صارفین اب بیدار ہو جائیں

Share Article

فردوس خان
بڑھتے بازار کے دور میں کنزیومر کلچر تو دیکھنے کو مل رہا ہے لیکن صارفین میں بیداری کی کمی ہے۔ آج ہر آدمی کنزیومر ہے، چاہے وہ کوئی سامان خرید رہا ہو یا پھرکوئی سروس کرارہا ہو۔دراصل منافع خوری نے صارفین کے لئے کئی طرح کی پریشانیاں پیدا کر دی ہیں۔ اشیاء میں ملاوٹ اورمعیار میں گراوٹ کی وجہ سے جہاں انہیں پریشانی ہوتی ہے،وہیں سروسیزمیں رکاوٹ یا پوری سروس نہ ملنے سے بھی انہیں مشکلوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ حالانکہ سرکار کہتی ہے ، جب آپ پوری قیمت دیتے ہیں تو کوئی بھی سامان وزن میں کم نہ لیں۔ باٹ صحیح ہے یا نہیں ، اس کو پرکھنے کے لئے قانون ہے۔ یہ نعرہ سرکاری دفتروں میں دیکھنے کو مل جائے گا۔ سرکار نے کنزیومروں کو پروٹیکشن دینے کے لئے کئی قانون بنائے ہوئے ہے لیکن اس کے باوجود کنزیومر سے پوری قیمت وصول کرنے کے بعد انہیں صحیح سامان اور واجب سروسز نہیں مل پا رہی ہیں۔ ہندوستان میں 24 دسمبر ’نیشنل کنزیومر ڈے‘ کے طور پر منایا جاتا ہے۔کیونکہ کنزیومروں کو استحصال سے بچانے کے لئے 24 دسمبر 1986 کو کنزیومر پروٹیکشن ایکٹ 1986 نافذ کیا گیا۔ اس کے علاوہ 15 مارچ کو ملک میں ’انٹرنیشنل کنزیومر ایکٹ ڈے‘ کے طور پر منایا جاتاہے۔ ہندوستان میں اس کی شروعات 2000 سے ہوئی۔

غور طلب ہے کہ کنزیومر پروٹیکشن ایکٹ 1986 میں پروڈکٹ اور سروسز شامل ہیں۔ پروڈکٹ وہ ہوتے ہیں، جن کی پیداوار یا تعمیر کی جاتی ہے اور جنہیں تھوک تاجروں یا خردہ فروشوں کے ذریعہ کنزیومروں کو بیچا جاتا ہے۔ سروسز میں ٹرانسپورٹ، ٹیلی فون، بجلی، تعمیر، بینکنگ ، بیمہ ،اسپتال ،علاج وغیرہ شامل ہیں۔عام طور پر مذکورہ خدمتیں پیشہ ور لوگوں کے ذریعہ انجام دی جاتی ہیں۔ جیسے ڈاکٹر، انجینئر ،معمار ،وکیل وغیرہ۔ اس ایکٹ کے کئی مقصد ہیں۔ جن میں کنزیومر کے حق اور اختیارات کا تحفظ، کنزیومر پروٹیکشن کونسل اور کنزیومر تنازع نمٹانے والی ایجنسیوں کا قیام شامل ہے۔’کنزیومر پروٹیکشن ایکٹ‘ میں یہ لازمی کیا گیا ہے کہ کنزیومر کون ہے اور کن کن سروسز کو اس قانون کے دائرے میں لایا جا سکتاہے۔ اس ایکٹ کے پروویزن کے مطابق کسی بھی سامان کو قیمت دے کر حاصل کرنے والا یا مقرر ہ رقم کی ادائیگی کر کے کسی طرح کی سروسز حاصل کرنے والا شخص کنزیومر ہے۔ اگر اسے خریدی گئی چیز یا سروس میں کوئی کمی نظر آتی ہے تو وہ ’ضلع کنزیومر فورم‘ کی مدد لے سکتا ہے۔ اس ایکٹ کی دفعہ(D) 2(1) کنٹریکٹ کے مطابق، کنزیومر کا مطلب وہ آدمی ہے جوکسی سروس کو قیمت دے کر حاصل کرتا ہے لیکن سپریم کورٹ نے 1997 کے اپنے ایک فیصلے میں کہا کہ اس اس وضاحت میں وہ آدمی بھی شامل ہو سکتے ہیں جو ان سروسز سے مستفید ہورہے ہیں۔
یہ قانون کنزیومروں کے لئے ایک راحت بن کر آیا ہے۔ 1986 سے پہلے کنزیومروں کو دیوانی عدالتوں کے چکر لگانے پڑتے تھے۔ اس میں وقت کے ساتھ ساتھ پیسے بھی زیادہ خرچ ہوتے تھے۔ اس کے علاوہ کنزیومروں کو کئی طرح کی پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔ ان مسائل سے نمٹنے اور کنزیومروں کے حقوق کے تحفظ کے لئے پارلیمنٹ نے ضلعی سطح، ریاستی سطح اور قومی سطح پر Controversy fulfillment agencies کے قیام کا بل پاس کیا۔ یہ جموں و کشمیر کے علاوہ پورے ملک میں نافذ ہے۔ جموں کشمیر نے اس سلسلے میں اپنا الگ قانون بنا رکھا ہے۔ اس ایکٹ کے تحت تین سطح پر ایجنسیوں کا قیام عمل میں آیا۔ ضلعی سطح پر’ ضلع منچ‘، ریاستی سطح پر’ اسٹیٹ کمیشن‘ اور قومی سطح پر’ نیشنل کمیشن‘۔ اب کنزیومر کو وکیل مقرر کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ انہیں عدالت کی فیس بھی نہیں دینی پڑتی ۔ ان یجنسیوں کے ذریعہ کنزیومر کا تنازع نمٹانے کی سروس پوری طرح مفت ہے۔ ان تینوں ایجنسیوں کو کئی طرح کے اختیارات حاصل ہیں۔ پہلا رقم سے متعلق اختیارات اور دوسرا علاقائی اختیار۔ ضلع منچ میں 20 لاکھ روپے تک کے معاملے لائے جا سکتے ہیں۔اسٹیٹ کمیشن میں ایک کروڑ روپے سے زیادہ کے معاملوں کی شکایت درج کرائی جا سکتی ہے۔ یہ رقم سے متعلق اختیار ہے۔ جس ضلع میں مخالف پارٹی اپنا کارو بار چلاتا ہے یا اس کا برانچ آفس ہے یا وہاں کام کر رہا ہے تو وہاں کے فورم میں شکایتی درخواست دی جاسکتی ہے۔ اسے علاقائی اختیار کا نام دیا جاتا ہے۔ کنزیومر کو سامان اور سروس کے بارے میں شکایت کی ایک درخواست دینی ہوتی ہے۔ جو تحریری طور پر کسی بھی ایجنسی میں دی جا سکتی ہے۔ مان لیجئے، ضلع منچ کو شکایت کی درخواست دی گئی۔ درخواست دینے کے 21 دن کے اندر ضلع منچ مخالف پارٹی کو نوٹس جاری کرے گا کہ وہ 30 دنوں میں اپنی بات رکھے ۔ اسے 15 دن مزید دیے جا سکتے یں ضلع منچ سامان کا نمونہ لیبارٹی میں بھیجتا ہے۔ اس کی فیس کنز یومر سے لی جاتی ہے۔ لیبارٹی 45 دنوں کے اندر اپنی رپورٹ بھیجے گی۔ اگر رپورٹ میں سامان کے معیار میں کمی ثابت ہو گئی تو ضلع منچ مخالف پارٹی کو حکم دے گا کہ وہ مال کی کمی کو دور کرے، سامان کو بدلے یا قیمت واپس کرے یا نقصان کی بھرپائی کرے ، ورنہ کاروبار بند کرے اور شکایت کنندہ کو خرچ دے اور اگر شکایت کندہ ضلع منچ کے فیصلے سے خوش نہیں ہے تو وہ اپیل کے لئے مقررہ شرطیں پوری کرکے اسٹیٹ کمیشن اور اس کے فیصلے کے خلاف نیشنل کمیشن میں اپیل کر سکتاہے۔ ان تینوں ہی ایجنسیوں میں دونوں فریق کو اپنی بات رکھنے کا موقع دیا جاتاہے۔ منچ یا کمیشن کا حکم نہ ماننے پر قصوروار کو ایک ماہ سے لے کر تین سال کی قید یا 10 ہزار روپے تک کا جرمانہ یا دونوں سزائیں ہو سکتی ہیں۔ کچھ ہی برسوں میں اس قانون نے کنزیومروں کے مسائل کے حل میں اہم کردر ادا کیا۔ اس کے ذریعے لوگوں کو استحصال کے خلاف آواز بلند کرنے کا راستہ مل گیا۔ اس میں 1989,1993 اور 2002 میں ترمیم کی گئی۔ جنہیں 15 مارچ 2003 کو نافذ کیا گیا۔ ترمیم میں نیشنل کمیشن اور اسٹیٹس کمیشنوں کی بنچ کا قیام،سرکٹ بنچ کا قیام، شکایتوں کا اندراج، اطلاعات جاری کرنا، شکایتوں کے نمٹانے کے لئے وقت کی حد مقرر کرنا، لینڈ ریونیو کے لئے بقایا رقموں کی سرٹیفکیٹ معاملوں کو ایجنسی کے ذریعہ معاوضے کی وصولی کا حکم دیا جانا، ایجنسی کے ذریعہ عبوری حکم جاری کرنے کا پروویزن ، ضلعی سطح پر ’کنزیومر پروٹیکشن کونسل‘ کا قیام، ضلعی سطح پر ایجنسی کے حوالے سے قابل سزا فیصلہ میں ترمیم اور نقلی سامان اور غیر معیاری سطح کی سروسز کی شمولیت کو غلط بیوپار کی شکل میں لینا وغیرہ شامل ہیں۔ کنزیومر پروٹیکشن ایکٹ 2002 کے بعد’ نیشنل کنزیومر تنازع سیٹل منٹ کمیشن ‘نے کنزیومر پروٹیکشن ریگولیشن 2005 تیار کیا۔
کنزیومر پروٹیکشن ایکٹ نے کنزیومروں کو اختیار دیا ہے کہ وہ اپنے حق کے لئے آواز اٹھائے۔ اسی قانون کا نتیجہ ہے کہ اب کنزیومر بیدار ہو رہیہیں اس قانون سے پہلے کنزیومر بڑی کمپنیوں کے خلاف بولنے سے گریز کرتا تھا۔ لیکن اب ایسا نہیں ہے۔ مثال کے طور پر ایک کنزیومر نے چنڈی گڑھ سے’ کرو چھیتر‘ فون شفٹ نہ ہونے پر ریلائنس انڈیا موبائل لِمیٹیڈ کے خلاف شکایت درج کرائی اور اسے اس میں کامیابی ملی۔ اس لاپرواہی کے لئے کنزیومر عدالت میں ریلائنس پر 1.5 لاکھ روپے کا جرمانہ لگا دیا۔ اسی طرح ایک کنزیومر نے ریلوے کے ایک ملازم کے ذریعہ زیادتی کیے جانے پر انڈین ریل کے خلاف کنزیور کورٹ میں معاملہ درج کرا دیا۔ نتیجتاً کنزیومر کورٹ نے ریلوے پر 25 ہزار روپے کا جرمانہ لگا دیا۔ گزشتہ جون کے مہینے میں دہلی میں نیشنل کنزیومر کورٹ نے اوڈیسہ کے بیل پہاڑ کے چارہ فروخت کرنے والے راجیش اگروال پر ایک لاکھ 20 ہزار روپے کا جرمانہ لگایا ۔ معاملے کے مطابق، اوڈیسہ کے بیل پہاڑ کے رہنے والے کیٹل مین رام نریش یادو نے اگست 2004 میں راجیش کی دکان سے چارہ خریدہ تھا۔ اسے کھانے کے کچھ گھنٹے بعد اس کی ایک بھینس ، ایک گائے اور دوبچھڑوں نے دم توڑ دیا اس کے علاوہ بیل پہاڑ کے ذوالفقار علی بھٹو کی ایک گائے کی بھی یہ چارہ کھانے سے موت ہو گئی۔ متاثرین کے ذریعہ معاملے کی اطلاع تھانے میں دینے کے بعد برج راج نگر کے بیطاری (Veterinarian) نے لوچن جینا اور بیل پہاڑ کے بیطار پرفُل نایک نے بھی پوسٹ مارٹم کے کے بعد اس بات کی تصدیق کردی کہ جانوروں کی موت زہریلا چارہ کھانے سے ہوئی ہے۔ رام نریش کے ذریعہ نقصان کا معاوضہ مانگنے پر اس نے کچھ بھی دینے سے انکار کردیا ۔ اس پر رام نریش نے ڈسٹرکٹ کنزیومر کورٹ میں اپیل دائر کی۔ نیشنل کورٹ کے جج جے۔ ایم۔ ملک اور سریش چندرا کی بنچ نے اسٹیٹ کنزیومر کورٹ کے فیصلے کو صحیح مانتے ہوئے بیوپاری کو ایک لاکھ بیس ہزار روپے کا جرمانہ ادا کرنے کا حکم دیا۔
کنزیومر پروٹیکشن ایکٹ نے کنزیومروں کے حوصلے بڑھانے کا کام کیا ہے۔ اس قانون سے پہلے جہاں ملک میں صرف 60 کنزیومر گروپ تھے، وہیں اب ان کی تعداد ہزاروں میں ہے۔ ان کنزیومر گروپس نے مقامی سطح سے لے کر قومی سطح اور عالمی سطح پر کنزیومروں کے اختیارات کے لئے آواز اٹھائی ہیں۔ سرکار نے کنزیومر گروپ کو اقتصادی مدد فراہم کرانے کے ساتھ ساتھ دیگر کئی طرح کی سہولتیں بھی دی ہیں۔’ ٹول فری نیشنل کنزیومر ہیلپ لائن‘ کنزیومروں کے لئے نعمت ثابت ہوا ہے۔ ملک بھر کے کنزیومر ٹول فری نمبر 1800-11-14000 ڈائل کرکے اپنے مسائل کے حل کے لئے مشورہ لے سکتے ہیں۔ کنزیومروں کو بیدار کرنے کے لئے سرکار کے ذریعہ کی گئی’ جاگو گراہک جاگو‘ جیسی مہم سے بھی ان کے اختیارات کے بارے میں پتہ چلا ہے۔ مرکزی وزیر خوراک شرد پوار نے مانا ہے کہ ریاستی سرکاریں کنزیومرو منچ اور کمیشن کو سہولتوں سے مالا کرنے کے لئے مرکز کی طرف سے جاری بجٹ کا استعمال نہیں کر رہی ہیں۔ ان کا یہبھی کہنا ہے کہ کنزیومروں کو معلوم ہونا چاہئے کہ وہ جو کھا رہے ہیں، اس میں کیا ہے۔ اس کا معیار کیا ہے، اس کی مقدار اور اصلیت کتنی ہے۔ پروڈکٹ کرنے والوں کو بھی چاہئے کہ پروڈکٹ کے استعمال سے ہونے والے صحت سے متعلق مسائل کی پوری جانکاری دیں۔ بہر حال کنزیومروں کو خریداری کرتے وقت ہوشیار رہنا چاہئے ۔ کنزیومروں کو مختلف بنیادی پہلوں جیسے زیادہ سے زیادہ خردہ قیمت ( ایم آر پی)، جویلری کے ہول مارکیٹ، پروڈکٹ پر انڈین اسٹنڈرڈ انسٹی ٹیوٹ ( آئی ایس آئی) کا نشان اور ایکسپائری ڈیٹ کے بارے میں جانکاری ہونی چاہئے۔ اس کے باوجود اگر ان کے ساتھ دھوکہ ہوتاہے تو اس کے خلاف شکایت کرنے کا اختیار قانون نے انہیں دیا ہے، جس کا استعمال کیا جانا چاہئے۔

ناپ تول کے قانون
ہر باٹ پر انسپکٹر کی مہر ہونی چاہئے۔
ایک سال کی مدت میں مہر کی تصدیق ضروری ہے۔
پتھر، دھاتو وغیرہ کے ٹکڑوں کا باٹ کے طور پر استعمال نہیں ہو سکتا۔
پھیری والوں کے علاوہ کسی دیگر کو ترازو ہاتھ میں پکڑ کر تولنے کی اجازت نہیں ہے۔
ترازو ایک ہُک یا چھڑ کی مدد سے لٹکا ہونا چاہئے۔
کپڑے ناپنے کے میٹر کے دونوں سروں پر مہر ہونی چاہئے۔
تیل اور دودھ وغیرہ ناپوں کے نیچے تلہ لٹکا ہوا نہیں ہونا چاہئے۔
مٹھائی اور مسالوں وغیرہ جیسے سامان کے تولنے میں ڈبے کا وزن شامل نہیں کیا جا سکتا۔
پیکنگ سامان پرمینو فیکچرر کا نام ، پتہ ، سامان کی صحیح تول اور قیمت واضح ہو، ساتھ ہی پیکنگ کا سال اور مہینہ لکھا ہوناچاہئے۔
7 پیکنگ سامان پر قیمت کا اسٹیکر نہیں ہونا چاہئے۔

صارفین کو کئی طرح کی پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے
صحت کے لئے نقصان دہ مواد ملا کر تاجروں کے ذریعہ اشیاء خوردنی میں ملاوٹ کرنا یا کچھ ایسے مواد نکال لینا ، جن کے کم ہونے سے مواد کے معیار پر منفی اثر پڑتا ہے،جیسے دودھ سے کریم نکال کر بیچنا۔
ٹیلی ویژن اور اخباروں میں گمراہکن اشتہارات کے ذریعے سامان اور سروسز کی طرف گراہکوں کو راغب کرنا۔
اشیاء کی پیکنگ پر دی گئی جانکاری سے الگ مواد پیکٹ کے اندر رکھنا۔
فروخت ہونے کے بعد سروس غلط طریقے سے دینا۔
ناقص سامان کی فراہمی۔
قیمت میں چھپے ہوئے حقائق شامل ہونا۔
پروڈکٹ پر غلط یا چھپی ہوئی قیمت لکھنا۔
اشیاء کے وزن اور پیمائش میں جھوٹے یا غیر معیاری سطح کی چیزیں استعمال کرنا۔
تھوک مقدار میں فراہمی پر اشیاء کے معیار میں گراوٹ آنا۔
زیادہ تر خردہ قیمت ( ایم آر پی) کا غلط طور پر تعین کرنا۔
ایم آر پی سے زیادہ قیمت پر بیچنا۔
دوائوں وغیرہ جیسے ضروری پروڈکٹوں کی غیر قانونی فروختگی ان کو اکسپائری ڈیٹ میں بیچنا۔
کمزور سروسز مہیا کرانا۔
فروختگی اور سروسز کی شرطیں اور معاہدے کا پاس نہ رکھنا۔
پروڈکٹ کے بارے میں جھوٹی یا نامکمل جانکاری دینا۔
گارنٹی یا وارنٹی وغیرہ کو پورا نہ کرنا۔

صارفین کے اختیارات
صارفین کو ان کے اختیارات کے تئیں بیدار کرنے کی ضرورت ہے۔
جان و مال کے لئے ضرر رساں سامان اور سروس کی مارکٹنگ کے خلاف تحفظ کا اختیار۔
اشیاء اور سروس کے معیار، مقدار، صلاحیت ، اصلیت، سطح اور قیمت جیسا بھی معاملہ ہو، کے بارے میں جانکاری کا اختیار ، تاکہ کنزیومروں کو غلط تجارتی نظام سے بچا یا جا سکے۔
جہاں تک ممکن ہو مناسب قیمت پر مختلف طرح کے سامان اور سروسز تک پہنچ کی یقین دہانی۔
کنزیومرس کے حق پر مشورہ کرنے کے لئے بنائے گئے مختلف منچوں پر نمائندگی کا اختیار۔
نا مناسب تجارتی طور طریقے یا کنزیومر کے استحصال کے خلاف صلح کا اختیار۔
کنزیومر تھِنک بننے کے لئے جانکاری اور مہارت حاصل کرنے کا اختیار۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *