p-9bکچھ دنوں پہلے سپریم کورٹ نے ملک کی سیاست کو جرائم سے پاک کرنے کے لیے ایک اہم فیصلہ دیا تھاتو یکبارگی ایسا لگاتھا کہ مستقبل قریب میں سیاست سے جرم کا سایہ مٹ نہیں سکا، تو سمٹ ضرور جائے گا۔ تمام پارٹیوں کے بڑے لیڈروں نے سپریم کورٹ کے حکم کا تہہ دل سے خیر مقدم کیا۔ دو ارکان پارلیمنٹ لالو یادو اور رشید مسعودکی رکنیت بھی چلی گئی۔ مگر قتل، لوٹ، فساد جیسے سنگین مجرمانہ معاملوں میں ملوث کئی دبنگ ایک بار پھر لوک سبھا چناؤ کے سمر میں دستک دینے کی تیاری میں ہیں۔ اصولوں کی بات کرنے والی کئی پارٹیاں انھیں اپنی جانب کھینچنے کو بیتاب ہیں۔ سب کی کوشش سیٹیں بڑھانے کیہے۔ کئی دبنگ ایسے بھی ہیں، جو بڑی پارٹیوں سے موقع نہ ملنے پر علاقائی پارٹیوں کے سہارے پارلیمنٹ میں دستک دینا چاہتے ہیں۔
وارانسی میں دبنگ مختار انصاری کے انتخاب لڑنے کا چرچا ہے، تو نیپال کی سرحد سے ملحق ترائی کی شراوستی لوک سبھا سیٹ سے دو دبنگ ایک دوسرے کے خلاف تال ٹھونکنے کو تیار ہیں۔الہ آباد کی پھول پور سیٹ سے پارلیمنٹ کاسفر کر چکے دبنگ عتیق احمد بی ایس پی کے راج میں بھاگے بھاگے گھوم رہے تھے، لیکن جیسے ہی ایس پی کا راج آیا، وہ تال ٹھونکنے لگے۔ ایس پی نے عتیق احمد کو آخر کار شراوستی سے میدان میں اتار دیا۔ ادھر بلرامپورسے ممبر آف پارلیمنٹ رہے رضوان ظہیر کو گونڈہ سے بی ایس پی کا ٹکٹ نہیں ملا، تو رضوان پیس پارٹی میں چلے گئے اور شراوستی سے عتیق کے خلاف تال ٹھونکنے لگے۔ ایس پی اور بی ایس پی میں رہ چکے رضوان کا نیا ٹھکانا پیس پارٹی ہے۔
رام مندر آندولن سے سرخیاں بٹورنے والے دبنگ برج بھوشن شرن سنگھ آج کل اپنے پرانے گھر بی جے پی میں تال ٹھونک رہے ہیں۔ ایس پی سے ہوتے ہوئے بی جے پی میں آئے برج بھوشن کے لیے ان کی پرانی پارٹی نے نہ تو دروازے کھولنے میں دیر کی اور نہ ہی ٹکٹ دینے میںجھجک محسوس کی۔ ایس پی کا ٹکٹ ٹھکرا کر بی جے پی میں آئے برج بھوشن کو راجناتھ کا اعتماد حاصل ہے، وہ علاقائی لابی کو مضبوط کرنے کے لیے برج کو بی جے پی میں لائے تھے۔ برج بھوشن شرن سنگھ، مافیاہونا اپنی شان سمجھتے ہیں، وہ یہاں تک کہہ چکے ہیں کہ میں مافیا ہوں، گاندھی کیسے ہو سکتا ہوں، میرے خلاف چالیس کیس درج ہیں۔ وہ بلرامپورپارلیمانی حلقہ سے میدان میں ہیں۔
قتل و لوٹ پاٹ جیسے سنگین الزام میں جیل کی یاترا کر چکے اور معافی کی اپیلپر جیل سے باہر آئے دبنگ لیڈر متر سین یادو فیض آباد لوک سبھا سیٹ سے اپنی طاقت کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔ وہ ایس پی کی سائیکل کے سہارے پارلیمنٹ پہنچنا چاہتے ہیں۔متر سین یادو بی ایس پی میں بھی رہ چکے ہیں۔ کانٹے سے کانٹا نکالنے کے طرز پر بی ایس پی نے متر سین کے خلاف کانگریس کی سابق ریاستی صدر ریتا بہو گنا جوشی کا گھر جلانے کے ملزم سابق ایم ایل سی جتندر سنگھ عرف ببلو کو اتارا ہے۔ ببلو پر الزام ہے کہ اس نے بی ایس پی راج میں اپنے ساتھیوں کے ساتھ ریتا بہوگنا جوشی کی رہائش پر آتشزنی اور لوٹ پاٹ کی تھی۔
ایسا لگتا ہے کہ پوروانچل کی سیاست دبنگوں کو خوب راس آتی ہے۔ سابق ایم ایل اے کرشنا نند رائے قتل کیس سمیتکئی معاملوں کے ملزم ایم ایل اے مختار انصاری وارانسی سے تو ان کے بھائی افضال انصاری بلیا سے تال ٹھونک رہے ہیں۔دبنگ ڈی پی یادو اور ان کی بیوی، بی ایس پی سے نکالے گئے دھننجے سنگھ، لکھنؤ کے ارون شکلا عرف انّا، ان سبھی کی چاہت سفید پوش ہونے کی ہے۔ مختار سے لے کر ڈی پی یادو تک قومی ایکتا دل والے اتحاد کے ذریعہ پارلیمنٹ میں اپنی آواز بلند کرنا چاہتے ہیں۔ طویل وقت سے جیل میں بند مختار کئی پارٹیوں کا دامن تھام چکے ہیں۔ پچھلا الیکشن وہ وارانسی سے بی ایس پی کے ٹکٹ سے لڑے تھے، لیکن جیت نہیں پائے۔ اس کے بعد مختار کو باہر کا راستہ دکھا دیا گیا ، آخر کہیں جُگاڑ فٹ نہ ہونے کے سبب مختار نے اپنی سیاسی پارٹی ہی کھڑی کر لی۔ وہ ’قومی ایکتا دل‘ کے فاؤنڈر بن کر خود تو الیکشن لڑتے ہی ہیں اور دیگر لیڈروں کو بھی ٹکٹ بانٹتے ہیں۔ پوروانچل کا دبنگ منّا بجرنگی جونپور سے، تو برجیش سنگھ چندولی سے آزاد امیدوار کے روپ میں قسمت آزمانے کی تیاری کر رہے ہیں۔ برجیش سنگھ کی بیوی اور بی ایس پی ایم ایل سی انپورنا سنگھ اور بھتیجہ سشیل سنگھ بھی پارلیمنٹ کی سیڑھیاں چڑھنے کو بیتاب ہیں۔ انپورنا بی ایس پی سے تو سشیل بی جے پی سے ٹکٹ پانے کی کوشش کر رہے تھے، لیکن کامیاب نہیں ہو پائے ہیں۔ کہا جا رہا ہے کہ یہ تینوں لوک سبھا چناؤ کی جنگ چندولی سے جیتنے کی قوت رکھتے ہیں۔ بی ایس پی نے سلطانپور سے دبنگ پون پانڈے کو میدان میں اتار کر بی جے پی کے ورون گاندھی کو چیلنج دینے کا راستہ ہموار کیا ہے۔
اعظم گڑھ کا دنگل بھی کافی دلچسپ ہے۔ یہاں سے ایس پی سپریمو ملائم سنگھ یادو کے میدان میں کودنے کے بعد حالات کافی بدل گئے ہیں۔ یہاں کے موجودہ دبنگ رما کانت کو ملائم کے سبب دن میں تارے دکھائی دینے لگے ہیں۔ دبنگ شبیہ کے رماکانت یادو بی جے پی کے ایم پی ہیں۔ ایس پی اور بی جے پی سے وہ کئی بار لوک سبھا پہنچ چکے ہیں۔ اس بار پھر وہ اپنی دبنگئی کا احساس کرانے کو تیار ہیں، لیکن ملائم سے مقابلہ آسان نہیں لگ رہا ہے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here