وجیندر کمار
سارن  کی سیاست میں مہاراج گنج پارلیمانی حلقہ کے نمائندوں کا اپنا ایک الگ انداز رہا ہے۔ المیہ یہ ہے کہ چتوڑ گڑھ کے نام سے مشہور مہاراج گنج کے حلقہ سے منتخب نمائندوں نے اپنی ہی جماعت کی اعلیٰ قیادت کے خلاف باغیانہ تیور دکھاکر سیاست میں بھونچال پیدا کردیا ہے۔ واضح ہوکہ سن1989 میں مہاراج گنج پارلیمانی حلقہ پر اپنی اپنی دعویداری کے تعلق سے اٹھے تنازع کے حوالہ سے سابق وزیر اعظم چندر شیکھر کو یہاں سے الیکشن لڑنے کی نوبت آگئی تھی۔ اس وقت ہونے والے پارلیمانی الیکشن میں چندر شیکھر کے تین معززحامیوں میں مہاراج گنج سے الیکشن لڑنے کے حوالہ سے جنگ چھڑ گئی تھی۔ معاملہ چندر شیکھر کے یہاں پہنچا۔ انہوں نے اس تنازع کو فوری طور پر ختم کرنے کے لئے مہاراج گنج لوک سبھا حلقہ سے بذات خود الیکشن لڑنے کا فیصلہ کیا۔ جسے ان کے تینوں سیاسی حامیوں رام بہادر سنگھ، پربھوناتھ سنگھ اور اوما شنکر سنگھ نے خوش دلی کے ساتھ قبول کیا اور انتخابات میں اپنا تعاون بھی پیش کیا۔ اس الیکشن میں چندر شیکھر بلیا کے ساتھ مہاراج گنج سے بھی کامیاب ہوئے تھے۔ پارلیمنٹ کی رکنیت انہوں نے بلیا سے لینے کا فیصلہ کیا اور مہاراج گنج سیٹ پر سماج وادی لیڈر رام بہادر سنگھ کو الیکشن لڑنے حکم دیا۔ سن1989کے لوک سبھا انتخابات میںجن مورچہ لیڈر وی پی سنگھ کا لوہا مانا جاتا تھا مگر پارلیمانی گروپ کے لیڈر کی شکل میں وی پی سنگھ کو منتخب کیے جانے پر چندر شیکھر نے سخت اعتراض ظاہر کرتے ہوئے سب کو حیرت میں ڈال دیا تھا۔
بہرحال مہاراج گنج کے موجودہ آرجے ڈی رکن پارلیمنٹ اوما شنکر سنگھ اس الیکشن میں آرجے ڈی کی مخالفت میں تمام حدیں پار کرگئے۔ ان کی ناراضگی کاعالم یہ ہے کہ وہ مہاراج گنج پارلیمانی حلقہ کے کچھ اسمبلی حلقوں میں اپنے حامیوں کو انتخاب لڑانے پر آمادہ ہیں، جب کہ ان کے حریف پربھوناتھ سنگھ کا قد آرجے ڈی میں کافی بڑھ گیا ہے اور ان کے حامی امیدواروں کی پورے سارن علاقے کی اسمبلی سیٹوں پر چناؤ لڑنے کی ہوڑ سی لگی ہوئی ہے۔ آرجے ڈی سپریمو لالو پرساد نے پربھوناتھ سنگھ کواسمبلی الیکشن کے پیش نظر اہمیت دے کر اوما شنکر سنگھ کے زخموں پر نمک پاشی کی ہے۔ حالت یہ ہے کہ اوما شنکر سنگھ نے آرجے ڈی امیدواروں کو شکست دینے کا اعلان کرکے آرجے ڈی کے خیمے میں ہلچل پیدا کر دی ہے۔ وہ اپنے حامیوں کو ہر حال میں انتخابات میں اتارنے کے لئے دوسری جماعتوں سے ٹکٹ حاصل کرنے کے لئے ہاتھ پاؤں ماررہے ہیں، جب کہ پربھوناتھ سنگھ نے اپنے حامیوں کو آرجے ڈی کے ٹکٹ کی یقین دہانی کراکر انتخابی مہم میں سرگرم ہوجانے کی ہدایت دی ہے۔ سارن اور سیوان ضلع کے اسمبلی حلقوں کے انضمام سے بنے مہاراج گنج پارلیمانی حلقہ میں آرجے ڈی میں اٹھے طوفان سے سارن کاسیاسی درجہ حرارت اونچا ہوگیا ہے۔ اس وقت چھپرہ سمیت ایکما، مانجھی، بنیاپور، تریا، پرسا، سون پور، دورودھا، مہاراج گنج اور رگھوناتھ پور حلقوں میں آرجے ڈی خیمے سے کئی لوگ اپنا دعویٰ پیش کرکے انتخابی مہم میں مصروف ہیں۔ پربھوناتھ سنگھ کے اعلان کردہ امیدواروں میں چھپرہ اسمبلی سیٹ سے مقامی جگدمب کالج کے پرنسپل رنجن سنگھ کے علاوہ ایکما سے ضلع پریشدکے نائب صدر کامیشور کمار سنگھ عرف منا سنگھ، مانجھی سے ہیم نارائن سنگھ اور جتیندر کمار سنگھ، بنیا پور سے سابق رکن پارلیمنٹ پی این سنگھ کے چھوٹے بھائی کیدارناتھ سنگھ، تریا سے ممبر اسمبلی رام پرویش رائے، آرجے ڈی خیمے کے امیدوار کے طور پر انتخاب لڑنے کو تیار ہیں۔جبکہ سیوان ضلع کی درودا سیٹ سے پرمیشور سنگھ اور مہاراج گنج و رگھوناتھ پور میں پربھوناتھ کے حامی امیدواروں کی انتخابی مہم جاری ہے۔ المیہ یہ ہے کہ مہاراج گنج پارلیمانی حلقہ پر اپنی گرفت بنائے رکھنے کے لئے بڑے لیڈروں کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ ایسی صورت میں رکن پارلیمنٹ اوماشنکر سنگھ اپنے چہیتے حامیوں کی توقعات پر کھرا اترنے کے لئے کسی بھی حد تک جاسکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہ آج پارٹی قیادت سے بغاوت کر کے اپنے حامیوں کو ٹکٹ دلانے کے لئے مسلسل کوششیں کررہے ہیں۔ اوما شنکر سنگھ کے حامی امیدواروں میں ایکما اسمبلی حلقے سے مقامی ڈاکٹر ایس کمار اور سابق مرکزی وزیر رام بہادر سنگھ کے بیٹے انجینئر سنجے سنگھ کے علاوہ مانجھی سے پروفیسراوم پرکاش سنگھ، بنیا پور سے کامیشور سنگھ اور شیلیش کمار سنگھ کا نام سامنے آتا ہے۔ جب کہ دورودھا سیٹ سے رکن پارلیمنٹ شری سنگھ کی بہو کو اتارنے کا بھی تذکرہ ہورہا ہے۔ مہاراج گنج اسمبلی حلقہ کی ان کی روایتی سیٹ رہی ہے۔ بہر حال ،حالات یہ ہیں کہ آرجے ڈے خیمے کی آپسی لڑائی میں قومی جمہوری اتحاد کو فائدہ ملنے کے امکانات روشن ہوگئے ہیں۔ جب کہ اوما شنکر سنگھ کا واضح طور پر کہنا ہے کہ وہ اسمبلی الیکشن میں آرجے ڈی کے امیدواروں کو ہر حال میں شکست سے دوچار کرنے کے لئے کام کریں گے۔ آرجے ڈی میں ہوئی پھوٹ سے مخالف جماعتوں کا ہدف آسان تر ہورہا ہے اور وہ خاموشی کے ساتھ اپنے انتخابی امور کو انجام دینے میں مصروف ہیں۔ آرجے ڈی سے تعلق رکھنے والے پرانے کارکنوں کی خاموشی سے آرجے ڈی خیمے کے امیدواروں کے درمیان کشمکش کی صورت حال قائم ہے۔ ہر امیدوار اپنے عوامی رابطے کو وسیع سے وسیع تر بنانے کے لئے گاڑیوں کا قافلہ لئے ووٹروں کی چوکھٹ پر دستک دینے کی مہم میں مصروف ہوگیا ہے۔ووٹروں کی بے رخی سے سبھی حیران ہیں۔ کئی حلقوں میں عوام کے پسندیدہ کارکنوں کو ٹکٹ نہیں ملنے کا خمیازہ پارٹی کو اٹھانا پڑ سکتا ہے۔
ذرائع کے مطابق رکن پارلیمنٹ اوما شنکر سنگھ آرجے ڈی میں سابق رکن پارلیمنٹ پربھوناتھ کی شمولیت کے وقت سے ہی لالو یادو سے ناراض چل رہے ہیں۔ اس کی وجہ سے انہوں نے آرجے ڈی مرکزی پارلیمانی بورڈ سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ ان وجوہات سے مہاراج گنج حلقے میں آرجے ڈی کے رکن پارلیمنٹ اوماشنکر سنگھ اور پربھوناتھ سنگھ کے حامی دو گروپوں میں منقسم نظر آرہے ہیں۔ادھر اوما شنکر سنگھ کا صاف کہنا ہے کہ لوک سبھاکے الیکشن کے وقت جس نے ہماری مخالفت کی ہے، اسے شکست دینے کے لئے ہم کوئی بھی حد پار کرسکتے ہیں ۔ اوما شنکر سنگھ کی مہم میں ایل جے پی سے جڑے غیر مطمئن لیڈروں کے شامل ہوجانے سے سابق رکن پارلیمنٹ پربھوناتھ سنگھ کے خیمے میں تفکرات کی لکیریں کھنچ گئی ہیں۔ اگر حالات ایسے ہی رہے تو الیکشن کے نتائج غیر متوقع ضرور ہونگے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here