عفاف اظہر
سندھ کے وزیر اعلیٰ سید قائم علی شاہ نے کہا ہے کہ کراچی میں سی آئی ڈی کے سینٹر پر گزشتہ دنوں ہونے والا خود کش حملہ کراچی میں ہونے والا سب سے بھیانک حملہ تھا۔ وزیر اعلیٰ سندھ نے جمعہ کو سی آئی ڈی سینٹر کے دورے کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایسی اطلاعات تھیں کہ کچھ لوگوں کو ٹارگٹ کیا جاسکتا ہے۔ اس حوالے سے ہم نے احتیاط برتی ہوئی تھی، لیکن حملہ مکمل تیاری کے ساتھ کیا گیا ہے۔ پولیس کے جوانوں نے مقابلہ کیا ہے اور جو ہلاک ہوئے ہیں ان میں زیادہ تر پولیس اور ایف سی کے جوان ہیں۔پولیس ہیڈ کواٹر گارڈن میں ایف سی اور سی آئی ڈی کے 8 اہلکاروں کی نماز جنازہ ادا کی گئی، جس میں صوبائی وزیر داخلہ ڈاکٹر ذوالفقار مرزا اور آئی جی سندھ صلاح الدین بابر خٹک نے شرکت کی۔ڈاکٹر ذوالفقار مرزا نے ہلاک ہونے والے اہلکاروں کے لواحقین کے لیے پانچ پانچ لاکھ رپے معاوضے کا اعلان کیا۔ کراچی حملے کی تحقیقات کرنے والے حکام کا کہنا ہے کہ حملے میں استعمال ہونے والے ٹرک کی رجسٹریشن کراچی کی تھی۔ سیکورٹی ذرائع کے مطابق حملہ آوروں کی تعداد کم از کم 8 تھی اور انھیں شبہ ہے کہ کالعدم تحریک طالبان اس میں ملوث تھی۔ ان کا کہنا ہے کہ حملہ آور پہلے گیٹ پر تعینات پولیس اہلکاروں کو ہلاک کرکے اندر داخل ہوئے اورپھر ٹرک کو اڑا دیا۔ پولیس نے تین روز قبل شدت پسند تنظیم لشکر جھنگوی کے 6 اراکین کو گرفتار کر کے اسلحہ بارود برآمد کیا تھا، سی آئی ڈی سینٹر پر حملے کی کڑیاں اس سے ملائی جا رہی ہیں۔ دھماکے کے چند قدم کے فاصلے پر وزیر اعلیٰ ہاؤس واقع ہے اور ایک کلومیٹر کے فاصلے پر دو فائیو اسٹار ہوٹل، امریکی قونصل خانہ اور کراچی کلب کی عمارت موجود ہے۔ دھماکے کی جگہ پر 15 فٹ بڑا گڑھا پڑ گیا۔ اس حملے کو ستمبر 2008 کو اسلام آباد میں میریئٹ ہوٹل پر ہونے والے حملے جیسا قرار دیا جا رہا ہے، جس میں 8 افراد ہلاک ہوئے تھے۔
کراچی کے حالات پر تخریبانہ عناصر کو قصوروار ٹھہرایا جائے یا پھر حکومت کی نااہلی کہا جائے، اس سے قطع نظر ہم یہ تو ہر گز نہیں کہہ سکتے کہ طالبان نے ایک گاڑی پر ایک ہزار کلو بارود لادا اور قبائلی علاقوں سے لے جا کر سیدھا بلڈنگ میں دے مارا؟ اور ظاہر ہے کہ یہ بات مقامی لوگوں کی مدد کے بغیر ممکن نہیں۔ جب کراچی اور باقی ملک میں مدرسے اور مساجد نفرت کی تبلیغ اور دوسروں کے قتل کے فتوے اور خودکش حملوں پر حوروں اور جنت کے خواب دکھائیں گے تو ’ایک ڈھونڈو ہزار ملتے ہیں‘ والی بات ہی ہوگی۔ طالبان ایک طرف اپنے ملک کے کسی ایک ہم مسلک مولوی یا مذہبی سیاسی لیڈر کا نام سوچ لیں، جس نے آج تک اِس دہشت گردی کی کھل کر مذمت کی ہو۔ ہمارے مذہبی علما حضرات کا تو ہمیشہ سے یہی وطیرہ رہا ہے کہ ادھر بم دھماکہ ہوا اور جھٹ سے  واردات کا الزام امریکہ، ہندوستان اور اسرائیل پر لگا کر اپنی ذمہ داری سے فارغ ہو گئے، مگر اِن دہشت گرد حملوں میں استعمال ہونے والے اور ذمہ داریاں قبول کرنے والے مقامی گروہوں اور ان کے لیڈروں کے متعلق ایک لفظ نہیں کہتے۔ اصل منافقت تو یہی ہے کہ آج تک صرف اور صرف اپنے مفاد کا آدھا سچ اور آدھا حق بیان کیا جاتا آرہاہے اور کوئی ان سے یہ بھی  پوچھنے والا نہیں کہ وہ درندہ صفت سیالکوٹیوں کا جلوس  کیا بلیک واٹر والوں کا تھا؟ سو بچوں کا بیدردی سے خون کرنے والا وحشی کیا اسرائیلی تھا ؟ یا پھر کیا عورتوں کے ساتھ کی جانے والی روزمرہ کی روایتی پرتشد د کاروائیوں میں بھی ہندوستان ہی کا ہاتھ ہوتا ہے؟ سوچنے کی بات تو یہ ہے کہ بارود سے بھرا کروڑوں کی مالیت کا یہ ٹرک کراچی کے دل تک پہنچ کیسے گیا؟ آخر کون مالی امداد فراہم کر رہا ہے ان دہشت گردانہ عناصرکی، ان ہنستے بستے شہروں کو اجاڑنے کی اور کون راہیں ہموار کر رہا ہے ان وطن دشمن عناصر کی، اپنی ہی اس سر زمین پاک کو لہولہان کرنے میں؟ ایک بات تو بہر حال طے ہے کہ یا تو ہماری سیکورٹی فورسز ان سے ملی ہوئی ہیں یا پھر ہماری سیکورٹی فورسز دنیا کی لا پرواہ ترین ناکارہ انتہائی غیر ذمہ دار اور نا اہل فورسز ہیں، جنہوں نے بار بار یہ ثابت کر دیا ہے کہ آج یہ بیسویں صدی کا پاکستان جہاں کے قانون نافذ کرنے والے ادارے خود اپنا تحفظ نہیں کر سکتے تو عوام کو اداروں سے توقعات وابستہ کرنے کی بجائے اپنی مدد آپ کے اصول اپنا لینے چاہئیں، ورنہ پھر ان کا اللہ ہی حافظ ہے۔ دہشت گردوں کی کمر توڑ دینے کا دعویٰ کرنے والے سیاسی پنڈت اب کیوں خاموش ہیں؟ ہمارے حکمران ٹولے کو پتہ نہیں ابھی اور کس عذاب کا انتظار ہے۔ دہشت گرد ہمارے شہروں میں گھس جاتے ہیں، وہاں ہماری آبادیوں میں رہتے ہیں، درندگی کی تیاریاں کرتے ہیں۔ کیوں لوگوں کی یا انتظامیہ کی ان پر نظر نہیں ہوتی یا ان لوگوں پر جو مقامی طور پر ان کا ساتھ دیتے ہیں، مگر ہماری ہر حکومت اقتدار کے نشے میں اس طرح  دھت ہوتی ہے کہ نہ ہی حکومتی اداروں کی اجڑتی ساکھ ان کی نیند میں خلل ڈالتی ہے اور نہ ہی ان کے خواب دھماکوں سے ٹوٹتے ہیں۔
سر ممبر وہ خوابوں کے محل تعمیر کرتے ہیں
علاج غم نہیں کرتے فقط تقریر کرتے ہیں
ہمارے درد کا جالب مداوا ہو نہیں سکتا
کہ ہر قا تل کو چارہ گر سے ہم تعبیر کرتے ہیں
پاکستان کا ہمیشہ سے یہ المیہ رہا ہے کہ یہاںکچھ لسانی اور نام نہاد مذہبی گروہوں نے جرائم پیشہ عناصر کی سرپرستی کھلے عام کی ہے۔ ملک بھر کے مجرموں اور مفروروں کے لیے کراچی ایک محفوظ پناہ گاہ بن گیاہے۔ ملک کا سب سے بڑا اور صنعتی شہر ہو کر بھی یوں لگتا ہے جیسے اس شہر کا کوئی والی وارث ہی نہیں اور جو لوگ ایسے عناصر کے سرپرست ہیں وہ اقتدار کے مزے لوٹ رہے ہیں۔ ایسے میں عام آدمی نے اٹھ کر کچھ کہا تو ٹھیک ورنہ لاشیں گرتی رہیں گی اور خون بہتا رہے گا کہ تقدیر اور تدبیر بزدلوں اور بے حس لوگوں کے لیے نہیں ہوتی اور پھر جس قوم کو میر جعفر و میر صادق جیسے مذہبی و سیاسی حکمران مہیا ہوں تو پھر وہاں اس قسم کے دہشت گردانہ واقعات ہونا کوئی انہونی بات نہیں ملک بھر  میں جاری و ساری یہ خون کی ہولی کب رکے گی اور رکے گی بھی یا نہیں اس کاکچھ کہا نہیں جا سکتا، ہاں لیکن ان مسائل کی بنیادی وجوہات اور صحیح سمت کا تعین کرنا ہی آج وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔ کراچی سمیت پاکستان بھرکے نوجوان طبقے کو اس ملک کی اشرافیہ اور حکمران طبقے نے ہمیشہ پلیٹ فارم کے طورپراستعمال کیا اور پھراپنی منزل پانے کے بعد یا ملک و قوم کے خزانے اور وسائل لوٹنے کے بعد بالکل اسی طرح بے یارومددگار چھوڑکرنظرانداز کرتے ہوئے ان سے منہ پھیرلیا، جس طرح افغانستان میں تربیت اور بھاری رقوم دے کر جہاد کیلئے لائے گئے مجاہدین کو امریکہ نے روسیوں کی شکست اور انخلا کے بعد چھوڑدیاتھا اور جس کے بھیانک نتائج وہ خود،پاکستان اور پوری دنیا بھگت رہی ہے۔ کراچی سمیت ملک بھر میں لینڈگریبرز اور قبضہ مافیا کے بہت سے گروہ سرگرم ہیں، پس پردہ کارروائیوں کے مذموم مقاصد کوبے نقاب کرنے کی ضرورت ہے۔ قومی دولت اور خزانے لوٹنے والے حکمرانوں نے ہردورمیں ملک کے لئے کچھ نہیں کیا، جس سے بیروزگاری بڑھی،جرائم میں تیزی سے اضافہ، اسی بے چینی اور اضطراب کا نتیجہ ہوسکتا ہے، جس کے فوری ازالے اور تدارک کی اشد ضرورت ہے تاکہ ان بیروزگاری کے ستا ئے ہوئے لوگوں کودو وقت کی روٹی کے عوض وطن دشمن طاقتیں اپنے مذموم ارادوں میں استعمال نہ کر سکیں اور غربت کی چکی میں پستے یہ مجبوریوں کے جہادی شدت پسندوں کے ہتھے نہ چڑھ سکیں۔ ورنہ یہ جسم گرنے اور لاشیں اٹھانے کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ یونہی  چلتا رہے گا۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here