آر ایس ایس تب اور اب

Share Article

نرملیندو
کیشو راؤ بلی رام ہیڈگیواڑ راشٹریہ سویم سیوک سنگھ کے بانی تھے۔ دراصل، انہوں نے ہی ہندوستانی جد و جہد آزادی کے ناکام انقلاب اور اس وقت کے حالات کو مد نظر رکھتے ہوئے ایک نیم فوجی تنظیم کی بنیاد ڈالی تھی۔ بنیاد ڈالنے کے بعد انہوں نے اپنے ہم عصر دوستوں سے، یہاں تک کہ گاندھی جی سے بھی اس تنظیم کے جواز پر بات کی۔ گاندھی جی کو انہوں نے سنگھ کی حالت، خواہش، مستقبل کے بارے میں سمجھایا۔ گاندھی جی کے ساتھ اپنے خیالات بانٹے۔ حالانکہ گاندھی جی ان سے اس وقت متفق نہیں تھے، باوجود اس کے ہیڈگیواڑ بضد تھے۔ انہیں یہ کام کرنا ہی تھا۔ آخرکار اسی کے تحت 1925 میں دشہرہ کے دن انہوں نے راشٹریہ سویم سیوک سنگھ کی بنیاد ناگپور میں باقاعدہ طور پر ڈالی۔ انہوں نے اپنے دوستوں اور ہم عصر لیڈروں کو یہی سمجھانے اور یقین دلانے کی کوشش کی کہ نئی چنوتیوں کا سامنا کرنے کے لیے انہیں نئے نئے طریقوں سے کام کرنا پڑے گا۔ انہوں نے لوگوں کو یہ بھی سمجھایا کہ نئے طریقوں سے کام کرنے کے لیے اپنی سوچ کو بدلنا ہوگا۔ صرف یہی نہیں، سوچنے اور سمجھنے میں بھی تبدیلی پیدا کرنی ہوگی۔
دراصل، ان کا یہی ماننا تھا کہ وقت کے ساتھ ساتھ سب کو بدلنا چاہیے۔ اسی لیے انہوں نے اپنے ساتھیوں سے کہا کہ پرانے طریقے اب کام نہیں آئیں گے۔ قابل ذکر ہے کہ ڈاکٹر صاحب 1925 سے 1940 تک، یعنی تا عمر راشٹریہ سویم سیوک سنگھ کے سربراہ رہے۔

راشٹریہ سویم سیوک سنگھ کی آئڈیولوجی میں آیا فرق اب صاف صاف دکھائی دینے لگا ہے۔ سنگھ کی بنیاد کس نے ڈالی اور دھیرے دھیرے پچھلے 87 سالوں میں کیسے بدلاؤ آئے، انہی نکات پر چوتھی دنیا کا خصوصی تجزیہ…

سچ تو یہی ہے کہ جب تک زندہ رہے، تب تک وہ ایک طاقتور اور عزیز لیڈر کے طور پر سنگھ میں کام کرتے رہے۔ 21 جون، 1940 کو ناگپور میں ان کا انتقال ہو گیا۔ ڈاکٹر صاحب ایک ایسے شخص تھے، جس نے لوگوں کی صلاحیتیں ابھارنے کے لیے نئے نئے طریقے ایجاد کیے۔ سنگھ کے ایک بزرگ لیڈر نے کہا کہ لوگ ان پر آنکھ موند کر یقین کرتے تھے، اسی وجہ سے وہ چلتے گئے اور کارواں آگے بڑھتا چلا گیا۔ لیکن وقت نے بہت کچھ سکھا دیا ہم سبھی کو۔ وہ گئے، ان کے ساتھ ہی ساتھ پارٹی کی رونق بھی چلی گئی۔
گولوالکر
ہندوتوا کی بدلتی تعریف: سنگھ کا سخت گیر ہندو واد کی آئڈیولوجی سے اعتدال پسند ہونے تک کا سفر بے حد لمبا رہا ہے۔ جب جب حالات بدلے، تب تب سنگھ نے بھی اپنا لباس بدلا۔ کیسے؟ کیسے کیسے بدلتے گئے حالات؟
ہند، ہندوتوا اور ہندو راشٹر کی جو تعریف ڈاکٹر ہیڈگیواڑ نے اپنائی تھی، اسے ان کے جانشین گروجی، یعنی گولوالکر جی اور دیو رس جی نے آزادی کے بعد نہ صرف بدل دی، بلکہ پوری طرح خارج بھی کردی۔ دراصل، گولوالکر جی نے اسے اس لیے خارج کر دیا تھا، کیوں کہ گاندھی جی کا قاتل ناتھو رام گوڈسے سنگھ کا سویم سیوک تھا۔ کہتے ہیں کہ نہرو اور کانگریس کے عتاب سے بچنے کے لیے انہوں نے ایسا کیا تھا، لیکن اس سے کانگریس کو کوئی فرق نہیں پڑا۔ دراصل، گولوالکر جی کو یکم فروری، 1948 کو گرفتار کرنے کے ساتھ ہی ساتھ کمیونسٹوں اور مسلمانوں کا اعتماد حاصل کرنے کے لیے سنگھ پر پابندی تک لگا دی گئی تھی۔ ’گوڈسے کی آواز سنو‘ کتاب کے صفحہ نمبر 51-52 پر کتاب کے مصنف جگدیش بلبھ گوسوامی نے لکھا ہے کہ رہا ہونے کے بعد گولوالکر کی تقریر اور ان کی آئڈیولوجی بدلی بدلی سی نظر آ رہی تھی۔ اسی وجہ سے وہ کوئی ایسا کام نہیں کرنا چاہتے تھے اور نہ ہی ایسی بات کہنا چاہتے تھے، جو نہرو سرکار یا کانگریس کو پسند نہ ہو۔ وہ ڈاکٹر ہیڈگیواڑ جی کے ذریعے بتائے گئے اصولوں سے بھی دھیرے دھیرے پیچھے ہٹتے ہوئے سنگھ کے پہلے کے متعینہ اصولوں کو دبے باؤں چالاکی سے نکارنے اور بدلنے لگے۔ 7 ستمبر کو کولکاتا میں اخباروں کے نمائندوں کے سامنے ان کی تقریر اور اس کے بعد سوال و جواب کے دوران ان سے پوچھا گیا کہ سنگھ کی رکنیت کے لیے کس بات کی ضرورت ہے؟ جواب میں گولوالکر جی نے کہا کہ وہ ایک مکمل ہندو ہو، یعنی ایک کٹر ہندو۔
دراصل، ایک اور سوال ان سے پوچھا گیا۔ کیا یہ نعرہ صحیح ہے کہ ہندوستان ہندوؤں کا ہے، سنگھ کا نہیں ہے؟ اس سوال کے جواب میں گولوالکر جی نے ضمنی سوال کیا کہ دنیا میں ہندوؤں کے لیے ہندوستان کو چھوڑ کر دیگر کون سا ملک ہے؟ کیا یہ حقیقت نہیں ہے؟ لیکن ہندوستان صرف ہندوؤں کا ہی ملک ہے، ایسا کہنے والے دوسرے لوگ ہیں۔ اب آپ مانیں یا نہ مانیں، یقینی طور سے یہ بات ہندو سبھائیوں کے لیے ہی کہی گئی تھی۔ (حوالہ: شری گروجی سمگر درشن جلد 43، صفحہ 8، 44، 94 اور 75)
اب آپ خود فیصلہ کریں کہ کہاں تو ہندوستان کی تقسیم کے قبل ڈاکٹر ہیڈگیواڑ نے یہ کہا تھا کہ ہندوستان صرف ہندوؤں کا ملک ہے، دیگر فرقے یہاں خوشی سے اور محفوظ رہ سکتے ہیں، ہمیں اس پر کوئی اعتراض نہیں، لیکن تقسیم شدہ ہندوستان میں دوسرے سر سنگھ چالک گولوالکر جی، یعنی گرو جی فرماتے ہیں کہ ہندوستان صرف ہندوؤں کا ہی ہے، ایسا کہنے والے دوسرے لوگ ہیں، ہم ایسا نہیں کہتے۔ دراصل، گولوالکر جی کا اشارہ ہندو سبھائیوں کی جانب تھا۔ جی ہاں، یہاں سنگھ کی آئڈیولوجی میں آیا فرق صاف صاف دکھائی دیتا ہے۔ ان دونوں کے الفاظ اور جذبات میں فرق واضح طور پر دکھائی دیتا ہے۔
بالا صاحب دیورس
گولوالکر جی کے انتقال کے بعد بالا صاحب دیو رس نے سر سنگھ چالک (سنگھ کے سربراہ) کا عہدہ سنبھالا۔ اگر یہ کہیں کہ 26 جون، 1975 کو ہندوستان کی تاریخ میں ایک اور سیاہ صفحہ جڑا، تو شاید غلط نہیں ہوگا۔ غور طلب ہے کہ ایمرجنسی کے دوران سر سنگھ چالک دیو رس پورے 19 مہینے تک حراست میں رکھے گئے۔ حراست میں رہتے وقت ہی دیو رس جی کا کئی سماجوادی خیمے کے لیڈروں، جماعت اسلامی کے لیڈروں اور دہلی کی جامع مسجد کے امام بخاری سے تال میل بنا۔ آپس میں آئڈیولوجی کا لین دین ہوا اور دھیرے دھیرے ان لوگوں سے ان کے بہت ہی قریبی تعلقات ہو گئے۔ اب اگر یہ کہیں کہ ان سب لوگوں کی آئڈیولوجی کا بالا صاحب کی شخصیت اور سوچ پر کئی طرح سے اثر پڑا تھا، تو شاید غلط نہیں ہوگا۔ دراصل، اسی دوران 26 مئی، 1981 کو گوالیر میں ہندوستان کی سنٹرول پروونس(وسطی صوبہ) کے سنگھ سکشا وَرگ کے اپنے دانشورانہ خطاب میں بالا صاحب دیورس نے اپنے خیالات اس طرح ظاہر کیے: ’’یہاں جو مسلمانوں اور عیسائی ہیں، وہ نسلی گروہ میں نہیں آتے ہیں۔ یہاں کا مسلمان اور عیسائی، یہاں کا پرانا ہندو ہے۔ ان کا اور ہمارا خون ایک ہی ہے۔‘‘ انہوں نے آگے کہا ’’نہ صرف ہمارے آباء و اجداد ایک ہیں، بلکہ باپ دادا بھی ایک ہیں۔‘‘ دلیل دی کہ دو چار پشت پہلے ہی اس نے عبادت کے طریقے میں تبدیلی کی ہوگی۔ انہوں نے جہادی شکل اختیار کرتے ہوئے کہا کہ صرف مذہب بدلنے سے ہی قومیت نہیں بدلتی۔
اگر ہم غور سے ان سب باتوں کا جائزہ لیں، تو پائیں گے کہ ہندو، ہندوتوا اور ہندو راشٹر کی جو تعریف ڈاکٹر ہیڈگیواڑ نے اپنائی تھی، اسے ان کے جانشین گولوالکر، یعنی گروجی اور دیورس جی نے چینج ہی نہیں کیا، بلکہ پوری طرح خارج بھی کر دیا۔ سچ تو یہ ہے کہ انہوں نے مسلمانوں کے لیے بھی سنگھ اور اس کی ذیلی تنظیموں کے دروازے کھول دیے۔ (حوالہ: ہندو اسمیتا، 15 فروری، 2008)۔ 1977-78 کی بات ہے۔ ایک مسلم صحافی اور دانشور مظفر حسین کے ذریعے ناگپور سنگھ دفتر میں ہی سنگھ مسلم مباحثہ کا انعقاد کیا گیا۔ سوچ اور فکر میں کس طرح سے فرق آتا گیا، اس کی ایک مثال یہاں دیکھنے کو ملتی ہے۔ جب نماز کا وقت ہوا اور مسلم لیڈر نماز کے لیے سنگھ دفتر سے باہر جانے لگے، تو دیورس جی نے ان سے پوچھا کہ کیا وہ سنگھ دفتر میں نماز نہیں پڑھ سکتے؟ اس پر مسلم لیڈر بولے، کیوں نہیں؟ تب وہاں ان کے وضو کا انتظام کرایا گیا اور وہاں آئے سبھی مسلم لیڈر نماز میں شامل ہو گئے۔ اذان کی آوازیں بھی سنگھ دفتر کے احاطہ میں گونج اٹھیں۔ (ہندو اسمیتا، اندور، 16 فروری، 1996، صفحہ 2)۔ لیکن حیرانی کی بات تو یہ ہے کہ اس ہندو مسلم مباحثہ کا کوئی نتیجہ آخر کار نہیں نکلا۔
رجّو بھیا
دیورس جی کے بعد ڈاکٹر راجندر سنگھ عرف رجو بھیا مارچ 1994 میں چوتھے سرسنگھ چالک بنے، لیکن وہ زیادہ تر وقت بیمار ہی رہے۔ انہوں نے لکھا کہ سناتن دھرم کی ہمہ گیری اور عیسائیت اور اسلام کی محدود ذہنیت میں کوئی میل ہی نہیں ہے۔ (حوالہ: ہندو اسمیتا، صفحہ 7، 16 ستمبر، 1996)۔ پروفیسر راجندر سنگھ، یعنی رجو بھیا کے درج بالا بیان، جو کہ پانچ جنیہ میں 28 جولائی- 11 اگست، 1996 کے شمارہ میں شائع ہوا، سے یہ واضح ہوتا ہے کہ وہ ڈاکٹر ہیڈگیواڑ کے خیالات سے زیادہ قریب تھے، نہ کہ گولوالکر جی یا دیورس کے۔ حالانکہ یہ کہہ پانا فی الحال مشکل ہے کہ وہ کیوں سنگھ کو دوبارہ ڈاکٹر ہیڈگیواڑ کی پالیسیوں کے مطابق ڈھال پانے میں ناکام رہے۔ ہوسکتا ہے کہ اس کے پیچھے وجہ رہے ہوں سدرشن جی، جو شریک کار معاون رہتے ہوئے بھی رجو بھیا کی خراب صحت کی وجہ سے سنگھ کے سبھی کام دیکھ رہے تھے یا بیمار ہونے کے سبب ان کے سامنے ڈاکٹر راجندر سنگھ کی چلی نہ ہو۔ ویسے یہ بھی ہوسکتا ہے کہ لگاتار بیمار ہونے کے سبب وہ اپنی پالیسیاں اور آئڈیولوجی نافذ نہ کرا پائے ہوں۔ خیر، اس کے پیچھے وجہ جو بھی رہی ہو، لیکن سچ یہی ہے کہ ان کے زمانے میں بھی سنگھ گولوالکر جی اور دیورس جی کی سوچ کے مطابق ہی چلتا رہا۔
کے ایس سدرشن
مارچ 2002 میں کے ایس سدرشن سنگھ کے پانچویں سر سنگھ چالک بنے۔ وہ پنڈت دین دیال اپادھیائے جی کے نظریہ فکر کے زیادہ قریب تھے اور ہندو کی جگہ پر بھارتیہ لفظ کا استعمال زیادہ کرتے تھے۔ کہتے ہیں کہ انہیں ’بھارتیہ‘ لفظ سے زیادہ پیار تھا۔ وہ ہندوتوا اور ہندو راشٹر کے تصور سے اکثر لاعلم ہی دکھائی دیے، بلکہ یہاں تک کہنا زیادہ مناسب ہوگا کہ وہ گاندھی کے نظریہ فکر کے زیادہ قریب دکھائی دیے۔ دراصل، گاندھی جی کی طرح ہی سدرشن جی بھی ہمیشہ مسلمانوں کی حمایت حاصل کرنے کی کوشش میں لگے رہے۔ جس طرح گاندھی جی آزادی حاصل ہونے کو مسلم سماج کے تعاون کے بغیر ممکن نہیں سمجھتے تھے، ٹھیک اسی طرح سدرشن جی بھی مسلم سماج کے تعاون کو اپنے خیالات و نظریات میں نہایت ضروری سمجھتے تھے۔ کہتے ہیں کہ اسی نظریہ فکر کے سبب ہی شاید وہ مسلم صحافی مظفر حسین سے اتنے متاثر ہو گئے تھے کہ ان کے کہنے پر انہوں نے کئی میٹنگیں مسلم علماء کے ساتھ اس لیے کیں، تاکہ انہیں رجھایا اور اپنایا جاسکے۔ اور اسی کوشش میں آناً فاناً میں انہوں نے یہ بھی کہہ دیا کہ وید اور قرآن ایک جیسے ہیں اور یہ دونوں ایک ہی تعلیم دیتے ہیں، لیکن دکھ کی بات تو یہ ہے کہ مسلم علماء کو رجھانے کی سدرشن جی کی ساری کوشش آخرکار بیکار ہی ثابت ہوئی۔ سدرشن جی کے مطابق ملک کا مسلمان نہ تو محمدؐ کی راہ پر چلنے والا ہندو بننے کو تیار ہوا اور نہ اس ملک کو اپنی ماں اور مقدس سرزمین ماننے کو۔
موہن راؤ بھاگوت
موہن راؤ بھاگوت راشٹریہ سویم سیوک سنگھ کے موجودہ سر سنگھ چالک ہیں۔ بھاگوت کی امیج کی بات کریں، تو وہ غیر متنازع طور پر اعتدال پسند رہی ہے۔ دراصل، انہوں نے ملک کے الگ الگ حصوں میں سنگھ کے پرچارک کے روپ میں مختلف ذمہ داریاں نبھائیں بھی۔ کولکاتا اور پٹنہ میں بھی وہ کافی وقت تک رہے۔ قابل ذکر ہے کہ پٹنہ میں اپنے استقبالیہ پروگرام میں انہوں نے وویکانند کے سطور کی تشریح کی تھی۔ انہوں نے کہا تھا کہ طاقتور ہندوستان کا تصور کرنے پر ہمارے سامنے جس ملک کی شبیہ ابھرتی ہے، اس کے مطابق ہندوستان کا جسم اسلام کا ہونا چاہیے، جب کہ دل ہندو۔ حالانکہ سنگھ کے مسلمانوں کے تئیں چلے آر ہے نظریہ فکر سے یہ بات کافی الگ دکھائی دیتی ہے۔ دراصل، اس نظریہ فکر میں جسم اور دل کی افادیت کو لے کر بحث و مباحثہ کی پوری گنجائش ضرور ہے، لیکن ایک بات صاف ہے کہ نظریاتی طور سے مسلمانوں کا سنگھ بائیکاٹ نہیں کرتا ہے اور یہ بھاگوت کے سطور سے پتہ چل جاتا ہے۔ اب اگر یہ کہیں کہ اس طرح سے سنگھ نے دھیرے دھیرے ویر ساورکر اور ڈاکٹر ہیڈگیواڑ جی کے ہندوتوا اور پالیسیوں کو چھوڑ کر گاندھی وادی پالیسیوں کو ہی اپنا لیا، تو شاید غلط نہیں ہوگا۔ ایک سچ یہ بھی ہے کہ وہ وقت وقت پر خود کو گاندھی وادی کہلانے میں ہی محفوظ اور فخر محسوس کرتے رہے۔

پالیسیوں میں تبدیلی کے اسباب
انیس سو انتالیس میں ہندو مہا سبھا کے اجلاس میں سکریٹری عہدہ کے الیکشن میں گولوالکر، یعنی گرو جی کی شکست ہوئی۔ دراصل، اس کے بعد 1940 میں ڈاکٹر ہیڈگیواڑ کی موت کے بعد گولوالکر جی سنگھ کے سرسنگھ چالک بنے۔ بس اس کے بعد سے ہی سنگھ کا ہندو مہا سبھا سے عدم تعاون شروع ہوگیا۔
ویر ساورکر کی شخصیت کا جادو اس وقت نوجوانوں پر چل رہا تھا، خاص کر مہاراشٹر کے نوجوانوں پر۔ ایسے میں شاید گولوالکر جی کو لگا کہ اگر یہ اثر اسی طرح لگاتار بڑھتا چلا گیا، تو نوجوانوں پر سنگھ کی چھاپ دھیرے دھیرے کم ہو جائے گی۔ دراصل، اسی حسد کے سبب گولوالکر جی نے ویر ساورکر اور ہندو مہا سبھا کی مخالفت کرنی شروع کر دی، جیسا کہ سنگھ کے سینئر لیڈر گنگا دھر اندولکر کا کہنا ہے۔
گاندھی جی کے قتل کے بعد سرکاری پابندیوں اور ممکنہ سرکاری عتاب کے ڈر سے گولوالکر اور ان کے جانشینوں نے ہندوتوا کو کنارے رکھ کر ’بھارتیہ‘ لفظ کو ترجیح دی۔ حیرانی کی بات تو یہ ہے کہ سنگھ کے ذریعے جتنی بھی ذیلی تنظیمیں کھولی گئیں، ان میں زیادہ تر کو ’بھارتیہ‘ نام ہی دیا گیا، جیسے سنسکار بھارتی، سیوا بھارتی، اکھل بھارتیہ ودیارتھی پریشد اور اکھل بھارتیہ مزدور سنگھ وغیرہ۔ اتنا ہی نہیں، ہندوسنسکرتی کی بجائے بھارتیہ سنسکرتی جیسے لفظوں کا استعمال بھی اور زیادہ بڑھ گیا۔
اب گولوالکر جی کی باتوں پر دھیان دیں۔ 1950 تک گولوالکر جی یہی کہتے رہے کہ سیاست تو جسم فروش عورت ہے، اس لیے ہمیں اس سے دور ہی رہنا چاہیے، لیکن حیرانی کی بات تو یہ ہے کہ وہ خود اس سے دور نہیں رہ پائے۔ دراصل، گولوالکر جی کی اس قسم کی ناپختہ سوچ پر، جب گاندھی جی کے قتل کے بعد سنگھ پر پابندی لگی، تو ہندو مہا سبھا کی مخالفت میں ڈاکٹر شیاما پرساد مکھرجی کو ناگپور بلاکر ایک نئی ہندو سیاسی پارٹی’ جن سنگھ‘ کی بنیاد ڈالی گئی۔ اس کے لیے سنگھ کے بیسیوں سینئر کارکنوں کی خدمات ڈاکٹر شیاما پرساد مکھرجی کو سونپنے کے سبب ہندو سیاست میں راتوں رات بھرم اور بھٹکاؤ کی صورتِ حال پیدا ہو گئی۔ نتیجہ یہ ہوا کہ گولوالکر جی کا ناتہ دھیرے دھیرے سنگھ سے ٹوٹتا چلا گیا اور شیاما پرساد مکھرجی سنگھ کے ایک طرح سے سرگرم ترجمان بن گئے۔

سنگھ کے اہم پرچارک اور رکن
کیشو بلی رام ہیڈگیواڑ، مادھو سدا شو گولوالکر، شیاما پرساد مکھرجی ، دین دیال اپادھیائے، مدھوکر دتا تریہ، دیو رس، اٹل بہاری واجپئی، لال کرشن اڈوانی، راجندر سنگھ عرف رجو بھیا، اشوک سنگھل، کے ایس سدرشن، پروین توگڑیا، اوما بھارتی، نریندر مودی، نتن گڈکری، ونے کٹیار، نانا جی دیش مکھ، بھیا جی جوشی، سریش سونی، ایم جی ویدیہ اور راجناتھ سنگھ

کون ہیں آر ایس ایس سے جڑے دس انتہا پسند؟
مرکزی وزیر داخلہ سشیل کمار شندے کے ذریعے راشٹریہ سویم سیوک سنگھ اور بھارتیہ جنتا پارٹی پر دیے گئے بیان کے بعد ہوم سکریٹری آر کے سنگھ نے کہا ہے کہ سرکار کے پاس کم سے کم ایسے 10 لوگوں کے نام ہیں، جو سمجھوتہ ایکسپریس، مکہ مسجد اور اجمیر شریف درگاہ دھماکوں میں شامل تھے اور جن کا تعلق کسی نہ کسی زمانے میں آر ایس ایس سے رہا ہے۔ دراصل، قومی تفتیشی ایجنسی این آئی اے نے اس معاملے میں جن 10 لوگوں کے نام دیے ہیں، ان میں کچھ درج ذیل ہیں:
سوامی اسیما نند: 1990 شے 2007 کے درمیان اسیمانند راشٹریہ سویم سیوک سنگھ سے جڑی تنظیم بنواسی کلیان آشرم کے ضلع پرچارک سربراہ رہے۔ اسیمانند کو 19 نومبر، 2010 کو گرفتار کیا گیا اور 2011 میں انہوں نے اپنے اقبالیہ بیان میں کہا کہ اجمیر شریف درگاہ، حیدرآباد کی مکہ مسجد اور دیگر کئی مقامات پر ہوئے بم دھماکوں میں ان کا اور دوسرے ہندو انتہا پسندوں کا ہاتھ تھا۔ غور طلب ہے کہ اسیمانند کو سادھوی پرگیا سنگھ ٹھاکر کا قریبی مانا جاتا ہے، جو مالیگا دھماکوں کی ایک اہم ملزم رہی ہیں۔
سنیل جوشی: راجستھان اے ٹی ایس کے مطابق، سنیل جوشی اجمیر دھماکوں کے ماسٹر مائنڈ تھے۔ وہ ان دھماکوں کے الزام میں گرفتار سوامی اسیمانند کے ہمیشہ رابطہ میں تھے۔ قابل ذکر ہے کہ جوشی کا 29 دسمبر، 2007 کو مدھیہ پردیش کے دیواس میں قتل کر دیا گیا تھا۔ حیرانی کی بات تو یہ ہے کہ جوشی کے قتل کی جانچ تب تک آگے نہیں بڑھی، جب تک راجستھان اے ٹی ایس نے کچھ لوگوں کو اجمیر دھماکوں کے سلسلے میں گرفتار نہیں کر لیا۔
دیوندر گپتا: اجمیر اور سمجھوتہ ایکسپریس دھماکے میں دیوندر گپتا کے خلاف الزام ہے۔ کہا گیا ہے کہ وہ 2003 سے 2006 کے درمیان جھارکھنڈ میں واقع جام تاڑہ میں آر ایس ایس کے ضلع پرچارک رہے۔
لوکیش شرما: دیو گڑھ میں آر ایس ایس کے قائم مقام صدر رہے لوکیش شرما سمجھوتہ ایکسپریس اور مکہ مسجد معاملے میں گرفتار ہیں۔
سندیپ ڈانگے: فی الحال فرار ہیں۔ انہیں سمجھوتہ ایکسپریس اور مسلمانوں سے جڑے دو مذہبی مقامات پر بم دھماکوں میں شامل بتایا جاتا ہے۔ وہ مبینہ طور پر مھو، اندور اور شاجاپور میں آر ایس ایس پرچارک تھے۔
کمل چوہان: سمجھوتہ ایکسپریس معاملے میں گرفتار۔ انہیں راشٹریہ سویم سیوک سنگھ کا پرچارک بتایا جا رہا ہے۔
ان ناموں کے علاوہ، بتایا یہ بھی جا رہا ہے کہ اس فہرست میں شاجا پور میں سنگھ پرچارک رہے چندرشیکھر لیوے، سمجھوتہ ایکسپریس اور مکہ مسجد معاملے میں گرفتار کیے گئے راجندر، دیواس میں پرچارک رہے راج جی کلسانگرا اور مالیگاؤں دھماکے میں ملزم بنائی گئیں سادھوی پرگیہ ٹھاکر کے نام بھی شامل ہیں۔ حالانکہ سنگھ ان الزامات کی تردید شروع سے ہی کرتا آ رہا ہے۔ بی جے پی کے ترجمان روی شنکر پرساد نے سشیل کمار شندے کے بیان کے بعد کہا بھی تھا کہ جو لوگ کسی بھی طرح کی غیر قانونی سرگرمیوں میں شامل پائے جاتے ہیں، ان کے خلاف مناسب کارروائی کی جانی چاہیے، لیکن اس طرح سے سنگھ یا بی جے پی کے نام کو بدنام کرنے کی کوشش صحیح نہیں ہے۔

وہ متنازع بیان
ہندوستان میں ان دنوں جس طرح عصمت دری کے واقعات کا تانتا لگا ہوا ہے، ٹھیک اسی طرح لیڈروں کی بے تکی بیان بازی کا بھی تانتا لگا ہوا ہے۔ نیتا عصمت دری کے بڑھتے معاملوں پر ایک کے بعد ایک عجیب و غریب بیان دے رہے ہیں۔ اسی کڑی میں آر ایس ایس چیف موہن بھاگوت نے گزشتہ دنوں سلچر میں ایک جلسہ کے دوران بھارت اور انڈیا کو الگ کرتے ہوئے کہا کہ ریپ بھارت میں کم اور انڈیا میں زیادہ ہوتے ہیں۔ دراصل، موہن بھاگوت کہنا یہی چاہتے تھے کہ عصمت دری کا بنیادی سبب ہے مغربی تہذیب۔ ان کا ماننا ہے کہ مغربی تہذیب کا اثر انڈیا، یعنی شہروں پر زیادہ ہے، اس لیے وہاں عصمت دری کے معاملے بھی زیادہ ہوتے ہیں۔ بھاگوت نے کہا کہ بھارت، یعنی گاؤں کی بات کریں، تو وہاں ایسے واقعات نہیں کے برابر ہوتے ہیں، کیوں کہ وہ مغربی تہذیب سے دور ہیں۔ گاؤں کی تہذیب اور رہن سہن آج بھی ہندوستانی تہذیب کے آس پاس ہے۔ بھاگوت نے عصمت دری کے معاملے میں سخت سزا کی پیروی کرتے ہوئے کہا کہ آر ایس ایس بھی ایسے واقعات کے خلاف سخت قانون بنانے کی مانگ کرتا ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے قصورواروں کے لیے پھانسی جیسی سخت سزا کی مانگ بھی کی۔

بی جے پی اور سنگھ کا اٹوٹ رشتہ؟
غور طلب ہے کہ راج نارائن اور مدھولمیہ جیسے ماہر سماجیات نے جنتا پارٹی اور آر ایس ایس دونوں کی رکنیت رکھنے کی مخالفت کی۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ جنتا پارٹی میں بکھراؤ پیدا ہو گیا۔ دوسری طرف سال 1980 میں جن سنگھ نے خود کو دوبارہ منظم کر لیا۔ جنتا پارٹی میں شامل اس کے لیڈر ایک پلیٹ فارم پر آئے اور ایک نئی پارٹی کا جنم ہوا، جس کا نام بھارتیہ جنتا پارٹی رکھا گیا۔ لیکن ایک تلخ حقیقت یہ بھی ہے کہ اس نے خود کو ہمیشہ سنگھ کے چشمے سے ہی دیکھا۔ کبھی اپنی پارٹی کو الگ طریقے سے دیکھنے کی کوشش ہی نہیں کی۔ اب اگر یہ کہیں کہ راشٹریہ سویم سیوک سنگھ بی جے پی کی ریڑھ ہے اور ہندوتوا اس کی آئڈیولوجی، تو شاید غلط نہیں ہوگا۔ حالانکہ یہ الگ بات ہے کہ الگ الگ حالات میں بی جے پی اعتدال پسند رخ اپناتی رہی ہے، لیکن گھوم پھر کر وہ ہندوتوا کی آئڈیولوجی کے آس پاس ہی آکر ٹھہر سی جاتی ہے۔ شاید اس لیے، کیوں کہ سنگھ کا دباؤ جو ہے۔ حالانکہ یہ بھی ایک سچ ہے کہ یہ سنگھ کا ہی کمال ہے کہ جب بھی بی جے پی ہندوتوا کو اپنے ایجنڈے سے درکنار کرنے کی کوشش کرتی ہے، تو سنگھ کا ڈنڈا فوراً اس پر چل جاتا ہے۔ تلملا جاتے ہیں بی جے پی کے سینئر لیڈر۔ یہی وجہ ہے کہ اڈوانی جیسے بڑے لیڈر کو بھی آخر کار الگ تھلگ ہونا ہی پرا۔ اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ 80 اور 90 کی دہائی میں سنگھ اور بی جے پی نے اپنے ہندو وادی ایجنڈے کو کافی مضبوط کیا، یکن عام لوگوں سے یہ بات چھپ نہیں سکی۔ دراصل، ان کے اسی سخت گیر ہندو وادی رویے اور مذہبی اشتعال کا نتیجہ تھا 6 دسمبر، 1992 کا بابری مسجد انہدام اور 2002 کا گودھرا فساد۔ سچ تو یہ ہے کہ ان دونوں غیر انسانی اور جانور صفت واقعات نے ہندوستانی عوام کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔ حالانکہ اسی دوران تین موقعوں پر اقتدار کا مزہ بھی لوٹ چکی ہے بی جے پی۔ حقیقت تو یہی ہے کہ لگاتار دو بار کانگریس سے لوک سبھا الیکشن میں منھ کی کھانے کے بعد وہ خود کو بدلنے کی کئی بار ناکام کوشش بھی کر چکی ہے، لیکن سنگھ کی ناراضگی اور دباؤ کے آگے اس کی ایک بھی نہ چلی۔ بھلے ہی سنگھ کہتا رہا ہے کہ اس کا بی جے پی میں کوئی دخل نہیں ہے، لیکن سچائی تو یہی ہے کہ سنگھ ہی بی جے پی کو چلاتا ہے اور یہ بات ہمارے ہمارے ملک کے ووٹر اچھی طرح جانتے ہیں۔
سنگھ کا کتنا دخل ہے بی جے پی میں، اس بات کا ثبوت ہے کہ لوک سبھا الیکشن ہارنے کے مدعے پر سنگھ نے دلیل دی کہ بی جے پی اس لیے پچھڑی، کیوں کہ اس نے ہندوتوا کو درکنار کردیا۔ سنگھ نے لوک سبھا الیکشن نہ جیت پانے کے کئی سبب بتائے بی جے پی کو۔ ایک، اقتدار میں بنے رہنے کے لیے دفعہ 370، یکساں سول کوڈ اور رام مندر کو دری کے نیچے سرکا دیا بی جے پی نے۔ دو، یہاں تک کہ نریندر مودی کو سزا دینے کی پیش کش بھی کی۔ تین، پاکستان کی داڑھی میں ہاتھ ڈالا۔ چار، کرگل کے قصورواروں سے ہاتھ ملایا۔ پانچ، مدرسوں کو تھپتھپایا اور رام مندر نہیں بنایا۔ سنگھ نے یہ الزام بھی لگایا کہ وہ ہندی، ہندو اور ہندوستان کو بھول گئی۔ بات ٹھیک ہے۔ یہ سب ہوا، یکن سوال یہ اٹھتا ہے کہ جو لوگ 50-50 سال تک سنگھ کے سویم سیوک رہے، وہ راتوں رات کیسے بدل گئے۔ اٹل جی تو اٹل جی، اڈوانی جی کو کیا ہوگیا؟ حیرانی کی بات تو یہ ہے کہ وہ جناح کے مداح بن گئے۔ بی جے پی کے لیڈر اس حقیقت کو خوب سمجھتے ہیں، لیکن صرف اور صرف ان کے بدلنے سے کیا ہوگا، کیوں کہ ان کی بات جب تک سنگھ کے گلے نہیں اترے گی، سچ تو یہ ہے کہ وہ ایک قدم بھی آگے نہیں بڑھ سکتے۔ ایسا نہیں ہے کہ سنگھ جڑ ہے۔ دراصل، سنگھ اور بی جے پی کا رشتہ ایک اٹوٹ رشتہ ہے۔ سنگھ کے بغیر بی جے پی صفر ہے، لیکن سنگھ اگر پرانی لیک پر ہی چلتا رہا، تو آخر کار کیا وہ خود صفر نہیں بن جائے گا؟

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *