سب کے لئے روزگار والی اقتصادی پالیسی چاہئے

Share Article

میگھناد دیسائی
ہندوستانی الیکشن واقعی میں مزیدار ہوتے ہیں۔ رنگ برنگے کپڑوں میں ملبوس، صبرو تحمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے قطاروں میں کھڑے ہوئے، ہنستے مسکراتے ہوئے لوگ اپنا ووٹ ڈالنے جاتے ہیں۔ الیکشن کمیشن کی طرف سے بھی شاندار انتظامات کیے جاتے ہیں اور ووٹوں کی گنتی تو گھنٹوں میں پوری جاتی ہے، یہ وہ کام ہے، جسے پورا کرنے میں برطانیہ اور امریکہ کو کئی دن لگ جاتے ہیں۔ اب سارے لوگ بے صبری سے انتخابی نتائج کا انتظار کر نے میں لگے ہوئے ہیں۔
لیکن، جہاں تک مجھے یاد ہے، اس بار کی انتخابی مہم سب سے زیادہ شور شرابے والی اور نفرت انگیز نہیں، تو حد سے زیادہ جارحانہ تھی۔ ایک طرح سے یہ وہ انتخاب ہے، جس نے سب سے زیادہ خوف و ہراس کا ماحول پیدا کیا ہے۔ کانگریس نے 3 جون، 1947 کو جب ملک کی تقسیم کے پروانہ پر دستخط کیا، تب سے اب تک ہندوستان میں مسلمان انتشار کے شکار رہے ہیں۔ انہیں ملک میں ایک محفوظ اقلیت کا درجہ حاصل ہے اور جنہوں نے خود کو مسلمانوں کا نگہبان ہونے کا دعویٰ کر رکھا ہے، وہ خود کو سیکولر کہتے ہیں۔ لیکن، مسلمانوں کے اقلیتی درجہ کو اجاگر کرنا ان کی ہندوستانی شہریت کے درجہ اور بقیہ ہندوستانیوں کو حاصل حقوق سے انہیں روکتا ہے۔مسلمان جب بھی ممبئی میں کسی فلیٹ میں کرایے کا کوئی مکان لینا چاہتے ہیں یا پھر کسی اکاؤنٹینسی فرم میں پارٹنرشپ حاصل کرنا چاہتے ہیں، تو اس وقت انہیں محسوس ہوتا ہے کہ وہ اس ملک کے دوسرے درجے کے شہری ہیں۔ مہاراشٹر کی کوئی بھی کانگریس حکومت کسی فلیٹ میں انہیں کرایے کا مکان دلانے میں مدد کے لیے کبھی آگے نہیں آئی ہے، نہ ہی مسلمانوں کو نوکری دینے سے منع کرنے والے شخص کے خلاف کبھی کوئی کارروائی ہوئی ہے اور نہ ہی سرکار نے کبھی اس بات پر سنجیدگی سے عمل کیا ہے کہ روزگار دینے میں کسی قسم کا تعصب نہیں ہونا چاہیے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ ریزرویشن اس کا حل نہیں ہے۔ مسلمانوں کے مسائل کو کئی دہائیوں سے یوں ہی نظر انداز کیا جاتا رہا ہے، یہی وجہ ہے کہ فرقہ پرست لوگ مسلمانوں کی ان پریشانیوں سے فائدہ اٹھاتے رہے ہیں۔
اب مزاحمت کا دور ختم ہو چکا ہے۔ اس بار وہ تمام باتیں چیخ چیخ کر کہی جا رہی ہیں، جنہیں دہائیوں سے کہا نہیں گیا تھا اور نہ ہی یہ باتیں کہنے لائق تھیں۔ ایک دوسرے کی بے عزتی کی جا رہی ہے، بعض دفعہ ایسی باتیں بھی کہی جا رہی ہیں، جن سے کہنے والے کو ہی نقصان پہنچ رہا ہے۔ کانگریس نے بی جے پی کے مینی فیسٹو کو ’کمیونل‘ اور اپنے مینی فیسٹو کی ’ہو بہو نقل‘ کہہ کر خارج کر دیا ہے۔امت شاہ نے ایک ایسا بیان دے دیا ہے، جو خود ان پر بھاری پڑ رہا ہے اور وہ اس کی پیچیدگی سے باہر نہیں نکل پا رہے ہیں۔ دوسری طرف اعظم خان کو دکھ ہے کہ کرگل جنگ میں مسلم فوجیوں کے ذریعے دی گئی قربانیوں کو فراموش کیا جا رہا ہے۔ ہوسکتا ہے کہ اعظم خان کی یہ شکایت درست ہو، لیکن یہ شکایت کرنے میں انہیں 15 سال کا لمبا وقت کیوں لگ گیا؟ یہی نہیں، نریندر مودی کے خلاف غیر آئینی لفظ کا استعمال کرتے ہوئے انہیں ’غنڈہ‘ کہا گیایا ان کے ’ٹکڑے‘ کرنے کی بات کہی گئی۔ مختار عباس نقوی صابر علی کے ساتھ اس بحث میں پڑ گئے کہ بی جے پی کے لیے اچھا مسلمان کون ہے! ہر پارٹی دوسری پارٹی پر بدعنوانی کا الزام لگا رہی ہے، لیکن بدعنوان لوگوں کو یہ پارٹیاں امیدوار بھی بنا رہی ہیں۔ کچھ ایسے لوگ بھی ہیں، جو آدرش گھوٹالے کی مثال دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ ملزم اس وقت تک بے قصور ہے، جب تک اس کے خلاف الزامات طے نہیں ہو جاتے۔
یہ سب سے آگے نکل کر یہ دعویٰ کر رہے ہیں کہ وہ گڈ گورننس اور ترقی کی بنیاد پر امیدوار بنے ہیں۔ وہ کانگریس کی حالیہ ناکامیوں کی بات کر رہے ہیں اور ترقی کو تیز رفتار بنانے کا وعدہ کر رہے ہیں۔ وہ مندر یا ہندو – مسلم کے مدعے پر بولنے سے کتراتے ہیں۔ مودی کے اس رویہ سے ان کے حریفوں کو غصہ آ رہا ہے اور اسی لیے وہ ووٹنگ کی تاریخ جیسے ہی قریب آتی ہے، فرقہ واریت کے مدعے کو اچھالنے لگتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہندوستانی سیاست میں کل تک جو چیزیں رازدارانہ طور پر کہی جاتی تھیں، اب وہ کھل کر سامنے آ گئی ہیں۔ دہلی کی جامع مسجد کے امام کانگریس کی ہاں میں ہاں ملانے لگے ہیں کہ ’مسلمانوں کو خطرہ ہے‘۔ اسے فرقہ واریت کہیں یا سیکولر ازم؟ کیا راجناتھ سنگھ کو بھی شنکراچاریہ سے یہ اپیل کرنی چاہیے کہ وہ سبھی ہندوؤں سے یہ اپیل کریں کہ وہ بی جے پی کو ووٹ دیں؟ اگر وہ ایسا کرتے ہیں، تو کیا وہ جیل جائیں گے؟ کون جانتا ہے اور کسے اس کی پرواہ ہے؟ سب سے بڑا سوال ان سب کے درمیان یہی ہے کہ کیا اس سے ان پارٹیوں کو ووٹ ملے گا؟

اگر ووٹ بینک کی بات کریں، تو جاٹوں کو اب باقاعدہ اوبی سی کا درجہ مل چکا ہے۔ بہت جلد برہمنوں کو چھوڑ کر ہندوؤں میں سے کوئی بھی او بی سی کیٹیگری سے باہر نہیں رہ جائے گا۔ ایک سیکولر جمہوری ملک میں آخر ایسا کیوں ہے کہ ہندوؤں کو تو ریزرویشن مل جاتا ہے، لیکن مسلمانوں کو نہیں ملتا؟ کیا ہندوستان کو منڈل کا خاتمہ نہیں کر دینا چاہیے اور سماجی و اقتصادی پس ماندگی کی بنیاد پر فلاحی کام نہیں کرنا چاہیے؟ سب ساری باتیں کہی اور کی جا چکی ہوں گی اور 16 مئی کو انتخابات کے نتائج آئیں گے، اس وقت سب سے بڑا سوال یہی ہوگا کہ : کیا 67 سال بعد بھی ہندوستانی مسلمانوں کو ایک ’اسپیشل کیس‘ کے طور پر دیکھا جائے گا اور ہندوؤں کو ریزرویشن کے لائق سمجھا جاتا رہے گا؟ منڈل کی ذہنیت اس لیے پروان چڑھی، کیوں کہ آزادی کے پہلے 42 سالوں کے دوران ملک کی سوشلسٹ اقتصادی پالیسی مشین کی فیکٹریاں تو تعمیر کرنے میں لگی ہوئی تھی…

اگر ووٹ بینک کی بات کریں، تو جاٹوں کو اب باقاعدہ اوبی سی کا درجہ مل چکا ہے۔ بہت جلد برہمنوں کو چھوڑ کر ہندوؤں میں سے کوئی بھی او بی سی کیٹیگری سے باہر نہیں رہ جائے گا۔ ایک سیکولر جمہوری ملک میں آخر ایسا کیوں ہے کہ ہندوؤں کو تو ریزرویشن مل جاتا ہے، لیکن مسلمانوں کو نہیں ملتا؟ کیا ہندوستان کو منڈل کا خاتمہ نہیں کر دینا چاہیے اور سماجی و اقتصادی پس ماندگی کی بنیاد پر فلاحی کام نہیں کرنا چاہیے؟
سب ساری باتیں کہی اور کی جا چکی ہوں گی اور 16 مئی کو انتخابات کے نتائج آئیں گے، اس وقت سب سے بڑا سوال یہی ہوگا کہ : کیا 67 سال بعد بھی ہندوستانی مسلمانوں کو ایک ’اسپیشل کیس‘ کے طور پر دیکھا جائے گا اور ہندوؤں کو ریزرویشن کے لائق سمجھا جاتا رہے گا؟ منڈل کی ذہنیت اس لیے پروان چڑھی، کیوں کہ آزادی کے پہلے 42 سالوں کے دوران ملک کی سوشلسٹ اقتصادی پالیسی مشین کی فیکٹریاں تو تعمیر کرنے میں لگی ہوئی تھی، لیکن لاکھوں لوگوں کے لیے نوکریوں کا انتظام نہیں کر رہی تھی۔ صرف سرکاریوں نوکریوں میں اضافہ ہو رہا تھا اور اسی لیے او بی سی میں شامل طبقے بھی ان نوکریوں کو حاصل کرنا چاہتے تھے۔ 1989 میں جب کانگریس کو اکثریت ملنے کا سلسلہ رک گیا، تب منڈل ملک کی پالیسی بن گئی۔ گزشتہ 23 سالوں کی اقتصادی اصلاح بھی اس میں کوئی تبدیلی نہیں پیدا کر سکی۔
کیا اب ہمیں ایسی اقتصادی پالیسی مل پائے گی، جو بغیر ریزرویشن کے سب کے لیے نوکریوں کا انتظام کر سکے؟ کیا ہندوستان ماضی سے نکل کر آگے کی طرف کوچ کر پائے گا؟

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *