرکار یہ بتانے سے قاصر ہے کہ مولانا آزاد فاؤنڈیشن کی رقم اردو اساتذہ کی تقرری میں کیوں خرچ نہیں کی جاتی، اردو میں نصابی کتابیں وقت پر کیوں دستیاب نہیں ہیں، ملک میں اردو میڈیم اسکول کیوں نہیں کھولے جا رہے ہیں؟ ظاہر ہے، جب سرکار یہ تمام کام نہیں کر پا رہی ہے، تو پھر مولانا آزاد فاؤنڈیشن کو قائم کرنے کا مقصد ہی فوت ہو جا تا ہے۔ صرف سیمینار کرا دینے اور کھانے پینے پر پیسہ خرچ کر دینے سے مسلمانوں کی تعلیمی ترقی ہر گز نہیں ہو سکتی۔ سرکار کو اس پر سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے۔
سچر کمیٹی نے اپنی سفارش نمبر 54 میں کہا ہے کہ مدرسوں کی جدید کاری پر خرچ ہونے والی رقم میں اضافہ کیا جانا چاہیے۔ یو پی اے سرکار کا دعویٰ ہے کہ اس نے مدرسوں میں معیاری تعلیم فراہم کرنے کے مقصد سے 2011-12 میں 5934 مدرسوں کے لیے 150 کروڑ روپے میں سے 139.53 کروڑ روپے جاری کیے، جب کہ اسی کام کے لیے بارہویں پنج سالہ منصوبہ کے تحت 900 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔ سرکار کے یہ دعوے اپنی جگہ، لیکن زمینی سطح پر ایسا کوئی کام مدرسوں میں ہوتا دکھائی نہیں دے رہا ہے۔
سچر کمیٹی نے اپنی سفارش نمبر 55 میں کہا ہے کہ قومی اقلیتی ترقیاتی و مالیاتی کارپوریشن یا نیشنل مائناریٹیز ڈیولپمنٹ اینڈ فائنانشیل کارپوریشن (این ایم ڈی ایف سی) کے فنڈ میں اضافہ کیا جانا چاہیے، تاکہ اس کے تمام مقاصد کو پورا کیا جا سکے۔ یو پی اے سرکار کا دعویٰ ہے کہ کنسلٹینسی مانیٹرنگ کمیٹی (سی ایم سی) کے ذریعے کنسلٹ فرم کی رپورٹ پر غور کیا گیا ہے اور اس کے بعد وزارتِ اقلیتی امور کے سکریٹری اور آر بی آئی و نبارڈ کے افسروں پر مشتمل ایک کمیٹی کی تشکیل کرکے اسے این ایم ڈی ایف سی کی از سرنو تشکیل کرنے کے لیے کہا گیا۔ اس کمیٹی کی رپورٹ کی بنیاد پر ایکس پینڈیچر فائنانس کمیٹی (ای ایف سی) کے لیے ایک میمورنڈم جاری کر دیا گیا ہے۔ لیکن سوال اب بھی وہی ہے کہ کام کب ہوگا؟
زمینی صورتِ حال یہ ہے کہ بینکوں سے مسلمانوں کو اب بھی قرض نہیں مل پا رہے ہیں اور مسلمان چاہ کر بھی مالی تنگی کے سبب اپنا خود کا کاروبار نہیں شروع کر پا رہے ہیں۔ اس کے لیے ذمہ دار تو کانگریس کی قیادت والی یو پی اے سرکار ہی ہے۔
مزیدار بات تو یہ ہے کہ یو پی اے سرکار نے اپنے دعووں کی اس فہرست میں سچر کمیٹی کی سفارش نمبر 56، 57 اور 58 کو ’گول‘ کر دیا ہے، یعنی ان تین سفارشوں کا کہیں کوئی ذکر نہیں ہے۔ لہٰذا اس کا پتہ لگانا بہت مشکل ہے کہ سچر کمیٹی نے اپنی ان تینوں ’گم شدہ‘ سفارشوں میں کیا کچھ کرنے کے لیے کہا تھا اور سرکار نے ان پر کیا عمل کیا۔ اس کے بعد کی جو سفارشات ہیں، وہ وقف املاک سے متعلق ہیں، جن کا تجزیہ اگلے شمارہ میں کیا جائے گا۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *