سچر کمیٹی کی سفارشات : مسلمانوں کی تعلیمی پسماندگی پر گمراہ کر رہی ہے سرکار

Share Article

ڈاکٹر قمر تبریز

کانگریس پارٹی نے تو حد ہی کر دی۔ وہ خود بھی جھوٹ بول رہی ہے اور اپنے وزیروں سے بھی جھوٹ بُلوا رہی ہے۔ مسلمانوں کو بیوقوف بنانے کے لیے اس نے اپنے مسلم وزیروں کو ہی جھوٹ بولنے کے کام میں لگا دیا ہے۔ کانگریس کے سب سے چالاک وزیر، یعنی وزیر برائے امورِ خارجہ سلمان خورشید جب وزارتِ اقلیتی امورکا قلمدان سنبھال رہے تھے، تو انہوں نے کہا تھا کہ سچر کمیٹی کی تمام سفارشات کو ان کی سرکار نے نافذ کر دیا ہے اور اب کانگریس کے ہی سب سے بے بس وزیر، یعنی مرکزی وزیر برائے اقلیتی امورکے رحمٰن خان کہہ رہے ہیں کہ ان کی سرکار نے سچر کمیٹی کی تین کو چھوڑ کر باقی تمام سفارشات کو نافذ کر دیا ہے۔ حالانکہ انہیں خود یہ معلوم نہیں ہے کہ سچر کمیٹی کی کل سفارشات کی اصل تعداد کیا ہے۔ چوتھی دنیا نے جب یو پی اے سرکار کے ان دعووں کی حقیقت کا پتہ لگانا شروع کیا، تو معلوم ہوا کہ سچر کمیٹی کی سفارشات کو نافذ کرنے سے متعلق سرکار کے زیادہ تر دعوے جھوٹے ہیں۔ ہم نے اب تک کی اپنی تحقیق سے یہ ثابت کیا ہے کہ سچر کمیٹی کی ابتدائی12 میں سے 5 سفارشیں نافذ نہیں ہوئی ہیں۔ یو پی اے سرکار نے سچر کمیٹی کی سفارش نمبر 13 اور 14 کو بھی نافذ نہیں کیا ہے۔ اس سلسلے میں سرکار کیسے جھوٹ بول رہی ہے، آئیے دیکھتے ہیں اس تفصیلی تجزیہ میں ……

p-3سچر کمیٹی نے اپنی رپورٹ میں مسلمانوں کی تعلیمی صورتِ حال کو بہتر بنانے پر سب سے زیادہ زور دیا ہے، کیوں کہ ہم سب اس بات سے واقف ہیں کہ تعلیم کے بغیر ترقی کا تصور بے معنی ہے۔ مسلمانوں کے ہر میدان میں پچھڑے ہونے کی بنیادی وجہ تعلیم سے ان کی دوری ہے، اسی لیے سچر کمیٹی نے یو پی اے سرکار کو مشورہ دیا تھا کہ وہ مسلمانوں کی تعلیمی پس ماندگی کو دور کرنے پر خاص توجہ دے، لیکن رپورٹ کو جمع کیے سات سال کا عرصہ گزر چکا ہے، لیکن مسلمانوں کی تعلیمی پس ماندگی اب تک دور نہیں ہو سکی ہے، جس کے لیے سیدھے طور پر موجودہ یو پی اے حکومت سب سے زیادہ ذمہ دار ہے، اس لیے کہ اس نے سچر کمیٹی کی سفارشات کو نافذ کرنے میں کبھی بھی سنجیدہ کا مظاہرہ نہیں کیا۔ الیکشن کا جب بھی وقت آتا ہے، تو کانگریس پارٹی سچر کمیٹی کے سفارشات کو نافذ کرنے سے متعلق جھوٹ بولتی ہے اور اس طرح مسلمانوں کو بیوقوف بناکر ان کا ووٹ حاصل کرنے کی کوشش کرتی ہے۔
سچر کمیٹی نے اپنی تحقیقات کی روشنی میں کہا تھا کہ پورے ملک میں 10 سال سے کم عمر کے بچوں کی آبادی 23 فیصد ہے اور اس عمر کے مسلم بچے کل آبادی کا 27 فیصد ہیں۔ سچر کمیٹی نے یہ بھی کہا تھا کہ چونکہ مسلمان غریب ہیں اور زیادہ تر مسلم فیملی ایک کمرے کے گھر میں رہتی ہے، لہٰذا اس عمر کے بچوں کو ایک کمرے کے گھر میں یکسوئی سے مطالعہ کرنے میں دقت پیش آتی ہے۔ لہٰذا، سچر کمیٹی نے اپنی سفارش نمبر 13 میں کہا تھا کہ سرکار کے لیے یہ نہایت ہی ضروری ہے کہ وہ طلبہ کے لیے لوکل کمیونٹی اسٹڈی سنٹرس بنائے، تاکہ یہ طالب علم ان مراکز پر چند گھنٹے یکسوئی کے ساتھ پڑھائی کر سکیں۔ ان مطالعاتی مراکز کی تعمیر میں سرکار کے ساتھ ساتھ رضاکارانہ تنظیمیں اور کارپوریٹ سیکٹر بھی اپنا اپنا تعاون پیش کر سکتے ہیں۔
اب جب کہ لوک سبھا انتخابات کے دن قریب آ رہے ہیں، مرکز میں بر سر اقتدار کانگریس کی قیادت والی یو پی اے سرکار اس سلسلے میں لگاتار جھوٹ بول رہی ہے اور مسلمانوں کے سامنے بڑے بڑے دعوے کر رہی ہے، لیکن زمینی سطح پر سرکار کے یہ دعوے کہیں پر بھی سچ ہوتے ہوئے دکھائی نہیں دے رہے ہیں۔ پورے ملک میں ہمیں کہیں پر بھی ایسے مطالعاتی مراکز نظر نہیں آ رہے ہیں، جہاں پر کہ مسلم بچے چند گھنٹے یکسوئی کے ساتھ اپنی پڑھائی کر سکیں۔ یو پی اے سرکار کی وزارتِ اقلیتی امور کی ویب سائٹ پر سچر کمیٹی کی اس تیرہویں سفارش کو نافذ کرنے سے متعلق کوئی ذکر نہیں ملتا۔
چوتھی دنیا یو پی اے سرکار اور اس کے وزیر برائے اقلیتی امور کے رحمن خان سے یہ پوچھنا چاہتا ہے کہ انہوں نے پورے ملک میں کتنے لوکل کمیونٹی اسٹڈی سنٹرس کھولے ہیں؟ اگر کھولے ہیں، تو ان کی تعداد کتنی ہے اور ان پر کتنے پیسے خرچ کیے گئے ہیں؟ اگر نہیں کھولے، تو اس کی وجہ کیا تھی اور پھر وہ جھوٹ کیوں بول رہے ہیں کہ انہوں نے سچر کمیٹی کی 76 میں سے تین کو چھوڑ کر باقی 73 سفارشات کو نافذ کر دیا ہے؟
دراصل، یو پی اے سرکار کا یہ پورا دعویٰ ہی، چند کو چھوڑ کر، پوری طرح جھوٹا ہے، اس لیے وہ اپنے جھوٹ کو چھپانے کے لیے مسلمانوں کو گمراہ کر رہی ہے اور پورے ملک میں سچر کمیٹی کی سفارشات کے نفاذ کے تعلق سے جھوٹے پروپیگنڈے کر رہی ہے اور اخبارات میں جھوٹے اشتہارات شائع کروا رہی ہے۔
سچر کمیٹی نے اپنی تیرہویں سفارش میں یہ بھی کہا تھا کہ مسلمانوں کی اکثریتی آبادی والے علاقوں میں ہائی کوالٹی سرکاری اسکول کھولے جانے چاہئیں، یعنی ایسے سرکاری اسکول کھولے جائیں، جہاں پر معیاری تعلیم کا انتظام ہو۔ یو پی اے سرکار کا دعویٰ ہے کہ اس نے ثانوی سطح پر معیاری تعلیم فراہم کرانے کے لیے ’راشٹریہ مادھیمک شکشا ابھیان‘ کو منظوری دی ہے، جس کے تحت مسلمانوں کی اکثریت والے علاقوں میں سرکاری اسکول کھولنے کو ترجیح دی گئی ہے۔ سرکار کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ ’راشٹریہ مادھیمک شکشا ابھیان‘ کے تحت 2009-10 سے لے کر جنوری 2012 تک پورے ملک میں 9670 نئے سیکنڈری اسکولوں کو کھولنے کی منظوری دی گئی، جن میں سے 7303 اسکول شروع ہو چکے ہیں۔ ان میں سے 906 اسکولوں کو مسلم اکثریتی علاقوں میں کھولنے کی منظوری دی گئی اور 31 جنوری، 2012 تک ان میں سے 461 اسکولوں نے اپنا کام کرنا شروع کر دیا ہے۔ یہ وہ اعداد و شمار ہیں، جن میں سرکار مسلمانوں کو الجھا دینا چاہتی ہے۔ بات کہی گئی تھی معیاری تعلیم کی اور سرکار دعویٰ کر رہی ہے ثانوی سطح کے اسکول کھولنے کی۔ ان سرکاری اسکولوں کا سچ یہ ہے کہ یہاں پر تعلیم حاصل کرنے والے آٹھویں کلاس تک کے بچوں کو اپنے ہی ملک کے وزیر اعظم کا نام معلوم نہیں ہے۔ اسی سے آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ یہ سرکاری اسکول کتنے معیاری ہیں اور ان سرکاری اسکولوں میں پڑھنے والے بچوں کا مستقبل کتنا تابناک ہے۔
اپنی اسی سفارش نمبر 13 میں سچر کمیٹی نے یہ بھی کہا تھا کہ لڑکیوں کے لیے الگ سے اسکول کھولے جائیں، خاص کر نویں سے لے کر بارہویں کلاس تک کی تعلیم کے لیے، تاکہ مسلم لڑکیوں کی اسکولی تعلیم میں بڑے پیمانے پر حصہ داری کو یقینی بنایا جا سکے۔ ہم سب جانتے ہیں کہ ملک کے دور دراز کے گاؤوں میں لڑکیوں کی شادی عام طور پر 15 سے 20 سال کی عمر میں کر دی جاتی ہے۔ یہ رجحان مسلمانوں میں بھی پایا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ پچھڑے علاقوں میں چونکہ لوگ اس عمر کی لڑکیوں کو پردے میں رکھناچاہتے ہیں، اس لیے انہیں اس عمر میں اسکول بھیجنے سے کتراتے ہیں۔ اس کے علاوہ اکثر یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ سرکاری اسکولوں میں بیت الخلاء (Toilets) کا صحیح انتظام نہیں ہوتا۔ یہی وجہ ہے کہ آٹھویں کلاس کے بعد عام طور پر لڑکیاں اپنی تعلیم کا سلسلہ ترک کر دیتی ہیں اور پھر یا تو ان کی شادی کر دی جاتی ہے یا پھر وہ گھریلو کام کاج میں اپنے ماں باپ کا ہاتھ بٹانے لگتی ہیں۔
سچر کمیٹی نے خاص کر مسلم لڑکیوں کے ڈراپ آؤٹ کی اسی بڑی تعداد کو مد نظر رکھتے ہوئے، سرکار سے کہا تھا کہ وہ مسلم لڑکیوں کے لیے الگ سے اسکولوں کی تعمیر کرائے۔ لیکن افسوس کہ سرکار نے اس پر بھی کوئی خاص سنجیدگی نہیں دکھائی، حالانکہ اس کا دعویٰ ہے کہ سرو شکشا ابھیان کے تحت اس نے 31 مارچ، 2012 تک مسلمانوں کی بڑی آبادی والے علاقوں میں 1002 کستوربا گاندھی بالیکا وِدیالیہ (کے جی بی وی) کھولنے کو منظوری دے دی تھی۔ اگر سرکار نے واقعی ایسا کیا تھا، تو اسے یہ بھی بتانا چاہیے کہ اب تک ان میں سے کتنے اسکول کھولے جا چکے ہیں اور ان میں کتنی مسلم لڑکیاں تعلیم حاصل کر رہی ہیں؟ صرف حکم نامہ جاری کردینے سے تو کام نہیں چلتا، بلکہ اس حکم نامہ پر عمل ہو بھی رہا ہے یا نہیں، اسے چیک کرنے کی ذمہ داری بھی تو سرکار کی ہی ہے۔ لڑکیوں کے لیے الگ سے اسکول کھولنے کے علاوہ سچر کمیٹی نے یہ بھی کہا تھا کہ کو ایجوکیشن اسکولوں میں، یعنی جن اسکولوں میں لڑکے اور لڑکیاں ایک ساتھ تعلیم حاصل کر رہے ہیں، وہاں پر زیادہ سے زیادہ خواتین ٹیچرس کی تقرری کی جانی چاہیے، لیکن سرکار اس بات کو گول کر گئی۔ اس نے اپنے دعویٰ میں یہ نہیں بتایا ہے کہ ملک میں کن کن جگہوں پر کو ایڈ (Co-Ed) اسکولوں میں خواتین ٹیچرس کی تقرری کو منظوری دی ہے۔
ہمارے ملک کے آئین نے ہر شہری کو ابتدائی تعلیم اپنی مادری زبان میں حاصل کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے، لیکن ملک کی سرکاریں ہیں، جو آئین کی طرف سے عطا کی گئی اس نعمت کو ہم سے چھیننے پر تلی ہوئی ہیں۔ ملک کے زیادہ تر مسلمان اردو کو اپنی مادری زبان تصور کرتے ہیں، لیکن چونکہ سرکاروں نے ان کی ابتدائی تعلیم کا انتظام اردو میں نہیں کیا ہے، اس لیے وہ دوسری زبانوں میں تعلیم حاصل کرنے پر مجبور ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ملک کے ان تمام علاقوں سے دھیرے دھیرے اردو ختم ہوتی جا رہی ہے، جہاں پر کسی زمانے میں اردو زبان نے انقلاب برپا کیا تھا۔ سچر کمیٹی نے سرکار سے کہا تھا کہ وہ فوری طور پر پورے ملک میں اردو بولنے والی آبادی کا پتہ لگائے اور پھر ان جگہوں پر اردو میں پرائمری ایجوکیشن کا انتظام کرے، لیکن افسوس کہ کانگریس کی سرکاروں نے پورے ملک سے اردو کو ختم کرنے میں ایک بڑا رول ادا کیا اور حالت یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ جہاں جہاں اردو میڈیم سرکاری اسکول ہیں، وہ سرکاروں کی اندیکھی کی وجہ سے ختم ہونے کے دہانے پر پہنچ چکے ہیں۔
خود راجدھانی دہلی میں، جہاں پر کہ کانگریس کی سرکار ہے، وہاں پر بہت سے اردو میڈیم اسکول دھیرے دھیرے دَم توڑتے جا رہے ہیں، کیوں کہ اسکول ہیں تو ٹیچر نہیں، ٹیچر ہیں تو کتابیں نہیں۔ اردو ٹیچروں کی بحالی نہیں ہو رہی ہے۔ این سی ای آر ٹی میں اردو کی چھ پوسٹوں کو اردو دشمنی اور تعصب کی بناپر ختم کر دیا گیا، جس سے وہاں وقت پر اردو میں کتابیں تیار نہیں ہو پا رہی ہیں۔ ظاہر ہے کہ جب ٹیچر اور کتابیں ہی نہیں ہوں گی، تو پھر اردو کو اپنی مادری زبان کہنے والے بچے اپنا آئینی حق کیسے حاصل کر پائیں گے۔ اس لیے کانگریس کی قیادت والی یو پی اے سرکار چاہے جتنا دعویٰ کر لے، اسے تو جھوٹ ہی کہا جائے گا۔
اگر کانگریس سرکار واقعی سنجیدہ ہے، تو اسے فوری طور پر این سی ای آر ٹی میں اردو کی خالی پڑی پوسٹوں پر نئے اسٹاف کی بحالی کرنی چاہیے اور ملک بھر میں اردو میڈیم کے نئے پرائمری اسکول کھولنے کے ساتھ ساتھ ان اسکولوں میں اردو ٹیچرس کی بھی تقرری بڑے پیمانے پر کرنی چاہیے، صرف اتنا کہہ دینے سے کام نہیں چلے گا کہ وزارتِ فروغِ انسانی وسائل نے ریاستی حکومتوں کو یہ ہدایت جاری کر دی ہے کہ کستوربا گاندھی بالیکا وِدیالیوں میں اردو کو ذریعہ تعلیم بنایا جائے اور وہاں پر اردو ٹیچرس کی بحالی کی جائے۔ یہ بات بھی سمجھ سے پرے ہے کہ یو پی اے سرکار صرف مسلم لڑکیوں کو ہی اردو میڈیم میں تعلیم دینے پر کیوں زور دے رہی ہے اور مسلم لڑکوں کو ان کے اس آئینی حق سے کیوں محروم کر رہی ہے۔ وزارتِ فروغِ انسانی وسائل کے محکمہ تعلیم کو اگر ریاستی حکومتوں کو اردو کے تعلق سے ہدایت دینی ہی تھی، تو اسے یہ کام مسلم لڑکے اور لڑکیوں دونوں کے لیے ہی دینی چاہیے تھی۔
مسلمانوں کی تعلیمی پس ماندگی کو دور کرنے کے حوالے سے سچر کمیٹی نے ایک اور اہم سفارش منموہن سرکار سے کی تھی۔ اس نے اپنی سفارش نمبر 14 میں کہا تھا کہ چونکہ ملک بھر میں زیادہ تر مسلم لڑکے اور لڑکیاں میٹرک (ہائی اسکول) امتحان میں فیل ہو جاتے ہیں یا پھر اس سے پہلے ہی اسکول کو چھوڑ دیتے ہیں، اس لیے ان کی آگے کی پڑھائی کا انتظام کرنے کے لیے سرکار کو چاہیے کہ وہ ان مسلم لڑکے، لڑکیوں کے لیے مختلف قسم کی ٹیکنیکل ٹریننگ کا انتظام کرے۔ کمیٹی نے اس سلسلے میں سرکار کے سامنے یہ دلیل پیش کی تھی کہ دورِ حاضر میں بازار میں مینوفیکچرنگ اور سروِس سیکٹرس کی مانگوں میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ ان دونوں ہی سیکٹرس میں کام کرنے والوں کا زیادہ پڑھا لکھا ہونا ضروری نہیں ہے۔ لہٰذا، ان تیزی سے بڑھتی ہوئی مانگوں کو پورا کرنے کے لیے اگر سرکار آئی ٹی آئی (انڈسٹریل ٹریننگ انسٹیٹیوٹس) اور پولی ٹیکنک میں داخلہ کی لیاقت کو میٹرک یا ہائی اسکول سے گھٹاکر مڈل اسکول، یعنی آٹھویں کلاس تک کردے، تو اس سے دونوں ہی مسائل حل ہو سکتے ہیں، یعنی ایک طرف جہاں مسلم لڑکے، لڑکیوں کو آٹھویں کلاس کے بعد اپنی تعلیم کو جاری رکھنے کا موقع حاصل ہو جائے گی، وہیں مینوفیکچرنگ اور سروِس سیکٹر کی تیزی سے بڑھتی ہوئی مانگوں کو بھی پورا کیا جاسکتا ہے۔یہی نہیں، سچر کمیٹی نے ٹیکنیکل ٹریننگ کے اس زمرے میں مدرسہ سے تعلیم حاصل کر چکے لڑکے، لڑکیوں کو بھی شامل کرنے کی سفارش کی تھی، لیکن افسوس کہ سچر کمیٹی کی اس سفارش کو بھی نافذ نہیں کیا جا سکا۔ سرکار نے اس سچر کمیٹی کی اس چودہویں سفارش کو تسلیم کرنے سے صاف انکار کر دیا، یہ جانتے ہوئے کہ ملک کی زیادہ تر گھریلو صنعتوں میں مسلمانو ںکا ہی دبدبہ رہا ہے اور اگر سرکار ان کی ٹیکنیکل ٹریننگ کا انتظام کر دیتی ہے، تو ان کے بعض ہنر میں چار چاند لگ جائیں گے اور اس سے بہت حد تک ان کی مالی پس ماندگی دور ہو جائے گی۔
اس سے تو یہی نتیجہ نکالا جاسکتا ہے کہ کانگریس پارٹی اور اس کی قیادت والی مرکزی حکومت یا پھر مختلف ریاستوں میں برسر اقتدار کانگریس سرکاریں جان بوجھ کر مسلمانوں کو پس ماندہ ہی بنے رہنے دینا چاہتی ہیں، تاکہ انہیں ڈرا دھمکاکر اور انہیں بیوقوف بناکر ان کا ووٹ حاصل کیا جاتا رہے، جیسا کہ ملک میں گزشتہ 66 برسوں سے ہوتا چلا آرہا ہے۔ کانگریس پارٹی جانتی ہے کہ جس دن مسلمانوں کو یہ معلوم ہوگیا کہ ان کی پس ماندگی کے لیے سب سے زیادہ ذمہ دار کانگریس پارٹی ہی ہے، اسی دن وہ اس پارٹی سے اپنا ناطہ توڑ لیں گے، اس لیے پارٹی کی بھلائی اسی میں ہے کہ ہندوستان کا مسلمان دلتوں سے بھی بدتر زندگی گزارے۔ اب یہ فیصلہ تو مسلمانوں کو ہی کرنا ہے کہ چند ماہ بعد ملک میں ہونے والے لوک سبھا انتخابات میں وہ کانگریس کو ہی ووٹ دے کر اپنی اس بدحالی اور پس ماندگی کو ایک بار پھر اگلے پانچ سالوں تک برقرار رہنا دینا چاہتے ہیں یا پھر کانگریس کے تئیں اپنی غلامی کی روایت کو توڑ کر کسی اور متبادل کی تلاش کرتے ہیں۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *