ریئل اسٹیٹ کی بڑھتی ہوئی قیمت ، عام آدمی فلیٹ کیسے حاصل کرے

Share Article

اے یو آصف
p-5ہندوستان وہ ملک ہے جہاں’ روٹی، کپڑا اور مکان‘ کا نعرہ لگتا رہا ہے اور غربت کی شرح کم ہوتے ہوتے بھی اس ملک میں آج بھی اتنی ہے کہ اسے دنیا کے غریب ترین ممالک میں ہی شمار کیا جاتا ہے۔ اس ملک کے عام شہری کے لیے روٹی، کپڑا اور مکان آج بھی مسئلہ ہے، جبکہ یہ یقیناً بنیادی ضرورتیں ہیں۔ غربت، مہنگائی اور بے روزگاری ان بنیادی ضرورتوں کے حصول میں رکاوٹ تو ضروربنتی ہیں۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ حکومت کی پالیسیاں ہی اس کی ذمہ دار ہیں۔ وی پی سنگھ اور چندر شیکھر کے ادوار کے بعد سے ملک میں نافذ بازار پر مبنی اقتصادی پالیسی نے اسے ہر حال میں بڑھایا ہے۔
مشکل تو یہ ہے کہ معلق پارلیمنٹ کے ابتدائی دور میں شروع کی گئی یہ اقتصادی پالیسی کانگریس کے پی وی نرسمہاراؤ ((1991-96، یونائٹیڈ فرنٹ کے ایچ ڈی دیوے گوڑا (1996-97)اور اندر کمار گجرال (1997-98)اور این ڈی اے کے اٹل بہاری واجپئی 1998-99اور 1999-2004کے بھی معلق پارلیمنٹ کے زمانے کی اقلیتی اور مخلوط حکومتوں میںجاری رہی اور اب جب 2014میں معلق پارلیمنٹ کا دور ختم ہونے کے بعد قطعی اکثریت میں آنے کے بعد بھی بی جے پی نے 29پارٹیوں والے اتحاد این ڈی اے کے تحت مخلوط حکومت بنائی، اس بات کا پورا امکان ہے کہ ڈاکٹر منموہن سنگھ کی پیش رفت پر لانچ کی گئی بازار پر مبنی اقتصادی پالیسی برقراررہے گی۔ اب تو آئندہ وقت ہی یہ بتا پائے گا کہ اس پرانی غیر عوام دوست پالیسی پر چلتے ہوئے موجودہ حکومت کے دعوے کے مطابق ملک کے تمام شہریوں کو روٹی، کپڑا اور مکان کیسے مل پائے گا؟
جہاں تک عام آدمی کو مکان کی فراہمی کامعاملہ ہے، قدرتی طور پر صورتحال یہ ہے کہ ہندوستان میں عوام۔ زمین کاتناسب750افراد اسکوائر کلومیٹر ہے، جو کہ دنیا میں سب سے زیادہ ہے۔ یہ ملک دہلی کی طرح پھیلتی ہوئی ’لو رائیز‘ (Low -Rise)شہروں کو ایفورڈ (Afford) کرنے کا اہل نہیں ہے۔ اگر اس کا مطلب پبلک ٹرانسپورٹ ،بجلی سپلائی، سیویج (Sewage)وغیرہ میں زیادہ سرمایہ کاری کرنا ہے، تب بھی شہروں کو ہورائی زونٹل (Horizontal)طور پرپھیلنے کے بجائے ورٹیکل (Vertical) طرح سے آگے بڑھنا پڑے گا۔ کیونکہ ہورائی زونٹل طور پر توسیع سے کوئی شہر جو پھیلتا ہے، اس سے چاروں طرف کی کھیتی کی زمین جو کہ اگر ملک کو 1.2بلین عوام کو روٹی کھلاتی ہے، تو وہ Sustainableنہیں ہے، پر قبضہ ہونے لگتا ہے۔ ریاستی حکومتوں کو کھیتی، مکانات اور صنعت کے لیے زمین کا تعین (Earmarking)کرنا چاہیے اور زمین کے استعمال میں یہ تبدیلی بلڈر۔بابو کی ملی بھگت کا محبوب مشغلہ بن گیا ہے۔ لہٰذا اس صورت میں یہ لازمی ہوجاتا ہے کہ زمین کے استعمال کے لیے متعلقہ ریاست کے وزیر اعلیٰ کی منظور ی ہو۔
یہ صحیح ہے کہ زمین کے استعمال کی پالیسیاں ایسی ہونی چاہئیں، جن سے پہلی مرتبہ مکان/فلیٹ خریدنے والوں کے لیے اسے خریدنا ممکن ہو سکے اور ایسا تبھی ممکن ہوگا،جب ریئل اسٹیٹ کی قیمت کم ہوگی۔ یہ مناسب وقت ہے، جب ریئل اسٹیٹ کو صنعت یا انڈسٹری کے طور پر تسلیم کیا جائے۔ اس سے سب سے بڑی بات یہ ہوگی کہ بینک بلڈرس کو قرض دے پائیں گے اور مناسب اور صحیح انٹریپر نیورس (Entrepreneurs)کو تجارت میں داخل ہونے میں مدد بھی کر پائیں گے۔ اگر ایسا کہا جاتا ہے، تب مکانات/فلیٹوں کی قیمت کم ہوگی او رایک اندازے کے مطابق یہ قیمت 40-50فیصد تک کم ہو سکتی ہے، جس سے مکان مالکان کی تعداد اور اقتصادی گروتھ دونوںمیںاضافہ ہوگا۔
اس حقیقت سے بھی کو ئی انکار نہیں کر سکتا ہے کہ ہندوستان میں زمین کی قیمت دنیا کے ممالک میں زمین کی سب سے زیادہ قیمتوں کی فہرست میں شامل ہے۔ میٹرو شہروں میں ایک عام آدمی کی پوری زندگی گزر جاتی ہے، تب بھی اسے دو کمروں کا ایک اپنا فلیٹ میسر نہیں ہوپاتا ہے۔ چھوٹے شہروں میں بھی زمین کی قیمت 2007کے مقابلے میں دس گنا سے بھی زیادہ بڑھی ہے۔ یہ بھی جزوی طور پر نام نہاد اقتصاد ی گروتھ کا نتیجہ ہے، مگر زمین کی قیمت بھی بحیثیت مجموعی بڑھی ہے۔حکام بلڈرس کو روک۔بوٹم (Rock-Bottom)قیمتوںپر پلاٹ دیتے ہیں اور پھر زمین کے استعمال کے ضوابط (Rules)کو اس کی وقعت بڑھانے کے لیے Manipulateکرتے ہیں۔
کالے دھن کی سرمایہ کاری کے لیے نئے پروجیکٹس محبوب مشغلے ہیں جن سے قیمت بڑھتی ہے۔ این آرآئیز اور غیر ملکی فنڈس سستی دولت کے ساتھ آتے ہیں اور اس طرح زمین سے متعلق مختلف قوانین اور ضابطوں کے رہتے ہوئے بھی زمین عنقا ہوتی جاتی ہے۔عجب بات تو یہ ہے کہ اس پورے عمل میں بڑے پیمانے پر ریئل اسٹیٹ اشتہارات کے سبب میڈیا بھی معاون بن جاتا ہے۔ قابل ذکر ہے کہ فی الوقت ملک میں ریئل اسٹیٹ مکمل جی ڈی پی گروتھ کا تقریباً 15فیصد ہے۔
ظاہر سی بات ہے کہ یہ صورتحال منفی دین ہے۔کیونکہ یہ بات بھی ملحوظ رہے کہ کوئی بھی شخص مہنگے اسپیس کی تجارت سے شروع کیے گئے معیشت اور روزگار میں نقصان کا پہلے سے اندازہ نہیں کرتا ہے اور اسی طرح کوئی بھی شخص یہ بھی نہیں سوچتا ہے کہ کس طرح زمین کی بڑھتی ہوئی قیمت افراط زر کو بڑھا رہی ہے؟کوئی اس کی بھی فکر نہیں کرتا ہے کہ زمین کی بڑھتی ہوئی قیمت کروڑوں افراد کواپنا گھر خریدنے سے کس طر ح محروم کر رہی ہے؟ لہٰذا یہ ہر وقت ہوگا جب حکومت زمین کو اس کی قیمت بڑھنے کے سبب مالی جائیداد (Financial Asset) کے طور پر دیکھنا بند کرے اور اسے محدود قومی ذرائع کے طور پرعوامی فائدے کے لیے استعمال کرنے کے بارے میں تسلیم کرے۔ تبھی پہلی مرتبہ اپنا گھر خریدنے والوںکا خواب شرمند ہ تعبیر ہوسکے گا۔ اس طرح کی پالیسی کا بننا ہمارے ملک میں ناگزیر ہے۔
امریکی تاریخ سے بھی یہی سبق ملتا ہے کہ اس طرح کی پالیسی سے اقتصادی گروتھ اور جمہوریت مستحکم ہوتی ہے، کیونکہ گھر کا یونیورسل مالکانہ حق ہر ایک شخص کو سماج میں حصہ دار بناتا ہے۔ اسے حاصل کرنے کے لیے ڈیولپمنٹ کے لیے ریلیز کی گئی زمین کے نصف کو ریگولر کمرشیئل ریٹ کے 50فیصد پرہاؤسنگ پروجیکٹس کو جانا چاہیے۔ مثال کے طور پر ایک کروڑ روپے کے ایک فلیٹ کے لیے کسی زمین کی قیمت اگر 80لاکھ روپے ہے اور فلیٹ تعمیر کرنے میں 20لاکھ روپے صرف ہوتے ہیں، تو زمین پر 50فیصد چھوٹ ہونے کی صورت میں اسی فلیٹ کی قیمت 60لاکھ روپے ہو جائے گی۔
دریں اثناء یہ بات بھی ہے کہ متعلقہ زمین صاف ستھری ہو، تاکہ بلڈرس کو بیوروکریٹک دشواریوں اوررکاوٹوں کو دور کرنے میں وقت اور پیسہ ضائع نہ ہو اور پھر پتھر اور ریت کی بھی سہولت ہو تاکہ یہاں بھی بلڈرس کو ان اشیاء کو مافیا سے خریدنا نہ پڑے۔ ایسا کرنے سے یقیناً مکان یا فلیٹ کی تعمیر پر خرچ 20فیصد کم ہوجائے گا۔ جب اس سلسلے میں ایچ ڈی ایف سی چیئر مین دیپک پاریکھ سے ’چوتھی دنیا‘ نے بات کی، تو ان کا صاف طور پر کہنا تھا کہ ایسا کرنے سے وہی فلیٹ 50لاکھ روپے تک میں مل سکتا ہے۔ علاوہ ازیں کالے دھن کا استعمال کم ہوتو ریئل اسٹیٹ معاملات میں کم از کم دس فیصد مزید کمی ہوگی اور اس طرح وہی فلیٹ 40-45لاکھ روپے میں مل سکے گا۔
ویسے یہ بات بھی ہے کہ تمام نئے فلیٹس میں سے آدھے ضرورت نہیں ، بلکہ محض سرمایہ کاری کے لیے ہی خریدے جاتے ہیں، جس سے فلیٹ کی قیمت بڑھتی ہے۔ ایک ماہر ہاؤسنگ انجینئر امداداللہ جوہر کے مطابق اس پر روک لگانے کے لیے کسی شخص کے دوسرے یا اضافی گھروں پر 2فیصد کا ٹیکس لگنا چاہیے۔ دہلی کے معروف چارٹرڈ اکاؤنٹینٹ حنّان چاندنا کا خیال ہے کہ پہلی مرتبہ گھر خریدنے والوں کے لیے ای ایم آئیز (EMIs)پر 125فیصد ٹیکس کی چھوٹ ہونی چاہیے۔ ان کے خیال میں اس سے کسی فلیٹ کو خریدنے میں 10سے 30فیصد قیمت میں کمی ہوسکتی ہے۔
ان سب سے ہٹ کر ریزرو بینک آف انڈیا (آر بی آئی) کو بھی اپنے ضوابط اور طریقہ کار میں تبدیلی لانی ہوگی۔ آر بی آئی کا یہ مستقل موقف ہے کہ افراط زر کو قابو میں کیے بغیر سود کے ریٹس میں کمی نہیں کی جائے گی۔ اس موقف کے سبب ہوم لون لینے کی ہمت کرنا جوئے شیر لانے سے کم نہیں ہوتا ہے اور عام آدمی کی بڑی تعداد اپنا مکان/فلیٹ حاصل کر نہیں پاتی ہے۔ لکشمی نگر کے معروف ریئل اسٹیٹ کاروبار کرنے والے قمر احمد کہتے ہیں کہ یہی وجہ ہے کہ ریئل اسٹیٹ کاروبار ایک عرصہ سے بحران کا شکار ہے۔ ان کے مطابق مکانات کی تعداد زیادہ ہوگئی ہے اور مختلف دشواریوں کے سبب خریدار ہم لوگوں تک پہنچ نہیں پارہے ہیں کیونکہ سوال یہ ہے کہ کسی فلیٹ کی تعمیر میں جو اخراجات ہوتے ہیں، اس سے کم قیمت پر ریئل اسٹیٹ کے کاروبار کرنے والے اسے کس طرح فروخت کریں؟ لہٰذا ضرورت اس بات کی ہے کہ نئی حکومت ہوم لون کے تعلق سے نئی پالیسی بناکر آربی آئی کو نئی ہدایت دے، تبھی عام آدمی کی پہنچ اپنے مکان/فلیٹ تک ہو پائے گی۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *