رنگناتھ رپورٹ: حکومت، سپریم کورٹ اور اقلیتی ریزرویشن

Share Article

ششی شیکھر
سچر کمیٹی اور رنگناتھ مشرا کمیشن کی رپورٹ سے یہ سچ ثبوت کے ساتھ سامنے آیا کہ ملک کی اقلیتوں کی سماجی-معاشی اور تعلیمی حالت کیا ہے؟ یہ بھی علم ہوا کہ ان کے ان بگڑے حالات کو کیسے سدھارا جاسکتا ہے؟ لیکن ان رپورٹوں پر حکومت کے رخ سے یہ بھی ثابت ہوگیا کہ اقلیتوں کے لیے موجودہ مرکزی حکومت کچھ ٹھوس اقدام کرنے کی بجائے مگرمچھ کے آنسو ہی بہاتی رہی ہے۔ ’چوتھی دنیا‘ کی تحقیقات میں جو نئے حقائق سامنے آئے ہیں، وہ مرکزی حکومت کی اقلیت نوازی کی سچائی کی پول کھولنے کے لیے کافی ہیں۔ گزشتہ 6سالوں میں مرکزی حکومت نے اس سوال کا جواب کیوں نہیں دیا جو ملک کی عدالت عظمیٰ نے پوچھا ہے۔ کیس نمبر 180/2004 میں آخر مرکزی حکومت کیوں جواب دینے سے بچ رہی ہے؟ ’چوتھی دنیا‘ کو ملی اطلاعات کے مطابق وزارت برائے سوشل جسٹس اینڈ امپاورمنٹ، رنگناتھ رپورٹ کی سفارش پر ایک ڈرافٹ نوٹ تیار کر رہی ہے۔ یہ ڈرافٹ نوٹ کیبنیٹ کمیٹی آن پالیٹیکل افیئرس کے لیے تیار کیا جارہا ہے۔ ’چوتھی دنیا‘ کو موصول ایک خط کے مطابق مئی 2010میں یہ ڈرافٹ نوٹ تیاری کے مرحلہ میں تھا اور اب بھی یعنی اکتوبر 2010تک وہ ڈرافٹ نوٹ تیار نہیں ہوسکا ہے۔ حکومت کے پاس بھی سپریم کورٹ کے سوال سے بچنے کے لیے ایک اچھا بہانا ہے، کیوں کہ جب تک ڈرافٹ نوٹ تیار نہیں ہوگااورسیاسی امور کی کابینی کمیٹی سے پاس نہیں ہوگا، تب تک سپریم کورٹ میں جواب داخل نہیں ہوسکتا۔ مرکزی حکومت کے ڈھلمل رویہ کی وجہ سے گزشتہ 9ماہ کے دوران کیس نمبر 180/2004 میں ایک بار بھی سماعت نہیں ہوسکی ہے۔ ہر بار حکومت تاریخ پر تاریخ لیتی جارہی ہے اور ابھی اگر آپ سپریم کورٹ کی ویب سائٹ پر اس کیس کا کیس اسٹیٹس دیکھیںگے تو اس میں صاف لکھا ہوا ہے کہ اس کیس کی لسٹنگ کے لیے ابھی کوئی حکم جاری نہیں کیا گیا ہے۔ ’چوتھی دنیا‘ سے بات چیت میں معروف وکیل اور اس کیس کے عرضی گزار پرشانت بھوشن نے بتایا کہ سپریم کورٹ بار بار حکومت کو وقت دیتا گیا، لیکن پھر بھی حکومت اب تک اس معاملے کو طے نہیں کر پائی۔ ایسے میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر کروڑوں اقلیتوں کے حق کے ساتھ چل رہی اس کھلواڑ کی وجہ کیا ہے اور کیسے کیسے بہانے بنا کر حکومت اس کھلواڑ کو انجام دے رہی ہے۔
دراصل رنگناتھ مشرا کمیشن کی تشکیل سے قبل سینٹر فار پبلک انٹریسٹ لٹیگیشن کی جانب سے پرشانت بھوشن اور نیشنل کونسل فار دلت کرشچین کے نیشنل کو آرڈینیٹر فرینکلن سیجر کی جانب سے سپریم کورٹ میں دلت عیسائیوں کو درج فہرست ذات کا درجہ اور ریزرویشن دینے کے سلسلہ میں ایک عرضی دائر کی گئی تھی، عرضی نمبر 180/2004۔ یہ عرضی 22مارچ 2004کو دائر کی گئی تھی۔ دراصل مذکورہ عرضی میں آئین کے پیرا 3میںمبینہ 1950کے اس صدر جمہوریہ کے حکم کو بھی چیلنج دیا گیا تھا، جس میں واضح طور پر تحریر ہے کہ ہندو مذہب کے علاوہ کسی اور مذہب کے ماننے والے شخص کو درج فہرست ذات کا درجہ نہیں دیاجاسکتا ہے۔ حالانکہ بعد میں کچھ ترمیم کر کے بودھ اور سکھ مذہب کو بھی اس میں شامل کرلیا گیا، لیکن اسی حکم کی وجہ سے اب تک مسلمان، عیسائی، جین اور پارسی مذہب کے لوگوں کو درج فہرست ذات(ایس سی) کا درجہ نہیں مل سکتا۔ عرضی گزار کی دلیل تھی کہ مذکورہ حکم کی وجہ سے مسلمانوں، عیسائیوں، جین اور پارسیوں کے ساتھ فرق و امتیاز ہورہا ہے، کیوں کہ آئین کی دفعہ 14(قانونی مساوات)، 15(مذہب کی بنیاد پر امتیاز کی ممانعت)اور 25(مذہب تبدیل کرنے اور ماننے کی آزادی) کاسیدھا ٹکراؤ آئین کے پیرا 3سے ہے۔ ایک طرف آئین کی مذکورہ دفعات میں مساوات کی بات ہے وہیں دوسری طرف پیرا 3اس مساوات کے راستے میں رکاوٹ بنا ہوا ہے۔
غور طلب ہے کہ رنگناتھ مشرا کمیشن کی تشکیل 23اکتوبر 2004کو کی گئی تھی۔ ابتدا میں اس کمیشن کی تشکیل اس لیے کی گئی تھی کہ وہ اس بات کا پتہ لگائے کہ اقلیتوں(مسلم، عیسائی، جین، پارسی) میں پسماندہ طبقے کی پہچان کس بنیاد پر  ہو؟ جب مذکورہ عرضی سپریم کورٹ میں پیش کی  گئی تب عدالت نے اس معاملے میں حکومت کا جواب جاننا چاہا۔ خیر مذکورہ عرضی کے ڈالے جانے اور سپریم کورٹ کے ذریعہ سوال پوچھے جانے کا نتیجہ یہ ہوا کہ حکومت نے رنگناتھ کمیشن کو اس بات کی بھی جانچ کرنے کے لیے کہہ دیا کہ اقلیتوں کو ریزرویشن دینے کا کیا کوئی راستہ نکالا جاسکتا ہے؟ نومبر 2005میں حکومت نے سپریم کورٹ کو مطلع کیا کہ اس معاملے کو رنگناتھ مشرا کمیشن کے پاس غور کرنے کے لیے بھیج دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ کمیشن کو 50فیصد ریزرویشن کی حد پر بھی غور کرنے کے لیے کہہ دیا گیا ہے۔ رنگناتھ مشرا کمیشن اپنی رپورٹ 2007میں مرکزی حکومت کو سپرد کر دیتا ہے۔ اپریل 2007میں ایڈیشنل سالیسٹر جنرل گوپال سبرامنیم سپریم کورٹ کو مطلع کرتے ہیں کہ حکومت ہند کے حکم کے مطابق قومی درج فہرست ذات کمیشن کو متفق کرنے کے لیے رنگناتھ رپورٹ بھیج دی گئی ہے۔ جنوری 2008میں ایک بار پھر ایڈیشنل سالیسٹر جنرل کورٹ کو مطلع کرتے ہیں کہ قومی درج فہرست ذات کمیشن نے وزارت برائے سوشل جسٹس اینڈ امپاورمنٹ کو مشورہ دیا ہے کہ دلت عیسائیوں کو درج فہرست ذات(ایس سی) کا درجہ دیا جاسکتا ہے، لیکن ایڈیشنل سالیسٹر جنرل ساتھ میں یہ بھی کہتے ہیں کہ اس پر آخری فیصلہ کرنا باقی ہے، اس لیے وہ 8ہفتے کا وقت مانگتے ہیں، لیکن آج کی تاریخ تک سپریم کورٹ کو آخری جواب دے پانے میں حکومت ناکام ہے۔
بہرحال سپریم کورٹ نے حکومت سے جو سوال پوچھا ہے، وہی سوال ملک کی اقلیتوں کے کروڑوں لوگوں کا بھی ہے؟ ترقی سے کوسوں دور ملک کی اقلیتوں کے کروڑوں لوگوں کو جواب چاہیے کہ مرکزی حکومت کب انہیں ان کا حق دے گی۔ کب تک انہیں صرف ووٹ بینک کی نظر سے ہی دیکھا جائے گا؟ ظاہر ہے ان سوالوں کے جواب دے پانا حکومت اور سیاسی پارٹیوں کے لیے آسان نہیں ہے۔ ساتھ ہی یہ سوال سیاسی پارٹیوں اور خاص طور سے  برسراقتدار پارٹی کے دوہرے کردار کی تہیں بھی کھولتے ہیں۔

رنگناتھ رپورٹ اور ’چوتھی دنیا‘
2009کے پارلیمنٹ کے سرمائی اجلاس کو یاد کیجیے۔ جب راجیہ سبھا میں جنتادل (یونائیٹڈ) کے ممبرپارلیمنٹ علی انور انصاری ’چوتھی دنیا‘ کی کاپی لہراتے ہوئے غصے میں چیئرمین کی کرسی تک جا پہنچے تھے۔ دراصل ’چوتھی دنیا‘ کے اس شمارہ میں وہ رپورٹ شائع ہوئی تھی جسے حکومت گزشتہ 2سالوں سے دبا کر بیٹھی ہوئی تھی۔ وہ رپورٹ رنگناتھ مشرا کمیشن کی تھی۔ اپنی رپورٹ میں کمیشن نے ایسے مسلمانوں اور عیسائیوں کو ریزرویشن دینے کی سفارش کی تھی، جن کی سماجی، تعلیمی اور معاشی حالت ہندو دلتوں کی ہی طرح ہے۔ کمیشن اپنی رپورٹ 2007میں ہی حکومت کو سونپ چکا تھا، لیکن دو سالوں کے بعد بھی یہ رپورٹ پارلیمنٹ میں پیش نہیں کی جاسکی تھی، لیکن اسی دوران ’چوتھی دنیا‘ نے مذکورہ رپورٹ شائع کر دی۔ پہلے علی انور پھر سماجوادی پارٹی، راشٹریہ جنتا دل، لوک جن شکتی پارٹی، کمیونسٹ پارٹی کے ممبران پارلیمنٹ نے بھی اس معاملے پر ہنگامہ مچانا شروع کردیا۔ معاملہ اتنا آگے بڑھا کہ ’چوتھی دنیاـ‘ کے ایڈیٹر کو خصوصی اختیارات کی خلاف ورزی کا نوٹس تک بھیجا گیا، لیکن رپورٹ کو راجیہ سبھا میں پیش نہیں کیا جاسکا۔ 9دسمبر کو لوک سبھا میں سماجوادی پارٹی کے ممبران پارلیمنٹ نے ’چوتھی دنیا‘ کی کاپی ہاتھ میں لہراتے ہوئے وزیراعظم سے اس معاملے پر بیان دینے کا مطالبہ کیااور پارلیمنٹ کی کارروائی نہیں چلنے دی۔ آخر کار وزیراعظم کو اس مسئلے پر لوک سبھا میں بیان دینا پڑا۔ انہیں کہنا پڑا کہ اسی سیشن میں رپورٹ کو پیش کر دیا جائے گا۔ ہوا بھی یہی۔ سیشن کے آخری دن رپورٹ پیش ہوگئی، لیکن اس کے بعد اس رپورٹ کا کیا ہوا؟ 2009کے سرمائی اجلاس کے بعد اور کئی سیشن آئے اور چلے گئے، لیکن اب تک نہ تو اس رپورٹ کی سفارشات پر کوئی عمل ہوا ہے اور نہ ہی کوئی ٹھوس شروعات  دیکھنے کو ملی۔
بہار کے اسمبلی انتخابات آخری مرحلہ میں پہنچ چکے ہیں۔ اقلیتوں (مسلمانوں) کو لبھانے اور اپنے پالے میں کرنے کے لیے تقریباً تمام سیاسی پارٹیوںنے کوشش کی۔ راہل گاندھی بہار میں کانگریس کو پھر سے اپنے پیروں پر کھڑا کرنے کی کوشش میں ہیں۔ بہار میں جا کر ترقی کی بات کہہ رہے ہیں، لیکن کیا انہوں نے کبھی یہ سوچا ہے کہ جس رنگناتھ مشرا کمیشن نے مسلمانوں اور عیسائیوں کی حالت کے بارے میں اپنی رپورٹ دی ہے، وہ انہی کی حکومت نے بنایا تھا، تو پھر کیوں اس کمیشن کی سفارشات پر حکومت توجہ نہیں دے رہی ہے؟

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *