روس نے شام کے شمالی علاقوں میں امریکہ کی جانب سے چھوڑے گئے علاقوں میں ایڈوانسنگ سیریئن گورنمنٹ فورسز اور ترکی کے دستوں کو علیحدہ رکھنے کے لیے اپنی فوج تعینات کرنی شروع کردی ہیں۔میڈیا رپورٹوں کے مطابق مغربی اتحادیوں کی جانب سے ترکی کے حملے کی مذمت کے باعث نیٹو اور ترکی کے دستوں کے مابین کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔چنانچہ اب کرد جنگجنوؤں کے خلاف حملے کے ساتویں روز ہزاروں افراد اپنے گھروں سے بے گھر ہوچکے ہیں جبکہ شمالی شام کی 8 سالہ جنگ میں نیا موڑ آچکا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے فوج کے انخلا کے اعلان کے بعد روس نے طاقت کا توازن برقرار رکھنے کے لیے فوری طور پر اپنے کردار کو مزید وسعت دے دی۔ دوسری جانب نئے محافظ کی متلاشی کرد انتظامیہ نے روسی حمایت یافتہ شامی حکومت کے صدر بشارالسد کے ساتھ نیا معاہدہ کیا جن کی افواج نے کرد زیر انتظام علاقوں میں انہیں تحفظ دینے کے لیے داخل ہونا شروع کردیا تھا۔
دوسری جانب ماسکو کے سفیر الیگزینڈر لیورینتے کا کہنا تھا کہ ’ترک افواج اور شامی سرکاری افواج کے مابین لڑائی میں کسی کو دلچسپی نہیں اور نہ ہی روس اس کی اجازت دے گا۔ خیال رپے کہ روس دہائیوں سے شامی صدر کا سخت اتحادی ہے جو اس تنازع میں 2015 میں شامل ہوا تھا جس کے بعد روسی فوج بڑی تعداد میں اسلحہ دمشق پہنچایا اور ہزاروں فوجی اہلکاروں کو تربیت دینے کے ساتھ ساتھ شامی فوج میں اہم عہدوں پر اپنے مشیر تعینات کیے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here