رہائشی علاقہ میں کاروباری سرگرمیوں سے پریشان ہیں؟

Share Article

یہ مسئلہ تقریباً ہر چھوٹے بڑے شہر کا ہے۔رہائشی علاقوں میں لالچی اور خود غرض قسم کے لوگ ایسے ایسے کاروبار شروع کر دیتے ہیں جن کی وجہ سے اس علاقے میں رہنے والے لوگوں کے لیے کئی طرح کی پریشانیاں کھڑی ہو جاتی ہیں۔مثلاً دہلی کے سنجے نگر علاقے میں کچھ ایسے ہی غیر قانونی گودام ، پارکنگ، موٹر ورکشاپ چل رہے ہیں۔جن کی وجہ سے وہاں آلودگی تو بڑھ ہی رہی ہے، ساتھ ہی کالونی میں رہنے والے لوگ بھی پریشان رہتے ہیں۔سوال یہ ہے کہ حکومت اور عدالتوں کی واضح ہدایات کے بعد بھی آخر رہائشی علاقوں میں کاروباری سرگرمیاں چلانے کی اجازت کون دیتا ہے؟ اس سوال کا ایک عام جواب لوگ یہ دیتے ہیں کہ یہ کاروبار رشوت خوری کی وجہ سے زندہ ہے۔بہت حد تک یہ بات صحیح بھی ہے، کیونکہ ایسا نہیں ہے کہ اس طرح کے غیر قانونی کاروبار کے بارے میں سرکاری اہلکاروں اور متعلقہ محکموں کو جانکاری نہیں ہوتی ہے۔اس طرح کے کاروباری پیسے کے دم پر اپنے خلاف کسی بھی طرح کی کارروائی نہیں ہونے دیتے۔یہ تو بات مسئلہ کی تھی۔اب حل کی بات کرتے ہیں کہ کیسے اس مسئلہ کا حل ایک عام آدمی خود نکال سکتاہے۔اس مرتبہ ہم ایک ایسا ہی خاکہ پیش کررہے ہیں جس میں ہم نے اس مسئلہ سے نجات حاصل کرنے کے طریقے بتائے ہیں۔ا س خاکہ کا استعمال کرکے آپ یہ اطلاعات حاصل کر سکتے ہیں کہ آپ کے علاقے میں ایسی کتنی عمارتیں ہیں، جن کا استعمال قانون کی خلاف ورزی کرتے ہوئے کاروباری سرگرمیوں کے لیے کیا جارہا ہے۔آپ ایسی عمارتوں کی فہرست مانگ سکتے ہیں۔ان کے خلاف متعلقہ محکمہ نے کیا کارروائی کی،اس کی پوری تفصیلات مانگی جا سکتی ہیں۔آپ اس درخواست کے استعمال سے ان ضابطوں ، اصولوں اور قوانین کی جانکاری بھی لے سکتے ہیں، جن کی خلاف ورزی کی جا رہی ہے۔رہائشی عمارت کا تجارتی استعمال کرنے کے معاملے میں مقررہ سزا یا قانون کے مطابق کی جانے والی کارروائی کی تفصیلات بھی مانگی جا سکتی ہیں۔ایسے معاملے میں متعلقہ محکمہ نے کیا کارروائی کی، اس کی جانکاری بھی حاصل کی جا سکتی ہے۔اگر آپ چاہیں تو ایسی سرگرمیوں کے خلاف متعلقہ محکمہ میں شکایت درج کراکر اس کے بعد ایک آر ٹی آئی درخواست دے سکتے ہیں، جس میں آپ یہ پوچھ سکتے ہیں کہ آپ کی شکایت پر متعلقہ محکمہ نے اب تک کیا کارروائی کی ہے۔آپ اپنے علاقے کے کئی لوگوں کی جانب سے بھی درخواست یا شکایت درج کرا سکتے ہیں، تاکہ متعلقہ محکمہ پر کارروائی کرنے کے لیے دباؤ بنے۔

پبلک انفارمیشن آفیسر
خدمت عالیہ میں     افسر برائے رابطۂ عامہ    (محکمہ کا نام)    (محکمہ کا پتہ)
عنوان: حق اطلاعات ایکٹ2005کے تحت درخواست
جناب،
برائے مہربانی…..علاقے میں کاروبار سے متعلق مندرجہ ذیل جانکاریاں مہیا کرائیں۔
-1    اس علاقے میں ان سبھی عمارات کی فہرست دستیاب کرائیں، جن کا استعمال قانون کی خلاف ورزی کرتے ہوئے کاروباری سرگرمیوں کے لیے کیا جا رہاہے۔
-2    ایسے ہر ایک معاملے میں کس طرح کے قوانین کی اور کس طرح خلاف ورزی ہو رہی ہے؟اس کی تفصیل بتائیں۔آپ کے محکمہ کو ان خلاف ورزیوں کے بارے میں سب سے پہلے کب جانکاری ملی؟
-3    ان خلاف ورزیوں کی جانکاری ملنے کے بعد ان کے خلاف کیا کارروائی کی گئی ہے؟اس کی پوری تفصیلات دیں۔
-4    برائے مہربانی ان اصول وضوابط اور سرکاری احکامات کی جانکاری دیں ، جن کی رہائشی علاقوں کے کاروباری استعمال کے سبب خلاف ورزی ہوئی ہے۔
-5    رہائشی ٹھکانے کا کاروباری استعمال کرنے کے معاملے میں مقررہ سزا اور قانون کے مطابق کی جانے والی کارروائی کی تفصیلات دیں۔
-6    ایسے ہر ایک معاملے میں آپ کے محکمہ کے ذریعہ کیا کارروائی کی گئی ہے؟ہر ایک واقعہ کی الگ الگ پوری جانکاری دیں۔اگر کسی معاملے میں کوئی کارروائی نہیں کی گئی ہے تو کیوں ؟
-7    میں ایسے ہر معاملے میں کی گئی کارروائی سے متعلق سبھی دستاویزوں اور فائلوں کو دیکھنا چاہتا ہوں ۔ برائے مہربانی مجھے دن، وقت اور مقام کے بارے میں اطلاع دیں، جب میں دیکھنے کے لیے آ سکوں۔
-8    ان افسران کے نام ، عہدے اور رابطہ کی تفصیل بتائیں، جو اس کاروباری سرگرمی کے خلاف کارروائی کے لیے ذمہ دار ہیں۔
-9    کیا یہ افسران قانون کے مطابق کارروائی نہ کرنے کے سبب بدعنوانی مخالف قانون کی دفعہ 13اور تعزیرات ہند کی دفعہ 217کی خلاف ورزی کے مجرم ہیں؟
-10    ان افسران کے خلاف اب آگے کب اور کیاکارروائی کی جائے گی؟
-11    مندرجہ بالا کاروباری مراکز کب تک پوری طرح سے روک یا ہٹا دئے جائیں گے؟
-12    مندرجہ بالا علاقے سے بتاریخ….سے…..کے دوران آپ کے محکمہ کو حاصل شکایتوں اور ان پر کی گئی کارروائی کی تفصیلات دیں۔
میں درخواست فیس کے بطور … روپے الگ سے جمع کر رہا / رہی ہوں۔       (یا )
میں بی پی ایل کارڈ ہولڈر ہوں، اس لیے تمام قابل ادا فیسوں سے آزاد ہوں۔ میرا بی پی ایل کارڈ نمبر … ہے۔
اگر مانگی گئی اطلاع آپ کے محکمہ/ دفتر سے متعلق نہیں ہو تو حق اطلاعات قانون 2005 کی دفعہ 6 (3) کو ذہن میں رکھتے ہوئے میری درخواست متعلقہ پبلک انفارمیشن آفیسر کو پانچ دنوں کی مقررہ مدت کے اندر منتقل کریں۔ساتھ ہی ضابطہ کے مطابق اطلاع دستیاب کراتے وقت فرسٹ اپیل افسر کا نام اور پتہ ضرور بتائیں۔
درخواست دہندہ
نام                پتہ                فون نمبر

منسلک اگر کچھ ہو

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *