سچائی پر پردہ ڈالنے کی سماج وادی سازش

Share Article

اجے کمار
p-9اتر پردیش کا بگڑا قانون و نظام کہیں سماج وادی سرکار کے لئے عدم استحکام کا سبب نہ بن جائے۔یہ فکر سماج وادی تھِنک ٹینک کو اندر ہی اندر کھوکھلا کیے جارہی ہے۔محض دو یا سوا دوبرسوں میں اکھلیش سرکار کے اوپر ناکامی کا ایسا ٹھپہ لگ گیا ہے، جسے مٹانا ناممکن نہیں تو مشکل ضرور ہے۔ خواتین کے استحصال اور عصمت دری جیسے تمام حادثات سے ریاستی سرکارپہلے سے ہی متزلزل تھی ،اسی بیچ چیکنگ کرتے پولیس والوں کو کار جیپ سے کچل کر مار دینے کی کوشش، تین بی جے پی لیڈروں کا قتل، فیروز آباد میں دو پولیس والوں کو بدمعاشوں کے ذریعہ گھات لگا کر موت کے گھاٹ اتار دیے جانے جیسے حادثوں کی وجہ سے پانی سر سے اونچا جاتا دکھ رہا ہے۔ مرکز کی بی جے پی سرکار اور اتر پردیش سے انتخاب جیت کر وزیر بنے راجناتھ سنگھ، اوما بھارتی اور کلراج مشرا کے ذریعہ ریاست کے حالات پر لگاتار سخت ریمارکس کی وجہ سے سیاسی پارا چڑھا ہوا ہے۔
ریاست کے سابق وزیر اعلیٰ اور اب مرکز میں وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ کہتے ہیں کہ وزارت داخلہ اتر پردیش میں قانون و نظام کی صورت حال سے فکرمند ہے۔ہم وہاں کے حالات پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔ ریاستی سرکار کے لئے یہ وقت سخت امتحان کا ہے، جس میں اسے کچھ کرکے دکھانا ہوگا۔ سماج وادی پارٹی کو اچھی طرح پتہ ہے کہ عوام کی توقعات پر کھرا اترنے کے علاوہ اب اس کے پاس کوئی متبادل نہیں بچا ہے، کیونکہ مرکز میں کانگریس کے دبنے اور بی جے پی کے ابھرنے کے ساتھ ہی پورے ملک کے ساتھ ساتھ اتر پردیش کی پالیسی میں ذاتی واد کا دور حاشئے پر پہنچ گیا ہے۔ جس کی بنیاد پر سماج وادی پارٹی اور بہو جن سماج پارٹی جیسی علاقائی پارٹیاں کئی بار اقتدار کی سیڑھیاں چڑھنے میں کامیاب ہوچکی ہیں۔پوری ریاست میں قانون و نظام کو لے کر بے چینی مچی ہوئی ہے۔ کئی ضلعوں کے عوام بغاوت کے تیور اپنائے ہیں۔ وزیر اعلیٰ اکھلیش یادو میڈیا کو صفائی دیتے دیتے تھک گئے، تو انہوں نے اب اس مسئلے پر بات کرنا ہی چھوڑ دیا ہے۔ وہیں سماج وادی پارٹی کے سینئر لیڈر اور راجیہ سبھا کے ممبر نریش اگروال ریاست کے بگڑے ہوئے حالات پر تشویش کے بجائے میڈیا کی شفافیت پر سوال اٹھا رہے ہیں۔ ان کا یہ کہنا کہ اتر پردیش سے زیادہ جرائم مدھیہ پردیش،دہلی اور گجرات میں ہور رہے ہیں، لیکن وہاںکے واقعات کو نہیں اچھالا جا رہا ہے، ان کی سوچ کو اجاگر کرتا ہے۔وہ اپنے دامن کے داغ دوسروں کے چھینٹوں سے دھونا چاہتے ہیں۔ لیکن نریش اگروال یا ان کے جیسے دیگر بڑے لیڈروں کے پاس اس بات کا کوئی جواب نہیں ہے کہ سماج وادی پارٹی ذاتی واد کی سیاست سے باہر کیوں نہیں آپارہی ہے۔ اتر پردیش میں 1560 تھانے ہیں، جن میں سے آدھے سے زیادہ تھانوں کی کمان یادوئوں کے پاس ہے۔سرکار پولیس اور انتظامیہ افسروں کے سہارے قانون و نظام سدھارنا چاہتی ہے، لیکن کسی بھی آفیسر کو کہیں ایک جگہ ٹک کر کام کرنے کا موقع نہیں دیا جاتا ہے۔ اکھلیش نے اپنے تقریباً دو برس کے دور حکومت میں تبادلوں کا ریکارڈ بنا لیا ہے۔ شاید ہی کوئی پولیس یا ایڈمنسٹریٹیو آفیسر ہوگا جو سال چھ مہینے کہیں ٹک پایا ہو۔ سماج وادی پارٹی سوا دو سال کے دور حکومت میں آئی اے ایس، پی سی ایس اور پی پی ایس درجے کے تقریباً 2900 افسروں کو ادھر سے ادھر کیے جا چکے ہیں۔ ہر ماہ اوسطاً110 افسروں کو تبادلے کی مار جھیلنی پڑی۔
تمام یقین دہانیوں،تبادلوں، سخت ہدایتوں و حکموں کے باوجود اتر پردیش میں قانون و نظام کی صورت حال بہتر بنانے کے بجائے لگاتار بگڑتی جارہی ہے۔ اس کا نتیجہ ہے کہ فیروز آباد میں دو پولیس والوں کے قتل جیسے حادثے مجرموں کے حوصلے بڑھاتا ہے۔سب سے حیرت کی بات یہ ہے کہ پولیس ملازمین کے قتل کے بعد ان کے رشتہ داروں نے اس کے لئے پولیس افسروں کو ہی ذمہ دار ٹھہرایا ہے۔ اس الزام میں کتنی سچائی ہے، یہ تو جانچ کے بعد ہی پتہ چلے گا،لیکن جن پر الزام لگائے گئے تھے، انہیں معطل کیا جانا اس بات کو بتاتا ہے کہ الزام پوری طرح بے بنیاد نہیں ہے۔ ریاست کے قانون و نظام سوالوں کے گھیرے میںہے۔ باوجود اس کے ریاستی سرکار قانون و نظام کی بگڑتی صورت حال قبول کرنے کے بجائے مخالف پارٹیوں اور میڈیا پر نشانہ لگانے میں لگی ہوئی ہے۔ وہ اپنا رویہ بدلنے کے لئے تیار نہیں ہے۔سماج وادی پارٹی کے ایک چیف سکریٹری بیان دے رہے ہیں کہ اتر پردیش کے حادثوں پر میڈیا کی دلچسپی مرکزی سرکار کی منظم سازش کا حصہ ہے۔ سماج وادی پارٹی لیڈروں کی دلیل ہے کہ اگر دیگر ریاستوں کے جرائم کے اعداد و شمار دیکھے جائیں تو اتر پردیش تیسرے چوتھے نمبر پر آتاہے۔ سماج وادی پارٹی کو سمجھنا چاہئے کہ ایسی دلیل دے کر سچائی پر پردہ نہیں ڈالا جاسکتا ہے۔عوام سب سمجھتے ہیں۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو لوک سبھا انتخاب میں سماج وادی پارٹی کو سخت ہار کا سامنا نہ کرنا پڑتا۔
اتر پردیش سرکار چاہے جو دعویٰ کرے،لیکن سچائی یہی ہے کہ ریاست میں ایک طرف جرائم کے معاملے بڑھتے جارہے ہیں، وہیں دوسری طرف پولیس کے اوپر الزام بھی لگ رہے ہیں کہ وہ رپورٹ لکھنے کے معاملے میں کافی غفلت برتتی ہے۔ تھانوں میں رپورٹ درج کرانا ٹیڑھی کھیر ہے۔ متأثرین خاکی وردی کے پاس جانے تک سے ڈرتے ہیں، رپورٹ درج کرانے کی بات تو دور رہی، افسوس کی بات یہ بھی ہے کہ زیادہ تر حادثوں میں قانون و نظام کو چیلنجز سماج وادی پارٹی لیڈروں ، کارکنوں اور ان کے حامیوں سے ہی مل رہی ہے۔ ماضی میں اس سچائی کو خود سماج وادی پارٹی کے بڑے لیڈر بھی قبول کر چکے ہیں۔ کوئی نہیں جانتا کہ اکھلیش سرکار ایسے حقائق کے خلاف سخت کارروائی کرنے میں کامیاب کیوں نہیں ہے؟اس سلسلے میں بی جے پی کے ایک بڑے لیڈر کے ریمارکس اجاگر کرنا ضروری ہے، جن کا کہنا ہے کہ اگر سماج وادی پارٹی سے غنڈے نکال دیے جائیں گے تو پھر پارٹی ہی نہیں بچے گی۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *