رشوت کا محرک اور اس کے اثرات

Share Article

محب اللہ قاسمی 
p-9اللہ تعالی نے ہر انسان کے اندر ایک نگراں رکھا ہے،جسے ضمیر کہاجاتا ہے۔ ضمیر جب تک جاگتا رہتا ہے ،سب کچھ ٹھیک رہتاہے، مگراس کے مردہ ہوتے ہی اعضائے جسم اچھے برے کی تمیز کھودیتے ہیں اورانسان نفس کی رومیں بہہ جاتاہے۔
ضمیر کے بیداررہنے یامردہ ہونے کا کوئی موسم نہیں ہوتا، بلکہ معاشرے میں جب بھی برائی ،بدعنوانی یاناجائز کاموںکی تعریف و توصیف کی جاتی ہے یا برے انسان کی جھوٹی شان وشوکت کی قصیدہ خوانی ہوتی ہے ، اس وقت انسان کا ضمیرشیطانی روپ اختیار کرلیتاہے اوروہ معاشرے میں منفی کردارانجام دینے لگتاہے۔ آغاز میں وہ اس فعل بد اورمنفی کردارکو چیلنج کے طورپر لیتاہے۔مثلاً وہ سوچتا ہے کہ جب دوسرے لوگ ایسا کرکے معاشرے میں پسندیدہ نگاہوں سے دیکھے جارہے ہیںتو پھر وہ کیوںنہ ایسا کرے ۔چنانچہ وہ اپنی محنت اورکوشش کو تیز کردیتا ہے، جب تک اسے اس فعل کے برے انجام کا احساس ہوتاہے، تب تک وہ اس دلدل میںدھنس چکاہوتا ہے،جس سے نکلنے کے لیے اسے پہلے سے زیادہ محنت کی ضرورت ہوتی ہے اور غربت کا خوف اسے اس دلدل میں مردہ زندگی بسرکرنے کے لیے مجبورکرتاہے ۔پھروہ جھوٹ، رشوت،چوری ،قتل وخوںریزی کا بازارگرم کردیتاہے ،جس سے معاشرہ بے چینی اوربدامنی کا شکارہوجاتاہے۔مثلاً رشوت خوری ایک بہت برا فعل ہے۔ حق دارسے حق چھین کرغیرمستحق کوحقداربنانے کے لیے یہ فعل بدانجام دیاجاتاہے۔

ضمیر کے بیداررہنے یامردہ ہونے کا کوئی موسم نہیں ہوتا، بلکہ معاشرے میں جب بھی برائی ،بدعنوانی یاناجائز کاموںکی تعریف و توصیف کی جاتی ہے یا برے انسان کی جھوٹی شان وشوکت کی قصیدہ خوانی ہوتی ہے ، اس وقت انسان کا ضمیرشیطانی روپ اختیار کرلیتاہے اوروہ معاشرے میں منفی کردارانجام دینے لگتاہے۔ آغاز میں وہ اس فعل بد اورمنفی کردارکو چیلنج کے طورپر لیتاہے۔مثلاً وہ سوچتا ہے کہ جب دوسرے لوگ ایسا کرکے معاشرے میں پسندیدہ نگاہوں سے دیکھے جارہے ہیںتو پھر وہ کیوںنہ ایسا کرے ۔

اس فعل میں رشوت دینے والااوررشوت لینے والادونوں ملوث ہوتے ہیں،کیوںکہ ایک شخص اگروہ حقدارنہیں ہے تو کیوںدوسرے کا حق لینے کی کوشش کر رہا ہے ، پھریہ جانتے ہوئے کہ اس میں صاحب حق کی حق تلفی ہوگی، رشوت لینے والا اس غلط کام کی اورناجائز طریقے سے اس کی مددکررہاہے، اسی لیے دونوں گنہگار ہوںگے۔ اس کی ایک شکل یہ بھی ہوتی ہے کہ کسی کی مددکرتے وقت اس کی مجبوری کا فائدہ اٹھاکر اس کے عوض مال کا مطالبہ کرے یالاچارشخص اس کو پیسہ دینے کے لیے مجبورہو،قرآن کریم میں یہ صفت یہودیوں کی قراردی گئی ہے:’’یہ لوگ جھوٹ کو سننے والے اورحرام کا مال کھانے والے ہیں۔‘‘رشوت کا طریقہ نہ صرف مشکلات پیداکرتاہے، بلکہ زندگی کوبھی خطرے میں ڈال دیتا ہے۔ مثلاً آج مکانات تیارکیے جاتے ہیں، توان میں اس قدر پیسہ نہیں لگتا،جس قدراس کے بیچنے والے اپنا بھاؤرکھتے ہیں۔ یا دیگراشیاء جوانسانوں کی بنیادی ضرورتوںمیں سے ہیں،مگرجب بلڈر یا تاجرسے اس سلسلے میں معلوم کیاجاتاہے، تووہ کہہ دیتے ہیں کہ ہمیں ان چیزوں کی تیاری میں بہت زیادہ رشوت دینی پڑتی ہے ، اس کے بغیر ہم انھیں تیارنہیں کرسکتے ۔ ایسے تاجراپنی مصنوعات کی قیمت کو مناسب رکھنے کے لیے رشوت میں تو کمی نہیں کرپاتے، کیوںکہ وہ ان کے بس میں نہیں ہوتا،مگروہ میٹریل میں کمی کردیتے ہیں ،جس سے وہ مکان یا سامان، انسان کی ہلاکت کا باعث بن جاتاہے۔ آئے دن اس طرح کے واقعات اخباروںمیں پڑھنے کو ملتے ہیں، جب کہ رشوت کا یہ مال سفید پوش سرمایہ کاروںکی جیب میں جاتاہے ۔اولاً توایسے واقعات کی چھان بین نہیں ہوتی، اگر عوام کے احتجاج کے نتیجے میں کچھ کارروائی ہوئی بھی ،توصرف وہ لوگ گرفت میں آتے ہیںجو رشوت دینے والے ہوتے ہیں،مگرپس پردہ رہنے والے سفیدپوش سرمایہ داروں کا کچھ نہیں بگڑتا۔اس طرح رشوت اوربدعنوانی کا عام رواج ہوجاتاہے ۔پھر اندرونی طور پراس کاربدکی مدح سرائی یا اس کومزے لے لے کربیان کرنے کا سلسلہ بھی شروع ہوجاتاہے، تب یہ رویہ ان کے ارد گرد رہنے والے عام لوگوںمیں اس برائی کو پیداکرنے کا محرک بن جاتاہے ،جومعاشرے کے لیے ناسور ثابت ہوتا ہے۔
غورکرنے کی بات یہ ہے کہ ایک شخص جواپنے بچے کو اس کی ذہانت کے سبب بڑاڈاکٹریا انجینئربناناچاہتاہے ،تاکہ معاشرے میں اس کی تحسین ہو اوروہ لڑکا آئندہ اس کے لیے بڑے بینک کا اے ٹی ایم ثابت ہو،جس میں ہروقت روپے بھرے ہوں۔ تو وہ اس کے لیے ڈونیشن کے طور پرلاکھوں، روپے صرف دیتاہے۔ پھرجب یہ بچہ بڑاہوکر اپنی تعلیم مکمل کرلیتاہے تواپنے باپ کے خواب کو شرمندۂ تعبیر کرنے کے لیے اپنے ضمیرکا سودا کرتا ہے اور رشوت کا کھیل شروع کردیتاہے۔
موجودہ دورمیں ایسی ہی تعلیم کو اہمیت دی جاتی ہے ، جو رشوت خوری کی بنیادپرکھڑی ہو۔ایسے میں دوسرے لوگ اس میدان میں پیچھے کیوںرہیں ، اس میں عزت بھی ہے اورپیسہ بھی۔ایسا ہی کچھ معاملہ ملک کے ان نیتاؤںکا بھی ہے جو انتخاب میںکامیابی کے بعد ملنے والے بے حساب پیسوں کے لیے لاکھوں،کروڑوںروپے انتخابی مراحل میں بے دریغ خرچ کرتے ہیں ۔پھراس کے بعد وہ کیاکرتے ہیں ،اس کی وضاحت کی ضرورت نہیں ہے۔یہی حال تمام معاملات میں ہے،شایدہی کوئی جگہ ہوجواس سے خالی ہو۔معاشرہ افراد سے بنتا ہے، اس کی تعمیر وترقی یا اس کے برعکس تخریب وتنزلی کا معاملہ بھی اس میں رہنے والے افرادکے کارناموں سے ہی وجودمیں آتاہے۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہمارامعاشرہ پرامن اورخوشحال رہے، توہمیں ’امربالمعروف اورنہی عن المنکر‘ کا فریضہ انجام دینا ہوگا ۔ ورنہ معاشرے کے افرادبڑی تعداد میں جرائم میں ملوث ہوںگے اوراسباب تعیش کے حصول، مال واساب کے غرور میں چور ہوکروہ دوسروںکوبھی اس مایا جال میں پھنسانے پر مجبورکریں گے۔
ضمیرکو زندہ رکھنے کے لیے ہمیں اسلامی احکام کو ملحوظ خاطررکھنا ہوگا۔ ہمہ وقت یہ تصورذہن میںبٹھانے کی ضرورت ہے کہ دنیا کی زندگی ایک عارضی زندگی ہے، اس کی چمک دمک محض ایک دھوکہ ہے ،اصل زندگی آخرت کی ہے۔ جب ہم اسلامی تعلیمات پرعمل پیرا ہوںگے اورمضبوطی سے اس پر ثابت قدم رہیں گے، توپھرہمارا ضمیرہمیشہ بیداررہے گا اورہم احساس کمتری کا شکارہوکرعارضی دنیاکوترجیح دینے کے بجائے آخرت کی دائمی زندگی ،اس کی راحت اوروسکون کو فوقیت دیںگے ۔

Share Article

One thought on “رشوت کا محرک اور اس کے اثرات

  • June 10, 2013 at 1:33 pm
    Permalink

    ہاں ہاں بڑی اچھی بات کہی ہے محب اللہ صاحب نے
    بے شک رشوت دنیا میں انسانوں کو اندھا کیے ہوئے ہے اور وہ سیاہ کو سفید اور سفید کو سیاہ کرنے کا ایک منظّم عمل ہے جو ہمارے معاشرے کو دیمک کی طرح چاٹے جارہا ہے، آئے دن چھوٹے بڑے گھوٹالوں کا پردہ فاش کیا جاتا ہے جس میں ملک گیر قسم کی شخصیات ملوّث ہوتی ہیں حد تو یہ ہے کہ ایسے ایسے معاہدوں میں جن کا تعلق ملک کی سلامتی وبقا سے ہے اس میں بھی خیانتوں کا عمل بہت بڑے پیمانہ پر پایا جاتا ہے جس کا انکشاف آے دن میڈیا کے ذریعہ ہوتا رہتا ہے لیکن یہ باسی کڑھی کے ابال کی طرح اٹھ کر جلد ہی سرد مہری کا شکار ہوجایا کرتا ہے، اور پھر بے ضمیر وخائن قسم کے لوگ اپنی ڈگر پر چلنے لگتے ہیں، ہم وقتی طور پر ان گھوٹالوں کو بہت زور وشور سے اٹھاتے بھی ہیں جس پر قائدان قوم اپنی پاکدامنی وبراری کے بیان بھی دیتے ہیں، لیکن جہاں اس مرض کی تشخیص چاہتے ہیں وہاں ہم بالکل یہ بھول جاتے ہیں کہ اس گھوٹالہ کے پیچھے کون کون سی شخصیات اور کن کن ملکوں اور کمپنیوں کا ہاتھ ہے اس پر بھی نظر رکھنا ضروری ہے نیز ان بیرونی وداخلی کمپنیوں کے مالکان کا بھی محاسبہ بے حد ضروری ہے، حقیقت میں ان سیاہ کار ناموں کو روشن کرکے قوم کے سامنے پیش کیا جانا چاہیے تاکہ ہمارے عام وخاص سب کو، ان سیاہ کرتوںوں کا پتہ چل سکے۔
    بڑے افسوس کی بات تو یہ ہے کہ ہمارے ملک میں اب یہ تصور عام ہوتا جارہا ہے کہ رشوت کے بغیر کوئی کام نہیں بن سکتا یہ ایک ایسی بیماری ہے جو ہماری رگوں میں دوڑتے ہوئے زہریلے خون کی طرح پھیلی ہوئی ہے جس کی لپیٹ میں پورا جسم اور معاشرہ آچکا ہے اس کے خطرناک اثرات جو کچھ بھی ہماری نظروں کے سامنے ہیں وہ تو ہیں ہی لیکن اس سے کہیں زیادہ اس کے مہلک ومضر اثرات وہ ہیں جو سرطان (کینسر) کی طرح ہمارے معاشرے میں پرورش پا رہے ہیں، جس کے اثر نے ہمیں بے جان وبے زبان بناکر رکھ دیا ہے، زندگی کا کوئی شعبہ ایسا نہیں ہے جس کے راستوں پر یہ مہلک مرض زہریلے ناگ کی طرح کنڈلی ڈالے بیٹھا نہ ہو، زیادہ حیرت تو اس بات پر ہے کہ اتنے عظیم ملک اور بر اعظم کے رہنے والوں میں بیچینی تو کجا اس پر اطمئنان ہوگیا ہے، گویا کہ رشوت ہی اب واحد راستہ ہے جس کے ذریعہ آپ اپنا کام نکال سکتے ہیں۔ زندگی کی بڑھتی ہوئی ضرورتوں اور مصروفیتوں نے انسان کو ایسا نفس کا بندہ بنا دیا ہے کہ وہ صرف اپنا اور اپنا ہی سوچنے والا انسان ہو گیا ہے جسے دوسرے کی تکلیف یا پریشانی سے کوئی سروکار نہیں، بلکہ اب تو حالت یہ ہوگئی ہے کہ مشکلوں کو سلجھانے کے بجائے مسائل کو جان بوجھ کر الجھایا جاتا ہے تاکہ ان مشکلوں کے پس پردہ شخصی منافع پر گھات لگا کر لیڈران قوم، لوگوں کی آہوں اور سسکیوں میں اپنی چسکیوں کا تانا بانا بن سکیں اور شاطر قسم کے لیڈران اپنی بچت کے لئے اس پر مذہب کا رنگ دے کر توجہ ہٹانے کا کام بہت خوبصورتی سے کرتے ہیں جس میں عوام تو عوام خود حکومتیں بھی ان کے دام میں آجاتی ہیں ورنہ خود سوچیں کہ دنیا کا کوئی مذہب، خواہ کسی جگہ سے تعلق رکھتا ہو وہ یہ بات پسند نہیں کرتا کہ انسان کے خون سے ہولی کھیل کر اس کی ہدایت وراہنمائی کرے، ہاں اگر کسی مذہب کی تعلیمات ایسی ہیں جو یہ بتاتی ہوں کہ انسانوں پر ظلم وزیادتی کرکے اپنے مقاصد کو پورا کیا جائے تو حقیقت میں یہ مذہب کہلانے کے لائق نہیں اور انسانوں کو چاہیے کہ وہ یک زبان ویک جان ہوکر ایسے مذہب اور افکار کو دنیا سے نابود کرنے کا عزم کرکے آگے بڑھیں تاکہ اس نڈھال وقریب المرگ انسانیت کو بچایا جا سکے، یہ چیز آپ بھی اپنی استطاعت بھر اس طرح کر سکتے ہیں کہ آپ بالکل اپنے آپ کو غیر جانب دار اور غیر متعصَّب بناکر مذہبوں کا مطالعہ کریں اور پھر دیکھیں کہ زندگی کے ہر موڑ پر کس جگہ رہنمائی زیادہ بہتر پائی جاتی ہے.
    سید احمد
    10-6-2013ء

    Reply

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *