سب سے زیادہ پھانسی کی سزا مسلم ملکوں میں دی جاتی ہے۔

Share Article

p-8cموت کی سزا پر روک لگانے کے لئے انسانی حقوق کے لئے کام کرنے والی تنظیموں کی طرف سے مانگیں کی جاتی ہیں مگر اب تک ان مانگوں پر کئی ملکوں میں کوئی عمل نہیں ہورہا ہے ۔ ان ملکوں میں کچھ ایسے ہیں جہاں مجرم کو پھانسی کے پھندے پر لٹکاکر سزا دی جاتی ہے۔حیرت کی بات یہ ہے کہ جن ملکوں میں سب سے زیادہ پھانسی کی سزا سنائی گئی ہے ان میں مسلم ممالک سب سے آگے ہیں۔ البتہ چین کے بارے میں کوئی حتمی معلومات نہیں ہیں کہ وہاں کتنے لوگوں کو موت کی سزا دی گئی اور ان میں سے کتنے کو پھانسی پر لٹکا کر موت کے گھاٹ اتارا گیا۔ کیونکہ چین میں موت کی سزا کو خفیہ رکھا جاتا ہے۔

حقوق انسانی کی بین الاقوامی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اپنی ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ دنیا بھر میں پھانسیاں دینے کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے اور 1989 کے بعد کسی بھی سال اتنے لوگوں کو پھانسی نہیں دی گئی جتنی کہ گزشتہ برس دی گئی ہے۔تنظیم کی جانب سے پھانسی کی سزا کے بارے میں جاری ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق 2015 میں کم از کم 1634 افراد کو پھانسی دی گئی جو کہ اس سے قبل والے سال کے مقابلے میں 50 فیصد سے بھی زیادہ ہے۔ایمنسٹی کے مطابق دنیا میں دی جانے والی پھانسیوں میں ایران، سعودی عرب اور پاکستان کا حصہ 89 فیصد ہے۔تنظیم کا کہنا ہے کہ اس رپورٹ میں چین میں دی جانے والی پھانسیوں کا ذکر نہیں اور امکان ہے کہ مجموعی تعداد میں ہزاروں کا اضافہ ہو کیونکہ چین میں پھانسیوں کے ریکارڈ کو خفیہ رکھا جاتا ہے۔ایمنسٹی کے مطابق چین اب بھی پھانسی دینے والے ممالک میں سرفہرست ہے۔ اندازے کے مطابق 2015 میں ہزاروں افراد کو موت کی سزا دی گئی جبکہ دیگر ہزاروں کو موت کی سزا سنائی گئی۔ایمنسٹی کے مطابق ایسے اشارے ملے ہیں کہ چین میں حالیہ برسوں موت کی سزا دینے میں کمی آئی ہے ،لیکن سزائے موت کو خفیہ رکھنے کی وجہ سے یقینی طور پر اس کی تصدیق کرنا ناممکن ہے۔
رپورٹ کے مطابق ایران میں گذشتہ برس 977 افراد کو پھانسی دی گئی اور ان میں سے اکثریت کو منشیات سے متعلق جرائم کے لیے پھانسی دی گئی جبکہ 2014 میں 743 افراد کو پھانسی دی گئی تھی۔پاکستان میں 326 افراد کی پھانسی کی سزا پر عمل درآمد کیا گیا اور یہ ملکی تاریخ میں ایک برس میں دی جانے والی سب سے زیادہ پھانسیاں ہیں۔ایمنسٹی کا کہنا ہے کہ دسمبر 2014 میں شہریوں کی پھانسیوں پر سے قانونی مہلت کے ہٹنے کے بعد سے پاکستان میں ’حکومت کی منظوری سے پھانسی دینے کا دور‘ چل پڑا ہے۔۔سعودی عرب میں 2014 کے مقابلے میں 2015 میں موت کی سزا دینے میں 76 فیصد اضافہ ہوا اور 158 افراد کو موت کی سزا دی گئی۔قابل ذکر ہے کہ سعودی عرب میں زیادہ تر کے سر قلم کیے گئے جبکہ بعض کی سزا پر فائرنگ سکواڈ کے ذریعے عمل درآمد کیا گیا اور بعض اوقات لاشوں کو عوامی مقامات پر بھی دکھایا گیا۔
موت کی سزا دینے والا پانچوں بڑا ملک امریکہ ہے جہاں 2015 میں 28 افراد کو موت کی سزا دی گئی اور یہ تعداد 1991 کے بعد سب سے کم ہے۔ایمنسٹی کے سیکریٹری جنرل سلیل شیٹی نے کہا ہے کہ ’پھانسیوں میں گزشتہ سال اضافہ انتہائی پریشان کن ہے۔’گزشتہ 25 برسوں کے درمیان کبھی بھی دنیا بھر میں حکومتوں نے اتنے لوگوں کو پھانسیاں نہیں دی تھیں۔
مسٹر شیٹی نے ’ذبح کیے جانے‘ کے خاتمے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ 2015 میں حکومتوں نے اس غلط مفروضے کی بنیاد پر لوگوں کو ان کی زندگیوں سے بے رحمی کے ساتھ جدا کرنے کا سلسلہ جاری رکھا کہ پھانسی دیے جانے سے دنیا زیادہ محفوظ ہو جائے گی۔
یہ ممالک بطور نمونہ پیش کئے گئے ہیں ورنہ دنیا بھر میں کئی ایسے ممالک ہیں جہاں پھانسی پر لٹکاکر موت کی سزا دینے کا سلسلہ جاری ہے۔ ان ملکوں میں ہمارے پڑوسی ملک بنگلہ دیش بھی شامل ہے جہاں حالیہ کچھ برسوں کے اندر وہاں کی حکومت نے اپنے سیاسی حریف اور 1971 میں تقسیم پاکستان کو لے کر مجرم ٹھہرائے گئے کئی سیاسی لوگوں کو پھانسی پر لٹکایا ہے۔ بہر کیف حقوق انسانی تنظیموں کی طرف سے مخالفت کے باجوود پھانسی کی سزا متعدد ملکوں میں جاری ہے۔حقوق انسانی کے لئے کام کرنے والی تنظیموں کا کہنا ہے کہ مجرموں کو بھی زندہ رہنے کا حق ہے لہٰذا انہیں موت کی سزا کے بجائے عمر قید کی سزا دی جائے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *