ابھیشیک رنجن سنگھ
گزشتہ کچھ برسوں میں،خاص طور پر 1990 کی دہائی کے بعد ،ہندوستان کا ایک طبقہ یہ ماننے لگا تھا کہ دہلی اور ریاستوں کی راجدھانیاںاب ملک کی روح بن گئی ہیں۔ بڑے شہروں میں عورتوں کو مردوں کی طر ح ہی روزگار کے مواقع مل رہے ہیں۔ یوں تو اس آدھی حقیقت سے انکار ممکن نہیںہے، کیوںکہ میٹرو شہروں میں کثیر ملکی کمپنیوں کے ساتھ ساتھ دیگر شعبوںمیں بھی نوکری پیشہ خواتین کی تعداد اچھی ہے۔ یہاں میڈیا کی بات کریں تو ٹیلی ویژن پر خبریں پڑھتی خاتون اینکراور پی ٹی سی دے رہی خواتین کو دیکھ کر یہ گمان گزرسکتاہے کہ میڈیا میں عورتوں کی نمائندگی زیادہ ہے، لیکن یہ ہماری خوش فہمی ہے، کیوںکہ یہ ملک صرف راجدھانی دہلی میں ہی نہیں بستا۔ دراصل ،خو د کو پاپولرنیوز چینل اور بڑا اخبا ر ہونے کا دعویٰ کرنے والے میڈیا ہاؤسس سے پوچھا جانا چاہئے کہ ملک کے باقی ضلعوں میں خاتون صحافیوں کی تعداد اتنی مایوس کن کیوں ہیـ؟
ملک کے میڈیا میں خواتین کی حصہ داری اور ان کی حقیقی صورت حال جاننے کے لئے میڈیا اسٹڈیز گروپ کے ذریعہ کیا گیا ملک گیر سروے چونکانے والے عداد وشمار پیش کرتاہے۔میڈیا میں جنسی نابرابری کو اجاگر کرنے والا یہ سروے ظاہر کرتا ہے کہ ہندوستانی میڈ یا میں خواتین کی نمائندگی کا تناسب محض 2.7فیصد ہے۔ اس میں 6ریاستیں اور دو مرکز کے زیر انتظام ریاستیں ایسی ہیں جہاں ضلع سطح پر خواتین صحافیوں کی حصہ داری نہیں کے برابر ہے۔ آندھرا پریش میں ضلع سطح پر کام کرنے والی خاتون صحافیوں اور ایڈیٹروں کی تعداد سب سے زیادہ 107 ہے اور یہ اس فہرست میں سب سے اوپر ہے۔ جمہوریت کے مختلف ستونوں میں جب بھی خواتین کی نمائندگی کی بات ہوتی ہے تو میڈیا خواتین کو بااختیار بنانے اور ان کی نمائندگی کے سوال کو زور شور سے اٹھاتا ہے۔ لیکن موجودہ سروے کے اعداد وشماربتاتے ہیں کہ خود میڈیا میں خواتین کی حصہ داری کافی کم ہے۔ میڈیا اسٹڈیزگروپ کے چیئر مین اور سینئر صحافی انیل چمڑیا کے مطابق میڈیا کے ذریعہ ملک اور سماج کو دی جانے والی جانکاری میڈیا کی سماجی ساخت سے متاثر ہوتی ہے۔ ان کے مطابق میڈیا میں خواتین کی نمائندگی بڑھانے کے لئے میڈیا تنظیموں کو ایک فعا ل رول اداکرنا چاہئے۔ غور طلب بات یہ ہے کہ اس سروے کے لئے اطلاع حاصل کرنے کاذریعہ حق اطلاع ایکٹ بنا۔ میڈیا اسٹڈیز گروپ نے ملک کے 600سے زیادہ ضلعوں سے حق اطلاع قانون کے تحت ضلع سطح پر کام کررہے صحافیوں کے بارے میں جانکاری حاصل کی ۔ جن ضلعوں میں سنٹرل پبلک انفارمیشن آفیسر سے جانکاری نہیں ملی وہاں اپیل دائر کرنے اور اطلاع اکٹھا کرنے میں ایک سال سے زیادہ کا وقت لگا۔ اس سروے میں 28ریاستوں کے ساتھ ساتھ مرکز کے زیر انتظام ریاستوں کے 255ضلعوں سے ملی جانکاریاں شامل کی گئی ہیں۔ سروے میں شامل ضلعے پورے ملک کے تقریباً40فیصد حصے کااحاطہکرتے ہیں۔ میڈیا اسٹڈیز گروپ کو ملک کے 255ضلعوں سے 14,278 تسلیم شدہ (accredited)صحافیوں کے سماجی پس منظر سے متعلق اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ یہ ضلع سطح پر نامہ نگاروں کے سماجی پس منظر کی بنیادپر سروے کی پہلی کڑی ہے۔ ہندوستانی میڈیا سے متعلق ایک حقیقت یہ ہے کہ اس میںضلع سطح پر بڑی تیز ی سے ترقی ہوئی ہے۔ ملک کے کئی بڑے اور مقبول اخباروں کا دعویٰ ہے کہ ان کے اخباروں کے متعدد ایڈیشن نکل رہے ہیں۔ اعداد و شماریہ ظاہر کرتے ہیںکہ ہندوستانی میڈیا اور تفریحی کاروبار میںسال 2011میں 11فیصد کی شرح سے اضافہ ہوا اور اس کا کل کاروبار72,800کروڑ روپے کا ہو گیا۔ سال 2012سے متعلق یہ تخمینہ لگایا جارہا ہے کہ اس سال میں میڈیا کی نمو (growth)کی شرح13فیصدر ہے گی اور یہ پور ا کاروبار سال 2016تک فروغ پاتا رہے گا۔ اس وقت تک میڈیا اور تفریح کاکاروبار 1,45,700کروڑ روپے کاہوجائے گا۔ اس طرح ان پانچ برسوں میں میڈیا کی کل نمو کی شرح15فیصد کی ہوگی۔ میڈیا اور تفریح کے شعبے میں ٹیلی ویژن کی نمو کی شرح سب سے زیادہ ہے، جبکہ دوسرے نمبر پر پرنٹ میڈیا ہے۔ وہیں ریڈیو کے بارے میں اندازہ ہے کہ اسکی نمو کی شرح21فیصد فی سال رہے گی۔ ان اعداد وشمار سے متعلق مشہور میڈیا تجزیہ نگار پروفیسر رابن جیفری کا کہنا ہے کہ ہندوستان میں میڈیا کی ترقی کے بہت امکانات ہیں،خاص طور پر پرنٹ میڈ یا آئندہ 15سالوں تک تیزی سے ترقی 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here