رشوت کو مارئے لات

Share Article

چوتھی دنیا رائٹ ٹو انفارمیشن یعنی آر ٹی آئی مہم کے ذریعہ اپنے قارئین کو بتا رہا ہے کہ کیسے آر ٹی آئی قانون کا استعمال کرکے عام آدمی بد عنوان لوگوں کی نکیل کس سکتا ہے۔کیسے یہ قانون عام آدمی کے روز مرہ کے مسائل (سرکاری دفاتر سے متعلق) کو حل کر سکتا ہے۔ وہ بھی بغیر رشوت کے اور بنا جی حضوری کیے بغیر۔آپ کو بس اپنے مسائل کے بارے میں متعلقہ شعبے سے سوال پوچھنا ہے۔ جیسے ہی آپ کا سوال متعلقہ شعبے تک پہنچے گا ویسے ہی اس شعبے کے افسر پر قانونی طور پر یہ ذمہ داری عائد ہو جائے گی کہ وہ آپ کے سوالوں کا جواب دے۔ ظاہر ہے کہ اگر اس افسر نے بلا وجہ آپ کے کام کو لٹکایا ہے تو وہ آپ کے سوالوں کا جواب بھلا کیسے دے گا۔سوال کیسے پوچھنا ہے ،کیا پوچھنا ہے؟ یہ آپ کو چوتھی دنیا بتائے گا۔اگر آپ کو اس قانون کے استعمال سے متعلق کوئی پریشانی ہو ، یا کوئی مشورہ چاہیے تو آپ ہم سے مشورہ کر سکتے ہیں۔
اس ملک میں کئی اچھے قانون ہیںلیکن ان میں سے کوئی قانون کچھ نہیںکر سکا۔ حق اطلاعات جیسا قانون کیا کر لے گا؟
آزاد ہند کی تاریخ میں پہلی بار کوئی قانون کسی افسر کو اس کی ذمہ داری کے تئیں جوابدہ بناتا ہے اور اس قانون میں معاشی سزا کی بھی تجویز ہے۔اگر متعلقہ افسر وقت پر اطلاعات فراہم نہیں کرتا ہے تو اس پر 250روپے یومیہ کے حساب سے انفارمیشن کمشنر کے ذریعہ جرمانہ عائد کیا جا سکتا ہے۔اگر دی گئی اطلاع غلط ہے تو زیادہ سے زیادہ 25ہزار روپے تک کا بھی جرمانہ لگایا جا سکتا ہے۔جرمانہ آپ کی درخواست کو غلط وجوہات کے سبب نظر انداز کرنے یا غلط اطلاع دینے پر بھی عائد کیا جا سکتا ہے۔ جرمانے کی یہ رقم متعلقہ افسر کی تنخواہ سے کاٹی جائے گی۔
کیا پی آئی او پر لگے جرمانے کی رقم درخواست کنندہ کو دی جاتی ہے؟
نہیں جرمانے کی رقم سرکاری خزانے میں جمع ہو جاتی ہے۔حالانکہ آرٹیکل 19کے تحت درخواست دہندہ معاؤضہ مانگ سکتا ہے۔
یہ قانون کیسے میرا کام مکمل کرنے میں میری مدد کرتا ہے؟
کوئی افسر کیوں اب آپ کے رکے کام کو (جو وہ پہلے نہیں کر رہا تھا) کرنے کے لیے مجبور ہوتا ہے اور کیسے یہ قانون آپ کے کام کو بہ آسانی مکمل کراتا ہے، اسے سمجھنے کے لیے آئیے ایک مثال دیکھتے ہیں۔
ایک عام آدمی نے راشن کارڈ بنوانے کے لیے درخواست دی۔ اسے راشن کارڈ نہیں دیا جا رہا تھا، لیکن جب اس نے آر ٹی آئی کے تحت درخواست دی ، تو درخواست کے ایک ماہ بعد ہی اسے راشن کارڈ دے دیا گیا۔درخواست کنندہ نے مندرجہ ذیل سوالات پوچھے تھے۔
-1میں نے ایک نقلی راشن کارڈ کے لیے 10نومبر2009کو عرضی دی تھی۔ براہ کرم مجھے میری عرضی پر ہوئی یومیہ پیش رفت کی اطلاع فراہم کریں، یعنی میری عرضی کس افسر کے پاس کب پہنچی، اس افسر کے پاس یہ کتنے وقت رہی اور اس افسر نے اتنے وقت تک میری عرضی پر کیا کارروائی کی؟
-2ضابطے کے مطابق میرا کارڈ کتنے دنوں کے اندر بن جانا چاہیے تھا۔اب تین ماہ سے زائد کا عرصہ ہو گیا ہے۔ براہ کرم ان افسران کے نام اور عہدے بتائیں جن کو میری عرضی پر کارروائی کرنی تھی، لیکن انھوں نے نہیںکی؟
-3ان افسران کے خلاف اپنا کام نہیں کرنے اور عوام کا استحصال کرنے کے عوض کیا کارروائی کی جائے گی اور یہ کارروائی کب تک کی جائے گی؟
-4اب مجھے کب تک اپنا کارڈ مل جائے گا؟
عموماً پہلے ایسی درخواستیں کوڑے دان میں پھینک دی جاتی تھیں، لیکن حق اطلاعات قانون کے تحت دی گئیں درخواستوں کے سلسلے میں یہ قانون کہتا ہے کہ افسران کو تیس روز کے اندر جواب دینا ہوگا، اگر وہ ایسا نہیں کرتے ہیںتو ان کی تنخواہ میں تخفیف کی جا سکتی ہے۔ ظاہر ہے ایسے سوالوں کا جواب دینا افسران کے لیے آسان نہیںہوگا۔
پہلا سوال ہے: براہ کرم مجھے میری عرضی پر ہوئی یومیہ پیش رفت بتائیں۔
کوئی پیش رفت ہوئی ہی نہیں ہے، لیکن سرکاری اہلکار یہ لکھ ہی نہیں سکتے کہ انھوں نے کئی ماہ سے کوئی کارروائی نہیںکی ہے۔ ورنہ یہ کاغذ پر اپنی غلطی کو قبول کرنے کے مترادف ہوگا۔اگلا سوال ہے:براہ کرم ان افسران کے نام اور عہدے بتائیں ، جن کو میری عرضی پر کارروائی کرنی تھی، لیکن انھوں نے کارروائی نہیں کی۔
اگر حکومت ان افسران کے نام اور عہدے بتاتی ہے، تو ان کی جوابدہی متعین ہو جاتی ہے۔ ایک افسر اپنے خلاف اس طرح جوابدہی متعین ہونے کے تئیں کافی محتاط ہوتا ہے۔دریں اثنا جب کوئی اس طرح اپنی عرضی دیتا ہے تو اس کا رکا ہوا کام ختم ہو جاتا ہے۔
اگر آپ نے حق اطلاعات قانون کا استعمال کیا ہے اور اگر کوئی انفارمیشن آپ کے پاس ہے، جسے آپ ہمارے ساتھ شیئر کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں وہ  انفارمیشن نیچے لکھے پتے پر بھیجیں۔ ہم اسے شائع کریں گے۔اس کے علاوہ حق اطلاعات قانون سے متعلق کسی بھی صلاح و مشورے کے لیے آپ ہمیں ای میل کر سکتے ہیںیا خط بھی لکھ سکتے ہیں۔ ہمارا پتہ ہے۔
چوتھی دنیا
ایف2-، سیکٹر11-، نوئیڈا(گوتم بدھ نگر)اتر پردیش پن201301-
ای میل:rti@chauthiduniya.com

Share Article

One thought on “رشوت کو مارئے لات

  • November 20, 2010 at 5:54 pm
    Permalink

    آپ کا عمل لاءق صد تحسین ہے۔ آر ٹی آئ کے سلسلے میں زیادہ فعال ہونے کی ضرورت ہے۔ بقیہ آئندہ
    خیر اندیش
    پرویز احمد

    Reply

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *