سوشل میڈیا پروفائل کو آدھار سے لنک کرنے کا مطالبہ کرنے والی ایک درخواست دہلی ہائی کورٹ میں دائر کی گئی ہے۔ درخواست بی جے پی لیڈر اور وکیل اشونی اپادھیائے نے دائر کی ہے۔
درخواست میں کہا گیا ہے کہ فرضی اکائونٹ کو سوشل میڈیا سے نکال دینا چاہئے۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ اس کے لئے ٹویٹر اور فیس بک وغیرہ کے اکائونٹس کو آدھار سے جوڑنے کی ہدایات جاری کرنی چاہئے۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ الیکشن کمیشن اور بھارتی پریس کونسل کو فیک نیوز اور پیڈ نیوز کے معاملات میں مناسب قدم اٹھانے کی ہدایات دی جانی چاہئے۔
درخواست میں کہا گیا ہے کہ کسی بھی انتخابات کے 48 گھنٹے پہلے پیڈ نیوز اور سیاسی اشتہارات کی نشریات کو کرپٹ طرز عمل قرار دیا جانا چاہئے۔ اس کے ساتھ ہی اس میں کہا گیا ہے کہ ساڑھے تین کروڑ ٹوئٹر ہینڈل میں سے دس فیصد ڈپلیکیٹ ہیں۔ ان فرضی ٹویٹر اکاؤنٹس میں صدر جمہوریہ ، وزیر اعظم اور وزرائے اعلیٰ سمیت سینکڑوں نامور افراد کے نام شامل ہیں۔
گزشتہ 14 اکتوبر کو اشونی اپادھیائے کی ایسی ہی درخواست پر سماعت کرنے سے سپریم کورٹ نے انکار کر دیا تھا۔ سپریم کورٹ کورٹ نے اشونی اپادھیائے سے کہا تھا کہ ایسی عرضی مدراس ہائی کورٹ میں پہلے سے زیر التوا ہے، اگر وہ چاہیں تو اس موضوع پر ہائی کورٹ میں پہلے سے زیر التواء سماعت میں عرضی داخل کر سکتے ہیں۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here