اعدادو شمار میں چل رہاہے ’سوچھ بھارت ابھیان‘

Share Article

ڈاٹا باکس 2015-2016 2016-2017
سوچھ بھارت ابھیان
3,901.78کروڑ

کلین انوائرنمنٹ مہم
13,847.87کروڑ
21,128.59کروڑ
صفائی پر خرچ
2,400کروڑ

اشتہار پر خرچ
162.50کروڑ
66 کروڑ

مودی سرکار تب شاید اپنی تیسری سالگرہ کے لئے اعدادو شمار درست کررہی ہوگی، جب دہلی ہری دوار ریلوے روڈ پر قائم نجیب آباد اسٹیشن پر ایک غیر ملکی سیاح کی پریشانی صفائی کو لے کر سرکاری دعوئوں کی پول کھول رہی تھی۔ گزشتہ 14 مئی کو نجیب آباد اسٹیشن پر ٹرین کا انتظار کررہا ایک غیر ملکی سیاح کرکرے کا خالی ریپل لئے گھومتا رہا، لیکن اسے کوئی ڈسٹبین نہیں مل سکا جس میں وہ خالی ریپر ڈال سکے۔ آخر میں اسے ریپر کو اپنے پاکٹ میں رکھنا پڑا۔ یہ پر یشانی صرف اس غیر ملکی سیاح کی ہی نہیں ہے ، اپنے آس پاس ہم بھی اس مسئلے کا سامنا کرتے ہیں۔ کئی لوگ صرف اس لئے ہی ادھر ادھر کوڑا پھینک دیتے ہیں ،کیونکہ انہیں ضرورت کے وقت ڈسٹبین نہیں ملتا۔ حالانکہ اس میں کوئی شک نہیں کہ مودی سرکار کے ذریعہ سوچھ بھارت ابھیان کی ابتدا کے بعد لوگوں میں صاف صفائی کو لے کر بیداری بڑھی ہے لیکن کئی مورچوں پر سرکار اپنی حصہ داری میں پیچھے ہے۔ زمینی سطح پر کام کئے جانے کی جگہ اعدادو شمار میں کامیابی دکھانے کی ہوڑ زیادہ ہے۔
دعوئوں سے دور حقیقت
سوچھ بھارت ابھیان کی ویب سائٹ بتاتی ہے کہ اس ابھیان کے تحت اب تک 31,14,249 پرائیویٹ اور 1,15,786 عوامی ٹوائلٹ بنائے جاچکے ہیں۔ حالانکہ ملک کے الگ الگ حصوں سے ٹوائلٹ تعمیر میں ہوئی بے ضابطگی اورصسرف کاغذوں میں ٹوائلٹ تعمیر کی خبریں ویب سائٹ پر دی گئی اس تعداد پر شبہات کھڑے کرتے ہیں۔ ویب سائٹ کی مانیں تو ملک کے 647 شہروں کو کھلے میں ٹوائلٹ سے نجات دلانے کا اعلان کیا جاچکا ہے۔ لیکن ان دعوئوں کی جانچ حال ہی میں آئی ایک رپورٹ سے کی جاسکتی ہے۔ وزیر اعظم کے پارلیمانی حلقے وارانسی کے ایک بلاک بڑگائوں کے 80 میں سے 15 پنچایتوں کو کھلے میں ٹوائلٹ سے نجات دلانے کا اعلان کیا گیا ہے۔ لیکن حال ہی میں خبر آئی تھی کہ ان سبھی گائوں میں لوگ آج بھی کھلے میں ٹوائلٹ جاتے ہیں۔ وجہ یہ ہے کہ 3.36 کروڑ کی لاگت سے یہاں جن 2,800ٹوائلٹ کی تعمیر ہوئی ہے، ان میں سے کچھ تو صرف کاغذوں پر ہی بنے ہیں ۔جو بنے ہیں ان میں سے زیادہ ترصرف ڈھانچہ بھر ہیں، ان میں آج تک ٹوائلٹ کی سیٹ نہیں لگی ہے۔ دراصل ،سرکاری افسروں کی طرف سے لوگوں کو ہدایت دی گئی تھی کہ وہ پہلے ٹوائلٹ تعمیر کرا لیں،پھر رقم ملے گی۔ زیادہ تر دیہی لوگوں نے سرکاری دبائو میں کسی بھی طرح سے روپے کا انتظام کرکے ٹوائلٹ کا ڈھانچہ تو بنوا لیا، لیکن سرکار کی طرف سے ملنے والی رقم کی راہ دیکھتے رہ گئے۔ یہ صرف وارانسی کی ہی سچائی نہیں ہے۔ چھتیس گڑھ کے اندی میں تو ٹوائلٹ تعمیر کے لئے قرض لئے ہوئے پیسے نہ چکا پانے کے عوض میں لوگوں کو مہاجن کے یہاں بندھوا مزدور کی شکل مین کام کرنا پڑ رہا ہے۔ اکتوبر 2016 میں سینٹر فار پالیسی ریسرچ کے ذریعہ کئے گئے سروے میں بھی یہ بات سامنے آئی تھی کہ سرکار جن ٹوائلٹ تعمیر کو لے کر اپنی پیٹھ تھپتھپارہی ہے، ان میں سے 26فیصد صرف کاغذوں پرہی بنے ہیںاور تعمیر شدہ ٹوائلٹوں میں سے بھی 36 فیصد استعمال کے لائق نہیں ہیں۔
کھلے میں ٹوائلٹ کی مل رہی ہے سزا
سوچھ بھارت ابھیان کو لے کر کسی طرح ہیڈ لائن پورا کرنے میں لگے آفیسر ٹوائلٹ سے محروم لوگوں کے ساتھ مجرموں جیسا سلوک کرنے لگے ہیں۔ چھتیس گڑھ کے اندی گائوں میں ٹوائلٹ کررہی ایک خاتون کا فوٹو افسروں نے عوامی کر دیا ، تو وہیں راجستھان کے سوائی مادھوپور کے کلکٹر نے کھلے میں ٹوائلٹ کرنے والوں کو راشن سے محروم رکھنے کا کھلا فرمان دے دیا۔ ٹوائلٹ نہیں بنوانے کی وجہ سے افسروں کے ذریعہ منریگا اسکیم کے فائدے سے محروم کئے گئے تمل ناڈو کے توتی کورین کے ایک 70 سالہ بزرگ کو تو اپنا حق پانے کے لئے مدراس ہائی کورٹ کی پناہ لینی پڑی،وہیں اندور میں افسروں نے یہ سسٹم کرا دیا کہ کھلے میں ٹوائلٹ کرتا کوئی دکھائی دے تو مندر کے لائوڈاسپیکر سے اس کی کمنٹری کی جائے۔
سوچھتا جانچ کی شفافیت ہی مشکوک
سرکار اور انتظامیہ کے لئے یہ بے حد ہی شرمناک ہے کہ صفائی کے معاملے میں کسی شہر کو اونچا رینک دینے کے لئے جانچ آفیسر رشوت مانگیں۔ سوچھتا جانچ کی جس رپورٹ کے عوامی ہونے کے بعد سرکار اپنی پیٹھ تھپتھپا رہی ہے، اس کے بارے میں خبر آئی تھی کہ جانچ کرنے والی ٹیم نے بہتر رینکنگ دینے کے لئے اورنگ آباد نگر نگم کے افسروں سے رشوت مانگی تھی۔ حالانکہ معاملہ سامنے آنے کے بعد کوالٹی کونسل آف انڈیا ( کیو سی آئی ) نے جانچ کرنے والی ٹیم کو معطل کر دیا۔ لیکن اس سچائی نے جانچ کی شفافیت پر تو سوال اٹھا ہی دیا۔ اس جانچ رپورٹ پر بھی سوال اٹھ رہے ہیں۔ رپورٹ میں دی گئی کئی شہروں کی رینکنگ ان کی اصلیت سے الگ ہے۔ لکھنو ، پٹنہ اور بنارس کے بارے میں جاننے والا کوئی بھی بتا سکتا ہے کہ صفائی کے معاملے میں ان کی ترتیب کیا ہوسکتی ہے۔لیکن رپورٹ میں بنارس کو پٹنہ اور لکھنو سے بہت اوپر رکھا گیا ہے۔ بنارس کو جہاں 32واں رینک ملا ہے، وہیں لکھنو کو 269 واں اور پٹنہ کو 262واں رینک دیا گیا ہے۔
سوچھتا پر ملے پیسے کا استعمال اشتہار پر
وزیر مملکت برائے خزانہ سنتوش گنگوار نے جولائی 2016 میں راجیہ سبھا میں ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا تھا کہ مالی سال 2015-16 میں سوچھ بھارت سیس سے سرکار کے پاس 3,901.78 کروڑ روپے آئے ۔وہیں اس سال 20 مارچ کو کوئلہ اور توانائی کے وزیر مملکت پیوش گوئل نے کہا تھا کہ کلین انوائرنمنٹ سیس سے ہندوستانی سرکار کو مالی سال 2016-17 میں 21,128.59 کروڑ روپے ملے۔ اس سے پہلے کے تین مالی سال کی بات کریں تو کلین انوائرمنٹ سیس سے 2015-16 میں 13,847.87 کروڑ ، 2014-15 میں 5,844.55 کروڑ اور 2013-14 میں 3217.13کروڑ روپے حاصل ہوئے۔ جولائی 2016 میں سنتوش گنگوار نے سوچھتا کے نام پر سرکار کے ذریعہ کئے گئے خرچ کے اعدادو شمار بھی دیئے تھے۔ ان کے مطابق سوچھ بھارت مشن پروگرام کے تحت مالی سال 2015-16 میں دیہی علاقے میں 2,400کروڑ روپے خرچ کئے گئے، جبکہ شہری علاقوں میں 159.2کروڑ روپے خرچ ہوئے۔ وہیں، آر ٹی آئی کے ذریعہ ملے ایک جواب میں سرکار کی طرف سے بتایا گیا تھا کہ مالی سال 2016-17 میں سرکار نے سوچھتا سے جڑے اشتہارات پر 66کروڑ روپے خرچ کئے۔ سوچھتا کو لے کر لوگوں میں بیداری کے لئے اشتہار کے مد میں کیا گیا یہ خرچ گزشتہ دو مالی سال کے بالمقابل کم ہے۔ 2015-16 میں اس مد میں 162.50 کروڑ روپے اور 2014-15 میں 121.22 کروڑ خرچ ہوئے ۔یعنی سرکار کی مانیں تو کل ملا کر اب تک صرف سوچھ بھارت ابھیان کی تشہیر میں تقریباً 350 کروڑ روپے خرچ کئے جاچکے ہیں۔ جس آر ٹی آئی کے ذریعہ یہ جواب ملا تھا، اس میں سرکار کے ذریعہ اب تک بنائے گئے ٹوائلٹ کی تعداد اور ڈسٹبین کی تقسیم سے متعلق جانکاری بھی مانگی گئی تھی، جس کا کوئی بھی اطمینان بخش جواب سرکار کی طرف سے نہیں دیا گیا۔
اپوزیشن تو یہ بھی الزام لگا رہا ہے کہ سرکار سوچھ بھارت سیس کے ذریعہ جمع ہوئے پیسوں کا خرچ اسکیم کے لئے نہ کرکے اپنی تشہیرکے لئے کررہی ہے۔ 15 مئی کو مدھیہ پردیش کے امرکنٹک میں وزیر اعظم مودی کی ریلی تھی۔ انہوں نے نرمدا سروس یاترا کے اختتامی پروگرام کوخطاب کیا۔ کانگریس کا الزام ہے کہ اس پروگرام میں سوچھ بھارت ابھیان کے مد کا پیسہ خرچ کیا گیا۔ مدھیہ پردیش کانگریس صدر ارون یادو نے الزام لگایا ہے کہ وزیر اعظم کی امر کنٹک یاترا اور ان کے پروگرام پر 100 کروڑ روپے سے زیادہ خرچ کر کے سرکاری پیسے کا غلط استعمال کیا گیا۔ اس کے لئے اسٹیٹ پروگرام آفیسر کی طرف سے امرکنٹک میں ٹریننگ کے لئے جانے والوں میں سے فی کس 500 روپے جاری کئے گئے تھے۔
بجھے دل سے گنگا صفائی کیسے ہوگی؟
گنگا کی صفائی تب سے مودی سرکار کی ترجیحات میں شامل ہے، جب سوچھ بھارت ابھیان کی بنیاد بھی نہیں رکھی گئی تھی۔ لیکن گنگا آج بھی وہیں ہے ۔گنگا کی لہریں آج بھی کوڑوں اور نالوں کے گندے ملبوں سے ملوث ہیں۔ مودی سرکار نے گنگا کی صفائی کے لئے ایک انٹیگریٹیڈ راشٹریہ سوچھ گنگا مشن ، نمامی گنگے کی شروعات کی ۔آبی وسائل، ندی کا ڈیولپمنٹ اور گنگا تحفظ کی وزارت کا عہدہ سنبھالتے ہوئے اوما بھارتی نے کہا تھا کہ نمامی گنگے کی کے اچھے نتائج اکتوبر 2016 سے دکھنے شروع ہو جائیںگے لیکن وزیر کے اس ڈیڈ لائن سے محض دو مہینے پہلے آئے ایک آر ٹی آئی جواب نے گنگا صفائی کے لئے سرکار کی کوششوں کی قلعی کھول دی۔ اس جواب میں کہا گیا تھا کہ راشٹریہ گنگا صفائی مشن کے لئے 2015-15 میں الاٹ 2, 137 کروڑ روپے میں سے بعد میں 84 کروڑ کی کٹوتی کردی گئی۔اس کے بعد بھی اس میں سے صرف 326 کروڑ روپے خرچ کئے گئے۔ اسی طرح گنگا صفائی کے لئے مجوزہ 2015-16 کے 2,750 کروڑ روپے کے بجٹ کو کم کر کے 1,650 کروڑ روپے کر دیا گیا۔ اس آر ٹی آئی میں کہا گیا تھا کہ موجودہ مالی سال 2016-17 میں الاٹ 2,500 کروڑ روپے میں سے اب تک کتنا خرچ ہوا، اس کا مرکزی سرکار کے پاس کوئی بیورا موجود نہیں ہے۔ گنگا صفائی کو اپنی ترجیحات بتانے والے وزیر اعظم اسے لے کر کتنے سنجیدہ ہیں،اس کا بھی نتیجہ اس آر ٹی آئی سے ملتا ہے۔ اس میں بتایا گیا تھا کہ راشٹریہ گنگا ندی بیسن اتھارٹی (این جی آر بی اے ) کی تین میٹنگوں میں سے وزیر اعظم نے صرف ایک میٹنگ کی صدارت کی تھی۔ موجودہ مالی سال 2017-18 کے لئے سرکار نے نمامی گنگے اور نیشنل گنگا پلان کے لئے 2250 کروڑ روپے کے بجٹ کی تجویز کی ہے۔
پہلا ڈیڈ لائن فیل ہونے کے بعد گنگا کے تحفظ کی وزیر اوما بھارتی نے گنگا صفائی کے لئے اکتوبر 2018 کا ہدف طے کیا۔ انہوں نے کہا تھا کہ کسی بڑی دوڑ پر جانے سے پہلے رنر کچھ پلوں کے لئے رکتاہے، فاصلے کا اندازہ کرتا ہے اور تب دوڑ شروع کرتاہے۔ ہمارا فاصلہ اکتوبر 2018 ہے اور ہم دنیا کو دکھا دیں گے کہ گنگا دنیا کی سب سے صاف ندیوں میں سے ایک ہے۔ حالانکہ سرکار بھی شاید اپنی کوششوں کی اصلیت سمجھ چکی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مرکزی وزیر برائے نقل و حمل اور جہازرانی نتین گڈکری نے گنگا کی صفائی کے لئے ڈیڈ لائن کو پانچ سال آگے بڑھا دیا۔ انہوں نے کہا کہ پانچ سال میں گنگا کی صفائی ہوگی۔ اس اسکیم میں مرکزی سرکار پیسہ کی کوئی کمی نہیں آنے دے گی۔
گنگا کی آلودگی کے سب سے بڑے عوامل ہیں ،اس کے کنارے قائم صنعتیں، ابھی گنگا کے کنارے پر 764 صنعتیں ہیں، جن میں 444 چمڑا صنعتیں، 27 کیمیائی ،67 چینی ملیں، 33 شراب صنعتیں۔ 22 اشیائے خورنی اور ڈیری صنعتیں، 63 کپڑا اور رنگ صنعتیں،67 کاغذ اور پلپ صنعتیں اور 41دیگر صنعتیں شامل ہیں۔ ان کے آلودہ پانی کو صاف کر کے گنگا میں بہانے کی کوشش اب تک پروان چڑھتی نہیں دکھ رہی ہے۔7 ہندوستانی صنعتی اداروں کے کنسوٹیم کے ذریعہ تیار ایک رپورٹ بتاتی ہے کنگا بیسن کے تحت آنے والی ریاستوں میں سیوریج ٹریٹمنٹ پلانٹ کی صلاحیت صرف 5,717 ایم ایل ڈی گند اپانی پیدا ہوتا ہے جبکہ ان ریاستوں میں سیویج ٹریٹمنٹ پلانٹ کی صلاحیت صرف 5,717 ایم ایل ڈی ہے۔ گنگا کے کنارے بسے 31شہروں میں سے صرف 4 شہروں قنوج، کانپور، مراد آباداور بریلی میں سیویج ٹریٹمنٹ پلانٹ موجود ہیں۔ حیرانی کی بات ہے کہ ان میں بھی صرف قنوج کا پلانٹ ابھی چالو ہے۔ اب یہ سوچنے والی بات یہ ہے کہ ایسی کوششوں سے بھاگی رتھ کی گنگا کو اوما بھارتی کیسے صاف کر واپائیں گی؟

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *