سبری مالا مندر معاملہ بڑی بنچ کے حوالے

Share Article

 

نئی دہلی، سپریم کورٹ نے اکثریتی فیصلے سے کیرالہ کے سبری مالا مندر میں تمام عمر کی عورتوں کے داخلے کی اجازت دینے کے معاملے کو بڑی بنچ کے حوالے کر دیا ہے۔ 3-2 کی اکثریت والے فیصلے کو پڑھتے ہوئے چیف جسٹس نے کہا کہ مساجد میں خواتین کو داخلہ، پارسی خواتین اور داودی بوہرا کمیونٹی کی خواتین کے ختنہ کا معاملہ بھی سبری مالا مندر میں خواتین کے داخلے کی طرح ہی ہے۔ اکثریت کے فیصلے میں چیف جسٹس رنجن گوگوئی، جسٹس اے ایم کھانولکر اور جسٹس اندو ملہوترا شامل ہیں۔

Image result for Sabarimala Temple matter handed over to the big bench

اقلیت کے فیصلے میں جسٹس آریف نریمن اور جسٹس ڈی وائیچندرچوڑ میں کہا کہ اس درخواست کے پہلے مسلم اور پارسی خواتین کا معاملہ سپریم کورٹ کے سامنے نہیں آیا ہے۔ گزشتہ 6 فروری کو تمام نظر ثانی کی درخواستوں پر سپریم کورٹ نے فیصلہ محفوظ رکھ لیا تھا۔ کل 64 نظر ثانی کی درخواستیں دائر کی گئی تھیں۔

Image result for Sabarimala Temple matter handed over to the big bench

سینئر وکیل موہن پراسر نے کہا تھا کہ عدالت نیبھگوان ایپا کے برہمچاری ہونے پر توجہ نہیں دی۔

Image result for Sabarimala Temple matter handed over to the big bench

کیرالہ حکومت نے درخواستوں کی مخالفت کرتے ہوئے کہا تھا کہ عدالت نے فیصلے میں کوئی غلطی نہیں کی ہے۔ احتجاجی مظاہروں کے سبب فیصلہ نہیں تبدیل کیا جا سکتا۔ تراونکور دیواسم بورڈ نے بھی پچھلی بار کا موقف تبدیل ہوئے کہا تھا کہ ہم نے کورٹ کا فیصلہ قبول کیا ہے۔ ہم ہر عمر کی خواتین کے مندر میں جانے کے حق میں ہیں۔

Image result for Sabarimala Temple matter handed over to the big bench

سبری مالا مندر میں داخل ہونے والی دو خواتین نے اس کے بعد ہوئے سماجی بائیکاٹ کا حوالہ دیا تھا۔ دونوں خواتین کی جانب سے سینئر وکیل اندرا جے سنگھ نے کہا تھا کہبھگوان جنس یا عمر کی بنیاد پر امتیازی سلوک نہیں کر سکتے۔ کورٹ کا فیصلہ درست ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *